مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ اور اُن کا نظریۂ تصوّف

Home – Single Post

برادرانِ اسلام! ساتویں صدی ہجری میں اُمّتِ مسلمہ ایک نہایت پُر آشوب اور ہولناک دَور سے گزر رہی تھی، مسلمان عیش وعشرت، فسق وفُجور اور اَخلاقی پَستیوں کے دَلدَل میں دھنسے جارہے تھے، کسی کى جان، مال اور عزّت محفوظ نہیں تھی، ہر طرف بےیقینی، بےچارگی، مایوسی اور خوف وہراس کا عالَم تھا، قتل وغارتگری عام تھی، باہمی جنگ وجدال اور تاتاری یلغار کے سبب اسلامی دنیا تباہی کے دہانے پر تھی، ثمرقند وبخارا، بلخ وہمَدان اور نیشاپور وبغداد جیسےعظیم اسلامی مراکز بھی، ہلاکو خاں کی وَحشی فوجوں کے ہاتھوں، تباہ وبرباد اور جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے، اس ہولناک  تباہی، بربادی اور بےتابی کے دَور میں، اسلام کے علمی وَقار کو اللہ تعالی نے جن برگزیدہ مَشاہیر کے ذریعے برقرار رکھا، اُن میں ایک بہت بڑا نام، حضرت شیخ جلال الدّین رُومی المعروف “مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ” کا بھی ہے۔

عزیزانِ محترم! حضرت مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کا نام “محمد” تھا، آپ رحمہُ اللہ علیہ چھ سو چار604 ہجری كو “بلخ” (Balkh Afghanistan) ميں پیدا ہوئے([1])، لہذا آپ رحمہُ اللہ علیہ کو “بلخی” بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے سلسلۂ نسَب میں کچھ اختلاف ہے، البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ آپ رحمہُ اللہ علیہ کا سلسلۂ نسَب امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رحمہُ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے([2])۔

والدِ گرامی کی طرف سے سلسلۂ نسَب کچھ یوں ہے: جلال الدّین محمد البلخی الرُومی، ابن سلطان العلماء بہاء الدّین محمد، ابن جلال الدّين الحسین ابن احمد الخطیبی([3])… ابنِ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق([4]) قدَّسَ اللهُ سِرَّهُ۔ والدہ محترمہ کا سلسلۂ نسَب مشہور ولی اللہ حضرت ابراہیم بن اَدہَم رحمہُ اللہ سے جا ملتا ہے، جو پہلے بلخ کے بادشاہ تھے، انہوں نے بادشاہی چھوڑ کر فقیری اختیار کی([5])۔

مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کا لقب “جلال الدّین”([6]) اور عُرفیت “رُومی” ہے۔

عزیزانِ گرامی قدر! مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کے خاندان کو علم وفضل کے ساتھ  ساتھ، دنیاوی عزّت وتوقیر بھی حاصل ہے، آپ رحمہُ اللہ علیہ کے دادا حضرت حسین بلخی رحمہُ اللہ علیہ بہت بڑے صوفی، صاحبِ کمال بزرگ، اور خوارزم شاہِ بلخ کے داماد تھے، یہی وجہ ہے کہ اُمرائے وقت بھی اُن کا بہت احترام کرتے تھے۔ مولانا جلال الدّین رُومی رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی سلطان العلماء حضرت بہاؤ الدّین رحمہُ اللہ علیہ اپنے خاندانی پسِ منظر سے آگاہ کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ “میرا بیٹا نسل بزرگ سے ہی بادشاہ اصل ہے، اور اس کی ولایت باَصالت ہے، میری والدہ (یعنی مولانا رُومی رحمہُ اللہ علیہ کی دادی) خوارزم شاہ کی دختر (بیٹی) تھیں، اَور میرے دادا احمد الخطیبی کی والدہ بھی بادشاہِ بلخ  کی بیٹی تھیں”([7])۔

اپنے خاندان کی عزّت ووقار کے بارے میں مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی، شیخ بہاء الدّین رحمہُ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ “ان کے عز ووَقار کا اندازہ صرف اس ایک اَمر سے بھی ہو سکتا ہے، کہ دنیاوی حشمت وثروَت سے بےتعلق ہونے کے باوُجود، بلخ وخوارزم کے بادشاہوں نے اپنی شہزادیوں کا عقد اس خاندان میں کیا”([8])۔

حضراتِ گرامی قدر! سیِّد برہان الدّین محقّق ترمذی رحمہُ اللہ علیہ، مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی کے خاص ارادتمندوں میں سے تھے، مولانا رُوم کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی، اپنی زندگی کے ابتدائی چار پانچ سالوں تک، شیخ جلال الدّین رُومی رحمہُ اللہ علیہ انہی کی زیرِ تربیت رہے، بعد ازاں اپنے والدِ محترم شیخ بہاء الدّین رحمہُ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد، راہِ سُلوک کی مزید منازل بھی شیخ برہان الدّین رحمہُ اللہ علیہ کی ہدایت ورَہنمائی میں  طے فرمائیں([9])۔

حضراتِ ذی وقار! مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی نے جس وقت “بلخ” سے ترکِ سُکونت کر کے “بغداد شریف ” کے لیے رختِ سفر باندھا، اُس وقت حضرت مولانا جلال الدّین رُومی رحمہُ اللہ علیہ کی عمر شریف صرف چار سال تھی، اور اس سفر میں آپ رحمہُ اللہ علیہ اپنے والد کے ہمراہ تھے([10])، آپ رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی سلطان العلماء بہاء الدین رحمہُ اللہ علیہ، بلخ سے اس شان سے روانہ ہوئے، کہ  جس شہر کے قریب پہنچتے، وہاں کے معزّزین شہر سے باہر آکر آپ کا استقبال کرتے، اور نہایت اِعزاز واِکرام کے ساتھ آپ کو شہر میں لاتے تھے۔

عزیزانِ مَن! حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی حضرت

بہاء الدین رحمہُ اللہ علیہ شہر بہ شہر قیام کرتے ہوئے “نیشاپور” (Neyshabur Iran) پہنچے، تو وہاں شیخ فرید الدین عطّاررحمہُ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی، شیخ فرید الدین عطّار رحمہُ اللہ علیہ نے مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ (جن کی عمر اس وقت صرف چار سال تھی) کو دیکھ کر مستقبل میں آپ رحمہُ اللہ علیہ کی عظمت وجلال کی پشین گوئی فرمائی، اور تحفہ کے طور پر اپنی کتاب “اَسرار نامہ” بھی عنایت فرمائی، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے زندگی بھر اس

کتاب کو متاعِ عزیز کے طور پر اپنے پاس  رکھا([11])۔

بعد ازاں سالہا سال تک بغداد سے حجاز، دِمشق، آذر بائیجان (Azerbaijan) اور ملاطیہ (Malatya) کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے، تقریباً 626 ہجری میں “قونیہ” (Konya, Turkey)  پہنچے، اور یہیں مستقل قیام پذیر ہوئے۔ “قونیہ” آمد کے دو سال بعد مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ کے والدِ گرامی حضرت شیخ بہاء الدین رحمہُ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا۔

کم وبیش پندرہ سال تک جاری رہنے والے اس سفر میں، حضرت مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ ہمہ وقت اپنے والدِ گرامی کے ساتھ رہ کر اکتسابِ فیض کرتے رہے، جس وقت قونیہ شہر (City of Konya)  کو مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا، اس وقت آپ رحمہُ اللہ علیہ اپنی زندگی کی بائیس بہاریں دیکھ چکے تھے([12])۔

حضراتِ گرامی قدر! شیخ سیِّد برہان الدین محقّق ترمذی رحمہُ اللہ علیہ، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے استاد اور اوّلین روحانی پیشوا ہیں، والدِ گرامی شیخ بہاء الدین رحمہُ اللہ علیہ نے بچپن ہی سے مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ کی تعلیم وتربیت کی ذمّہ داری انہیں سونپ رکھی تھی، لیکن بلخ (Balkh Afghanistan) سے ترکِ سُکونت کر کے قونیہ (Konya)  آ جانے کے باعث یہ سلسلہ موقوف ہو گیا تھا، بعد ازاں سیِّد برہان الدین محقق ترمذی رحمہُ اللہ علیہ جب قونیہ تشریف لائے، تو روحانی تعلیم وتربیت کا  یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، سیِّد صاحب نے مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کو مخاطَب کر کے ارشاد فرمایا کہ “آپ کے والد “صاحبِ قال” کے ساتھ ساتھ “صاحبِ حال” بھی تھے، “قال” میں تو آپ اپنے والد سے بھی بڑھ گئے ہیں، اب حال کی طرف بھی توجہ کیجیے؛ تاکہ آپ اپنے والد کے پورے وارِث وجانشین بن جائیں!” سیِّد برہان الدین محقق ترمذی رحمہُ اللہ علیہ کے توجّہ دلانے پر، حضرت مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ فقیری اور سُلوک کی طرف مائل ہوئے، اور سیِّد صاحب کا مرید ہونے کے ساتھ ساتھ جان ودل سے اُن کے اَحکام کی تعمیل میں منہمِک ہو گئے([13])۔

حضراتِ محترم! حضرت مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کو علومِ اسلامیہ اور فقہ پر چونکہ مکمل عبور حاصل تھا! لہذا انہوں نے اپنے والدِ گرامی  کی وفات کے بعد، سلسلۂ درس وتدریس اور تلقین وارشاد جاری رکھا، اور چار مختلف مدارس میں تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے([14])۔

حضراتِ ذی وقار! شیخ  جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ ایک طویل عرصہ تک فتوی نویسی بھی کرتے رہے، “صاحب المثنوی” میں مذکور ہے کہ “جس زمانہ میں آپ حلَب ودِمشق میں تحصیلِ علم میں مشغول تھے، اس وقت بھی آپ کا یہ حال تھا کہ جو مسائل دوسروں سے حل نہ ہوتے، انہیں  مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کی طرف بھیج دیا جاتا۔ قونیہ میں جب آپ رحمہُ اللہ علیہ نے مستقل اِقامت اختیار کی، تو فتوی نویسی کا شغل بھی مستقل ہو گیا، بیت المال سے مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے لیے ایک دینار مقرّر تھا، آپ رحمہُ اللہ علیہ اُس وظیفے کو اِسی فتوی نویسی کا مُعاوَضہ تصوّر فرماتے تھے، اور اس مُعاملہ میں اس قدر سخت اور شریعت کے پابند  تھے، کہ جب فقیری کا رنگ غالب ہوا، اور مجالس میں مستغرق رہنے لگے، اس وقت بھی آپ رحمہُ اللہ علیہ کی طرف سے یہ حکم تھا، کہ جس وقت کوئی فتوی (استفتاء) آئے فوراً خبر کی جائے، قلم دوات ہمہ وقت مہیّا رہتا، چاہے کتنا  بھی عالَمِ استغراق میں ہوں، فتوی کا جواب فوراً تحریر فرما دیتے، اور یہ سب اہتمام اس لیے تھا کہ بیت المال سے جو رقم ملتی ہے، وہ جائز ہو جائے۔

ان تمام حالات کو اگر مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے والد بزرگوار کے حالات سےمُوازنہ کرکے دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ اپنے والد کے نقشِ قدم سے، بال برابر بھی اِنحراف نہیں فرماتے تھے، درس وتدریس، وعظ ونصیحت، فتوی نویسی، دعوت واِرشاد، ریاضت ومجاہدات، مدارس سے تعلق، اور شانِ علمائے ظاہر، یہ تمام باتیں وہی تھیں جو حضرت شیخ بہاء الدین رحمہُ اللہ علیہ میں بھی  تھیں”([15])۔

عزیزانِ گرامی قدر! مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ ایک صوفی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ، اپنے وقت کے بہت بڑے عالمِ دین بھی تھے، قونیہ میں باعتبار علم  کوئی ان کا  ہم پلّہ نہیں تھا، عوام وخواص سبھی ان کا اَدب واحترام کرتے، آپ رحمہُ اللہ علیہ کی زندگی کے شب وروز درس وتدریس اور وعظ ونصیحت میں گزر رہے تھے، لیکن حضرت شاہ شمس الدین تبریزی رحمہُ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے دل کی دنیا ہی زِیر وزَبر ہو  گئی، اور اس قلبی انقلاب کے سبب آپ راہِ فقیری وسُلوک کے مسافر بن کر رہ گئے۔

حضرت مولاناروم رحمہُ اللہ علیہ کی حضرت شاہ شمس الدین تبریزی رحمہُ اللہ علیہ سے ملاقات کب ہوئی؟ اس بارے میں ملتی جلتی دو مختلف روایتیں ہیں: (1) پہلی روایت یہ ہے کہ “ایک دن مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ اپنے مکان میں تشریف فرما تھے، ارد گرد کتابیں رکھی ہوئی تھیں، اور پاس طلباء بیٹھے تھے کہ اسی اَثناء میں حضرت شمس الدین تبریزی رحمہُ اللہ علیہ تشریف لے آئے، اور کتابوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ “یہ کیا ہے اور آپ کس حال میں ہیں؟” مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ “آپ ان باتوں کو کیا جانیں؟!” اتنا کہنے کی دیر تھی کہ  مکان اور کتابوں میں آگ لگ گئی، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے شاہ  شمس تبریزی رحمہُ اللہ علیہ سے پوچھا کہ “یہ کیا ہے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ “اسے آپ کیا جانیں؟!” یہ  فرما کر شاہ شمس تبریزی رحمہُ اللہ علیہ باہر نکل گئے”([16])۔

(2) دوسری روایت یہ ہے کہ مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کی “حضرت شاہ  شمس الدین تبریزی رحمہُ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی، جب شاہ شمس تبریز قونیہ پہنچے، اور مولانا روم کی مجلس میں آئے، تو وہ اس وقت ایک حوض کے کنارے بیٹھے تھے، اور چند کتابیں سامنے رکھی ہوئی تھیں، حضرت شاہ تبریزی  رحمہُ اللہ علیہ نے پوچھا کہ کیا یہ کتابیں ہیں؟ مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ “یہ قیل قال (علمی باتیں) ہیں، آپ کو اس سے کیا کام؟!” حضرت شاہ شمس تبریزی نے تمام کتب اٹھا کر پانی میں ڈال دیں، مولانا روم یہ دیکھ کر رنجیدہ ہوگئے، اور فرمایا کہ “آپ نے یہ کیا کیا؟” ان کتب میں میرے والدِ گرامی کے تحریر کیے ہوئے بعض فوائد بھی تھے، جو اَب نہیں مل سکتے! شاہ شمس الدین تبریز نے ہاتھ بڑھا کر ایک ایک کتاب پانی سے باہر نکال کر رکھ دی، کتابوں پر پانی کا اثر تک نہ تھا، مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ نے کہا کہ “یہ کیا راز ہے؟!”  شاہ شمس تبریز رحمہُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ “یہ ذَوق وحال ہے، آپ کو اس سے کیا مطلب؟!” یہ فرما کر وہاں سے تشریف لے گئے۔ اس واقعہ کا  مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ پر اس قدر گہرا اثر ہوا، کہ دنیا سے بےرغبتی اختیار کرکے، حقیقت ومعرفت کی پیچیدہ گُتھیاں سُلجھانے میں لگ گئے”([17])۔

راہِ سُلوک کی منازل طے کرنے کے بعد، مولانا جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ نے حضرت شاہ شمس الدین تبریز ﷫ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا: ؏

مولوی ہرگز نہ شُد مولائے رُوم

تا غلامِ شمس تبریزی نہ شُد!([18])

“مولوی اس وقت تک مولانا رُوم ہرگز  نہیں بن سکتا، جب تک وہ شمس تبریزی رحمہُ اللہ علیہ کا غلام نہ ہو جائے!”

عزیزانِ مَن!  شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال  مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کے اَفکار ونظریات سے اس قدر متاثر تھے، کہ انہیں اپنا روحانی پیشوا تصوّر کرتے، “جاوید نامہ” میں ہمیں مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کو اپنا رفیقِ سفر بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ؏

پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز

 
تا خدا بخشد ترا سوز وگداز!

 
شرح اُو کردند ادراکس ندید

معنیٔ اُو چُوں غزال اَز مارمید!

رَقصِ تَن اَز حرفِ اُو آموختند

 
چشمِ راز رقص جاں بر دوختند!

 
رقصِ تن در گردش آرد خاک را

رقصِ جاں برہم زند اَفلاک را!

علم وحکم اَز رقصِ جاں آید بدست

 
ہم زمیں ہم آسماں آید بدست!

 
رقصِ جاں آموختن کارے بود

غیر حق را سوختن کارے بُود!([19])

“(١) پیرِ رومی کو اپنا رفیقِ راہ بنا لے؛ تاکہ اللہ تعالی  تجھے سوز وگداز عطا کرے۔ (۲) سب اس کی شرح کرتے ہیں، اور اس کو کسی نے نہیں دیکھا، اس کے مَعانی ہرن کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ (۳) اس سے لوگوں نے صرف رقصِ تن ہی سیکھا، اور رقصِ جان سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ (٤) رقصِ تن خاک کو گردش میں لاتا ہے،  جبکہ رقصِ جاں اَفلاک کو برہم کر دیتا ہے۔ (٥) علم وحکمت رقصِ جان کا باعث بنتے ہیں، اور زمین و آسمان کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ (٦) اصل کام تو رقصِ جاں سیکھنا ہے، اور غیرِ حق کو جلا کر خاک کر دینا اس کا کام ہے”۔

عزیزانِ مَن! شاعرِ مشرق ڈاكٹر اقبال رحمہُ اللہ علیہ روحانی اور معنوی اعتبار سے زندگی بھر  مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے زیرِ اثر رہے، یہاں تک کہ  انہوں نے اپنے اَشعار میں بھی اس مردِ قلندر  کو “پیرِ رومی” کہہ کر اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیا، اور خود “مریدِ ہندی” بن کر اُن کی  روحانی شاگردی پر ہمیشہ  نازاں رہے، ؏

صحبت پیرِ رُوم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش

لاکھ حکیم سربجیب، ایک کلیم سربکف!([20])

حضراتِ گرامی قدر! مولانا جلال الدین رُومی رحمہُ اللہ علیہ چالیس  برس کی عمر تک، مکمل طور پر علمائے ظاہر کے لباس میں رہے، فتوی نویسی کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہا، البتہ حضرت شاہ شمس تبریز رحمہُ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد، آپ پر تصوّف کا رنگ زیادہ غالب رہا، لہذا آپ رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی ظاہری وضع (یعنی لباس وغیرہ) میں بہت تبدیلی کر لی، لیکن شریعت کی پابندی میں مطلقاً کوئی فرق نہ آیا، اور تمام اَکابر صوفیائے کرام رضی اللہ عنہ ہمیشہ سے یہ کہتے اور لکھتے آئے ہیں، کہ شریعتِ مُطہَّرہ کی کمال پابندی کا نام ہی “تصوّف” ہے، مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ بھی اسی تصوّف کے قائل اور عامل تھے۔

جو لوگ پابندئ شریعت سے آزادی کو تصوّف کا نام  دیتے ہیں، وہ نِرے جاہل اور اَن پڑھ ہیں، لہذا اِسی بناء پر مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کے بارے میں یہ گمان کرنا، کہ وہ تصوّف میں داخل ہو کر اَحکامِ شریعت سے آزاد ہوگئے تھے، سراسر بدگمانی، نادانی اور لاعلمی کی بات ہے، كئى صفحات پر مشتمل  آپ کی تصنیف “مثنوی شریف” عشقِ مجازی کے بجائے، اللہ رب العالمین کے عشق میں مبتلا ہونے، اور اَحکامِ شریعت کی پابندی کے بیانات و نِکات  سے بھرپور ہے۔ مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ ایک مقام پر تحریر کرتے ہیں کہ ؏

عشق با مردہ نباشد پائیدار

عشق را با حَی وبا قیّوم دار!([21])

“مرده کے ساتھ عشق پائیدار نہیں، حیّ و قیّوم ذات (اللہ تعالی) کے ساتھ ہی عشق کرو!”

اس شعر میں مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ ہر انسان کی  خیر خواہی اور بھلائی چاہتے ہوئے نصیحت  فرماتے ہیں، کہ  عشقِ مجازی میں پڑ کر خود کو کیوں ضائع کر رہے ہو، اللہ ربُ العالمین کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرو؛ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ذات ہے، اُس کو  کبھی فنا نہیں!۔

عزیزانِ گرامی قدر! پاک وہند میں اکثر دیکھا گیا ہے، کہ جو شخص کسی دربار یا خانقاہ کا گدی نشین بن جاتا ہے، وہ اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کو عار سمجھنے لگتا ہے، بلکہ مریدوں کے دیے ہوئے ہدیہ ونذرانے کو اپنا ذریعۂ مُعاش بنا لیتا ہے، مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کو ایسےجھوٹے صوفیاء اور ایسے ہدیہ ونذرانے ہر گز پسند نہیں تھے، آپ رحمہُ اللہ علیہ کو جو بھی تحائف یا نذرانے ملتے، آپ اپنی تجوریاں بھرنے کے بجائے، سارا مال اور تحائف، ضرورتمندوں میں تقسیم فرما دیا کرتے۔

میرے بھائیو! مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ تصوّف کے حقیقی معنی ومفہوم، اور اس کے تقاضے کو ایک حکایت کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ “ایک درویش چالیس سال تک جنگلوں میں پھرتا رہا، اتفاق سے ایک قطب کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے درویش کو ایک چَپَتْ لگا کر فرمایا، کہ اے حرام خور شخص! درویش نے کہا کہ چالیس سال سے دنیا کا حلال کھانا بھی نہیں کھایا، پھر حرام کا کیا ذکر؟! قطب نے فرمایا کہ تم ہوا سے سانس لیتے رہے، اور خوشبو سونگھتے رہے، یہ کیا ہے؟ یہی تمہاری غذا تھی، اور تمہیں یہ چیزیں بےرنج وکد ّ (کسی پریشانی اور جدوجہد کے بغیر) حاصل ہوئیں، جبکہ مردانِ کامل کے مذہب میں ایسا کرنا حرام ہیں”([22])۔

عزیزانِ گرامی! نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے، کہ زندگی بھر اَحکامِ شریعت پر سختی سے عمل پیرا رہنے والے، جلیل القدر عالمِ دین، اور عظیم صوفی بزرگ  کی طرف رَقص وسُرود، بانسری اور آلاتِ مزامیر  پر مشتمل محافل جیسی، انتہائی غیرشرعی باتیں منسوب کرکے، نہ صرف تاریخی حقائق مسخ  کیے جا رہے ہیں، بلکہ صوفی اِزم (Sofizam)  کی تعلیمات  اور مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ کی شخصیت کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، فقیری اور سُلوک کے اَسرار ورُموز سے ناواقف لوگ، عشقِ حقیقی کے سمندر میں غوطہ زَن ہو کر “مثنوی معنوی” میں  لکھے گئے اُن کے اَشعار، اور اُن میں دی گئی تشبیہات کو آجکل عشقِ مجازی کا نام دے رہے ہیں، اور اس سلسلے میں باقاعدہ آرٹ کونسل (Art Council) اور صوفی سیمینارز (Sofi Seminars) میں، مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ اور اُن کے نظریۂ تصوُّف کے نام پر، ناچ گانے کی تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں، آلاتِ موسیقی سے مزیّن  محفلِ سماع، اور طبلوں کی  تھاپ پر گول گول  گھوم کر، اور بھنگڑے ڈال کر  اُسے رقصِ رُومی اور تصوُّف  کا نام دیا جا رہا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ” کوک اسٹوڈیو (Coke Studio)” وغیرہ کے ذریعے صوفیانہ کلام پر مشتمل، میوزک البم (Music Album) ریلیز  کرکے ناچ گانے، بھنگڑے اور ڈانس (Dance) کو تصوُّف کے نام پر پرموٹ (promote) کیا جا رہا ہے!۔

میرے بھائیو! بعض خانقاہوں اور دَرباروں پر بھی، آج تصوّف کے نام پر   بہت سی خُرافات ہو رہی ہیں، ڈھول ڈھمکے اور رَقص وسُرود کی محفلیں سجائی جا رہی ہیں، بھنگ کے جام چل رہے ہیں، خواتین مُریدنیوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر جعلی اور ڈبا پیر رَقص کرتے دکھائی دیتے ہیں،  واللہِ العظیم! اِن تمام خُرافات کا تصوّف یا مولانا جلال الدّین رُومی رحمہُ اللہ علیہ کی تعلیمات سے کوئی لینا دینا نہیں، بےعمل لوگوں نے اپنی بدعملی وجہالت چُھپانے کے لیے، بعض ناجائز وحرام اُمورکو تصوّف اور مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ سے غلط طور پر منسوب کر رکھا ہے، یاد رکھیے! تصوُّف یا صوفی اِزم (Sofizam)  کی تعلیمات کا، اِن غیر شرعی اُمور سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے، ایسے لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہیے، اور شریعت کا دَامن کسی طور پر ہاتھ سے نہ جانے دیجیے! ؏

میراث میں آئی ہے انہیں مَسندِ اِرشاد

زاغوں کے تصرُّف میں عقابوں کے نشیمن!([23])

عزیزانِ گرامى قدر! مولانا جلال الدّین رُومی رحمہُ اللہ علیہ روحانی اعتبار سے بہت بلند مقام پر فائز تھے، لیکن آپ کے حلقۂ اِرادت میں نیک وبد ہر طرح کے لوگ تھے، اس پر بسااوقات دیگر لوگ تنقید بھی کرتے، ایک بار معین الدّین پروانہ (وزیرِ مالیات) نے کہا کہ “مولانا رُوم رحمہُ اللہ علیہ نہایت نیک شخص ہیں، اور میرا خیال ہے کہ مُدّتوں ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوگا، مگر آپ کے مرید نہایت بَد اور فُضول قسم کے لوگ ہیں” ایک مرید نے یہ خبر مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ تک پہنچائی، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے معین الدین پروانہ کو ایک خط تحریر فرمایا کہ “اگر یہ لوگ نیک ہوتے تو میں خود ان کا مرید کیوں نہ ہو جاتا؟! میں ان لوگوں کو مرید اسی لیےکرتا ہوں کہ یہ لوگ بَد ہیں، اور حق بات یہ ہے کہ  جب تک اللہ تعالی ان کا ضامِن نہیں ہو جاتا، میں انہیں مرید نہیں کرتا”([24])۔

میرے عزیز دوستو بھائیو اور بزرگو! “مثنوی شریف”، “فیہ ما فیہ” اور “دیوانِ

شمس تبریز” مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کی مشہور ومعروف کتب ہیں، لیکن دنیا بھر میں “مثنوی شریف” کو جو شہرت حاصل ہے وہ دیگر کتب کو نہیں، آپ رحمہُ اللہ علیہ کی دیگر تصنیفات کی بہ نسبت اِسے نہایت معتبر اور قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر پاک وہند کے علاوہ ترکی اور فارسی لوگ بھی، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کی اِس تصنیف “مثنوی شریف” سے ایک خاص لگاؤ اور گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ “مثنوی” میں مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ کا اندازِ تفہیم بہت ہی پیارا اور سہل ہے، مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ مشکل ترین مسائل، اور بات کو آسانی سے سمجھانے کے لیے، سب سے پہلے کوئی دُنیاوی مثال یا حکایت پیش کرتے ہیں، اور پھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے اُس مسئلہ کو باآسانی، قلوب واَذہان میں سمو دیتے ہیں، اُن کا یہ طرزِ استدلال عقل سے زیادہ اِحساس کو متاثر کرتا ہے، جو  اُن کی نظر کی وُسعت اور گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بلاشک وشُبہ مولانا روم رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر، اس طریقۂ تعلیم کو بامِ عُروج  تک پہنچایا۔

برادرانِ اسلام! شیخ جلال الدین رومی رحمہُ اللہ علیہ فارسی علم واَدب کی ایک باکمال شخصیت ہیں، ان کی شاعری تقریباً ساڑھے سات سو سال کا عرصہ گزرنے کے باوُجود، آج بھی صوفی اِزم (Sufism) کا بہترین نمونہ ہے، ظاہری وباطنی کمالات وعلوم کے پاسبان، مولانا  روم رحمہُ اللہ علیہ کا انتقال 672ہجری/1273 عیسوی میں ہوا([25])، آپ کا مزارِ پُر انوار، آج بھی ترکی کے شہر قونیہ میں مَرجعِ خلائق ہے۔

اے اللہ! ہمیں حضرت سیِّدنا شیخ جلال الدین رُومی رحمہُ اللہ علیہ کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطا فرما، ان کے فیضِ روحانی سے ہمیں کامل حصّہ عطا فرما، اور اپنی محبت واطاعت کے ساتھ اپنی ولایت عطا فرما، آمین یا رب العالمین!

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “الأعلام” للزركلي، جلال الدِّين الرُّومي، 7/30.

([2]) مولانا جلال الدین رُومی رحمہُ اللہ علیہ کے سلسلۂ نسَب سے متعلق مختلف اَقوال، تفصیل اور تحقیق کے لیے “صاحب المثنوی” قاضی تلمذ  حسین، معارف پریس اعظم گڑ ھ، صفحہ 3 تا 6 کا مطالعہ فرمائیں۔

([3]) “صاحب المثنوی”؃ 6۔

([4]) “تاج التراجم” لابن قُطلوبغا، محمد بن محمد جلال الدين الرومي، 1/ 246.

([5]) دیکھیے: “صاحب المثنوی”؃ 33، 34۔

([6]) “تاج التراجم” محمد بن محمد جلال الدين الرومي، 1/ 246.

([7]) “صاحب المثنوی”؃ 12، ملتقطاً۔

([8]) ایضاً،؃ 35۔

([9]) دیکھیے: “سوانحِ مولانا روم”؃ 8۔

([10]) “الأعلام” جلال الدِّين الرُّومي، 7/30.

([11]) دیکھیے: “سوانحِ مولانا رُوم”؃ 3۔

([12]) دیکھیے: “صاحب المثنوی”؃ 62-64۔

([13]) ایضاً، 99، 100، ملتقطاً۔

([14]) انظر: “الأعلام” جلال الدِّين الرُّومي، 7/30.

([15]) “صاحب المثنوی”؃ 124، ملخصاً۔

([16]) انظر: “الجواهر المضية” الميم مع الحاء، ر: 383، الجزء 2، صـ124.

([17]) دیکھیے: “صاحب المثنوی”؃ 140۔ و”دانشِ رومی وسعدی”؃ 97۔

([18]) “مثنوی مولوی معنوی”۔

([19]) “جاوید نامہ” خطاب بہ جاوید، باب 13۔

([20]) “کلیاتِ اقبال” بال جبریل،؃ 370۔

([21]) “مثنوی مولوی معنوی”۔

([22]) “صاحب المثنوی”؃ 343۔

([23]) “کلیاتِ اقبال” بال جبریل،  حصہ دُوم، باغی مرید،؃ 493۔

([24]) “صاحب المثنوی”؃ 356، 357۔

([25]) “تاج التراجم” محمد بن محمد، جلال الدِّين الرُّومي، ر: 212، 1/246.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *