
Table of contents
- امام مہدی کا نام حضور ﷺ کے اسمِ گرامی کے مطابق ہوگا
- امام مہدی حضور نبئ کریم ﷺ کی نسل پاک سے ہوں گے
- امام مہدی کا نسَبی تعلق خاندانِ اہلِ بیت سے ہوگا
- امام مہدی حسنی حسینی سیِّد ہوں گے
- امام مہدی کا حُلیہ مبارکہ
- امام مہدی کی سخاوَت
- امام مہدی سے لوگوں کی محبت وعقیدت
- امام مہدی اور مظلوموں کی داد رَسی
- امام مہدی کے دَور میں لوگوں کو حسبِ خواہش مال عطا کیا جائے گا
- امام مہدی کی تشریف آوَری حق ہے
- امام مہدی یمن کی بستی ” کَرِعَہ ” سے نکلیں گے
- قیامت سے پہلے امام مہدی کا ظُہور بہر صورت ہو کر رہے گا
- امام مہدی کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کا سلسلہ
- حجر ِ اَسود اور مقام ِ ابراہیم کےپاس شروع ہوگا
- فتنۂ سفیانی
- سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسایا جانا
- ظُہورِ امام مہدی کے وقت اُن کی بیعت کرنے والوں کی تعداد
- اللہ تعالی ایک ہی رات میں امام مہدی کو خلافت کا اہل بنا دے گا
- امام مہدی کا زمانہ خیر وبرکت کا زمانہ ہوگا
- امام مہدی کے دَورِ خلافت میں خوشحالی کا دَور دَورہ ہوگا
- امام مہدی کے دَورِ خلافت میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا
- اہلِ مشرق کا امام مہدی کی خلافت وامارت کو تسلیم کرنا
- امام مہدی کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا
- اہلِ مشرق بیت المقدس فتح کرنے میں امام مہدی کی مدد کریں گے
- امام مہدی کے ذریعے تابوتِ سکینہ ” بحیرۂ طَبریہ ” سے ظاہر ہوگا
- بحَیر ۂ طَبری ہ کا محلِ وُقوع
- بحَیر ۂ طَبری ہ کا خشک ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
- امام مہدی کے دَورِ خلافت کی مدّت
- امام مہدی شرک کے شہر فتح کریں گے
- غزوۂ ہند میں لشکرِ مہدی کی فتح
- امام مہدی گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے
- جنگِ عظیم، خُروجِ دَجّال اور امام مہدی
- خُروجِ دَجّال سے متعلق بعض جھوٹے دعوے
- امام مہدی مسلمانوں کے امیر وامام ہیں
- حضرت عیسی D کے مقامِ نُزول سے متعلق محدثین کے اقوال
- دَجّال کا خاتمہ
- امام مہدی پر اس اُمت کا اختتام
- ظُہورِ امام مہدی کی چند علامات
- نفسِ زکیہ کی شہادت اور امام مہدی کا ظُہور
- س ورج کے ساتھ کسی نشانی کا طُلوع ہونا
- مشرق کی جانب سے طُلوع ہونے والا دُم دار ستارہ
- رمضان المبارک کے مہینے میں دو بار چاند گرہن
- امام مہدی کے بارے میں علمائے اُمت کے چند فرامین
- امام محمد باقر کا فرمان
- امام ابو الحسن محمد بن حسین آبری سجستانی
- علّامہ علی بن عبد اللہ سمہودی
- علّامہ عبد الرؤوف مُناوی
- علّامہ شمس الدین سفارینی
- خلاصۂ کلام
کتبِ اَحادیث میں قیامت کی کئی نشانیوں کا ذکر ہے، جن میں سے اکثر ظاہر ہو چکیں، جبکہ بعض بڑی علامات کا ظُہور ابھی باقی ہے، ان میں سے خاص طَور پر قابلِ ذکر حسبِ ذیل ہیں:
(1) امام مہدی کا ظُہور (2) تین جگہ خَسف ہونا (یعنی زمین کے دھنسنے کے واقعات): مشرق کے علاقہ میں، مغرب کے علاقہ میں، اور جزیرۂ عرب کے علاقہ میں زمین کا دھنسنا۔ (3) دُھواں ظاہر ہونا([1]) (4) دَجّال([2]) کا خُروج (5) حضرت عیسی D کا (آسمان سے زمین پر) اُترنا (6) دابۃُ الاَرض([3]) کا نکلنا (7) یاجُوج ماجُوج کا نکلنا (8) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (9) اور آخری نشانی جو سب کے بعد ظاہر ہوگی، وہ آگ ہے جو یمن (Yemen) کی طرف سے نمودار ہو گی، اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی([4])۔ یہاں محشر سے مراد ارضِ شام ہے، اور یہ مُعاملہ قیامت سے پہلے ہوگا([5])۔
زیرِ نظر تحریر میں ہمارا موضوع علاماتِ قیامت میں سے پہلی بڑی علامت “سیِّدنا امام مہدی کا ظُہور” ہے، اس کے بعد پے دَر پے قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی، اور پھر قیامت قائم ہو گی!۔
امام مہدی کا ظُہور اس دَور میں ہوگا جب مُعاشرے میں ناانصافی اور گمراہی عام ہوگی، غلط اَفکار ونظریات اور فتنے ہر سُو پھیل چکے ہوں گے، اور مسلمان شدید ظلم وستم کا شکار ہوں گے۔ * آپ علیہ السلام دین ِ اسلام کو اَز سرِ نَو زندہ کریں گے * ناانصافی کا خاتمہ کریں گے * زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے * بیت المقدس کو آزاد کروائیں گے * جہاد کے ذریعے مسلمانوں کو فُتوحات اور اُن کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے * ان کا عزّ ووقار بحال کرائیں گے * اور عالمِ اسلام کو اقوامِ عالَم پر غلبہ دلائیں گے!۔
سیِّدنا امام مہدی کے تعارُف، حالات، واقعات اور قُربِ قیامت میں آپ کے ظُہور کے بارے میں متعدد احادیث ِ مبارکہ شاہد ہیں،ان میں واضح طَور پر مذکور ہے کہ آپ کا اسمِ گرامی حضور نبئ کریم ﷺ کے نام کے مطابق “محمد بن عبد اللہ” ہوگا، آپ کا تعلق اہلِ بیت کرام سے ہوگا، اور آپ حسنی حسینی سیِّد ہوں گے!۔
امام مہدی نہایت وجیہ شخصیت کے حامل ہوں گے، آپ کی رحمدلی اور سخاوَت اپنی مثال آپ ہوگی، امام مہدی مظلوموں کی فریاد رَسی فرمائیں گے، آپ اپنے دَورِ خلافت میں لوگوں کو بےحساب مال عطا فرمائیں گے، آپ علیہ السلام کی تشریف آوَری حق ہے اور ہر طرح کے شک وشبہ سے بالا تَر ہے!۔
آپ یمن کی ایک بستی “کَرِعَہ” سے نکلیں گے، البتہ باقاعدہ ظُہور آپ کا بیت اللہ شریف میں ہوگا۔ آپ کو گھر بیٹھے بادشاہت عطا ہوگی، آپ کو پہچاننے کے بعد لوگ بیت اللہ شریف میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے۔ آپ کی خلافت کی خبر عام ہونے پر ملکِ شام سے ایک لشکر آپ کے خلاف جنگ کے لیے روانہ ہوگا، جسے مکہ ومدینہ کے درمیان مقامِ بیداء([6]) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا، اس لشکر کی عبرتناک ہلاکت کے بعد ملکِ شام کے اَبدال اور عراق کے اَولیاء حاضر ہو کر امام مہدی علیہ السلام کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے۔ پھر ایک سفیانی شخص (عبد اللہ بن یزید([7])) -جس کا ننہیال قبیلہ بنی کلب سے ہوگا- امام مہدی اور ان کے مددگاروں سے جنگ کرے گا، اس میں فتح امام مہدی کے لشکر کی ہوگی!۔
امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر ابتداءً بیعتِ خلافت کرنے والوں کی تعداد 313 ہوگی، نیز اللہ تعالی ایک ہی رات میں امام مہدی میں خلافت وامارت کے پیچیدہ اُمور کو سمجھنے، اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت پیدا فرما دے گا۔ آپ علیہ السلام کے دَور میں مسلمان انتہائی خوشحال ہو جائیں گے، نیز ظلم وستم کا خاتمہ اور عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا۔ اہلِ مشرق سیِّدنا امام مہدی کی خلافت وامارت کو تسلیم کر لیں گے، آپ کا ساتھ دیں گے اور بیت المقدس فتح کرنے میں آپ کی مدد کریں گے!۔
مختلف روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام پانچ، سات یا نَو سال تک حکومت کریں گے، اس مختصر دَورِ حکومت میں آپ کفّار ومشرکین سے کئی بار جہاد کر کے، ان کے شہروں اور ملکوں کو فتح کریں گے۔ “غزوۂ ہند” بھی امام مہدی علیہ السلام کے دَورِ خلافت میں ہوگا، لشکرِ مہدی اس میں فتح حاصل کرے گا۔ “جنگِ عظیم” (World War)، دوبارہ فتحِ قسطنطینیہ (استنبول) اور خُروجِ دَجّال کے واقعات بھی سیِّدنا امام مہدی کے دَورِ خلافت میں پیش آئیں گے۔
حضرت سیّدنا عیسی D بھی امام مہدی کے دَورِ خلافت میں آسمان سے نازل ہوں گے، پھر دَجّال کا خاتمہ فرمائیں گے، نیز اللہ تعالی نے جس طرح اس اُمت کا آغاز حضور نبئ کریم ﷺ سے فرمایا، اُسی طرح اسے امام مہدی پر ختم فرمائے گا!۔
امام مہدی کا ظُہور کب ہوگا؟ اس بارے میں کتبِ احادیث میں متعدد علامات مذکور ہیں، ان میں سورج کے ساتھ کسی اَور نشانی کا طُلوع، مشرق کی طرف سے دُمدار ستارے کا طلوع، اور رمضان کے مہینے میں دو بار چاند گرہن جیسی علامتیں خاص طَور پر قابلِ ذکر ہیں!۔
مذکورہ بالا تمام باتیں کتبِ احادیث میں واضح طَور پر مذکور ہیں، ان کی تفصیل حسبِ ذیل بالترتیب بیان کی جاتی ہے:

یہ بھی ضرور پڑھیں :دَجّال اور قربِ قیامت
امام مہدی کا نام حضور ﷺ کے اسمِ گرامی کے مطابق ہوگا
امام مہدی علیہ السلام کا نام حضور نبئ کریم ﷺ کے اسمِ گرامی کے مطابق ہوگا، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لا تَذهَبُ الدُنيَا حتى يَملِكَ العَرَبَ رَجلٌ مِن أهلِ بَيتِي، يُوَاطِئُ اسمهُ اسمِي»([8]) “دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے، اُس کا نام میرے نام کے مُوافِق (یعنی محمد بن عبد اللہ) ہوگا”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ (ت ١٣٩١ھ/ ١٩٧١ء) فرماتے ہیں کہ “اس حدیث پاک سے اُن رَوافض کا رَد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ “امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں، ان کا نام محمد بن حسن عسکری ہے” یہ غلط ہے، بلکہ وہ پیدا ہوں گے اور (اُن کا نام) محمد بن عبد اللہ ہوگا”([9])۔
امام مہدی حضور نبئ کریم ﷺ کی نسل پاک سے ہوں گے
حضرت امام مہدی علیہ السلام “سیِّد” ہوں گے، اور سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اَولاد سے ہوں گے۔ سیِّدہ اُمِ سلَمہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: «المهدِيُّ مِن عِترَتِي، مِن وَلَدِ فَاطِمَةَ»([10]) “مہدی میری اولاد، اولادِ فاطمہ سے ہے!”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “اس (حدیثِ پاک) سے معلوم ہوا کہ اِمام مہدی “سیِّد” ہوں گے۔ مِرزا قادیانی مرزا ہو کر اِمام مہدی
بنتا ہے، تعجب ہے!”([11])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :غزوۂ ہند کیا ہے؟
امام مہدی کا نسَبی تعلق خاندانِ اہلِ بیت سے ہوگا
امام مہدی کا نسبی تعلق خاندانِ اہلِ بیت سے ہوگا، سیِّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «نَبِيُّنَا خَيرُ الأنبياءِ وهو أبُوكِ، وَشَهِيدُنَا خَيرُ الشُهَدَاء وهو عَمُّ أبيكِ حَمزَةُ، وَمِنَّا مَن لَهُ جَناحانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الجنّةِ حَيثُ شاءَ، وهو ابنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعفَرٌ، ومِنَّا سِبطَا هَذِهِ الأُمَّةِ: الحَسَنُ وَالحُسَينِ، وَهُمَا ابنَاكِ، وَمِنَّا المهدِيُّ»([12]) “ہمارا نبی تمام انبیاء سے بہتر ہے اور وہ آپ کےوالد ہیں، ہمارا شہید تمام شُہداء سے بہتر ہے اور وہ آپ کے والد کے چچا حمزہ ہیں، اور ہم میں سے ہی وہ شخص ہے جس کے دو پَر ہیں، وہ جنّت میں جہاں چاہتا ہے اُڑتا ہے، اور وہ آپ کے والد کے چچا زاد بھائی جعفر طیّار ہیں، اور ہم میں سے ہی اس اُمت کے بہترین نواسے حسن و حسین ہیں، اور وہ آپ کے دو بیٹے ہیں، اور ہم میں سے ہی مہدی بھی ہوں گے!”۔
ایک اَور مقام پر سیِّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «مِنَّا السَفَّاحُ، وَمِنَّا المنصورُ، وَمِنَّا المهدِيُّ»([13])
“سَفّاح([14]) ہم میں سے ہے، منصور([15]) ہم میں سے ہے، اور مہدی بھی ہم میں سے ہے”۔
امام مہدی حسنی حسینی سیِّد ہوں گے
امام مہدی والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طر ف سے حسینی سیِّد ہوں گے،حضرت ابو اسحاق ہمدانی([16]) نے فرمایا کہ سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اپنے شہزادے امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا: «إِنَّ ابنِي هذا سَيِّدٌ، كما سَمَّاهُ النَّبِيُّ g، وَسَيَخرُجُ مِن صُلبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسمِ نَبِيِّكُم g، يُشبِهُهُ فِي الخُلُقِ، وَلَا يُشبِهُهُ فِي الخَلقِ -ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً-: يَملَأُ الأَرضَ عَدلاً»([17]) “میرا یہ بیٹا سردار ہے کہ نبئ کریم ﷺ نے اسے سردار قرار دیا ہے، اس کی اَولاد میں حضور اکرم کا ہم نام ایک شخص ظاہر ہو گا، وہ اَخلاق میں نبئ کریم ﷺ کی طرح ہوگا، مگر شکل وصورت میں نہیں۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا!”۔
امام ابن حجر مکی رحمۃُ اللہ علیہ (ت ٩٧٤ھ/ ١٥٦٧ء) فرماتے ہیں کہ “امام مہدی والد کی طرف سے سیِّدنا امام حسَن، اور والدہ کی طرف سے سیِّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسلِ پاک سے ہوں گے”([18])۔
امام مہدی کا حُلیہ مبارکہ
سیِّدنا امام مہدی علیہ السلام کی پیشانی رَوشن اور ناک خوبصورت اور بلند ہوگی۔ حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «المهدِيُّ مِنِّي، أَجلَى الجَبهةِ، أَقنَى الأَنْفِ، يَملَأُ الأَرضَ قِسطاً وَعَدلاً، كَما مُلِئَت جَوراً وَظُلماً، يَملِكُ سَبعَ سِنِينَ»([19]) “مہدی مجھ سے ہیں (یعنی میری اَولاد میں سے ہیں) رَوشن پیشانی اور خوبصورت بلند ناک والے ہیں، زمین کو عدل وانصاف سے ایسا بھر دیں گے جیسے پہلے وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی، وہ سات سال تک حکومت کریں گے!۔
ایک اَور مقام پر سیِّدنا عبد الرحمن بن عَوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَيَبعَثَنَّ اللهُ مِن عِترَتِي رَجُلاً أَفرَقَ الثَّنَايَا، أَجلا الجَبهَةِ، يَملأُ الأَرضَ عَدلاً كَمَا مُلِئَت جُوراً، يَفِيضُ المَالُ فيضاً»([20]) “اللہ تعالی ضرور میری اَولاد میں سے ایک ایسے شخص کو بھیجے گا، جس کے سامنے کے دانتوں میں فاصلہ ہوگا، کشادہ پیشانی والا ہوگا، زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا، اور مال کو عام کرے گا” یعنی خوب سخاوت کرے گا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد
امام مہدی کی سخاوَت
سیِّدنا امام مہدی کی سخاوت اپنی مثال آپ ہوگی! آپ علیہ السلام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق بےحساب مال عطا فرمائیں گے۔ حضرت ابو نضرۃ تابعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ انہوں نے فرمایا: “وہ وقت قریب ہے جب اہلِ شام کے پاس نہ دینار لائے جا سکیں گے نہ اناج” ہم نے پوچھا: یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “رُومیوں([21]) کی جانب سے”۔ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحثِي المالَ حَثْياً، لَا يَعُدُّهُ عَدَداً»([22]) “میری اُمت کے آخری دَور میں ایک خلیفہ (مہدی) ہوگا، جو لوگوں کو لبالَب بھر کر مال دے گا، اور (اپنی دریا دِلی اور سخاوت کے باعث) اُسے شمار تک نہیں کرے گا”۔
امام مہدی سے لوگوں کی محبت وعقیدت
سیِّدنا امام مہدی لوگوں کو بڑے محبوب ہوں گے، حضرت ابو رُؤبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «المهدِيُّ كأنّما يُعلِقُ المسَاكِينَ الزُبدَ»([23]) “مہدی لوگوں کے ہاں ایسے محبوب ہوں گے جیسے مسکینوں کے ہاں مکھن!”۔
امام مہدی اور مظلوموں کی داد رَسی
امام مہدی ظلم، جبر اور ناانصافی کا خاتمہ کر کے مظلوموں کی داد رَسی فرمائیں گے، حضرت جعفر بن سیّار شامی سے روایت ہے: «يَبْلُغُ مِن رَدِّ المهدِيِّ المظَالِمَ، حَتَّى لَو كان تَحتَ ضِرسِ إنسَانٍ شَيءٌ انتَزَعَهُ حَتَّى يَرُدَّهُ»([24]) “امام مہدی مَظالم کو دُور کریں گے، یہاں تک کہ اگر (کسی مظلوم کا حق کسی) انسان کی داڑھ کے نیچے بھی چھپا ہوگا، تو وہاں سے بھی مظلوم کو اس کا حق واپس دلائیں گے!”۔
امام مہدی کے دَور میں لوگوں کو حسبِ خواہش مال عطا کیا جائے گا
امام مہدی علیہ السلام کے دَورِ خلافت میں خیر وبرکت اور مال کی اتنی فراوانی ہوگی، کہ لوگوں کو حسبِ خواہش مال عطا کیا جائے گا۔ سیِّدنا ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مصطفی جان رحمت ﷺ کے بعد وُقوعِ حوادِث سے متعلق حضور سے پوچھا کہ آپ کے بعد کیا ہوگا؟ سروَرِ کائنات ﷺ نے فرمایا: «إنّ فِي أمَّتِي المهدِيَّ يَخرُجُ يَعِيشُ خَمساً أَو سَبعاً أَو تِسعاً» -زَيدٌ الشاكُّ- قَالَ: قُلنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «سِنِينَ» قَالَ: «فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَيَقُولُ: يَا مَهدِيُّ أَعطِنِي أَعطِنِي» قَالَ: «فَيَحثِي لَهُ فِي ثَوبِهِ مَا استَطَاعَ أَن يَحمِلَهُ»([25]) “میری اُمت میں مہدی ہوگا جو پانچ، سات یا نَو سال تک حکومت کرے گا (راوی کو مدّتِ حکومت میں شک ہے)۔ میں نے پوچھا کہ اس عدد سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اس عدد سے مراد) خلافت کے سال ہیں” (ان کا زمانہ ایسی خیر وبرکت والا ہوگا کہ) ایک شخص ان سے آ کر مانگے گا، اور کہے گا کہ اے مہدی! مجھے کچھ دیجیے، مجھے کچھ دیجیے! تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا کہ “مہدی اسے بھربھر کر اتنا مال دیں گے کہ وہ اٹھا نہیں پائے گا!”۔
امام مہدی کی تشریف آوَری حق ہے
امام مہدی کی تشریف آوَری حق ہے، اور ہر طرح کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ حضرت قَتادہ بن دعامہ سدُوسی رحمہُ اللہ علیہ سے روایت ہے، کہ میں نے حضرت سیِّدنا سعید بن مسیّب رحمہُ اللہ علیہ سے پوچھا کہ کیا امام مہدی کے تشریف لانے والی بات حق ہے؟ انہوں نے فرمایا: «حَقٌّ» “بَر حق ہے”۔ میں نے پوچھا: وہ کن میں سے ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا: «مِن قُرَيشٍ» “قریش سے ہوں گے”۔ میں نے پوچھا: وہ قریش کے کس قبیلہ سے ہوں گے؟ فرمایا: «مِن بَنِي هَاشِمٍ» “بنو ہاشم سے”۔ میں نے پوچھا: بنو ہاشم کی کس شاخ سے؟ فرمایا: «مِن بَنِي عَبدِ المطَّلِبِ» “بنو عبد المطلب سے”۔ میں نے پھر پوچھا: بنو عبد المطلب کے کس خاندان سے؟ تو انہوں نے فرمایا: «مِن وَلَدِ فَاطِمَةَ»([26]) “سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اَولاد سے ہوں گے”۔
امام مہدی یمن کی بستی “کَرِعَہ“ سے نکلیں گے
امام مہدی علیہ السلام یمن (Yemen) کی ایک بستی “کَرِعَہ” سے نکلیں گے، جبکہ اُن کا باقاعدہ ظُہور بیت اللہ شریف میں ہوگا۔ سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «يَخرُجُ المهدِيُّ مِن قَرْيَةٍ بِاليَمَنِ يُقَالُ لَهَا: كَرِعَةٌ»([27]) “مہدی یمن کی اُس بستی سے نکلیں گے جسے “کَرِعَہ” کہا جاتا ہے”۔
قیامت سے پہلے امام مہدی کا ظُہور بہر صورت ہو کر رہے گا
قیامت سے پہلے امام مہدی کا ظُہور بہرصورت ہو کر رہے گا۔ سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «لَو لَم يَبقَ مِنَ الدُنيَا إِلَّا يَومٌ، لَبَعَثَ اللهُ رَجُلاً مِن أَهلِ بَيتِي، يَملَؤُهَا عَدلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوراً»([28]) “اگرچہ قیامت قائم ہونے میں صرف ایک ہی دن باقی رہ جائے، تب بھی اللہ تعالی میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو ضرور بھیجے گا، جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی!”۔
امام مہدی کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کا سلسلہ
حجر ِ اَسود اور مقام ِ ابراہیم کےپاس شروع ہوگا
امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کا سلسلہ حجر ِ اَسود اور مقام ِ ابراہیم کے پاس شروع ہوگا۔ اُم المؤمنین سیِّدہ اُم سلَمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَكُونُ اختِلَافٌ عِندَ مَوتِ خَلِيفَةٍ([29])، فَيَخرُجُ رَجُلٌ مِن أَهلِ المدِينَةِ هَارِباً إِلَى مَكَّةَ، فَيَأتِيهِ نَاسٌ مِن أَهلِ مَكَّةَ فَيُخرِجُونَهُ([30]) وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَينَ الرُكنِ وَالمقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيهِ بَعثٌ مِن الشامِ، فَيُخسَفُ بِهِم بِالبَيدَاءِ بَينَ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ، فَإِذَا رَأَى الناسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبدَالُ الشامِ، وَعَصَائِبُ أَهْلِ العِرَاقِ، فَيُبَايِعُونَهُ. ثُمَّ يَنشَأ رَجُلٌ مِن قُرَيشٍ أَخوَالُهُ كَلبٌ، فَيَبعَثُ إِلَيهِم بَعثاً، فَيَظهَرُونَ عَلَيهِم، وَذَلِكَ بَعثُ كَلبٍ([31])، وَالْخَيبَةُ لِمَن لَم يَشهَد غَنِيمَةَ كَلبٍ، فَيَقسِمُ المالَ، وَيَعمَلُ فِي الناسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِم g، وَيُلقِي الْإِسلَامُ بِجِرَانِهِ إلى الْأَرْضِ، فَيَلبَثُ سَبعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ المسلِمُونَ»([32]).
“ایک حاکم (بادشاہ) کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب میں اہلِ مدینہ کا) اختلاف ہوگا، ایک شخص (یعنی امام مہدی اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے خلیفہ نہ بنا دیں) مدینہ منوّرہ سے مکہ مکرمہ چلے جائیں گے، وہاں مکہ کے کچھ لوگ انہیں بحیثیت مہدی پہچان کر ان کے پاس آئیں گے، اور انہیں گھر سے باہر نکلنے اور حکومت سنبھالنے کے لیے مجبور کریں گے، لیکن امام مہدی اس منصب کو ناپسند کریں گے، اس کے بعد وہ لوگ رُکن (یعنی حجرِ اَسود([33])) اور مقامِ ابراہیم کے درمیان امام مہدی کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملکِ شام سے ایک لشکر (امام مہدی سے جنگ کے لیے) بھیجا جائے گا، جو (آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ ومدینہ کے درمیان مقامِ “بیداء” میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔ (اس لشکر کی عبرتناک ہلاکت کے بعد) شام کے اَبدال اور عراق کے اَولیاء اللہ حاضر ہو کر آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے۔ پھر ایک قرشیُ النسل شخص (سفیانی([34])) – جس کا ننہیال قبیلہ بنو کلب سے ہوگا- امام مہدی اور ان کے مددگاروں سے جنگ کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، مگر امام مہدی کا لشکر اُس لشکر پر غالب آئے گا اور یہ لشکر بنوکلب کا ہوگا، اور اس شخص کے لیے خسارہ ہے جسے قبیلہ بنو کلب سے حاصل شدہ غنیمت سے حصہ نہ ملے! اس فتح کے بعد امام مہدی خوب مال تقسیم کریں گے، اور لوگوں کو ان کے نبی ﷺ کی سنّت پر چلائیں گے۔ اس زمانے میں اسلام مکمل طَور پر مستحکم اور غالب ہو جائے گا! بحالت خلافت امام مہدی دنیا میں سات اور بعض روایات کے مطابق نَو سال رہیں گے، پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ ادا کریں گے”۔
فتنۂ سفیانی
حدیث شریف میں سفیانی نام کے ایک شخص کا ذکر ہے، جو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی اَولاد میں سے ایک اُمَوی شخص ہوگا، اس کا نام عبد اللہ بن خالد بن یزید([35]) بن ابی سفیان ہوگا، جبکہ والدہ کی طرف سے اس کا تعلق قبیلہ بنو کلب سے ہوگا۔ اس شخص کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت تکالیف اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے دَورِ حکومت میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوگا، لیکن یہ فتنہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا؛ کیونکہ امام مہدی کا ظُہور ہو چکا ہوگا!۔
سفیانی دِمشق کے نواحی علاقوں میں ایک وادی سے خُروج کرے گا، اس جگہ کا نام “وادئ یابس”([36]) ہوگا۔ ابتداءً اس کے ساتھ صرف سات لوگ ہوں گے، ان میں سے ایک کے پاس جھنڈا بھی ہوگا، جو شخص اس جھنڈے کو سر نگوں کرنے کی کوشش کرے گا وہ شکست سے دو چار ہوگا!([37])۔
سفیانی کا حکم ملکِ شام اور مصر وغیرہ کے اَطراف میں چلے گا، اس کی مدّتِ حکومت کے بارے میں روایات مختلف ہیں: ایک روایت کے مطابق ساڑھے تین سال([38])، اور دوسری روایت کےمطابق 7 یا 9 ماہ ہوگی([39])۔ دِمشق اور کُوفہ میں قتل وغارتگری کے بعد سفیانی کا لشکر مدینہ منوّرہ کی طرف رُخ کرے گا، اور اہلِ بیت کے کچھ لوگوں کو پکڑ کر کوفہ لے جائے گا، اسی دَوران امام مہدی مدینہ منوّرہ سے مکہ مکرّمہ تشریف لے جائیں گے!([40])۔
سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسایا جانا
سفیانی حضرت امام مہدی کو پکڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ کرے گا، لیکن اللہ ﷻ کی طرف سے اس لشکر کو مکہ ومدینہ کے درمیان مقامِ “بیداء” میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔ سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَخرُجُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: السُّفيَانِيُّ فِي عُمقِ دِمَشقَ، وَعَامَّةُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِن كَلبِ، فَيَقتُلُ حَتَّى يَبقَرَ بُطُونَ النِّسَاءِ، وَيَقتُلُ الصِّبيَانَ، فَتَجمَعُ لَهُم قَيسٌ فَيَقتُلُهَا حَتَّى لَا يُمنَعُ ذَنَبُ تَلعَةٍ، وَيَخرُجُ رَجُلٌ مِن أَهْلِ بَيتِي فِي الْحَرَّةِ فَيَبلُغُ السُّفيَانِيَّ، فَيَبعَثُ إِلَيهِ جُنداً مِن جُندِهِ فَيَهزِمُهُم، فَيَسِيرُ إِلَيهِ السُّفيَانِيُّ بِمَن مَعَهُ حَتَّى إِذَا صَارَ بِبَيدَاءَ مِنَ الْأَرضِ خُسِفَ بِهِم، فَلَا يَنجُو مِنهُمْ إِلَّا المُخبِرُ عَنهُم»([41]).
“ایک شخص دِمشق سے نکلے گا جس کو سفیانی کہا جائے گا، اس کی تابعداری کرنے والے قبیلہ بنو کلب کے لوگ ہوں گے (؛ کیونکہ اُس کا ننہیال قبیلہ بنو کلب سے ہوگا([42])) وہ لوگوں کو قتل کرے گا یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دے گا، اور بچوں کو بھی قتل کرے گا، قبیلہ قیس کے لوگ ان کے مقابلے میں جمع ہو جائیں گے، وہ انہیں بھی قتل کر دے گا، یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی باقی نہیں رہے گا، پھر میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (مہدی) نکلے گا، “حَرّہ” کے مقام پر سفیانی اس (مہدی) کے مقابلے کے لیے فوج بھیجے گا، مہدی ان کو شکست دے گا، پھر سفیانی خود اپنے سب لشکر لے کر مہدی کے مقابلے کے لیے آئے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچے گا تو زمین ان سب (یعنی سفیانی کی فوج) کو نگل چکی ہوگی، اور اُس لشکر کے بارے میں (امام مَہدی اور سفیانی کو ) خبر دینے والوں کے سِوا، ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا”۔
اس لشکر کا زمین میں دھنسنا “فتنۂ سفیانی” کی نشانی ہے، اور سفیانی کا خُروج ظُہورِ امام مہدی کی علامت ہے۔ اس واقعہ کے بعد لوگ مکہ مکرّمہ میں امام مہدی کے دستِ مبارک پر بیعتِ خلافت کریں گے، پھر امام مہدی 12 ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر لے کر بیت المقدس آئیں گے، جہاں سفیانی حضرت امام مہدی کے دستِ مبارک پر بیعت کر ے گا، لیکن پھر قبیلہ بنو کلب کی حمایت ملنے پر بیعت توڑ کر بغاوَت وسرکشی پر اُتر آئے گا([43])، تب امام مہدی اس کے قتل کا حکم دیں گے، اور اُسے اس کی دغابازی اور بغاوَت کے باعث قتل کر دیا جائے گا!([44])۔
ظُہورِ امام مہدی کے وقت اُن کی بیعت کرنے والوں کی تعداد
امام مہدی کے ظُہور کے وقت اُن کی بیعت کرنے والوں کی تعداد اصحابِ بدر واصحابِ طالُوت کے برابر 313 ہوگی۔ حضرت سیِّدنا امام محمد بن حنفیہ رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر تھے، کسی نے اُن سے امام مہدی کے بارے میں پوچھا، تو مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «ذَاكَ يَخرُجُ فِي آخِرِ الزَمَانِ إِذَا قَالَ الرجُلُ: اللهَ اللهَ قُتِلَ، فَيَجمَعُ اللهُ تَعَالَى لَهُ قَوماً قُزُعاً كَقَزَعِ السَحَابِ، يُؤلِّفُ اللهُ بَينَ قُلُوبِهمْ لَا يَستَوْحِشُونَ إِلَى أَحَدٍ، وَلَا يَفرَحُونَ بِأَحَدٍ، يَدخُلُ فِيهِم عَلَى عِدةِ أَصْحَابِ بَدرٍ، لَم يَسبِقهُمُ الأَوَّلُونَ، وَلَا يُدْرِكُهُمُ الآخِرُونَ، وَعَلَى عَدَدِ أَصحَابِ طَالُوتَ الذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَهَرَ»([45]).
“مہدی کا ظُہور زمانے کے آخر (یعنی قُربِ قیامت) میں ہوگا (اُس دَور میں بےدینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ) اللہ کا نام لینے والوں کو قتل کر دیا جائے گا (امام مہدی کے ظُہور کے وقت) اللہ تعالی ایک جماعت کو ان کے پاس اس طرح اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرِق ٹکڑوں کو جمع فرما دیتا ہے، اور ان میں باہم یگانت واُلفت پیدا کر دے گا (ان کے اِخلاص اور باہمی رَبط وضبط کا یہ عالَم ہوگا کہ) نہ کسی سے خوفزدہ ہوں گے، نہ کسی کے انعام کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ مہدی کے پاس جمع ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر کی تعداد کے مطابق (313) ہوگی، اس جماعت کو ایک ایسی خاص فضیلت حاصل ہوگی جو نہ ان سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی نہ بعد والوں کو ہوگی، نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالُوت کی تعداد کے برابر (313) ہوگی، جنہوں نے (بادشاہ) طالوت کے ہمراہ دریائے اُردن (Jordan River) عُبور کیا تھا”۔
صدر الشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی رحمہُ اللہ علیہ (ت ١٣٦٧ھ/١٩٤٨ء) سیِّدُنا امام مَہدی علیہ السلام کے ظُہور کا اِجمالی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “دنیا میں جب سب جگہ کفر کا تسلُط ہوگا، اُس وقت تمام اَبدال بلکہ تمام اولیاء سب جگہ سے سمٹ کر، حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے، صرف وہیں اسلام ہوگا اور ساری زمین کُفرستان ہو جائے گی، رمضان شریف کا مہینہ ہوگا، اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہوں گے، اور حضرت امام مَہدی علیہ السلام بھی وہاں ہوں گے، اَولیائے کرام انہیں پہچانیں گے، اُن سے درخواستِ بیعت کریں گے، وہ انکار کریں گے، دفعۃً غیب سے ایک آواز آئے گی کہ “یہ اﷲ کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سُنو اور اس کا حکم مانو!” تمام لوگ اُن کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے، وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملکِ شام کو تشریف لے جائیں گے”([46])۔
اللہ تعالی ایک ہی رات میں امام مہدی کو خلافت کا اہل بنا دے گا
اللہ تعالی ایک ہی رات میں امام مہدی علیہ السلام کو خلافت وامارت کی ایسی صلاحیت عطا فرما دے گا، کہ لوگ اُن کی خلافت پر متفق ہو جائیں گے([47])۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «المهدِيُّ مِنَّا أَهلَ البَيتِ يُصلِحُهُ اللهُ فِي ليلَةٍ»([48]) “مہدی ہمارے اہلِ بیت میں سے ہوگا، اللہ A ایک ہی رات میں اُس کی اصلاح (یعنی خلافت وامارت کی صلاحیت عطا) فرما دے گا!”۔
امام مہدی کا زمانہ خیر وبرکت کا زمانہ ہوگا
امام مہدی کا زمانہ خیر وبرکت سے بھرپور زمانہ ہوگا، سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «يخرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي المهدِيُّ يَسقِيهِ اللهُ الغَيثَ، وَتُخرِجُ الأَرضُ نَباتَها، وَيُعطِي المالَ صِحاحاً، وَتَكثُرُ الماشِيَةُ وَتَعظُمُ الأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبعاً أَو ثَمانِياً»([49]) “میری اُمت کے آخر میں مہدی کا ظُہور ہوگا، اللہ تعالی اُسے بارانِ رحمت سے خوب نوازے گا، زمین اپنی پیداوار بھرپور اُگائے گی، وہ (لوگوں کو) مال عطا کریں گے، مویشیوں کی کثرت ہو گی، اُمت عظیم ہو جائے گی، وہ (اپنے دَورِ خلافت میں) سات یا آٹھ سال زندہ رہیں گے”۔
امام مہدی کے دَورِ خلافت میں خوشحالی کا دَور دَورہ ہوگا
امام مہدی علیہ السلام کے دَورِ خلافت میں خوشحالی کا دَور دَورہ ہوگا۔ سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «يَنزِلُ بِأُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمانِ بَلَاءٌ شَدِيدٌ مِن سُلْطانِهِم لَم يُسمَع بَلَاءٌ أَشَدُّ مِنهُ، حَتَّى تَضِيقَ عَنهُمُ الْأَرضُ الرَّحبَةُ، وَحَتَّى يُملَأَ الأَرضُ جَوراً وَظُلماً، لَا يَجِدُ المُؤمِنُ مَلجَأً يَلْتَجِئُ إِلَيهِ مِنَ الظُّلمِ، فَيَبعَثُ اللهُ e رَجُلاً مِن عِترَتِي، فَيَملَأُ الأَرضَ قِسطاً وَعَدلاً، كَما مُلِئَت ظُلماً وَجَوراً، يَرضَى عَنهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَساكِنُ الْأَرضِ، لا تَدَّخِرُ الْأَرضُ مِن بَذرِهَا شَيئاً إِلَّا أَخرَجَتهُ، وَلا السَّمَاءُ مِن قَطرِهَا شَيئاً إِلَّا صَبَّهُ اللهُ عَلَيهِم مِدرَاراً، يَعِيشُ فِيهَا سَبعَ سِنِينَ أَو ثَمانِ أَو تِسعَ، تَتَمَنَّى الأَحياءُ الأَموَاتَ مِمَّا صَنَعَ اللهُ e بِأَهلِ الأَرضِ مِن خَيرِهِ»([50]).
“آخری زمانے میں میری اُمت پر اتنی شدید بلائیں نازل ہوں گی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی ہوں گی! یہاں تک کہ زمین اپنی وُسعت کے باوُجود اِن پر تنگ ہو جائے گی اور ظلم وستم سے بھر جائے گی، مؤمن ایسا کوئی ٹھکانہ نہیں پائے گا جہاں وہ ظلم کی فریاد لے کر جا سکے! اس وقت اللہ تعالی میری اَولاد میں سے ایک شخص (مہدی) بھیجے گا، جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا، جیسے پہلے وہ ظلم وستم سے بھری چکی تھی! زمین وآسمان میں رہنے والے اس (مہدی) سے راضی ہوں گے، زمین اپنے اندر پڑنے والا ہر دانہ اُگائے گی، اور اللہ تعالی آسمان میں موجود ہر قطرے کو مُوسلا دھار بارش کی صورت میں برسائے گا، وہ (یعنی ان کا دَورِ خلافت) سات، آٹھ یا نَو سال رہے گا، اور زندہ لوگ اللہ کے اس فضل وکرم کے سبب جو (مہدی کے ذریعے) اہلِ زمین پر ہوگا، مرنے والوں کے لیے تمنا کریں گے” کہ کاش وہ بھی خیر وبرکت کے اس زمانے کو دیکھتے!!
امام مہدی کے دَورِ خلافت میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا
سیِّدنا امام مہدی کے دَورِ خلافت میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا۔ سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «لَا تَقُومُ الساعَةُ حَتَّى تَمتَلِئَ الأَرضُ ظُلماً وَعُدوَاناً» “قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین ظلم اور سرکشی سے بھر نہ جائے!” پھر فرمایا: «ثُمَّ يَخرُجُ رَجُلٌ مِن عِترَتِي -أَو مِن أَهلِ بَيتِي- مَن يَملَؤُهَا قِسطاً وَعَدلاً، كَمَا مُلِئَت ظُلماً وَعُدوَاناً»([51]) “میری اَولاد (یا میرے اہلِ بیت) میں سے ایک شخص (امام مہدی) کا ظُہور ہوگا، جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دے گا، جس طرح پہلے وہ ظلم وسرکشی سے بھری تھی”۔
اہلِ مشرق کا امام مہدی کی خلافت وامارت کو تسلیم کرنا
اہلِ مشرق امام مہدی علیہ السلام کی خلافت وامارت کو تسلیم کر کے ان کا ساتھ دیں گے۔ سیِّدنا عبد اللہ بن حارث زَبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «يَخرُجُ نَاسٌ مِنَ المشرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلمَهدِيِّ» يَعنِي سُلْطَانَهُ([52]) “مشرق کی جانب سے (ایسے) لوگ نکلیں گے جو مہدی کی خلافت کے آگے سرِ تسلیم خم کریں گے”۔
امام مہدی کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا
سیِّدنا امام مَہدی علیہ السلام کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا۔ سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «يَقتَتِلُ عندَ كَنزِكم ثلاثةٌ، كلُّهمُ ابنُ خليفةَ، ثُمَّ لا يصيرُ إِلَى وَاحدٍ مِنهُم، ثُمَّ تَطلُعُ الرّاياتُ السُّودُ مِن قِبَلِ المَشرِقِ فيُقاتِلونَكُم قِتالاً لَم يُقاتِلهُ قَومٌ -ثُمّ ذكر شَيْئاً فَقالَ:- إِذَا رَأَيتُموهُ فَبَايِعوهُ وَلَو حَبواً عَلَى الثَّلجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفةُ الله المَهدِيُّ»([53]).
“تمہارے (بیت اللہ کے) خزانے([54]) کے حصول کی خاطر تین لوگ جنگ کریں گے، تینوں خلیفہ (بادشاہِ وقت) کے بیٹے ہوں گے، لیکن یہ خزانہ اُن میں سے کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ پھر مشرق سے کالے جھنڈے ظاہر ہوں گے، وہ تم سے ایسے جنگ کریں گے کہ کسی قوم نے ایسی جنگ نہیں کی ہوگی! (راوی کا بیان ہے کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے کچھ بیان کیا اور پھر فرمایا کہ) جب تم انہیں دیکھو تو اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لینا، اگرچہ تمہیں برف پر گھسٹتے ہوئے ان کے پاس جانا پڑے؛ کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے!”۔
علّامہ محمد بن عبد الرسول حسینی بَرزنجی رحمہُ اللہ علیہ (ت ١103ھ/1691ء) فرماتے ہیں کہ “امام مہدی کے خُراسان میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہاں سے آپ کی نصرت ہوگی؛ کیونکہ آپ تو مکہ مکرّمہ میں ہوں گے”([55])۔
اہلِ مشرق بیت المقدس فتح کرنے میں امام مہدی کی مدد کریں گے
اہلِ مشرق بیت المقدس فتح کرنے میں امام مہدی علیہ السلام کی مدد کریں گے۔ سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «تَخرجُ مِن خُراسانَ رَاياتٌ سُودٌ، فلاَ يَرُدُّهَا شَيءٌ حَتَّى تُنصَبَ بِإِيلِياءَ»([56]) “خُراسان سے سیاہ جھنڈے برآمد ہوں گے، انہیں کوئی طاقت پھیر نہیں سکے گی، یہاں تک کہ وہ جھنڈے اِیلیاء (بیت المقدس) میں نصب کر دیے جائیں گے!”۔
امام مہدی کے ذریعے تابوتِ سکینہ “بحیرۂ طَبریہ“ سے ظاہر ہوگا
آج یہود جس تابوتِ سکینہ کی تلاش میں بیت المقدس میں جگہ جگہ کھدائی کر رہے ہیں، لیکن ان کی تمام تر کوششیں ناکام اور رائیگاں جا رہی ہیں، اور آئندہ بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا؛ کیونکہ تابوتِ سکینہ کو بھی بحیرۂ طَبریہ (Sea of Galilee) سے امام مہدی کے ذریعے ہی ظاہر ہونا ہے۔ اس بارے میں حضرت سلیمان بن عیسی رحمہُ اللہ علیہ نے فرمایا: «بَلَغَنِي أَنَّهُ عَلَى يَدَيِ المهدِيِّ يَظهَرُ تَابُوتُ السَّكِينَةِ مِن بُحَيرَةِ طَبَرِيَّةِ، حَتَّى يُحْمَلَ، فَيُوضَعَ بَينَ يَدَيهِ بِبَيتِ المَقدِسِ، فَإِذَا نَظَرَت إِلَيهِ اليَهُودُ، أَسلَمَت إِلَّا قَلِيلاً مِنهُم، ثُمَّ يَمُوتُ المهدِيُّ»([57]) “مجھ تک یہ بات پہنچی کہ “بحیرۂ طبریہ” سے امام مہدی کے ذریعے تابوتِ سکینہ ظاہر ہوگا، یہاں تک کہ بیت المقدس میں اسے آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا، جب یہود اس تابوت کو دیکھیں گے تو ان میں سے چند لوگوں کے سِوا سب اسلام قبول کر لیں گے، پھر امام مہدی علیہ السلام وفات پا جائیں گے!”۔
بحَیرۂ طَبریہ کا محلِ وُقوع
واضح رہے کہ”بحیرۂ طبریہ” فلسطین (Palestine) کے شمال مشرق میں اُردن (Jordan) کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس علاقے میں میٹھے پانی کی یہ سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس کی لمبائی 21 کلومیٹر اور چَوڑائی 13 کلومیٹر ہے۔ “بحیرۂ طبریہ” کو بیشتر پانی دریائے اُردُن (Jordan River) سے حاصل ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں دریائے اُردُن کے لیے «النَهر»([58]) اور شُروحِ حدیث میں “نہرِ اُردن”([59]) کا لفظ آیا ہے۔ یہ دریا شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے، اور “بحیرۂ مُردار” (Dead Sea) میں گرتا ہے۔
بحَیرۂ طَبریہ کا خشک ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک، اس جھیل کا خشک ہونا بھی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دَجّال نے سیِّدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں سے “بحیرۂ طَبریہ” کے بارے میں پوچھا کہ اس میں ابھی پانی ہے یا نہیں؟ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں نے جواباً فرمایا: «هِيَ كَثِيرَةُ الماءِ» “اس میں ابھی بہت پانی ہے” اس پر دَجّال نے کہا کہ عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا([60])۔
امام مہدی کے دَورِ خلافت کی مدّت
سیِّدنا امام مہدی علیہ السلام کا دَورِ خلافت سات سے نَو سال پر مشتمل ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَكُونُ فِي أُمَّتِي المَهدِيُّ، إِن قُصِرَ فَسَبعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٍ، وَإِلَّا فَتِسعٌ، تَنعَمُ أُمَّتِي فِيهِ نِعمَةً لَم يَنعَمُوا مِثَلَهَا، يُرسِلُ اللهُ السَّمَاءَ عَلَيهِم مِدرَاراً، وَلَا تَدَّخِرُ الأَرضُ بِشَيءٍ مِنَ النَّبَاتِ وَالمَالُ كُدُوسٌ يَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهدِيُّ! أَعطِنِي فَيَقُولُ: خُذْهُ»([61]).
“میری اُمت میں مہدی ہوگا (ان کی مدّتِ خلافت) اگر کم ہوئی، تو سات یا آٹھ یا نَو سال ہوگی۔ میری اُمت ان کے زمانے میں اس قدر خوشحال ہوگی کہ اتنی خوشحالی اُسے کبھی نہیں ملی ہوگی (خیر وبرکت کا یہ عالَم ہوگا کہ) آسمان سے (حسبِ ضرورت) مُوسلا دھار بارش ہوگی، اور زمین اپنی پیداوار بھرپور اُگائے گی، ایک شخص کھڑا ہو کر کچھ مانگے گا، تو وہ (امام مہدی) کہیں گے کہ (حسبِ خواہش خزانے میں جا کر) خود لے لو!”۔
امام مہدی شرک کے شہر فتح کریں گے
امام مہدی علیہ السلام شرک کے شہر فتح کریں گے۔ سیِّدنا ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمت کونین ﷺ نے فرمایا: «يَستَخرِجُ الكُنوزَ، وَيَفتحُ مَدائِنَ الشِركِ»([62]) “وہ (مہدی) زمین سے خزانے نکالے گا، اور شرک کے شہروں (ہندوستان وغیرہ) کو فتح کرے گا!”۔
غزوۂ ہند میں لشکرِ مہدی کی فتح
“غزوۂ ہند” بھی امام مہدی کے دَورِ خلافت میں ہوگا، اور اللہ تعالی اس غزوہ میں امام مہدی کے لشکر کو فتح ونصرت عطا فرمائے گا۔ سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «ليَغزُونَّ الهِندَ لكُم جَيشٌ، يَفتح اللهُ عليهِم حتَّى يأتُوا بِمُلوكِهم مُغلَّلِينَ بِالسلاسِلِ، يغفِرُ اللهُ ذُنُوبَهم، فيَنصَرِفونَ حين يَنصرِفونَ، فيجِدونَ ابنَ مريمَ بِالشامِ»([63]) “تم میں سے ایک لشکر ضرور ہندوستان پر حملہ کرے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کو فتح عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ اُن مشرکین کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ تعالی ان (لشکر والوں) کے گناہ مُعاف فرما دے گا، پھر جب وہ لَوٹیں گے تو حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو ملکِ شام میں پائیں گے”۔
امام مہدی گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے
سیِّدنا امام مہدی علیہ السلام گمراہی کے قلعوں کو فتح کریں گے، اسلام کو غلبہ دلائیں گے اور اسلامی تعلیمات نافذ کریں گے۔ سیِّدنا علی ہلالی رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے (امام حسن وحسین رضی اللہ عنہ سے متعلق) سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «يَا فَاطِمَةُ وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالحَقِّ! إِنَّ مِنهُمَا لَمَهدِيِّ هَذِهِ الأُمَّةِ إِذَا صَارَتِ الدُّنيَا هَرَجَ وَمَرَجَ، وَتَظَاهَرَتِ الفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُبُلُ، وَأَغَارَ بَعضُهُم عَلَى بَعضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرحَمُ الصَغِيرَ، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ الكَبِيرَ، فَيَبْعَثُ اللهُ عِنْدَ ذَلِكَ مِنهُمَا مَن يَفتَحْ حُصُونَ الضَلَالَةِ، وَقُلُوباً غُلفاً يَهدِمُهَا هَدماً، يَقُومُ بِالدِّينِ فِي آخِرِ الزَمَانِ كَمَا قُمتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَمَانِ»([64]).
“اے فاطمہ قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! یقیناً ان دونوں (حسن وحسین کی اَولاد) میں سے اس اُمت کا مہدی پیدا ہوگا، جب دنیا فتنہ وفساد کا شکار ہو جائے گی اور فتنوں کا خوب ظہور ہوگا، راستے کٹ جائیں گے (یعنی غیرمحفوظ ہوں گے)، اور لوگ ایک دوسرے پر حملہ آوَر ہوں گے، کوئی بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا، اور کوئی چھوٹا بڑے کا احترام نہیں کرے گا۔ اس وقت اللہ رب العزۃ ان دونوں (حسن وحسین کی اَولاد) میں سے ایک شخص کو بھیجے گا، جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کرے گا، بند دِلوں کو کھولے گا، اس اُمت کے آخری زمانے میں دین کو ایسے قائم کرے گا، جیسے میں نے اس اُمت کے ابتدائی زمانے میں قائم کیا ہے!”۔
جنگِ عظیم، خُروجِ دَجّال اور امام مہدی
“جنگِ عظیم” (World War)، فتحِ قسطنطینیہ (استنبول)، اور خُروجِ دَجّال کے واقعات بھی امام مہدی علیہ السلام کے دَورِ خلافت میں پیش آئیں گے۔ جنگِ عظیم دَجّال کے خُروج سے پہلے ہوگی، اُس وقت قسطنطینیہ جو مسلمانو ں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «المَلحَمةُ العُظمَى، وَفَتحُ القُسطَنطِينِيَّةِ، وَخُروجُ الدَجّالِ، فِي سَبعَةِ أَشْهُرٍ!»([65]) “جنگِ عظیم، فتحِ قسطنطینیہ اور خُروجِ دجّال، یہ سب سات ماہ کے اندر اندر ہو جائے گا!”۔
خُروجِ دَجّال سے متعلق بعض جھوٹے دعوے
آج کل یہود ونصاری میں سے بعض لوگ دعوی کرتے ہیں کہ “دجّال کا خُروج ہو چکا ہے، اور وہ اس کذّاب سے ملاقات بھی کر چکے ہیں”۔ یاد رہے کہ یہ سب دعوے فی الحال جھوٹے اور بلا ثبوت ہیں؛ کیونکہ ہمارے نبئ برحق ﷺ نے خُروجِ دجّال سے پہلے بعض ایسی نشانیاں بتائی ہیں، کہ جب تک وہ ظاہر نہ ہو جائیں دجّال کا خُروج نہیں ہوگا!۔
سیِّدنا جابر بن سمُرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ “حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا،کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، کہ نبئ رحمت ﷺ کے پاس مغرب کی طرف سے کچھ لوگ اُونی کپڑوں میں ملبوس آئے، ان کی ملاقات حضورِ اکرم ﷺ سے ایک جھاڑی کے پاس ہوئی، جبکہ وہ کھڑے تھے اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، میں نے دل میں سوچا کہ چل کر ان کے اور حضور سروَرِ عالَم ﷺ کے درمیان کھڑا ہو جاؤں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نبئ كريم ﷺ کو کوئی نقصان پہنچائیں! پھر میں نے سوچا کہ ممکن ہے رسولِ کریم ﷺ ان کے ساتھ رازداری میں کوئی بات کر رہے ہوں، بہرحال میں چلتا ہوا ان کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ میں نے حضور پُرنور ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلے چار کلمات محفوظ کر لیے، جنہیں میں اپنے ہاتھ پر شمار کر رہا تھا، حضور سیِّدِ عالَم ﷺ نے فرمایا: «(١) تَغزُونَ جَزِيرَةَ العَرَبِ فَيَفتَحُهَا اللهُ (٢) ثُمَّ فَارسَ فَيَفتَحُهَا اللهُ (٣) ثُمَّ تَغزُونَ الرُومَ فَيَفتَحُهَا اللهُ (٤) ثُمَّ تَغزُونَ الدَجَّالَ فَيَفتَحُهُ اللهُ!».
“(١) تم لوگ جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے، اللہ تعالی تمہیں فتح دے گا، (٢) پھر فارس (بِلاد ماوَراء النہر([66])) والوں سے جہاد کرو گے، رب تعالی اس میں بھی تمہیں فتح دے گا (٣) پھر رُوم([67]) سے جہاد کرو گے، اللہ تعالی اُن پر بھی فتح عطا فرمائے گا (٤) پھر دجّال سے جہاد کرو گے تو اللہ رب العالمین اس پر بھی تمہیں فتح یاب کرے گا!”۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اےجابر! اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ دجّال کا خُروج اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک رُوم فتح نہ ہو جائے”([68])۔
گزشتہ سُطور میں حدیثِ پاک سے وضاحت گزر چکی، کہ قسطنطینیہ جو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا([69]) ان شاء اللہ!۔
امام مہدی مسلمانوں کے امیر وامام ہیں
دَجّال ساری دنیا کا چکر لگانے کے بعد جب ملکِ شام پہنچے گا، تو اللہ تعالی اس کے خاتمے کے لیے سیِّدنا عیسی D کو آسمان سے دِمشق کے شَرقی مینارہ پر نازل فرمائے گا۔ اُس وقت نمازِ فجر کا وقت ہوگا، جماعت کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، امام المسلمین امام مَہدی علیہ السلام حضرت عیسی کو دیکھیں گے اور آپ D کے ادب میں پیچھے ہٹتے ہوئے کہیں گے: «تَقَدَّم يَا رُوحَ الله! فَيَقُولُ: لِيَتَقَدَّم إِمَامُكُم فَليُصَلِّ بِكُم»([70]) “اے روحُ اللہ اِمامت كےليے آگے تشریف لائیے! اس پر حضرت عیسی D فرمائیں گے کہ تمہارا اِمام ہی آگے بڑھے جو نماز پڑھائے”۔
حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی روایت میں الفاظِ حدیث یُوں ہیں: «إِمَامُهُم رَجُلٌ صَالِحٌ، فَبَينَمَا إِمَامُهُم قَد تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبحَ، إِذ نَزَلَ عَلَيْهِم عِيسَى ابنُ مَريَمَ الصُّبحَ، فَرَجَعَ ذٰلِكَ الإِمَامُ يَنكُصُ يَمشِي الْقَهقَرَى؛ لِيَتَقَدَّمَ عِيسى يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَيَضَعُ عِيسى يَدَهٗ بَينَ كَتِفَيهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهٗ: تَقَدَّم فَصَلِّ؛ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَت، فَيُصَلِّي بِهِم إِمَامُهُم»([71]).
“مسلمانوں کا امام ايك نیک شخص ہوگا (یعنی امام مَہدى)، وه انہیں نمازِ فجر پڑھانے كو آگے بڑھ چکے ہوں گے، اسى دَوران اچانک حضرت عیسی D آسمان سے اُن کے پاس تشریف لائیں گے، وہ امام اُلٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے ہٹیں گے؛ تاکہ حضرت عیسی D آگے بڑھ كر نماز پڑھائیں، اِس پر حضرت عیسی اپنا ہاتھ مبارك امام مہدى کے کندھوں پر رکھ كر فرمائیں گے، کہ آپ ہی آگےبڑھ کر نماز پڑھائیے؛ کہ یہ جماعت آپ کےلیے قائم کی گئی ہے! تب امام مہدی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں گے”۔
ایک اَور مقام پر سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِن أُمَّتِي يُقاتِلُونَ عَلَى الحَقِّ ظاهِرِينَ إِلَى يَومِ القِيَامَةِ، قال: فَيَنزِلُ عِيسَى ابنُ مَريَمَ g، فَيَقُولُ أَمِيرُهُم: تَعالَ صَلِّ لنا، فَيَقُولُ: لا، إِنَّ بَعضَكُم عَلَى بَعضٍ أُمَراءُ تَكرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الأُمَّةَ»([72]) “میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا، اور قیامت تک حق پر قائم اور ثابت قدم رہے گا، یہاں تک کہ حضرت عیسی بن مریم D نازل ہوں گے، مسلمانوں کے امیر (امام مہدی([73])) حضرت عیسی D سے عرض کریں گے کہ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے، حضرت عیسی ﷺ فرمائیں گے کہ نہیں، تم میں سے بعض دیگر بعض پر امیر ہیں، اُس فضیلت وبزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالی نے اس اُمت کو عطا فرمائی ہے”۔
نیز سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «كَيفَ أَنْتُم إِذَا نَزَلَ ابنُ مَريَمَ فِيكُم، وَإِمَامُكُم مِنكُم»([74]) “تم لوگوں کا اُس وقت (خوشی سے) کیا حال ہوگا؟ جب تم میں عیسی ابنِ مریم D (آسمان سے) اُتریں گے، اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا!” یعنی مہدی۔
حضرت عیسی D کے مقامِ نُزول سے متعلق محدثین کے اقوال
سیِّدنا عیسی D کا نُزول کس مقام پر ہوگا؟ اس بارے میں محدثینِ کرام کے اقوال مختلف ہیں، اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہیں:
(١) مفسِّر قرآن ابن کثیر (ت ٧٧٤ھ/١٣٧٣ء) “البداية والنهاية” میں لکھتے ہیں کہ “سیِّدنا عیسی D دِمشق کے سفید مشرقی مینارہ کے پاس نُزول فرمائیں گے، لیکن میں نے بعض کتابوں میں یہ بھی دیکھا ہے کہ سیِّدنا عیسی D دِمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے، ممکن ہے یہی محفوظ ہو یعنی ممکن ہے کہ روایت تو یوں ہو کہ سیِّدنا عیسی D دِمشق کے سفید مشرقی مینار پر نازل ہوں گے، لیکن راوی نے اپنی سمجھ کے لحاظ سے روایت میں تصرُف کر دیا ہو؛ کیونکہ (اب تک) جامع مسجد اُمَوی کے مشرقی مینار کے علاوہ دِمشق میں ایسا کوئی مینار نہیں جو مشرقی مینار کے طَور پر مشہور ہو، اور یہی بات زیادہ مناسب ہے؛ کیونکہ جب سیِّدنا عیسی D نازل ہوں گے تو نمازِ فجر کی جماعت کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، اور مسلمانوں کا امام (مہدی) حضرت عیسی D کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ “اے رُوح اللہ آگے بڑھیں اورنماز پڑھائیں!” سیِّدنا عیسی Dفرمائیں گے کہ آپ ہی آگے بڑھیں؛ کہ یہ جماعت آپ ہی کے لیے قائم کی گئی ہے!۔
نیز یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ہمارے اس زمانے (٧٤١ھ/١٣٤٠ء) میں سفید پتھر سے ایک مینار کی بنیاد رکھی گئی ہے، یہ مینار اُن عیسائیوں کے مال سے بن رہا ہے جنہوں نے اسی جگہ موجود پہلے مینار کو جَلا دیا تھا، ممکن ہے یہ اَمر بھی دلائلِ نبوّت میں سے ہو کہ اللہ تعالی نے جس مینار پر حضرت عیسی D کو نازل فرمانا ہے، اُسے عیسائیوں ہی کے مال سے بنوا دیا!”([75])۔
ابن کثیر نے “البداية والنهاية” میں مزید یہ بھی لکھا کہ ” حضرت عیسی D کا نُزول: بعض روایات کے مطابق اُردُن میں ہوگا، اور بعض روایات کے مطابق مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی (Military Barrack) میں ہوگا”([76])۔
(٢) امام ابن حجر مکی رحمہُ اللہ علیہ “الفتاوى الحديثية” میں فرماتے ہیں کہ “صحیح مسلم” کی حدیثِ پاک کے مطابق زیادہ مشہور بات یہ ہے کہ “حضرت عیسی D دِمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نُزول فرمائیں گے، جبکہ ایک روایت کے مطابق آپ کا نُزول اُردُن میں ہوگا، اور دوسری روایت کے مطابق آپ کا نُزول مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی میں ہوگا۔ اور یہ روایت (مذکورہ بالا) دونوں روایتوں کے مُنافی نہیں: کیونکہ موجودہ دَور میں مسلمانوں کی فوجی چھاؤنیاں (Military Barracks) اُردُن، دِمَشق اور بیت المقدس میں بھی موجود ہیں”([77])۔
(٣) مُلا علی قاری (ت ١٠١٤ھ/١٦٠٦ء) فرماتے ہیں کہ “سیِّدنا عیسی D آسمان سے جامع مسجد دِمشق کے (مشرقی) مینار پر نازل ہوں گے، پھر بیت المقدس تشریف لائیں گے”([78])۔
مزید فرماتے ہیں کہ “سُنن ابن ماجہ” کی روایت([79]) کے مطابق حضرت عیسی D کا نُزول بیت المقدس میں ہوگا، اور میرے نزدیک یہی زیادہ راجح ہے۔ نیز فی الحال بیت المقدس میں اگرچہ ایسا کوئی مینار نہیں، مگر حضرت عیسی D کے نُزول سے پہلے اس کی تعمیر ضرور ہوگی!”([80])۔
(٤) علّامہ عبد الرؤوف مُناوی (ت ١٠٣١ھ/١٦٢٢ء) فرماتے ہیں کہ “سیِّدنا عیسی Dکا نُزول دِمشق کے سفید مشرقی منارہ پر نمازِ فجر کے وقت ہوگا”([81])۔
(٥) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضرت مسیح D آسمان سے جامع مسجد دِمشق کے شَرقی منارہ پر نُزول فرمائیں گے”([82])۔
(٦) صدر الاَفاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ نُزولِ مکان عیسی D سے متعلق فرماتے ہیں کہ “حضرت عیسی D دِمشق کی جامع مسجد کے شَرقی منارہ پر شریعتِ محمدیہ کے حاکم، اور امامِ عادل، اور مجدّدِ ملّت ہو کر نُزول فرمائیں گے!”([83])۔
دَجّال کا خاتمہ
نُزول کے بعد جیسے ہی دَجّال کی نظر حضرت عیسی D پر پڑے گی وہ پگھلنے لگے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «ذَابَ كَمَا يَذُوبُ المِلحُ فِي الماءِ»([84]) “دجّال اس طرح پگھلے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے”۔
دجّال اپنے آپ کو بچانے کے لیے سیِّدنا عيسى سے دُور بھاگنے کی کوشش کرے گا، حضرت عيسى اس کا تعاقُب فرمائیں گے، یہاں تک کہ بیت المقدس سے 50 کلو میٹر، اور تل ابیب (Tel Aviv) سے صرف 15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع “لُد” (Lod) نام کی ایک بستی کے دَروازےپر پہنچ کر اس پر قابو پائیں گے، اور وہیں نیزے کے وار سے اُسے ہلاک کر دیں گے، اور اس کام میں حضرت امام مہدی بھی اُن کے مددگار ہوں گے([85])۔
اس بارے میں حضرت نوّاس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «فَيَطلُبُهُ حَتَّى يُدرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقتُلَهُ»([86]) “حضرت عيسى D دَجّال کا پیچھا کریں گے، یہاں تک کہ اسے بابِ “لُد” میں پائیں گے تو وہیں اسے قتل کر دیں گے”۔
امام مہدی پر اس اُمت کا اختتام
امام مہدی علیہ السلام کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے حضور نبئ کریم ﷺ سے اس اُمت کا آغاز فرمایا، لیکن اسے اختتام امام مہدی پر فرمائے گا۔ سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا مہدی ہم (آلِ محمد) میں سے ہوں گے یا کسی اَور سے؟ سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «بل مِنَّا، بِنَا يَختِمُ اللهُ كما بِنَا فتحَ، وبِنَا يُستَنْقَذُونَ من الشِّركِ، وبنَا يُؤَلِّفُ اللهُ بَينَ قُلُوبِهِم بَعدَ عَدَاوَةٍ بَيِّنةٍ، كما بنا أَلَّفَ بين قُلُوبِهِم بَعدَ عَدَاوَةِ الشِّركِ»([87]) “نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہی ہوں گے، اللہ تعالی اُن پر دین اس طرح ختم فرمائے گا جس طرح ہم سے آغاز فرمایا، اور ہمارے ذریعے ہی لوگوں کو (فتنہ و) شرک سے بچایا جائے گا، اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے ذریعے ہی عداوت ودشمنی کے بعد اُن کے دِلوں میں محبت واُلفت پیدا فرمائے گا، جس طرح ہمارے ہی ذریعے اُن کے دِلوں میں اُلفت پیدا کی ہے شرک کی عداوَت کے بعد”۔
ظُہورِ امام مہدی کی چند علامات
کتبِ حدیث میں ظُہور امام مہدی کی متعدد علامات مذکور ہیں، ان میں سے بعض حسبِ ذیل ہیں:
نفسِ زکیہ کی شہادت اور امام مہدی کا ظُہور
(١) ظُہورِ امام مہدی کی ایک علامت خاندانِ اہلِ بیت کے ایک فرد” نفسِ زکیہ” کی شہادت بھی ہے، جنہیں آپ کے باقاعدہ ظُہور سے چند روز قبل شہید کیا جائے گا۔ حضرت مجاہد کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں، سروَر دو جہاں ﷺ نے فرمایا: «أَنَّ المَهدِيَّ لا يَخرُجُ حَتَّى تُقتَلَ النَّفسُ الزَّكِيَّةُ، فإذا قُتِلَتِ النَّفسُ الزَّكِيَّةُ غَضِبَ عَلَيهِم مَن فِي السَّمَاءِ وَمَن فِي الأَرضِ، فَأَتَى النَّاسَ المَهدِيُّ، فَزَفُّوهُ كَمَا تُزَفُّ الْعَروسُ إِلَى زَوجِها لَيلَةَ عُرسِهَا»([88]) “مہدی کا ظُہور اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک” نفسِ زکیہ”([89]) کو شہید نہ کر دیا جائے، جب نفسِ زکیہ کو شہید کیا جائے گا([90]) تب ان قاتلوں پر زمین وآسمان سے غضب برپا ہوگا! پھر لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اور اُسے حکومت اس طرح سونپیں گے جیسے ایک دلہن کو شبِ عروسی میں اس کے شوہر کے سپرد کر دیا جاتا ہے!”۔
سورج کے ساتھ کسی نشانی کا طُلوع ہونا
(٢) سورج کے ساتھ کسی نشانی کا طُلوع بھی، ظُہورِ امام مہدی کی علامات میں سے ایک ہے۔ حضرت علی بن عبد اللہ بن عباس رحمہُ اللہ علیہ سے مُرسَلاً روایت ہے، فرماتے ہیں کہ «لَا يَخرُجُ المهدِيُّ حَتَّى تَطلُعَ مَعَ الشَّمسِ آيَةٌ»([91]) “امام مہدی اس وقت ظاہر نہیں ہوں گے، جب تک سورج کے ساتھ ایک اَور نشانی طُلوع نہ ہو جائے”۔
مشرق کی جانب سے طُلوع ہونے والا دُم دار ستارہ
(٣) مشرق کی جانب سے طُلوع ہونے والا دُم دار ستارہ بھی ظُہورِ امام مہدی کی علامات میں سے ایک ہے۔ حضرت کعب رحمہُ اللہ علیہ نے فرمایا: «يَطلُعُ نَجمٌ من المشرق قَبلَ خُرُوجِ المهدِيِّ، لَهُ ذِنَابٌ»([92]) “امام مہدی کے ظُہور سے پہلے مشرق کی جانب سے، ایک ستارہ طلوع ہوگا جس میں دُم ہوگی”۔
رمضان المبارک کے مہینے میں دو بار چاند گرہن
(٤) رمضان المبارک کے ایک مہینے میں دو بار چاند گرہن بھی ظُہورِ امام مہدی کی علامات میں ہے۔ حضرت شریک نے فرمایا: «بَلَغَنِي أنّهُ قَبلَ خُرُوجِ المهدي يَنكَسِفُ الْقَمَرُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ مَرَّتَينِ» ([93]) “مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ امام مہدی کے ظُہور سے پہلے، رمضان کے ایک مہینے میں دو بار چاند گرہن ہوگا”۔
امام مہدی کے بارے میں علمائے اُمت کے چند فرامین
امام محمد باقر کا فرمان
(١) سیِّدنا امام ابو جعفر محمد باقر رحمہُ اللہ علیہ (ت ١١٤ھ/٧٣٢ء) سے کسی نے پوچھا کہ جب امام مہدی کا ظُہور ہوگا، تو وہ کس کی سیرت پر چلیں گے؟ انہوں نے فرمایا: “يهدم ما قبله كما صنع رسولُ الله g، ويستأنف الإسلامَ جديداً”([94]) “گزشتہ (غیر شرعی) رسم ورَواج کا خاتمہ فرمائیں گے، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کی رسموں کو ختم فرمایا، اور اسلام کو اَز سرِ نَو تازہ فرمائیں گے”۔
امام ابو الحسن محمد بن حسین آبری سجستانی
(٢) امام ابو الحسین محمد بن حسین بن ابراہیم آبری سجستانی رحمہُ اللہ علیہ (ت ٣٦٣ھ/٩٧٤ء) فرماتے ہیں کہ “سیِّدنا امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں نبئ اکرم ﷺ سے روایت کردہ احادیث حدِ تواتُر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، کہ وہ اہلِ بیت سے ہوں گے، (کم اَز کم) سات سال حکومت کریں گے، اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے!”([95])۔
علّامہ علی بن عبد اللہ سمہودی
(٣) علّامہ علی بن عبد اللہ سمہودی رحمہُ اللہ علیہ (ت ٩١١ھ/١٥٠٦ء) نے فرمایا کہ “احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی اَولادِ فاطمہ سے ہوں گے”([96])۔
علّامہ عبد الرؤوف مُناوی
(٤) علّامہ عبد الرؤوف مُناوی رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “امام مہدی انسانِ کامل ہوں گے، صفاتِ رذیلہ سے پاک اور اَوصافِ حمیدہ سے متصف ہوں گے، اجتہاد واِفتاء کے مقام پر فائز ہوں گے، البتہ آپ نبی نہیں ہوں گے”([97])۔
علّامہ شمس الدین سفارینی
(٥) علّامہ شمس الدین محمد بن احمد بن سالم سفارینی رحمہُ اللہ علیہ (ت ١١٨٨ھ/١٧٧٤ء) تحریر فرماتے ہیں کہ “سیِّدنا امام مہدی علیہ السلام کے ظُہور وآمد پر اِیمان رکھنا،
اہلِ سنّت وجماعت کے جملہ عقائد میں سے ایک ہے”([98])۔
خلاصۂ کلام
موجودہ زمانے میں اہلِ اسلام کو نِت نئے چیلنجز (Challenges) اور فتنہ وفساد کا سامنا ہے! سوشل میڈیا (Social Media) وغیرہ پر کیا جانے والا یہ پروپیگنڈہ (Propaganda) بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ “کتبِ حدیث میں امام مہدی سے متعلق جس قدر احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ سب مجروح ومخدوش ہیں، ان میں سے ایک بھی حدیث صحیح نہیں”۔ لہذا ان باتوں کے پیشِ نظر زیرِ نظر مضمون میں سیّدنا امام مہدی سے متعلق متعدد صحیح، حسَن اور فضائل کے باب میں بعض ضعیف احادیث وغیرہ بیان کر دی گئی ہیں؛ تاکہ اُمت ِ مسلمہ کے وہ نوجوان جو دِین کی بنسبت سوشل میڈیا سے زیادہ قریب ہیں، وہ بدمذہبوں، گمراہ گَروں اور منکِرینِ حدیث کے اس بہکاوے (Instigation) اور پروپیگنڈہ میں نہ آئیں!!
نیز امام مہدی علیہ السلام سے متعلق سوشل میڈیا (Social Media) پر موجود غیر مستند مواد سے بھی پرہیز اور گریز کریں، اس پر بالکل دھیان نہ دیں، اور صرف علمائے حق کی مستند کتابوں اور مضامین سے رہنمائی حاصل کریں، اور جو بات سمجھ میں نہ آئے اس بارے میں علمائے اہلِ سنّت سے رجوع فرمائیں!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) یہ دھواں اس قدر زیادہ ہوگا کہ اس کے سبب زمین سے آسمان تک اندھیرا چھا جائے گا، اللہ رب العالمین نے قرآنِ پاک میں اس دھوئیں کا ذکر فرمایا: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۱۰ يَّغْشَى النَّاسَ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ ]پ25، الدُخان: 10، 11[ “تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا! لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ ہے دردناک عذاب!”۔
صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادی (ت ١٣٦٧ھ/١٩٤٨ء) فرماتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے، کہ دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو علاماتِ قیامت میں سے ہے، جو قریبِ قیامت ظاہر ہوگا، مشرق ومغرب اس سے بھر جائیں گے، چالیس روز وشب رہے گا، مؤمن کی حالت تو اس سے ایسی ہو جائے گی جیسے زُکام ہو جائے، اور کافر مدہوش ہوں گے، ان کے نتھنوں، کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دُھواں نکلتا ہوگا”۔ (“تفسیر خزائن العرفان” پ 25، الدُخان، زیرِ آیت: 10، 889)
([2]) دَجّال کے موضوع پر ہمارا تفصیلی مضمون “دَجّال اور قُربِ قیامت” ملاحظہ فرمائیں۔ یہ مضمون “تحسینِ
خطابت ٢٠٢٠ء” کی جلد اوّل میں شائع ہو چکا ہے، اور اس کے علاوہ انٹرنیٹ (Internet) پر بھی مفت ڈاؤنلوڈنگ (Free Downloading) کے لیے دستیاب ہے۔
([3]) “یہ عجیب وغریب شکل کا جانور جو کوہِ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا، فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا، ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا، ایمانداروں کی پیشانی پر عصائے موسی سے نورانی خط کھینچے گا، اور کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان کی انگشتری سے سیاہ مُہر لگائے گا”۔ (“تفسیر خزائن العرفان” پ 20، النمل، زیرِ آیت: 82، 694)
([4]) انظر: “صحيح مسلم” کتاب الفِتن وأشراط الساعة، باب الآيات التي تكون قبل الساعة، ر: 2901، الجزء 8، صـ179. و”مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، ر: ٨٤٣٢، ٨/٢٩٩٦.
([5]) انظر: “لمعات التنقيح” کتاب الفِتن، باب العلامات بين يدَي الساعة وذكر الدجّال، الفصل 1، وأشراط الساعة، تحت ر: 5464، 8/681.
([6]) “بیداء” کا لُغوی معنی ہموار زمین (یعنی چٹیل میدان) ہے، لیکن آئندہ سُطور میں بیان کی گئی
“حدیثِ خَسف” میں “بیداء” سے مراد ایک خاص مقام ہے جو مکہ ومدینہ کے درمیان واقع ہے۔ اس جگہ کی وجہِ شہرت یہ ہے کہ سیِّدنا امام مہدی کے خلاف بغاوَت کرنے والے ایک لشکر کو، اللہ ﷻ کی طرف سے اس مقام پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہاں “بیداء” سے وہ چٹیل میدان مراد نہیں جو” ذو الحلیفہ” کے سامنے مدینہ منوّرہ میں ہے۔ (“مرقاة المفاتيح” كتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 2، تحت ر: ٥٤٥٦، 9/353، ملخصاً)
([7]) انظر: “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، صفة السُفياني واسمه ونسبه، ر: ٨٠٨، ١/ ٢٧٩.
[8])) “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب ماجاء في المهديّ، ر: 2380، 4/287.
وقال الترمذي: وفي الباب عن علي وأبي سعيد وأمّ سلَمة وأبي هريرة. “هذا حديثٌ حسنٌ صحيح”.
([9]) “مرآۃ المناجیح” قیامت کی علامتوں کا بیان، فصلِ ثانی، زيرِ حدیث: 5452، 7/198۔
[10])) “سُنن أبي داود” أول كتاب المهدي، باب في ذكر المهدي، ر: ٤٢٨٣، ٥/٣٨. و”التيسير بشرح الجامع الصغير” للمُناوِي، حرف الميم، ر: 9241، 6/342. وقال المناوي: “وإسناده حسنٌ”.
([11]) “مرآۃ المناجیح” قیامت کی علامتوں کا بیان، فصلِ ثانی، زيرِ حدیث: 5452، 7/198۔
[12])) “المعجم الصغير” باب الألف، من اسمه: أحمد، الجزء ١، صـ37. و”مجمع الزوائد” كتاب المناقب، باب في فضل أهل البيت، ر: ١٤٩٦٨، ٩/186. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الصغير” وفيه قيس بن الربيع، وهو ضعيف وقد وثّقَ، وبقية رجاله ثِقات”.
[13])) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الفتن، باب ما ذكر من فتنة الدجال، ر: 38797،
21/289. و”تاريخ الإسلام” للذَهَبي، حرف العين، ٩/٤٦٧. قال الذهبي: “فَهَذَا إِسْنَادُهُ صَالِح”.
[14])) یعنی ابو العباس عبد اللہ سَفّاح بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبدا لمطلب۔ یہ خلافتِ عباسیہ کے پہلے خلیفہ تھے، اور انہوں نے ہی عباسی خلافت کی بنیاد رکھی۔ (“تاريخ بغداد” باب العين، من اسمه: عبد الله وابتداء اسم أبيه، حرف الميم، تحت ر: ٥١77- عبد الله أمير المؤمنين السفّاح …إلخ، 10/127، ملخّصاً)
[15])) یعنی ابو جعفر منصور بن محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن عبدا لمطلب۔ یہ خلیفہ ابو العباس سَفّاح کے بھائی، اور خلافتِ عباسیہ کے دوسرے خلیفہ تھے۔ (“تاريخ بغداد” باب العين، حرف الميم من آباء العبادلة، ذكر من اسمه: عبد الله واسم أبيه، تحت ر: ٥١79- عبد الله أمير المؤمنين المنصور بن محمد …إلخ، 10/65، ملخصاً. (دار الكتب العلمية، 1425هـ، بيروت: 1425ﻫ، ط2)
[16])) قال علي بن سلطان القاري: “الظاهر أنّ المرادَ به أبو إسحاق السبيعي الهمداني الكُوفي. قال المؤلِّف: رأى عليّاً وابنَ عباس وغيرهما من الصحابة، وسمع البراء بن عازِب وزيد بن أرقم، وروى عنه الأعمشُ وشعبةُ والثَوري، وهو تابعيٌ مشهورٌ كثيرُ الرواية. وُلد لسنتَين من خلافة عثمان، ومات سنة 129هـ. (قال: قال علي h) أي: موقوفاً”. (“مرقاة المفاتيح” كتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 3، تحت ر: ٥٤٦٢، 9/363)
[17])) “سُنن أبي داود” أوّل کتاب المهدي، باب في ذكر المهدي، ر: ٤٢89، 5/41. و”مرقاة المفاتيح” كتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 3، ر: ٥٤٦٢، 9/363. وقال علي بن سلطان القاري: “فهذا الحديث دليلٌ صريحٌ على ما قدّمناه مِن أنّ المهدي من أولاد الحسن، ويكون له انتسابٌ من جهة الأم في الحسين جمعاً بين الأدِلّة. وبه يبطل قولُ الشيعة: إنّ المهدي هو محمد بن الحسن العسكري القائم المنتظر، فإنّه حسينيٌ بالاتفاق. لا يقال: لعلّ عليّاً h أراد به غيرَ المهدي؛ فإنّا نقول: يُبطِله قصة: يملأ الأرضَ عدلاً؛ إذ لا يعرف في السادات الحسَينية ولا الحسنية مَن ملأ الأرضَ عدلاً إلّا ما ثبت في حقّ المهدي الموعود”.
و”جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَوائِد” لابن الفاسي، كتاب الملاحم وأشراط الساعةِ، ر: ٩٩١٦، ٤/١٨٥. وقال محمد بن محمد بن سليمان بن الفاسي: “وإن لم أذكر شيئاً بعد عزو حديث عن “الجامع” فذلك الحديث مقبول: حسنٌ أو صحيحٌ برجال الصحيح أو غيرهم”.
([18]) “القول المختصر في علامات المهدي المنتظر” الباب ١، صـ٢٧، ملخصاً.
([19]) انظر: “سُنن أبي داود” أوّل كتاب المهدي، باب في ذكر المهدي، ر: ٤٢٨4، 5/38. و”مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، ر: ٨٦٧٠، 8/3099. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط مسلم ولم يخرجاه”. وقال الذَهبي: “عمران ضعيفٌ ولم يخرج له مسلمٌ”.
([20]) “الكامل في ضعفاء الرجال” لابن عدي، من ابتداء أساميهم سين، من اسمه سويد، تحت ر: 846- سوَيد بن إِبراهِيم أبو حاتم صاحب الطعام بصري، ٤/٤٨٩. و”ذخيرة الحفّاظ” لابن القيسراني، باب اللام، ر: ٤٦٤٥، ٤/٢٠١٨. وقال القيسراني: “رواه سوَيد بن حاتم: عن محمد بن عَمرو، عن أبي سلَمة بن عبد الرحمن، عن أبيه. وسوَيد ضعيف”.
[21])) یہاں رومیوں سے مراد مغربی ممالک مثلا ً انگلینڈ (England)، اسپین (Spain)، اٹلی (Italy)، اور فرانس (France) وغیرہ مراد ہیں۔ (دیکھیے: “وکی پیڈیا” آزاد دائرۃ المعارف)
[22])) “صحيح مسلم” کتاب الفِتن وأشراط الساعة، باب لا تقوم الساعةُ حتى يمر الرجل بقبر الرجل …إلخ، ر: 2913، الجزء 8، صـ185.
([23]) “كتاب الفِتن” سيرة المهدي وعدله وخصب زمانه، ر: ١٠٢٨، ١/٣٥٦.
([24]) “كتاب الفِتن” سيرة المهدي وعدله وخصب زمانه، ر: ١٠٢٤، ١/٣٥٥. و”عقد الدُرَر في أخبار المنتظر” ليوسف بن يحيى الشافعي، الباب 3، صـ102.
[25])) “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب، ر: 2382، 4/288. وقال الترمذي: “هذا حديثٌ حسنٌ، وقد رُوي من غير وجه عن أبي سعيد عن النبيّ g وأبو الصديق الناجي اسمه: بكر بن عَمرو، ويقال: بكر بن قيس”.
([26]) “كتاب الفِتن” نسبة المهدي، ر: ١٠٨٢، ١/٣٦٨، 369. و”الضعفاء الكبير” للعُقَيلي، باب الزاي، تحت ر: ٥٢٢- زياد بن بيان الرَقّي عن علي بن نفيل، ٢/76. وقال العُقَيلي: “ورواه معمر، عن قَتادة هكذا من قول سعيد بن المسيّب، وروايتهما أَولى. وفي المهدي أحاديث صالحة الأسانيد أنّ النبيَّ g قال: «يخرج منّي رجل ويقال: من أهل بيتي، يواطِئ اسمُه اسمي، واسمُ أبيه اسمَ أبي». فأمّا من ولد فاطمة ففي إسناده نظرٌ، كما قال البخاري والصحيح قولُ سعيد بن المسيَّب. وأمّا مُسنَدٌ فلا”.
([27]) “المعجم” لابن المُقرئ، باب الياء، ر: ٩٠، صـ٥٨. و”الكامل” من ابتداء أساميهم عين، من اسمه عبد الوهاب، تحت ر: ١٤٣٥- عبد الوهاب بن الضحّاك الحمصي، ٦/٥١٦. و”ذخيرة الحفّاظ” باب الياء، ر: ٦٥٠٥، ٥/٢٧٨٠، ٢٧٨١. وقال ابن القيسراني: “رواه عبد الوهّاب بن الضحّاك الحمصي عن إسماعيل بن عيّاش، عن صفوان بن عَمرو، عن عبد الرحمن بن جبَير بن نفير، عن كثير بن مرّة، عن عبد الله بن عَمرو بن العاص. وعبد الوهاب ضعيف”.
[28])) “سُنن أبي داود” أوّل كتاب المهدي، باب في ذكر المهدي، ر: ٤٢٨2، 5/38. و”مُسنَد البزّار” مُسنَد علي بن أبي طالب، أبو الطفيل عن علي، ر: ٤٩٣، ٢/١٣٤. وقال البزّار: “وهذا الحديثُ لا نعلمه يروى عن علي بهذا اللفظ بإسنادٍ أحسن من هذا الإسناد”. و”البداية والنهاية” لابن كثير، كتاب الفِتن والمَلاحِم …إلخ، فصل في ذكر المهدي الذي يكون في آخر الزمان، ١٩/٥٦.
([29]) “أي: حُكمية، وهي الحكومة السلطانية بالغلبة التسليطية”. (“مرقاة المفاتيح” كتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 2، تحت ر: ٥٤٥٦، 9/352)
([30]) “أي: من بيته”. (“المرقاة” تحت ر: ٥٤٥٦، 9/352)
([31]) “أي: جيش كلب باعثُه هو نفس الكلبي”. (“المرقاة” تحت ر: ٥٤٥٦، 9/355)
([32]) “سُنن أبي داود” أوّل كتاب المهدي، ر: ٤٢٨5، 5/39، 40. و”المعجم الأوسط” للطَبَراني، باب الألف، من اسمه: أحمد، ر: ١١٥٣، 1/321. و”مجمع الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في المهدي، ر: ١٢٣٩٩، ٧/433. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الأوسط” ورجاله رجال الصحيح”.
([33]) “أي: الركن الأسعد، وهو الحجر الأسود”. (“مرقاة المفاتيح” کتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 2، تحت ر: ٥٤٥٦، ٨/252)
([34]) سفیانی کے خُروج کی ابتداء ملکِ شام کے مغربی حصے کی ایک بستی سے ہوگی، جس کا نام “اَندرا” ہے۔ ابتداءً اس کے ساتھ صرف سات آدمی ہوں گے۔ (“كتاب الفِتن” صفة السفياني واسمه ونسبه، ر: ٨٠٢، ١/٢٧٨)
یہ جگہ کہاں واقع ہے؟ اس کی تفصیل ہمیں کسی معتبر کتاب میں نظر نہیں آئی، ہاں ایک قدیم مقام “اَندرینا” (Androna) ملکِ شام (Syria) کے شہر “حلَب” (Aleppo) کے قریب واقع ہے، جس کا ذکر علّامہ حَموی نے “معجم البلدان” (باب الهمزة والنون وما يليهما، أَنْدَرِينُ، الجزء 1، صـ208) میں کیا ہے، اور اس کے آثار آج بھی پائے جاتے ہیں، البتہ قطعی طَور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی جگہ ہے۔
[35])) یہاں یزید بن ابی سفیان سے مراد حضرت امیر مُعاویہ کے بھائی اور صحابئ رسول حضرت یزید بن ابی سفیان مراد ہیں۔ انہوں نے فتحِ مکہ کے روز اسلام قبول کیا،اور امیر المؤمنین سیّدنا عمر فاروق کے دَورِ خلافت میں وفات پائی۔ (“أسد الغابة في معرفة الصحابة” لابن أثير الجزري، 5557- يزيد بن أبي سفيان، ٥/٤٥٦، ملخّصاً)
([36]) ملکِ شام میں اُردُن (Jordan) کی سرحد کے قریب یہ وادی آج بھی “وادئ یابس” کے نام سے معروف ہے، اور یہ اُردُن کے شہر “کریمہ” (Kuraymah) سے تقریباً تین کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے، نیز اسی مقام پر گوگل میپ (Google Map) پر “مكان خُروج السُفياني” کے الفاظ سے سفیانی کے مقامِ خُروج کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
([37]) انظر: “كتاب الفِتن” صفة السُفياني واسمه ونسبه، ر: ٨١٢، ١/٢٧٩، 280.
([38]) المرجع نفسه، ر: ٨٠٧، صـ278.
([39]) المرجع السابق، ر: ٨١١، صـ279.
([40]) المرجع السابق، دخول السفياني وأصحابه الكوفة، ر: ٨٩٣، ١/ ٣٠٨.
([41]) “مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، أمّا حديث أبي عوانة، ر: ٨٥٨٦، 8/3059. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد على شرط الشيخَين، ولم يخرجَاه”. وقال الذَهبي: “على شرط البخاري ومسلم”.
([42]) “سُنن أبي داود” أوّل كتاب المهدي، ر: ٤٢٨5، 5/39، 40. و”المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه: أحمد، ر: ١١٥٣، 1/321. و”مجمع الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في المهدي، ر: ١٢٣٩٩، ٧/433.
([43]) انظر: “كتاب الفِتن” دُخول السفياني وأصحابه الكُوفة، ر: ١٠٠٢، ١/٣٤٧، ملخصاً.
([44]) المرجع نفسه، ر: ١٠٠٣، ١/٣٤٨، ملخصاً.
([45]) “مُستدرَك الحاكم” كتاب الفِتن والملاحم، وأمّا حديث عقَيل بن خالد، ر: ٨٦٥٩، 8/3095. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخَين، ولم يخرجاه”. وقال الذهبي: “على شرط البخاري ومسلم”.
([46]) “بہار ِشریعت” حصہ 1، مَعاد وحشر کا بیان، 1/124۔
[47])) انظر: “مرقاة المفاتيح” كتاب الفِتن، باب أشراط الساعة، الفصل 2، تحت ر: ٥٤٥٣، 9/351، ملخصّاً. و”إنجاح الحاجة شرح سنن ابن ماجه” لمحمد عبد الغني المجدّدي، كتاب الفِتن، باب المَلاحِم، تحت ر: ٤٠٨٥، صـ٣٠٠، ملخصاً.
([48]) انظر: “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الفِتن، ما ذكر في فتنة الدجّال، ر: 38799، 21/191. و”مُسنَد الإمام أحمد” مُسنَد علي بن أبي طالب، ر: ٦55، 1/196، 197. و”سُنن ابن ماجه” كتاب الفِتن، باب خروج المهدي، ر: 4245، ٢/1102. قال شِهاب الدين أحمد بن أبي بكر ابن قايماز البُوصيري الشافعي: “هذا إسنادٌ فيه مقال، إبراهيم بن محمد وثّقه العجلي، وذكره ابنُ حِبّان في “الثِقات”. وقال البخاري في “التاريخ”: في إسناده نظر. وياسين العجلي، قال البخاري: فيه نظر. قال: ولا أعلم له حديثاً غير هذا. وقال ابنُ مَعين وأبو زرعة: لا بأس به، وأبو داود الحفري اسمه: عمر بن سعد، احتج به مسلم في “صحيحه” وباقي رجال الإسناد ثِقات”. (“مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه” للسُيوطي، كتاب الفِتن، باب خُروج المهدي، تحت ر: ٣٤٤١، ٤/٢٠٤)
و”البداية والنهاية” كتاب الفِتن والملاحم …إلخ، فصل في ذكر المهدي الذي يكون في آخر الزمان، ١٩/٥٦. وقال ابن كثير: “ورواه ابنُ ماجه، عن عثمان بن أبي شَيبة، عن أبي داود الحَفَري، عن ياسين العِجْلي، وليس هذا ياسين بن مُعاذ الزَيّاتَ، الزَيّاتُ ضعيف، والعِجْلي أوثَق منه”.
([49]) “مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، وأمّا حديث عقيل بن خالد، ر: ٨٦٧٣، 8/3100. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيح الإسناد ولم يخرجاه”. وقال الذَهبي: “صحيح”.
([50]) المرجع نفسه، وأمّا حديث عمران بن حصين، ر: ٨٤٣٨، 8/2998، 2999. وقال الحاكم: “هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه”. وقال الذهبي: “سندُه مظلم”.
([51]) “مُسند الإمام أحمد” مسند أبي سعيد الخدري، ر: 11488، 5/2365. و”مُستدرَك الحاكم” كتاب الفِتن والملاحم، وأمّا حديث عقيل بن خالد، ر: ٨٦٦٩، 8/3099. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخَين ولم يخرجاه، والحديث المفسّر بذلك الطريق وطرق حديث عاصم عن زر عن عبد الله، كلّها صحيحة على ما أصلته في هذا الكتاب بالاحتجاج بأخبار عاصم بن أبي النجود؛ إذ هو إمام من أئمة المسلمين”. وقال الذهبي: “على شرط البخاري ومسلم”. (“مُستدرَك الحاكم” تحت ر: ٨٦٦٩، 4/600، دار الكتب العلمية، بيروت: 1411ﻫ، ط1)
([52]) “سُنن ابن ماجه” كتاب الفِتن، باب خُروج المهدي، ر: 4248، ٢/1103. قال ابن قايماز البُوصيري: “هذا إسنادٌ ضعيفٌ لضعف عَمرو بن جابر وابن لَهِيعة”. (“مصباح الزجاجة” كتاب الفِتن، باب خُروج المهدي، تحت ر: ٥٤٤١، ٤/٢٠٥)
[53])) “مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، ر: ٨٤٣٢، ٨/٢٩٩٦. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخَين”. وقال الذَهبي: “على شرط البخاري ومسلم”.
[54])) انظر: “البداية والنهاية” كتاب الفِتن والملاحم، فصل في ذكر المهدي الذي يكون في آخر الزمان، 19/62، ملخصاً.
[55])) انظر: “الإشاعة لأشراط الساعة” الباب 3 في الأشراط العظام والأمارات القريبة التي تعقبها الساعةُ، المقام 3 في الفتن الواقعة قبل خروجه، صـ١٥١، ملخصاً.
[56])) “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب، ر: 2422، 4/319. وقال الترمذي: “هذا حديثٌ غريب”.
([57]) “كتاب الفِتن” سيرة المهدي وعدله وخصب زمانه، ر: ١٠٥٠، ١/٣٦٠، 361. و”عقد الدُرر في أخبار المنتظر” الباب 7 في شرفه وعظيم منزلته، صـ221. و”الحاوي للفتاوي” للسُيوطي، كتاب الأدب والرقائق، العُرف الوردي في أخبار المهدي، ٢/٩٩.
([58]) انظر: “مُستدرَك الحاكم” كتاب الفِتن والمَلاحِم، أما حديث عقَيل بن خالد،
ر: ٨٦٥٩، 8/3095. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخَين ولم يخرجاه”. وقال الذهبي: “على شرط البخاري ومسلم”.
([59]) انظر: “فتح الباري” كتاب المغازي، باب عِدةِ أصحاب بدر، تحت ر: ٣٩٥٧، ٧/335. و”عمدة القاري” باب عِدةِ أصحاب بدر، تحت ر: ٣٩٥٧، 12/16.
([60]) “صحیح مسلم” كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب قصّة الجسّاسة، ر: 2942، الجزء 8، صـ204.
([61]) “المعجم الأوسط” باب الميم، من اسمه: محمد، ر: ٥٤٠٦، 4/116، 117. وقال الطبَراني: “لم يرو هذا الحديث عن هشام بن حسّان، عن محمد بن سِيرين إلّا محمد بن مروان، تفرّد به أبو بريد. ورواه عبد القاهر بن شعيب بن الحبحاب، ويحيى بن مسلم الطائفي، عن هشام بن حسّان، عن العلاء بن بشير، عن أبي الصديق الناجي، عن أبي سعيد الخدري”. و”مجمع الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في المهدي، ر: ١٢٤١١، ٧/436. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الأوسط” ورِجاله ثِقات”.
([62]) “المعجم الكبير” للطَبَراني، باب الصاد، سليمان بن حبيب المحاربي …إلخ، ر: ٧٤٩٥، ٨/١٠٢. قال الهيثمي: “رواه الطَبَراني وفيه عنبسة بن أبي صغيرة وهو ضعيف”. (“مجمع الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في الملاحم، تحت ر: ١٢٤١٩، ٧/٤٣٨)
([63]) “كتاب الفِتن” غزوة الهند، ر: ١٢٣٦، ١/٤٠٩.
([64]) “المعجم الأوسط” باب الميم، من اسمه: محمد، ر: ٦٥٤٠، 5/47. و”مجمع الزوائد” كتاب المناقب، باب في فضل أهل البيت، ر: ١٤٩٦٧، ٩/186. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الكبير” و”الأوسط”، وفيه الهيثم بن حبيب، قال أبو حاتم: منكَر الحديث، وهو متّهم بهذا الحديث”.
([65]) “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب ما جاء في علامات خُروج الدَجَّال، ر: 2388، 4/292. وقال الترمذي: “وهذا حديثٌ حسن، لا نعرفه إلّا مِن هذا الوجه”.
([66]) ماوَراء النہر (Transoxiana) سے مراد وسطِ ایشیا (Central Asia) کا وہ علاقہ ہے جس میں مَوجودہ اُزبکستان (Uzbekistan)، تاجکستان (Tajikistan) اور جنوب مغربی قازقستان (Southwestern Kazakhstan) شامل ہے۔ (دیکھیے: “وکی پیڈیا” آزاد دائرۃ المعارف)
([67]) یہاں رُوم سے مراد وہ نصرانی سلطنت ہے جس کا پایۂ تخت کسی دَور میں قسطنطینیہ (استنبول)
تھا۔ (انظر: “معجم البلدان” باب القاف والسين وما يليهما، قُسْطَنْطِينِيّةُ، 4/347، ملخصاً)
([68]) “صحیح مسلم” كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ما يكون من فتوحات المسلمين قبل الدجال، ر: 2900، الجزء 8، صـ178.
([69]) انظر: “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب ما جاء في علامات خُروج الدَجَّال،
ر: 2388، 4/292. وقال الترمذي: “وهذا حديثٌ حسن، لا نعرفه إلّا مِن هذا الوجه”.
([70]) “مُسنَد الإمام أحمد” مُسْنَدُ جَابِرِ بن عبد الله، ر: 15185، 7/3154.
([71]) “سُنن ابن ماجه” أبواب الفِتن، باب فتنة الدّجال وخروج عيسي بن مريم …إلخ، ر: ٤237، 2/1094، 1095.
([72]) “صحيح مسلم” کتاب الإيمان، باب نُزول عيسى ابن مريم حاكماً بشريعة نبيّنا محمَّد g، ر: 156، الجزء 1، صـ95.
([73]) انظر: “مرقاة المفاتيح” کتاب الفِتن، باب نُزول عيسى m، الفصل 1، تحت ر: ٥٥٠٧، 9/441.
([74]) “صحيح البخاري” كتاب الأنبياء، باب نزول عيسى بن مريم q، ر:
٣٤٤٩، الجزء 4، صـ168. و”صحيح مسلم” کتاب الإيمان، باب نُزول عيسى ابن مريم حاكماً بشريعة نبيّنا محمَّد g، ر: 155، الجزء 1، صـ94.
([75]) انظر: “البداية والنهاية” كتاب الفِتن والمُلاحِم …إلخ، صفة المسيح عيسى ابن مريم رسول الله g، ١٩/٢٢٩، ملخصاً.
([76]) المرجع نفسه، ١٩/٢٣٠، ملخصاً.
([77]) “الفتاوى الحديثية” للهَيتمي [مطلب في أي محل ينزل عيسى؟] صـ250.
([78]) انظر: “مرقاة المفاتيح” كتاب الجهاد، الفصل 2، تحت ر: 3819، 7/384.
([79]) یہ ایک طویل حدیث ہے جس کا کچھ حصہ یوں ہے: «وَجُلّهُمْ بِبَيْتِ المَقْدِسِ، وَإِمَامهمْ رَجُل صَالِحٌ، فَبَيْنمَا إمَامهمْ قَدْ تَقَدّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُبْحَ، إذْ نَزلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ، فَرَجَعَ ذَلِكَ الْإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى، لِيَتَقَدّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ، فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ» (“سنن ابن ماجه” كتاب الفِتن، باب فتنة الدجال …إلخ، ر: 4237، 2/1094، 1095). “(اس روز) وہ (عربی مسلمان) بیت المقدس میں ہوں گے، ان کا امام ایک نیک آدمی (مہدی) ہوگا، وہ انہیں نماز پڑھانے کے لیے آگے (مصلّئ امامت کی طرف) بڑھے گا،کہ اچانک اسی صبح حضرت عیسی D (زمین پر) نُزول فرمائیں گے، ان کا امام (مہدی) اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا؛ تاکہ حضرت عیسی D لوگوں کو نماز پڑھائیں، لیکن حضرت عیسی D اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں؛ کہ اِقامت آپ کے لیے کہی گئی ہے، لہذا ان کا امام (مہدی) انہیں نماز پڑھائے گا”۔
([80]) انظر: “المرقاة” كتاب الفِتن، باب العلامات بين يدي الساعة وذكر الدجال، الفصل 1، تحت ر: ٥٤٧٥، 9/386، ملتقطاً.
([81]) انظر: “فيض القدير” حرف الميم، ر: ٨٢٦٢، ٦/١٧.
([82]) “بہارِ شریعت” عقائد کا بیان، مَعاد وحشر کا بیان، حصہ 1، 1/122۔
([83]) “کتاب العقائد” قیامت کی نشانیاں، سوالات، 31۔
([84]) “صحیح مسلم” كتاب الفِتن وأشراط الساعة، باب في فتح قسطنطينية …إلخ، ر: 2897، الجزء 8، صـ176.
([85]) انظر: “إنجاح الحاجة شرح ابن ماجه” كتاب الفِتن، باب المَلاحِم، تحت ر: ٤٠٨٣، صـ٣٠٠، ملخصاً.
([86]) “سُنن الترمذي” أبواب الفتن، باب ما جاء في فتنة الدجّال، ر: 2390، 4/295، 298. وقال الترمذي: “هذا حديثٌ حسنٌ صحيحٌ، لا نعرفه إلّا مِن حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر”.
([87]) “المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه: أحمد، ر: ١٥٧، ١/59. و”مجمع
الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في المهدي، ر: ١٢٤٠٩، ٧/435. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الأوسط” وفيه عَمرو بن جابر الحَضرمي وهو كذَّابٌ”.
([88]) انظر: “مُصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب الفِتن، ما ذكر في فتنة الدجّال، ر: 38808، 21/294.
([89]) ایک “نفسِ زکیہ” امام محمد بن عبد اللہ محض بن حسن مثنیٰ بن حسن مجتبیٰ بن علی المرتضی بن ابی طالب (ت ١٤٥ھ/ ٧٦٣ء) تھے، جو عباسی خلیفہ منصور (ت ١٤٨ھ/٧٧٥ء) کے دَور میں شہید ہوئے۔ لیکن یہاں اس حدیث میں مشہور “نفسِ زکیہ” سے مراد وہ نہیں، بلکہ اس نام کے ایک اَور بزرگ ہیں جو امام مہدی کے زمانۂ ظُہور سے کچھ پہلے ہوں گے۔
([90]) قال يوسف بن يحيى ابن عبد العزيز المقدسي الشافعي: “وآخر الفتن والعلامات: قتلُ النَّفس الزَكِيَّةِ، فعند ذلك يخرجُ الإمام المهدي”. (“عقد الدُرر في أخبار المنتظر” الباب ٤، صـ١٧٩، ١٨٠)
([91]) “جامع معمر بن راشد” باب المهدي، ر: ٢٠٧٧٥، ١١/٣٧٣. و”كتاب الفِتن” باب آخر من علامات المهدي في خروجه، ر: ٩٥١، ١/٣٣٢.
([92]) “كتاب الفِتن” ما يذكر من علامات من السماء فيها في انقطاع ملك بني العباس، ر: ٦٤٢، ١/٢٢٩. و”الحاوي للفتاوي” كتاب الأدب والرقائق، العرف الوردي في أخبار المهدي، ٢/٩٩.
([93]) “الحاوي للفتاوي” كتاب الأدب والرقائق، العرف الوردي في أخبار المهدي، ٢/٩٩.
([94]) “عقد الدُرر في أخبار المنتظر” الباب ٩، الفصل ٣، صـ٢٨٧.
([95]) انظر: “تهذيب التهذيب” للعَسقلاني، حرف الميم، محمد مع الخاء في الآباء، تحت ر: 6065- محمد بن خالد الجندي …إلخ، 7/135، ملخصاً.
([96]) انظر: “فيض القدير” حرف الميم، فصل في المحلى بـ أل من هذا الحرف، تحت ر: 9245، ٦/٢٧٩، ملخصاً.
([97]) المرجع نفسه، حرف الهمزة، تحت ر: ٦٤٨، ١/٣٦٣.
([98]) انظر: “لوامع الأنوار البهية” الباب 4، فصل في أشراط الساعة وعلاماتها …إلخ، الخامسة في مولد المهدي …إلخ، ٢/٨٤، ملخّصاً.