یومِ پاکستان (حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)

Home – Single Post

یومِ پاکستان (حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)

میرے محترم بهائيو! یومِ پاکستان، ہمارے وطنِ عزیز کی تاریخ کا اہم دن ہے۔ اس دن یعنی 23 مارچ 1940ء کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل، ایک آزاد ملک کےمطالبے کی قرارداد، لاہور کے منٹو پارک (اقبال پارک) میں پیش کی گئی تھی، جو بعد میں قراردادِ پاکستان کے نام سےموسوم ہوئی۔ جس دن قراردادِ پاکستان پیش کی گئی، اسی وقت متفقہ طور پر واضح الفاظ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا، کہ اب بحیثیتِ مسلمان، ہندو تہذیب کے ساتھ ملاپ کسی صورت ممکن نہیں، مسلمان اپنا ایک علیحدہ اسلامی تشخص رکھتے ہیں، جس بناء پر اب ہندو ریاست میں مسلمانوں کا رہنا ناقابلِ برداشت ہے([1])۔ اسی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی، اور سات7 سال کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ ثمره جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن كی یادگار کے طور پر ہر سال  23مارچ پورے پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے؛ تاکہ ہم ان مسلم قائدین کو خراجِ تحسین پیش کریں، جن کی سوچ، مطالبہ اور کاوشوں کے سبب ہمیں آزادی کی نعمت میسر آئی!۔

The Protection of the Environment

یہ بھی ضرور پڑھیں : ماحولیات کی حفاظت

عزیزانِ محترم! 23 مارچ کا اہم دن تقاریر و تقاریب منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ، عملی طور پر وطن کی مضبوطی و استحکام کے ليے تجدیدِ عہدِ وفا کا دن بھی ہے۔ ہم نے ہر لمحہ اس سلسلہ ميں شدید محنت کر کے، اسے ترقی یافتہ اقوام کے مقابل لانا ہے، اور یہ ہم سے صرف وطن کا تقاضا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے ضمیر کا بھی ہم سے یہی مطالبہ ہے، کہ ہم سب رنگ ونسل اور قومیتوں کے اختلافات بھلا کر، اس ملک کے باشندے ہونے کی حیثیت سے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، ملک وقوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر اپناکردار ادا کریں!۔

محترم بھائیو! اس دن کی یاد اپنے ملک سے بندے کو وفا كا پيغام دے رہی ہے، کہ اس ملك كا کوئی باشنده ایسا کام نہ کرے جس سے ملک اور اس كى عزت کو نقصان پہنچے۔ اپنے وطن کے اصول وقوانین کی پاسداری کرے، اس کے امن  واستحکام کے لیے کوشاں رہے، کہ وطن  ہے تو ہم ہیں۔ لہٰذا اس کی بقا کےلیے ہم سب کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہے، ہمیں اسلام اور اپنے ملک سے وفاداری کا عہد کرنا، اور اسے پورا کرکے ہی دم لینا ہے، اس مملکتِ خداداد کی سلامتی، امن وسکون اور استحکام کے لیے، باہمی اتحاد واتّفاق، پیار ومحبت اور مُساوات کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک ووطن سے محبت وپیار بھی ایمان كا حصہ ہے”([2])۔ ؏

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

میرے بزرگو ودوستو! اس قرارداد کی منظوری کے بعد بھی، وطنِ عزیز کے حصول کی کوششوں میں، جو مسلمان اپنی جانیں قربان کرگئے! وہ جاں نثارانِ وطن شہداء بارشادِ قرآنی: ﴿اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ۰۰۱۶۹ فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَيَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۘ۰۰۱۷۰ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾([3]) “وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس زندہ ہیں، روزی بھی پاتے ہیں، جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس پر شاد ہیں، اور اپنے بعد آنے والوں کی خوشیاں منا رہے ہیں، جو ابھی ان سے نہیں ملے، کہ ان پر نہ کچھ خَوف ہے اور نہ کچھ غم۔ اللہ کی نعمت اور فضل کی خوشیاں مناتے ہیں، اور یہ کہ اللہ تعالی مسلمانوں کا اجر ضائع نہیں کرتا”۔ کہ وہ جو اچھے اعمال اپنی زندگی میں کرتے تھے، اللہ تعالی ان کے مرنے کے بعد بھی ان اعمالِ صالحہ کو لکھتا ہے، اور خیر وبھلائی ان سے منقطع نہیں ہوتی۔

رفیقانِ گرامی قدر! اس مبارک دن کی یاد ہم سے یہ بھی تقاضا کرتی ہے، کہ پوری قوم متحد ہوکر یک جان ہوجائے؛ کیونکہ اتحاد ایک قوّت اور عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالی ہمارے وطنِ عزیز کو بھی اپنے اس  فضل وکرم سے نوازے، جو انتہائی عمدہ اور بابرکت چیز ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ»([4]) “جو جنّت کے وسط میں اپنا ٹھکانا چاہتا ہو، اُسے چاہیے کہ امت کی  بڑی جماعت سے مضبوط وابستگی رکھے”، اسی معنئ جلیل کی تاکید میں حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ؛ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِه»([5]) “تم پر اطاعت واجتماعیت لازم ہے، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالی کی رسی ہیں، جس کو مضبوطی سے تھامنے کا اس نے حکم فرمایا ہے”۔

عزیزانِ محترم! جس دن اللہ کریم اپنے فضل وکرم سے کوئی نعمت عطا فرمائے، اس کو یاد رکھنا اہلِ ایمان واہلِ محبت کا شعار وشیوہ ہے، جس دن اللہ تعالی نے ہمارے بزرگوں کو وطنِ عزیز عطا فرمانے کے لیے یکجا ہوکر جدوجہد کا عزم دیا، اس دن کو عظیم، مبارک اور نعمت جان کر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہم پر لازم وضروری ہے، اور ساتھ ساتھ باہمی اتفاق واتحاد کو بھی مزید مضبوط کرنا ہے۔ تاریخ کے اَوراق پلٹنے، اور اَقوامِ عالَم کے عروج وزَوال، اور ان كى کامیابی وناکامی کا مطالعہ کرنے سےپتا چلتا ہے؛ کہ آج تک جس قَوم نے بھی عروج وترقی کی منزل  پائی، وہ ترقى اكثر اُن كے باہمى اتحاد ہی کے مَرہونِ منّت رہی۔ اگر کسی کے پاس جنگی سازوسامان، تجربہ کار ودَلیر بَری, بحری اور فِضائی اَفواج، اور عُلماء ودانشوَر، الغرض دِینی ودنیاوی تمام قوّتیں ہوں, لیکن باہَمی اتفاق واتحاد نہ ہو, تو یہ تمام تَر صلاحیتیں بےکار، بلکہ نا ہونے کے برابر ہیں۔ باہَمی نااتفاقی ترقی کے بجائے تنزّلی، اور آبادی کے بجائے بربادی کا سبب بنتی ہے۔  مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے، اتفاق واتحاد، بھائی چارگی، ہم آہنگی ویكجہتى کا درس دیا، اور جب تک مسلمان اس پیغام پر عمل پَیرا رہے، کامیابی وکامرانی اُن کا مُقدَّر بنی رہی۔ قَیصر وکِسریٰ جیسی طاقتیں بھی اِن مسلمانوں کے آگے سرنگوں تھیں، ان کے ہیبت وجلال سے پہاڑ بھی سمٹ کر رائی ہوئے، راستے کی ہر رُکاوٹ کو وہ پاؤں کی ٹھوکر سے دُور کرتے چلےگئے، فتح ونُصرت کے پرچم لہرائے، کامیابیوں کے سفر طَے کیے۔  لیکن جب مسلمان اتفاق واتحاد کو ختم کر کے تفرقہ بازى، گروہ بندی اور تعصب میں مبتلا ہو ئے, ان کی شان وشَوکت، دَبدبہ ورُعب سب کچھ بکھر کر رہ گیا، مسلمان کمزور ہوتے چلے گئے۔ یہ بات واضح ہے کہ اتفاق واتحاد، قوّت اور تعمیری نشوونما کا باعث ہے، جبکہ اس سے دُوری ونااتفاقی، اِفتِراق وانتشار، تخریب اور کمزوری کا سبب ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ﴾([6]) “اللہ اور رسول کا حکم مانو، اور آپس میں جھگڑا مت کرو، ورنہ بُزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہَوا (طاقت) جاتی رہے گی!”۔ یعنی اتحاد واتفاق کے سبب مسلمانوں کا رُعب ودَبدَبہ قائم رہتا ہے، بصورتِ دیگر سب کچھ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اِفتِراق وانتشار والے اَفعال وحرکات وکردار کو چھوڑ کر، باہَمی مضبوط اتحاد سے كام لينا ہے!!۔

عزیزانِ محترم! اللہ تعالی کا کروڑہا کروڑ احسان، کہ اُس نے ہمارے وطنِ عزیز پاكستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سَرسبز باغات، کنویں, چشمے, وسيع وعريض سمندر، دریا اور  ہماری پاك سرزمين بھی ہے۔ یہاں شہروں کی تعمیر، بچوں کی تعلیم وترقی، انسانیّت کی بقا وفلاح، صحت وسلامتی کے لیے اسکول، یونیورسٹیز، ہسپتال وصنعتوں کے قیام، ہر ممکنہ وبنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں، پُلوں اور ڈیموں کی تعمیرات، خدمتِ خلق اور دیگر کئی اچھے کاموں کے لیے مزيد بھر پور کوششوں کى ضرورت ہے۔ لہذا ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس ملک کی  اشیاء واَملاك کی حفاظت کر یں، اور حکومتی اہلکاروں سے بھرپور تعاون کرکے  حکم ِ خداوندی کا عملی طور پر ثبوت دیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى﴾([7]) “بهلائى اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو!”۔

برادرانِ اسلام! بے لوث خدمتِ انسانی دلوں کو موہ كر، مخالفتوں کے ہجوم سے بھی راستہ نکال لیتی ہے۔ مسلمان بحیثیتِ اُمّت خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنالیں، تو انہیں فاتحِ زمانہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ خدمتِ خلق میں اجرِ عظیم، اور آخرت کی بھی کامیابی ہے، مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دوسرے بھائی کی ہر طرح سے مدد کرے۔  مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الْمسْلِمُ أَخُو الْمسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِيْ حَاجَةِ أَخِيْهِ، كَانَ اللهُ فِيْ حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»([8]).

“مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا، اور نہ اُس کو ظالم کے حوالے کرتا ہے، جس نے اپنے بھائی کی ضرورت پوری کی، اللہ تعالی اس کی ضرورت پوری فرمائے گا، جس نے  کسی مسلمان کی مصیبت دور کی، اللہ تعالی بروزِ قیامت اُس کی مصیبتیں دور فرمائے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا”۔ لہذا جن مقاصدِ حسنہ کے لیے ہمیں وطنِ عزیز حاصل ہوا، ان مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے، ان تعلیماتِ اسلامیہ پر عمل کرتے ہوئے، ہمیں اپنے بزرگوں کی کوششوں اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو! لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی، اس مملکتِ اسلامیہ کی بقا، عروج وترقی اور امن وسلامتی کے لیے باہمی اتفاق واتحاد بہت ضروری ہے، جس طرح ایک قطرۂ آب کی تنہا کوئی خاص حیثیت نہیں، مگر جب یہی قطرے آپس میں اتحاد کرلیتے ہیں، تو ابرِ کرم کی صورت میں پَل بَھر میں جَل تھل کر دیتے ہیں، سُوکھے کھیتوں کو ہرا بھرا اور تر وتازہ کر دیتے ہیں، اِن ہی قطروں کی ہم آہنگی ایک ایسے طُوفان کو بھی جنم دیتی ہے، جو ایک عالَم کو تنکے کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔ ایک ننھے ستارے کی کیا حقیقت؟ لیکن جب یہی ستارے آپس میں اتحاد کرلیتے ہیں، تو  اندھیری رات میں پورے عالم کو روشن ومنوّر کر دیتے ہیں، مسافروں کے لیے خیر کا سامان بن جاتے ہیں!!۔

الغرض یہی حال اقوامِ عالم کا بھی ہے، کہ اتفاق واتحاد کی بدولت قومیں سنورتی اور ترقی وعروج کی منازل طے کرتی  ہیں۔ اگر آج ہم بھی اتفاق واتحاد کے اصول پر کار بند ہوجائیں، اسلامی تعلیمات اور اعلیٰ انسانی واخلاقی اقدار اپنا لیں، تو ہمیں بھی وہ مقام، عزت واقتدار حاصل ہوسکتا ہے، کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت ہم پر غالب نہیں آسکتی، صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اتحاد ویکجہتی  کے پیغام کو عام کریں، ملکی وقومی نقصان دَہ اعمال وکردار کا خاتمہ کرکے، اتفاق واتحاد کی حقیقت کو اجاگر کریں؛ کیونکہ اُمّتِ مسلمہ بالخصوص ہمارے وطنِ عزیز کو درپیش مسائل کا حل اور چیلنجز کا تدارک، اتفاق واتحاد میں مضمر ہے۔ اللہ کریم نے مسلمانوں کو اتفاق واتحاد پر قائم ودائم رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ﴾([9]) “اُن جیسے مت ہوجانا جو روشن نشانیوں کے باوجود الگ الگ ہو گئے، اور اُن میں پھوٹ پڑ گئی”۔ تو معلوم ہوا کہ افتراق وانتشار باہمی پھوٹ کا سبب ہے، لہذا نااتفاقی سے بچتے ہوئے دینی ودنیاوی معاملات میں، سچ وحق پر رہنے والوں کے ساتھ رہنا ہے، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ ؏

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں

 موج ہے دریا میں، بیرونِ دریا کچھ نہیں

اےاللہ! ہمیں قراردادِ پاکستان کے مقاصد کو سمجھ کر، ملک وقوم کی خدمت اور اسکی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “ماہنامہ دخترانِ اسلام مارچ 2016ء” اداریہ،؃   4۔ “تحریکِ پاکستان اور علماءِ کرام”؃  145۔

([2]) “المقاصد الحسنة” الباب الثاني في ترتيب …، كتاب الإيمان، صـ489.

([3]) پ٤، آل عمران: 169–171.

([4]) “سنن الترمذي” باب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، ر: 216٥، صـ498.

([5]) “المعجم الكبير” من اسمه عبد الله، باب، ر: ٨٩٧٢، 9/١٩٩.

([6]) پ10، الأنفال: 46.

([7]) پ٦، المائدة: ٢.

([8]) “صحيح البخاري” كتابُ المظالم، ر: ٢٤٤٢، صـ3٩4.

([9]) پ٤، آل عمران: 105.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *