یومِ شہادتِ مزاراتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام

Home – Single Post

یومِ شہادتِ مزاراتِ صحابہ واہلِ بیتِ کرام

حضراتِ محترم! يومِ انہدامِ جنّت البقیع، مدینۂ منوّرہ کے مشہور قبرستان، بقیع الغرقد میں موجود اہلِ بیتِ اطہار، حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اور دیگر مبارک ہستیوں کے مزارات کو، مسمار وشہید کیے جانے والے دن کو کہا جاتا ہے۔

صوفیائے کرام  اور اُن کی تعلیمات

یہ بھی ضرور پڑھیں :صوفیائے کرام اور اُن کی تعلیمات

عزيزانِ گرامی قدر! عبد الرحمن جبرتی (متوفّٰى 1237ھ) کی رپورٹ کے مطابق، سن 1220 ہجری کو وہابی خارجى دہشت گردوں نے، مدینۂ منوره کا ڈیڑھ سال محاصرہ كيا، پھر اس میں قحط سالی پیدا کرنے کے بعد شہر میں داخل ہوئے، اور سوائے مرقدِ سركارِ اعظم ﷺ کے، باقی تمام مزاراتِ مقدسہ کے گنبد منہدم کر دیے([1])۔ اور مدینۂ منورّہ پر اپنا ناجائز قبضہ جما لیا۔

برادرانِ اسلام! سن 1227 ہجری (1812ء) میں محمد علی مصری کی فوج نے، مدینۂ منورّہ کے لوگوں کے ساتھ مل كر شہرِ مدینہ پر قابض، وہابی خارجى دہشت گردوں کا محاصرہ کیا، بہت سے وہابی خارجىوں کو قتل کیا، اور بہتوں کو بابِ شامی کے نزدیک ایک قلعہ (جہاں وہ پناہ ليے ہوئے تھے) سے گرفتار کیا([2])۔ وہابی خارجى تسلط سے آزادی كے بعد ان مسمار مزاراتِ مقدسہ کو دوبارہ تعمیر کرایا گیا۔

محترم بھائیو! سن 1344 ہجری (١٩٢٥ء) ميں، ایک بار پھر وہابی خارجىوں نے مدینۂ منوّره پر حملہ کیا، اور عبد العزيز بن عبد الرحمٰن بن سعود نے آٹھ8 شوّال المكرّم میں بقیع الغرقد كو منہدم کرکے ویران كر ديا([3])۔ اسی ليے آٹھ8 شوّال المكرّم یومِ انہدامِ جنّت البقيع سے مشہور ہوا۔

وسیلہ ( توسل کا بیان)

یہ بھی ضرور پڑھیں :وسیلہ ( توسل کا بیان)

عزیزانِ محترم! جنّت البقیع اور دیگر مقدّسِ مقامات کی بے حرمتی نے، عام لوگوں میں وہابیہ خارجىہ کے خلاف ایک نفرت اور غم و غصے کی لہر پیدا کر دی۔ بہت سارے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک سے، كئی افراد نے وہابیہ خارجىہ کے اس غلط اقدام کی مذمت کی۔

آذربايجان، ازبکستان، ترکمنستان، ایران، ترکی، افغانستان، عراق، چین، مغولستان، ہندوستان وغیرہ کے لوگوں نے خطوط اور دیگر مراسلاتی اور مواصلاتی ذرائع سے، غم و غصے كا اظہار کیا([4])، اور اپنے مذمتی پیغامات کے ذریعے گويا اس کام کو مرقدِ نبوی ﷺ کے انہدام کا پیش خیمہ قرار دیا؛ کیونکہ ان وہابیوں کے پیشواؤں نے، انبیائے کرامعلیہمُ السَّلام اور اولیائے عظام کی قبور پر بنے گنبدوں کو بھی  منہدم کرنا ضروری قرار دیا ہے، ابنِ قیم لکھتا ہے کہ “قبروں پر تعمیر شدہ عمارتوں کو ڈھانا واجب ہے، اگر انہدام اور ویرانی ممکن ہو، تو ایک دن بھی تاخیر کرنا جائز نہیں ہے”([5])۔

میرے بزرگو ودوستو! مزاراتِ انبیاء واولیاء کو مسمار کرنا تو بڑی بات ہے، قبروں پر بیٹھنے، بلکہ ان پر تکیہ لگانے، اور قبروں پر پاؤں ركھنے سے بھی مُردوں کو ایذا ہوتی ہے، احادیثِ صحیحہ سے یہى بات ثابت ہے۔ حضرت سيِّدنا عُماره بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ حضورِ اقدس ﷺنے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا : «يَا صَاحبَ الْقَبْر اِنزلْ مَن على الْقَبْر لَا تؤذي صَاحبَ الْقَبْر وَلَا يُؤْذِيك»([6]) “اے قبر والے! قبر سے اتر جا، نہ تم صاحبِ قبر کو ایذا دو، نہ وہ تمہیں تکلیف دے!”۔

کسی نے حضرت سیِّدنا عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا؟، فرمایا: «كَمَا أَكرهُ أَذَى المُؤمنِ فِي حَيَاته، فَإِنِّي أَكرهُ أَذَاهُ بعدَ مَوته»([7]) “مجھے جس طرح زندہ مسلمان کو ایذا دينا پسند نہیں، ويسے ہی مردہ کو تکلیف دينا بھی ناپسند ہے”۔

حضرت سيِّدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہسے روایت ہے، سیِّدِ عالم ﷺ نے مجھے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھ كر فرمایا: «لَا تُؤْذِي صَاحِبَ هذا الْقَبْر»([8]) “اس قبر والے کو تکلیف مت پہنچاؤ!”۔

اس ایذا کا تجربہ بھی تابعینِ عظام اور ديگر علمائے کرام نے (جو صاحبِ بصیرت تھے) کرچکے ہیں۔ ابو قلابہ بصری رحمہُ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ “میں ملکِ شام سے بصرہ کو جارہا تھا، رات کو خندق میں اترا، وضو کیا، دو2 رکعت نماز پڑھی، پھر ایک قبر پر سر رکھ کر سوگیا، جب جاگا تو صاحبِ قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے، اور کہتا ہے: «لقدْ آذيتَني مُنْذُ اللَّيْلَةِ!»([9]) “اے شخص تُم نے مجھے رات بھر ایذا دی ہے!”۔

اور اظہر من الشمس ہے، کہ قبور کو کھودنا ان پر موجود گنبدوں کو مسمار كرنے کے لیے بلڈوزر چلانا، جس میں یقیناً اہلِ قبور کی توہین اور ان کو ایذا دینا ہے، اور یہ بات ہمارے دين اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔

علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ مسلمان کی عزت مُردہ وزندہ برابر ہے۔ محقق علی الاطلاق رحمہُ اللہ علیہ “فتح القدیر” میں فرماتے ہیں کہ “اس بات پر اتفاق ہے، کہ مردہ مسلمان کی عزت وحرمت، زندہ مسلمان کی طرح ہے”([10])، جب عام مسلمانوں کے حق میں یہ حکم ہے، تو پھر خواص اولیاء، صحابۂ کرام واہلِ بیتِ اطہار کے مزارات پر بلڈوزر چلاکر، انہیں مسمار کرنا، کس قدر بے حرمتی و بے ادبی ہے!۔

شريعتِ مطہره میں مزاراتِ اولیاء تو  اپنی جگہ، عام قبورِ مسلمین بھی مستحقِ تکریم وممتنع التوہین ہیں، یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں، کہ قبر پر پاؤں رکھناگناہ ہے، کہ قبر كى چھت بھی حقِ میّت ہے۔

“قُنیہ شرحِ مُنیہ” میں امام علائی ترجمانی سے ہے کہ “قبر پر پاؤں رکھنا گناہ ہے؛ کہ قبر كى چھت بھی حقِ میّت ہے”([11])۔

ہر سال ۸ شوّال المکرّم کو، یومِ انہدامِ جنّت البقیع کی مناسبت سے، سارے مسلمانانِ عالم، مزاراتِ مقدّسہ کی بے حرمتی کی پُرزور مذمت  کرتے ہیں، اور وہاں کی موجوده حکومت سے، اس مبارك قبرستان کے مزاراتِ مقدسہ کی، فی الفور تعمیرِ نو کا مطالبہ کرتے ہیں۔

جعلی پیروں کا شر وفساد

یہ بھی ضرور پڑھیں :جعلی پیروں کا شر وفساد

اے اللہ! ہمیں مزاراتِ مقدسہ کا ادب واحترام نصیب فرما، وہابیہ خارجیہ کے فتنوں سے محفوظ فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی، بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوشى سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “تاريخ عجائب الآثار في التراجم والأخبار” سنة 1220، ٣/91.

([2]) “خزانة التواريخ النجدية” 4/174.

([3]) “خزانة التواريخ النجدية” 8/159.

([4]) “بقيع الغرقد” صـ52، 53.

([5]) “زاد المعاد” 3/443، 444 ملتقطاً بتصرّف.

([6]) “شرح الصدور” باب تأذيه بسائر وجوه الأذی، ر: 3، صـ286.

([7]) “شرح الصدور” باب تأذيه بسائر وجوه الأذی، ر: 4، صـ286.

([8]) “الأسامي والكنى” ٥/199.

([9]) “شرح الصدور” باب ما ینفع الميّت في قبره، ر: 25، صـ290.

([10]) “فتح القدیر” فصل في الدفن، 2/102.

([11]) “القنیة” کتاب الکراهیة والاستحسان، باب فيما يتعلّق …إلخ، صـ167.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *