غزوۂ ہند  کیا ہے؟

Home – Single Post

غزوۂ ہند  کیا ہے؟

Table of contents

مسلمان کے نزدیک اس بات میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ “حدیثِ رسول قابلِ حجت ہے” لیکن اس کے باوُجود بعض لوگ حدیثِ رسول کو اہمیت نہیں دیتے، بلکہ شرعی اَحکام میں حدیث کی اہمیت وحجیت کا انکار کرتے ہیں، نیز حدیثِ رسول کے مقابل اپنے خیالات، قیاسات، اَفکار اور ذاتی  عقل وفہم کو ترجیح دیتے ہیں۔ علمی دنیا میں ایسے لوگوں کو “منکِرینِ حدیث” کہا جاتا ہے!۔

ماضی قریب میں دیکھیں تو سر سید احمد خان (١٣١٦ھ/  ١٨٩٨ء)، چراغ الدین دہلوی، عبد اللہ چکڑالوی، احمد الدین امرتسری، حمید الدین فراہی (١٣٤٨ھ/ ١٩٣٠ء)، اسلم جیراج پوری (١٣٧٤ھ/  ١٩٥٥ء)، عنایت اللہ مشرقی (١٣٨٤ھ/ ١٩٦٤ء)، نیاز فتح پوری (١٣٨٦ھ/ ١٩٦٦ء)، عنایت اللہ اثری (١٤٠٠ھ/  ١٩٨٠ء)، غلام احمد پرویز (١٤٠٥ھ/ ١٩٨٥ء)، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، حبیب الرحمن کاندھلوی (١٤١١ھ/ ١٩٩١ء)، امین احسن اصلاحی (١٤١٨ھ/ ١٩٩٧ء)، جبکہ عصر ِحاضر میں جاوید غامدی صاحب اور اُن کے ہم خیال لوگوں کا تعلق بھی منکِرین حدیث

کےاسی ٹولے سے ہے([1])۔

دَجّال اور قربِ قیامت

یہ بھی ضرور پڑھیں :دَجّال اور قربِ قیامت

لہذا جب کوئی منکِرِ حدیث کسی حدیث کی صحت پر اعتراض کرے، تو حدیثِ پاک کی صحت کو جانچنے سے پہلے معترِض کا اپنا بائیو ڈیٹا (Bio Data) چیک کرنا بھی ضروری ہے، کہ آیا وہ حدیثِ رسول کو بطور دلیل وحجت مانتا بھی ہے یا نہیں!!

پاکستان میں غامدی صاحب جیسے لوگ جہاد کی اہمیت کو کم کرنے، اور اسے  مسلمانوں کے دِلوں سے نکالنے کے لیے”فتنہ انکارِ حدیث” کو عام کرنے، اور “حجیتِ حدیث” (Probative Authority Of The Hadith) کو مشکوک بنانے میں پیش پیش ہیں! یہ حضرات اپنے مغربی آقاؤں  کے لیے سہولت کاری کا فریضہ انجام دیتے ہیں! یہود ونصاری چاہتے ہیں کہ غامدی صاحب جیسے لوگ مسلمانوں کے دل ودماغ سے جہاد کا جذبہ ختم کر دیں؛ کیونکہ اسلام کا نظریۂ جہاد اُن کے لیے وبالِ جان بنا ہوا ہے، لہذا جذبۂ جہاد ختم کرنے کے لیے غامدی صاحب جیسےمنکِرین حدیث کو  بطور مغربی آلۂ کار میدان میں اُتارا گیا ہے!۔

یاد رہے کہ قرآنِ پاک کی سب سے بہترین تفسیر حدیثِ نبوی کے ذریعے ہوتی ہے، اورتفسیر ہی سے پتہ چلتا ہے کہ کس آیت سے کیا مراد ہے! لہذا یہود ونصاری اور اُن کے آلۂ کار (منکِرین حدیث) چاہتے ہیں کہ سِرے سے حدیث ہی کا انکار کر دیا جائے؛ تاکہ قرآنی آیات کی مَن مانی تفسیر کر کے مسلمانوں کو گمراہ کیا جا سکے، اور عملی طَور پر جہاد اور اس جیسے دیگر مُعاملات سے جان چھڑا لی جائے، چنانچہ جو لوگ بلاوجہ کسی بھی حدیث کو موضوع (مَن گھڑت) (Forgeries) قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے، اور  حجیتِ حدیث کو مشکوک بنانے کی مذموم وناپاک کوشش میں ہیں، انہیں چاہیے کہ حدیثِ رسول پر اعتراض کرنے سے پہلے یہ بتائیں کہ آپ حضرات شریعتِ اسلام میں حدیث کو دلیل وحجت مانتے بھی ہیں یا نہیں؟!

یقین جانیے! کہ یہ حضرات کبھی بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں دیں گے؛ کیونکہ یہ لوگ حقیقت میں حدیث نبوی کے انکاری ہیں! آپ ان کے سامنے چاہے صحیح حدیث پیش کریں یا حسن، یہ لوگ کسی نہ کسی بہانے سے گھما گھما کر حدیث کا انکار کرتے رہیں گے، بلکہ اسے ضعیف یا مَوضوع (مَن گھڑت) قرار دے کر اس کی اہمیت گھٹانے کی کوشش میں رہتے ہیں! غزوۂ ہند سے متعلق احادیث مبارکہ کا مُعاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

غزوۂ ہند سے متعلق احادیث مبارکہ کو بڑے بڑے جلیل القدر ائمۂ محدثین نے اپنی کتب میں نقل فرمایا، ان احادیث مبارکہ کے راویوں کو  متعدد ائمۂ جَرح وتعدیل نے ثقہ قرار دیا ہے، امام بخاری کے استاد امام نعَیم بن حمّاد نے “كتاب الفِتن”([2]) اور امام نَسائی نے “سنن النَسائي”([3]) میں “غزوة الهند” کے نام سے  مستقل باب بھی قائم کیے ہیں۔ اس کے باوُجود منکِرین حدیث کی طرف سے غزوۂ ہند سے متعلق احادیث کو مَن گھڑت قرار دیا جانا، اُن کے قلّتِ مطالعہ، لا علمی، فکری آوارگی اور مذموم مقاصد کو خوب آشکار کر رہا  ہے! لہذا پاکستان سمیت مسلمانانِ عالَم سے گزارش ہے کہ غامدی صاحب ہوں یا کوئی اَور، ہر گز کسی منکِر حدیث کی باتوں میں نہ آئیں! ایسے گمراہ وبدمذہب لوگوں کے بیانات نہ سنیں، ان کے پروگرام ہرگز نہ دیکھیں؛ کیونکہ یہ لوگ مسلمان کے دین واِیمان  کے لیے سخت خطرہ ہیں!۔

رہی بات غزوۂ ہند کے وُقوع پذیر ہونے کی، تو یہ قُربِ قیامت میں حضرت سیِّدنا امام مَہدی علیہ الرحمۃ کے ظُہور کے بعد، اور حضرت سیِّدنا عیسی D کے نُزول سے قبل ہوگا، اس میں مسلمان فتحیاب ہوں گے اور مشرکینِ ہند کو عبرتناک شکست ہوگی، نیز ہندوستان کے ظالم حکمرانوں کو قیدی بھی بنایا جائے گا، اس بارے میں احادیثِ مبارکہ واضح ہیں۔

بعض حضرات محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی، سلطان احمد شاہ اَبدالی کے حملوں سمیت برِّ صغیر میں مسلمانوں اور کفّار کے مابین ہونے والی تمام لڑائیوں اور جنگوں کو غزوۂ ہند کا مِصداق قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض حضرات سِرے سے غزوۂ ہند کا انکار کرتے ہیں، نیز بعض حضرات خود کو لبرل (Liberal) اور “امن کی آشا” کا علمبردار ثابت کرنے کے چکر میں، پاکستانی مسلمانوں کو یہ باوَر کرانے کی ناکام کوشش میں ہیں کہ

(١) غزوۂ ہند کا تصوُر محض ایک خیالی پلاؤ ہے،  اسلامی تعلیمات میں اس کا کوئی حقیقی مقام نہیں، نیز اس تصوُر کو شدّت پسند تنظیموں اور شرپسند عناصر نے اپنے مفادات کی خاطر فروغ دیا ہے۔ (٢) غزوۂ ہند سے متعلق روایات کمزور اور ناقابلِ اعتماد ہیں؛ کیونکہ ان کے راوی یا تو مجہول الحال ہیں، یا پھر غیر ثقہ ہیں۔ (٣) غزوۂ ہند سے متعلق مَن گھڑت اور فرضی روایات پیش کرنے والے افراد اسلام کے مجرِم ہیں۔ (٤) غزوۂ ہند سے متعلق احادیث اگر قابلِ اعتبار ہوں بھی، تو اسلام کے ابتدائی دَور میں محمد بن قاسم کی فتوحات کے ساتھ ہی غزوۂ ہند کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ (٥) غزوۂ ہند سے متعلق روایات اُموی دَور کی پیدا وار ہیں۔ (٦) مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی مَن گھڑت حدیثوں کو رَد کر دیں، جو اسلام کے امن، محبت اور سلامتی کے پیغام کے بَرخلاف ہیں۔ (٧) غزوۂ ہند نام نہاد جہادی گروہوں کا خود ساختہ نظریہ، اور سادہ لَوح  مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا حَربہ ہے۔ (٨) غزوۂ ہند اسلامی تعلیمات کے مُنافی ہے؛ کیونکہ اسلام میں جنگ ہمیشہ دفاعی مقاصد کے تحت کی جاتی ہے۔ (٩) غزوۂ ہند کا نظریہ ایک سیاسی سازش ہے، جو ہندوستان اور پاکستان کے باہمی امن کو متاثِر کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ (١٠) غزوۂ ہند ایک جھوٹا افسانہ ہے، جسے انتہا پسند تنظیمیں تشدُد کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ (١١) غزوۂ ہند ایک ایسی اصطلاح (Term) ہے جسے بعض انتہا پسندوں نے ہندوستان پر حملہ کے جواز کے طَور پر استعمال کیا، اور بھولے بھالے مسلمانوں کو ہندوستان کے خلاف دہشتگردانہ کاروائیوں کی ترغیب دی۔ (١٢) غزوۂ ہند کا نظریہ نہ اسلامی ہے نہ انسانی، بلکہ یہ پاکستان اور کشمیر کی بعض انتہا پسند تنظیموں اور شخصیات کا پھیلایا ہوا ایک مہلِک زہر ہے، وغیرہ وغیرہ([4])۔

مذکورہ بالا تمام اعتراضات کا بیش تَر حصہ غزوۂ ہند سے متعلق احادیث مبارکہ کی صحت، اور ان کے راویوں کی ثقاہت (Trustworthiness) سے متعلق ہے، لہذا بہتر اور اَنسب یہی ہے کہ غزوۂ ہند سے متعلق احادیث کے ساتھ ساتھ اُن کی صحت اور اُن کے راویوں کی ثقاہت پر، ائمۂ محدثین کی جَرح وتعدیل (Criticism And Appraisal Of Hadith Narrators) کو بھی ملاحظہ کیا جائے؛ تاکہ یہ سمجھنا آسان ہو جائے کہ مذکورہ بالا اعتراضات بےبنیاد ہیں، جھوٹ پر مبنی ہیں، جبکہ غزوۂ ہند کا نظریہ قرآن وحدیث کے عین مطابق ہے!۔

واضح رہے کہ سطورِ ذیل میں صرف اُن احادیث پر جَرح وتعدیل بیان کی جائے گی، جن کا تعلق براہِ راست غزوۂ ہند سے ہے، جو احادیث بطور شواہد (Corroborating Evidence) بیان کی گئی ہیں، خوفِ طوالت کے باعث اُن پر جَرح وتعدیل بیان نہیں کی گئی۔

The Concept of Jihad in Islam

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد

غزوۂ ہند سے متعلق چند احادیثِ نبویہ حسبِ ذیل ہیں:

(١) غزوۂ ہند میں شہید ہونے والوں کو  “افضل الشہداء” (یعنی زیادہ فضیلت والے شہید) قرار دیا گیا ہے، “سُنن نَسائی” میں ہے: احمد بن عثمان بن حکیم نے زکریا بن عدی سے، انہوں نے عبید اللہ بن عَمرو سے، انہوں نے زید بن ابی اُنیسہ سے، انہوں نے سیّار واسطی سے، اور انہوں نے جبر بن عبیدہ سے روایت کیا، کہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «وعدَنا رَسولُ اللهِ g غَزْوةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْركْتُها أُنْفِقْ فيها نَفْسي ومالِي، فإِنْ أُقْتَلْ كنتُ مِنْ أَفْضلَ الشُّهداءِ، وَإِنْ أَرْجعْ فَأَنا أَبو هرَيْرةَ المُحَرَّرُ»([5]) “رسول اللہ ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا ہے، لہذا اگر میں نے اسے پایا تو  اُس میں اپنی جان ومال خرچ کر دوں گا، اور اگر مجھے شہید کر دیا گیا تو میں سب سے زیادہ فضیلت والے شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر واپس زندہ لَوٹ آیا تو جہنم سے آزاد شدہ ابو ہریرہ ہوں گا!”۔

مذکورہ بالا حدیثِ پاک کئی اسانید اور قدرے مختلف الفاظ سے متعدد کتبِ حدیث میں مذکور ہے، اس حدیث پاک کی تمام اسانید کے راویوں پر ائمۂ محدثین کی جَرح وتعدیل کو اس مختصرتحریر میں بیان کرنا  ممکن نہیں، البتہ “سنن نَسائی” میں مذکورہ بالا حدیث کی ایک سنَد  (Chain Of Authorisation) کے راویوں کی ثقاہت کے بارے میں، محدثین کرام کی جَرح وتعدیل پر مبنی رائے حسب ذیل ہے:

احمد بن عثمان بن حکیم کُوفی کو، امام ابو حاتم رازی، امام نَسائی، امام ابن حِبّان  اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ نےصَدوق و ثقہ  قرار دیا ہے([6])۔

 زکریا بن عدی کو  امام عجلی اور امام ابن حِبّان نے ثقہ قرار دیا ہے([7])، جبکہ امام

ابن مَعین نے فرمایا کہ “ان سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں”([8])۔

عبید اللہ بن عَمرو اَسدی کو امام عجلی، امام ابن مَعین اور امام ابو حاتم رازی رحمۃُ اللہ علیہ نے ثقہ راوی قرار دیا ہے([9])۔

زید بن ابی انیسہ  جَزری  غَنوِی سُنن اربعہ (سُنن ترمذی، سُنن نسائی، سُنن ابی داؤد، اور سُنن ابن ماجہ) کے راوی ہیں،  آپ کو  امام ابن مَعین، امام ابو الحسن عجلی اور امام ابن حِبّان نے ثقہ راوی قرار دیا ہے([10])، جبکہ امام نَسائی نے فرمایا کہ “آپ میں کوئی خرابی نہیں ہے”([11])۔

ابو الحکم سیّار واسطی کو امام ابن مَعین، امام احمد بن حنبل اور امام نَسائی رحمۃُ اللہ علیہ نے روایتِ حدیث میں صَدوق (سچا) (Truthful)، پختہ اور ثقہ (بااعتماد) (Trustworthy) قرار دیا ہے([12])۔

جبر بن عبیدہ تابعی بزرگ ہیں، آپ نے یہ روایت صحابئ رسول حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے لی ہے،  آپ کو امام ابن حِبّان نے ثقہ قرار دیا ہے([13])، جبکہ امام  نَسائی جیسے عظیم محدِّث نے بھی اپنی “سُنن” میں ان سے روایت لی ہے۔

خلاصۂ تحقیق یہ کہ مذکورہ بالا حدیث پاک کے تمام راوی ثقہ وصَدوق ہیں، اور یہ حدیثِ مبارک بلحاظِ سنَد صحیح ہے۔

غزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

یہ بھی ضرور پڑھیں :غزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

(٢) غزوۂ ہند سے متعلق ایک حدیث شریف میں سندھ اور ہند کی طرف لشکر کشی کی بِشارت دی گئی ہے، یحیی بن اسحاق نے براء بن عبد اللہ سے، انہوں نے حسن بصری سے، اور انہوں نے حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہ تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «يكونُ في هذه الأمة بَعْثٌ إلى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ»([14]) “میری اُمّت كا ایک لشکر سندھ اور ہند (ہندوستان) کی طرف بھیجا جائے گا”۔

حدیث پاک کے مذکورہ بالا الفاظ روایت کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «إِنْ أَنا أَدْرَكْتهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فذلك، وَإِنْ أَنا -فذكَرَ كَلِمةً- رجَعْتُ وأَنا أَبو هُرَيْرةَ المُحَرَّرُ قَدْ أَعْتقني مِنَ النَّارِ»([15]) “اگر میں نے اس (غزوۂ ہند) کو پایا اور اس میں شہید ہوگیا تو ٹھیک، اور اگر غازی بن کر واپس لَوٹا تو میں وہ ابوہریرہ ہوں گا جسے اللہ تعالی نے جہنم سے آزاد فرما دیا ہوگا!”۔

مذکورہ بالا حدیثِ پاک کی ایک سند کے راویوں کی ثقاہت کے بارے میں، محدثینِ کرام کی جَرح وتعدیل پر مبنی رائے حسبِ ذیل ہے:

ابو زکریا یحیی بن اسحاق “صحیح مسلم” اور “سُنن اربعہ” (سُنن ترمذی، سُنن نسائی، سُنن ابی داؤد، اور سُنن ابن ماجہ) کے راوی ہیں، حافظ ابن سعد، امام ابن مَعین اور امام ابن حجر عسقلانی رحمہُ اللہ علیہ نے آپ کو صَدوق (سچا) اور ثقہ (بااعتماد) راوی قرار دیا ہے([16])۔

بَراء بن عبد اللہ بصری کے بارے میں محدثین کی رائے مختلف ہے، امام ابو داؤد، امام بزّار اور امام ابن مَعین رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “بَراء میں کوئی خرابی نہیں”([17]) جبکہ بعض اہلِ علم نے ان پر جَرح کی ہے([18])۔

حضرت حسن بصری جلیل القدر تابعی بزرگ اور “صحاحِ ستہ” کے راویوں میں سے ہیں، انہیں امام عجلی، امام ابن حِبّان اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ نے ثقہ راوی قرار دیا ہے([19])۔

خلاصۂ تحقیق یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے ایک راوی (براء بن عبداللہ بصری) کے بارے میں اگرچہ محدثین کی رائے مختلف ہے، لیکن متعدد شواہد کے سبب  ان کی روایت کردہ حدیثِ پاک درجۂ حَسن (Fair) میں ہے، قابلِ حجت ہے۔

نیز جو لوگ اعتراض اور پروپیگنڈہ (Propaganda) کرتے ہیں کہ “اسلام میں صرف دفاعی جنگ (Defensive War) جائز ہے” انہیں چاہیے کہ اس حدیثِ پاک کا بار بار مطالعہ کریں، ائمۂ محدثین کی جَرح وتعدیل پر غَور کریں، اور غزوۂ ہند سے متعلق روایات پر بےجا اعتراض سے باز آئیں!۔

(٣) غزوۂ ہند میں شرکت کرنے والے حملہ آوَر لشکر کے لیے حدیثِ حَسن میں جنّت کی بِشارت ہے: ابو نضر ہاشم بن قاسم لَیثی نے بقیہ بن ولید کلاعی سے، انہوں نے عبد اللہ بن سالم سے، انہوں نے محمد بن ولید زبیدی سے، انہوں نے لقمان بن عامر سے، انہوں نے عبد الاعلی بن عدی بہرانی سے، اور انہوں نے حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «عِصابتانِ مِنْ أُمّتي أَحْرَزهُما اللهُ مِن النّارِ: (١) عِصابةٌ تَغْزو الْهِنْدَ (٢) وعِصابةٌ تكونُ معَ عيسَى بْنِ مَرْيمَ q»([20]) “میری اُمت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے: ایک وہ جو ہندوستان پر حملہ آوَر ہوگا (٢) اور دوسرا وہ جو حضرت عیسی D کے ساتھ ہوگا”۔

یہ حدیث شریف متعدد کتبِ حدیث، شُروح اور کتبِ تاریخ میں مذکور ہے، ان کتابوں میں سے “مُسند الإمام أحمد” “التاريخ الكبير”([21]) للبخاري، “الجهاد”([22]) لابن أبي عاصم، “السُنن الكبرى”([23]) للنَسائي، “سُنن النَسائي”، “المعجم الأوسَط”([24]) للطَبَراني، “الكامل في ضعفاء الرجال”([25]) لابن عدي، “السُنن الكبرى”([26]) للبَيهقي، “تاريخ دِمشق”([27]) لابن عساكر، “فيض القدير شرح الجامع الصغير”([28]) للمُناوي وغیرہ خاص طَور پر قابلِ ذکر ہیں۔

مذکورہ بالا حدیثِ پاک کی تقریباً نَو اسانید اس وقت پیشِ نظر ہیں، ان میں سے  ایک سنَد کے راویوں کی ثقاہت کے بارے میں محدثینِ کرام کی جَرح وتعدیل پر مبنی رائے حسبِ ذیل ہے:

ابو نضر ہاشم بن قاسم لَیثی  “صحاحِ ستّہ” کے ثقہ راوی ہیں۔ حافظ ابن سعد، امام ابن مَعین، امام علی بن مدِینی، امام عجلی، امام ابو حاتم رازی اور امام ابن حجر عسقلانی رحمہُ اللہ علیہ نے آپ کو ثقہ راوی قرار دیا ہے([29])۔

ابو محمد بقیہ بن ولید کلاعی “صحیح مسلم” اور “سنن نَسائی” کے راوی ہیں۔ جب آپ ثقہ راویوں سے سماع کی صراحت کر دیں تو جُمہور کے نزدیک آپ ثقہ ہیں([30])، جیسا کہ آپ نے مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں بھی صراحت کی ہے، لہذا آپ کی بیان کردہ زیرِ بحث حدیث بھی بلحاظِ سند  صحیح ہے۔

ابو یوسف عبد اللہ بن سالم اَشعری “صحیح بخاری”، “سنن ابی داؤد” اور “سنن نَسائی” کے راوی ہیں۔ امام نَسائی، امام ابن حِبّان، امام ذَہبی اور امام ابن حجر عسقلانی رحمہُ اللہ علیہ نے انہیں صَدوق (سچا) اور ثقہ راوی قرار دیا ہے([31])۔

ابو الہذیل محمد بن ولید  بن عامر زَبیدی “صحیحین”، “سنن ابى داؤد”، “سنن نَسائی” اور “سنن ابن ماجہ” کے ثقہ راوی ہیں، حافظ ابن سعد، امام علی بن مدِینی، امام  ابوزرعہ رازی، ، امام عجلی،  امام نَسائی اور امام ابن حجرعسقلانی رحمہُ اللہ علیہ نے آپ کو ثقہ راوی قرار دیا ہے([32])۔

ابو عامر لقمان بن عامر بھی جلیل القدر تابعی بزرگ اور “سنن ابى داؤد” اور “سنن نَسائی” کے ثقہ راوی ہیں، امام عجلی، امام ابن حِبّان، امام ذَہبی اور امام ابن حجر عسقلانی رحمہُ اللہ علیہ نے آپ کو صَدوق (سچا) اور ثقہ راوی قرار دیا ہے([33])۔

عبد الاعلی بن عدی بَہرانی تابعی بزرگ ہیں، انہوں نے مذکور بالا حدیث شریف صحابئ رسول حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، امام ابن حِبّان، امام ذَہبی،امام ابن حجرعسقلانی اور امام احمد بن خَزرجی رحمہُ اللہ علیہ نے آپ کو ثقہ راوی قرار دیا ہے([34])۔

خلاصۂ تحقیق یہ کہ حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ کی یہ حدیثِ پاک بلحاظ سند صحیح ہے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ نیز غزوۂ ہند سے متعلق روایات کی صحت پر اعتراض کرنے والوں میں سے  جن کے نزدیک اَلبانی صاحب حجت ہیں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اَلبانی صاحب نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے([35])۔

 غزوۂ ہند  کب ہوگا؟ اس بارے میں یقینی  طَور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے  اتنا اشارہ ضرور ملتاہے، کہ یہ غزوہ نُزولِ سیِّدنا عیسی D کے زمانے کے قریب ہندوستان میں ہوگا، اور اس میں شریک  اسلامی لشکر  شاندار فتح اور کامرانی سے ہمکنار ہوگا، ان شاء اللہ!۔

(٤) اس بات کی تائید ایک اَور حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے، جیسا کہ بقیہ بن ولید کلاعی نے صفوان بن عَمرو سے، اور انہوں نے اپنے شیخ سے روایت کیا، کہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «ليَغْزُونَّ الْهِنْدَ لكُمْ جَيْشٌ، يَفْتح اللهُ عليْهِمْ حتَّى يأْتُوا بِمُلوكِهمْ مُغلَّلِينَ بِالسّلاسِلِ، يغْفِرُ اللهُ ذُنُوبَهمْ، فيَنْصَرِفونَ حين يَنْصرِفونَ فيجِدونَ ابْنَ مرْيمَ بِالشّامِ»([36]) “تم میں سے ایک لشکر ضرور ہند پر حملہ کرے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کو فتح عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ اُن مشرکین کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ تعالی ان (لشکر والوں) کے گناہ مُعاف فرما دے گا، پھر جب وہ لَوٹیں گے تو حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام  کو ملکِ شام میں پائیں گے!”۔

مذکورہ بالا حدیث شریف امام بخاری کے استاد امام نعَیم بن حمّاد رحمہُ اللہ علیہ کی “كتاب الفِتن” میں مذکور ہے، اس کی سند کے راویوں کی ثقاہت کے بارے میں، محدثین کِرام کی جَرح وتعدیل پر مبنی رائے حسبِ ذیل ہے:

ابو محمد بقیہ بن ولید کلاعی کی ثقاہت کےبارے میں کلام چند صفحات قبل نمبر 2  کے  تحت گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں!۔

صفوان بن عَمرو بن ہرم کو امام عبد اللہ بن مبارک، امام ابن سعد، امام نَسائی، امام ابو حاتم رازی اور امام ذَہبی نے ثقہ راوی قرار دیا ہے([37])۔

 اس حدیثِ پاک کے تیسرے راوی صفوان بن عَمرو کے شیخ ہیں، سند میں ان کا نام مذکور نہیں، انہوں نے حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ صفوان بن عَمرو کے شیخ  کا نام مبہم ہونے کے باعث یہ سند ضعیف ہے، لیکن اپنے دیگر شواہد کی وجہ سے یہ درجۂ حسَن کو پہنچتی ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں غزوۂ ہند کی شرکت پر بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے،  اس سلسلے میں چند احادیثِ نبویہ حسبِ ذیل ہیں:

غزوۂ ہند میں شرکت کرنے، اور پھر غازی بن کر لَوٹنے والوں کے لیے جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «وعدنا رسولُ اللهِ g في غَزْوة الْهِنْدِ، فإنِ اسْتُشْهِدْتُ كنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهداءِ، وَإِنْ رجَعْتُ فَأَنا أَبو هُرَيْرةَ المُحرَّرُ»([38]) “رسول اللہ ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو سب سے بہترین شہیدوں میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ لَوٹا تو میں جہنم سے آزاد شدہ ابوہریرہ ہوں گا!”۔

غزوۂ ہند ہوگا، اس بات کا وعدہ اللہ ورسول نے فرمایا ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «وعدنا اللهُ ورسولُهُ غَزْوةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أُدْرِكْها أُنْفِقْ فِيها نَفْسي ومالِي، فَإِنْ قُتِلْتُ كُنْتُ كَأَفْضَلِ الشُّهداءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنا أَبُو هُرَيْرةَ المُحرَّرُ»([39]) “اللہ ورسول نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا ہے، لہذا اگر میں نے اس غزوہ کو پایا تو  اُس میں اپنی جان اور اپنا مال خرچ کر دُوں گا، اگر شہید ہو گیا تو سب سے زیادہ فضیلت والے شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر غازی بن کر لَوٹا تو میں جہنم سے آزاد شدہ ابو ہریرہ ہوں گا!”۔

“تاریخِ بغداد” میں ہے کہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ ہند کے بارے میں فرمایا: «وعدَنا رسولُ اللهُ g غَزْوةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَنا أَدْرَكْتُها أَتْعَبْتُ فِيها نَفْسي»([40]) “رسول اللہ ﷺ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا ہے، اگر میں نے اُسے پایا تو اپنے آپ کو اُس میں تھکا دُوں گا!”۔

رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوۂ ہند میں شرکت کی شدید تمنّا رکھتے تھے، آپ فرماتے ہیں: «وعدَنا رسولُ الله g غزوةَ الْهِنْدِ، فإِنْ أُدْرِكْها أُنْفِق فيها مالي، فإنْ أُقتَلْ أكونُ حَيًّا مَرْزوقًا، وَإِنْ أرجِعْ فَأَنا أَبُو هريرةَ المُحَرَّرُ»([41]) “اگر میں اس میں قتل کیا گیا تو رزق پانے والے شہید کی حیثیت سے زندہ رہوں گا، اور اگر واپس لَوٹا تو جہنم سے آزاد شدہ ہوں گا!”۔

اس حدیث کو امام بخاری نے “التاريخ الكبير”([42]) میں اور امام ابن حجر عسقلانی نے “تهذيب التهذيب”([43]) میں نقل کیا ہے۔

صحابئ رسول حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنا مال واَسباب بیچ کر بھی غزوۂ ہند میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں، ایک مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا: «فإِنْ أَنا أَدْرَكْتُ تِلكَ الْغَزْوةَ بِعْتُ كُلَّ طارِدٍ وَتالِدٍ لِي وغَزَوتُها، فَإِذا فتحَ اللهُ عَلَيْنا انْصَرَفْنا فَأَنا أَبُو هُرَيْرةَ المُحَرّرُ يَقْدَمُ الشّامَ فَيلْقَى الْمسِيحَ بْنَ مَرْيمَ، فَلَأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَأُخْبِرَهُ أنِّي صَحِبْتُكَ يَا رسولَ الله g»([44]) “اگر میں نے غزوۂ ہند کو پایا، تو اپنا نیا اور آباء واَجداد سے میراث میں ملا ہوا مال، سب بیچ کر بھی اس غزوہ میں شرکت کروں گا، پھر جب اللہ تعالی ہمیں فتح عطا فرمائے گا اور ہم واپس لَوٹیں گے، تو میں جہنم سے آزاد شدہ ابو ہریرہ ہوں گا، پھر میں ملکِ شام  جاؤں گا اور وہاں سیِّدنا عیسی بن مریم D سے ملاقات کروں گا، یا رسولَ اللہ ﷺ! اُس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے قریب جا کر انہیں بتاؤں، کہ میں آپ ﷺ کا صحابی ہوں!”۔

غزوۂ ہند میں شرکت کی غرض سے جانے والے لشکر کے لیے احادیثِ مبارکہ میں متعدِد بِشارتیں آئی ہیں، ان کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

(١) ہندوستان ہمیشہ کے لیے مکمل طَور پر فتح ہو جائے گا۔

(٢) اللہ تعالی اس غزوہ میں حصہ لینے والوں  کے گناہ مُعاف فرما دے گا۔

(٣) غزوۂ ہند میں شرکت کرنے والے لشکر کو مالِ غنیمت وافر مقدار میں حاصل ہوگا،  جس سے وہ بیت المقدس کو مزیّن کریں گے!۔

(٤) وہ لشکر ہندوستان کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر حضرت امام مہدی علیہما السلام کے سامنے پیش کرے گا۔

(٥) جتنا عرصہ اللہ چاہے گا وہ لشکر ہندوستان میں رہے گا، اس کے بعد ملکِ شام میں حضرت سیِّدنا عیسی D سے ملاقات کا شرف حاصل کرے گا۔

(٦) اس غزوہ کے شہداء افضل ترین شہداء میں شمار کیے جائیں گے۔

(٧)  اس  غزوہ کے غازیوں کو جہنم سے خلاصی کی بِشارت ہے۔

(٨)  غزوۂ ہند سے پہلے بیت المقدس فتح ہو جائے گا۔

(9) اس لشکر کو دَجّال اور اس کے گروہ سے لڑنے کی سعادت ہوگی([45])۔

غزوۂ ہند سے متعلق ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ “سیرت کی عام کتابوں میں غزوہ سے مراد وہ جنگ یا جہاد ہے، جس میں حضور نبئ کریم ﷺ نے خود بنفس نفیس شرکت فرمائی ہو،تو پھر  جہادِ ہند کو غزوۂ ہند فرمانے کی کیا وجہ ہے؟” اس کا جواب یہ ہے کہ کتبِ حدیث اور کتبِ سیرت ہی میں “غزوہ” کا اِطلاق بعض اَوقات جہاد کے لیے جانے والے اُن لشکروں پر بھی ہوا ہے، جن میں سروَرِ کونین ﷺ نے خود بنفس نفیس شرکت نہیں فرمائی۔ مثال کے طَور پر “غزوۂ مُؤتہ”([46])  کہ اس میں رسولِ اکرم ﷺ نے شرکت نہیں فرمائی، اس کے باوُجود اسے غزوہ کہا گیا ہے! لہذا  ممکن ہے کہ جہادِ ہند کی ترغیب دینے، اس طرف خصوصی توجہ فرمانے، اور رُوحانی طَور پر اس میں شرکت کے سبب جہادِ ہند کو غزوۂ ہند فرمایا گیا ہو!۔

اس بات کی دلیل یہ ہے کہ “صحیح بخاری” میں “کتاب المغازی” نام سے ایک چیپٹر (Chapter) ہے([47])، امام ابن حجرعسقلانی رحمہُ اللہ علیہ “فتح الباری شرح صحیح البخاری” میں اس کا تعارُف بیان کرتے ہیں کہ “مَغازی” سے مراد یہاں ان لشکروں کی تفصیل ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے قصد وحکم سے کفّار کی طرف بھیجے گئے، چاہے حضور نبئ کریم ﷺ بنفس نفیس اُن لشکروں کے ساتھ تشریف لے گئے ہوں، یا آپ ﷺ  نے کوئی لشکر روانہ فرمایا ہو!”([48])۔

بعض لوگ غزوۂ ہند سے متعلق روایات کو مَن گھڑت قرار دیتے ہیں،  اور سرے سےغزوۂ ہند  کے وُقوع کا انکار کرتے ہیں ، ان حضرات کا  مَوقِف کسی طَور پر درست نہیں؛ کیونکہ ائمۂ محدثین اور اکابر مؤرّخین (Historians) کا اپنی اپنی کتابوں میں غزوۂ ہند سے متعلق روایات نقل کرنا، اور اس بارے میں امام نَسائی کا “سُنن النَسائي”([49]) میں باب باندھنا، اور امام بخاری کے استاذ امام نعَیم بن حمّاد کا اپنی “كتاب الفِتن”([50]) میں غزوۂ ہند سے متعلق روایات جمع کرنا، اس بات پر واضح دلیل ہے کہ  غزوۂ ہند  سے متعلق اَحادیث ہرگز  مَوضوع ( مَن گھڑت) نہیں۔

نیز اُن اکابرِ اُمّت میں سے چند کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:

امام نعَیم بن حمّاد (٢٢٨ھ/  ٨٤٣ء) نے “كتاب الفِتن”([51]) میں، امام احمد بن حنبل (٢٤١ھ/ ٨٥٥ء) نے “مُسند الإمام أحمد”([52]) میں، امام بخاری (٢٥٦ھ/٨٧٠ء) نے “التاريخ الكبير”([53]) میں، امام ابوبکر بن ابى عاصم (٢٨٧ھ/ ٩٠٠ء) نے “كتاب الجهاد”([54]) میں، امام نَسائی (٣٠٣ھ/ ٩١٥ء) نے “سُنن النَسائي”([55]) اور “السُنن الكبرى”([56]) میں، امام طَبرانی (٣٦٠ھ/ ٩٧١ء) نے “المعجم الأوسَط”([57]) میں، امام جُرجانی (٣٦٥ھ/ ٩٧٥ء)نے “الكامل في ضعفاء الرجال”([58]) میں، امام حاکم (٤٠٥ھ/ ١٠١٥ء) نے “المستدرَك”([59]) میں، امام بَیہقی (٤٥٨ھ/ ١٠٦٦ء) نے “السُنن الكبرى”([60]) میں، امام ابن عساکر (٥٧١ھ/ ١١٧٥ء) نے “تاريخ دِمشق”([61]) میں، امام ذَہبی (٧٤٨ھ/ ١٣٤٧ء) نے “تاريخ الإسلام”([62]) میں، امام ابن کثیر (٧٧٤ھ/ ١٣٧٣ء) نے “البداية والنهاية”([63]) میں، اور علّامہ مُناوِی (١٠٣١ھ/١٦٢٢ء) نے “فيض القدير شرح الجامع الصغير”([64]) میں غزوۂ ہند سے متعلق احادیث بیان کی ہیں۔ لہذا ان حدیثوں کو منکِرینِ حدیث کی جانب سے یکسر مَوضوع (مَن گھڑت) قرار دینا کسی طَور پر قابلِ قبول نہیں!۔

غزوۂ ہند کے مِصداق سے متعلق علمائے اُمت کے اقوال میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:

(١) امام ابن کثیر “البداية والنهاية” میں غزوۂ ہند سے متعلق حدیثِ شریف نقل کر کے فرماتے ہیں کہ “مسلمانوں نے 44 ہجری (665ء) میں ہندوستان پر حضرت مُعاویہ رضی اللہ عنہ کے دَورِ خلافت میں حملہ کیا”۔  اس کے بعد امام ابن کثیر نے400 صدی ہجری (1010ء) میں کیے گئےسلطان محمود غزنوی رحمۃُ اللہ علیہ کے حملے کا بھی ذکر کیا، کہ کس طرح انہوں نے میدانِ جنگ میں اپنے جذبۂ اِیمانی کے جوہر دِکھائے،

اور سومنات (مندر) کےبُت کو توڑا”([65])۔

امام ابن کثیر کا غزوۂ ہند سے متعلق حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعد حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ اور سلطان محمود غزنوی رحمۃُ اللہ علیہ کے حملوں کا ذکر کرنا، اس بات پر دلیل ہے کہ وہ ماضی میں مسلم اَفواج کے ہندوستان پر کیے گئے حملوں کوبھی، غزوۂ ہند کا تسلسل سمجھتےہیں!۔

(٢) سلطان محمود غزنوی رحمۃُ اللہ علیہ نے غزوۂ ہند کو اپنی ذات پر لازم کیا ہوا تھا، اسی فریضہ کی ادائیگی کی نیّت سے ہندوستان پر حملہ  آوَر ہوتے اور فتوحات حاصل کرتے رہتے۔  امام ذَہبی نے  تحریر فرمایا کہ “سلطان محمود غزنوی نے اپنے اوپر ہر سال غزوۂ ہند کو لازم کیا ہوا تھا، لہذا اسی مقصد کے پیشِ نظر انہوں نے ہندوستان کا ایک وسیع حصہ فتح کیا، اور معروف بُت کو توڑا جس کا نام “سومنات” تھا “([66])۔ یعنی امام ذَہبی بھی ہندوستان پر مسلم حکمرانوں کی لشکر کشی کو غزوۂ ہند کا تسلسل سمجھتے ہیں!۔

(١) دارالعلوم دیوبند (ہندوستان)  کی رائے ہے کہ یہ غزوہ‏ محمد بن قاسم کے دَور سن 711ء سے 713ء کے درمیان ہو چکا([67])۔

(٢) غامدی صاحب حدیثِ رسول کا صریح انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں، کہ “اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے، کہ یہ بات (غزوۂ ہند کے بارے میں) آپ ﷺ نے فرمائی ہے، تو یہ غزوہ ہو چکا”([68])۔

(٣) اس بارے میں ایک مَوقِف یہ بھی ہے کہ آج تک اہلِ اسلام کی، مشرکینِ ہند سے جتنی بھی جنگیں ہوئیں، وہ سب حضور نبئ کریم ﷺ کی  بِشارت میں داخل ہیں، اور غزوۂ ہند کی تکمیل حضرت امام مَہدی علیہمُ السَّلام کے زمانے میں ہوگی([69])۔

الغرض  غزوۂ ہند کے مختلف مصداق بیان کیے گئے ہیں، لیکن اس بارے میں راجح (بااعتماد) قول یہ ہے کہ  غزوۂ ہند سے متعلق احادیثِ مبارکہ کا مکمل مِصداق ابھی پیش نہیں آیا، بلکہ امام مَہدی علیہمُ السَّلام کے ظُہور کے بعد، اور حضرت سیِّدنا عیسی D کے آسمان سے نُزول سے پہلے، غزوۂ ہند کا بڑا اور طویل  معرکہ ہوگا،لیکن بالآخر اللہ تعالی مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائے گا، اور مالِ غنیمت کے طَور پر خوب مال ودَولت بھی عطا ہوگا۔

اس بات کی ایک دلیل حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث([70]) ہے جو گزشتہ صفحات میں گزری، اس حدیثِ پاک میں حضرت سیِّدنا عیسی D کے ساتھ مل کر جنگ کرنے والی، اور سیِّدنا امام مَہدی علیہمُ السَّلام کے ساتھ مل کر غزوۂ ہند میں شرکت کرنے والی جماعت کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ نیز  ملکِ شام میں “ملحمۂ کبریٰ” (World War) اور برِصغیر میں غزوۂ ہند، ان دونوں جنگوں میں قدرِ مشترک یہ ہے، کہ اس کے بعد خلافتِ اِلٰہیہ عالَمیہ قائم ہوگی،  جو اِن دونوں جنگوں میں کامیابی کا نتیجہ ہوگی، ان شاء اللہ!”۔

واضح رہے کہ  یہاں”ملحمۂ کبریٰ” سے مراد وہ جنگِ عظیم  ہے جو دَجّال کے خُروج سے پہلے ہوگی، اُس وقت قسطنطینیہ (استنبول) جو مسلمانو ں کے ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا، جیسا کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «المَلْحَمةُ العُظْمَى، وَفَتْحُ القُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَخُروجُ الدَّجّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ!»([71]) “جنگِ عظیم، فتحِ قسطنطینیہ اور خُروجِ دجّال ،سات مہینوں کے اندر یہ سب کچھ ہو جائے گا!”۔

غزوۂ ہند کب ہوگا؟ اس بارے میں احادیثِ مبارکہ سے جو رہنمائی ملتی ہےاس کا خلاصہ یہ ہے، کہ یہ جنگ قُربِ قیامت میں ہوگی؛ کیونکہ جس وقت یہ جنگ ختم ہوگی اُس وقت حضرت سیِّدنا عیسی D کا نُزول ہو چکا ہوگا، اور حضرت امام مَہدی علیہمُ السَّلام بھی مَوجود ہوں گے، نیز قسطنطینیہ (Constantinople) اور فلسطین (Palestine)  کی فتح کے بعد دَجّال کا خُروج بھی ہو چکا ہوگا([72])۔

غزوۂ ہند میں امام مہدی علیہمُ السَّلام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے؛ کیونکہ غزوۂ ہند کے سلسلے میں جب اسلامی لشکر بیت المقدس سے ہندوستان پر حملہ آوَر ہوگا([73])، اُس وقت ارضِ حجاز اوربیت المقدس ( فلسطین) پر امام مَہدی علیہمُ السَّلام کی حکومت ہوگی،  نیز آپ شہروں کے شہر فتح کر رہے ہوں گے! لہذا اس بارے میں چند احادیثِ مبارکہ حسبِ ذیل ہیں:

(١) سیِّدنا امام مہدی علیہمُ السَّلام  کا تعلق اہلِ بیت کرام سے ہوگا، حضرت سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت  ﷺ نے  فرمایا: «الْمَهْدِيُّ مِنِّي، أَجْلَى الْجَبْهةِ، أَقْنَى الْأَنْفِ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَما مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ»([74]) “مہدی مجھ سے ہیں (یعنی میری اَولاد میں سے ہیں) رَوشن پیشانی اور خو بصورت بلند نا ک والے، زمین کو عدل وانصاف سے ایسا بھر دیں گے جیسے پہلے وہ ظلم وستم سے بھر چکی تھی، اور وہ  سات سال تک حکومت کریں گے!۔

اللہ تعالی امام مہدی علیہمُ السَّلام  کو بادشاہت عطا فرمائے گا، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لاَ تَذْهبُ الدُنْيا حَتى يَمْلِكَ العرَبَ رَجلٌ مِنْ أَهْل بَيْتي يُواطِئُ اسْمهُ اسْمِي»([75]) “دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے، اس کا نام میرے نام  کے مطابق (محمد بن عبد اللہ) ہوگا”۔

(٣) سیِّدنا امام مَہدی علیہمُ السَّلام کے مددگاروں کا تعلق مشرق سے ہوگا۔ حضرت سیِّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «يَقْتَتِلُ عنْدَ كَنْزِكمْ ثلاثةٌ، كلُّهمُ ابْنُ خليفةَ، ثُمَّ لا يصيرُ إِلَى وَاحدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَطْلُعُ الرّاياتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ المَشْرِقِ فيُقاتِلونَكُمْ قِتالًا لَمْ يُقاتِلْهُ قَوْمٌ» -ثُمّ ذكر شَيْئًا فَقالَ-: «إِذَا رَأَيْتُموهُ فَبَايِعوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفةُ اللهِ المَهْدِيُّ»([76]) “تمہارے (بیت اللہ کے)

خزانے([77]) کے حُصول کی خاطر تین لوگ جنگ کریں گے، تینوں خلیفہ (بادشاہِ وقت) کے بیٹے ہوں گے، لیکن یہ  خزانہ اُن میں سے کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا، پھر مشرق سے کالے جھنڈے ظاہر ہوں گے، وہ تم سے ایسے جنگ کریں گے کہ کسی قوم نے ایسی جنگ نہیں کی ہوگی!”۔ راوی کا بیان ہے کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے کچھ بیان کیا اور پھر فرمایا کہ “جب تم ان کو دیکھو تو اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لینا، اگرچہ تمہیں برف پر گھسٹتے ہوئے جانا پڑے؛ کیونکہ وہ اللہ تعالی کا خلیفہ مَہدی ہے!”۔

 (٤) امام مہدی علیہمُ السَّلام مشرکین کے شہر فتح  کریں گے، حضرت سیِّدنا ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمت کونین ﷺ نے  فرمایا: «يَسْتَخْرِجُ الْكُنوزَ، وَيَفْتحُ مَدائِنَ الشِرْكِ»([78]) “وہ (مہدی) زمین سے خزانوں کو نکالے گا، اور مشرکین کے شہروں  (ہندوستان وغیرہ) کو فتح کر ے گا!”۔

(٥) حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «یَخْرجُ مِنْ خُراسانَ رَاياتٌ سُودٌ لاَ يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِياءَ»([79]) “خُراسان سے سیاہ جھنڈے برآمد ہوں گے، انہیں کوئی طاقت پھیر نہیں سکے گی، یہاں تک کہ وہ اِیلیاء (بیت المقدس) میں نصب کر دیے جائیں گے!”۔

بیت المقدس اِس وقت یہود کے قبضے میں ہے، مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس غزوۂ ہند سے پہلے آزاد ہوگا، اور پھر وہاں سے ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا جائے گا، لشکر کی روانگی کا یہ عمل حضرت امام مہدی علیہمُ السَّلام کے ذریعے انجام پائے گا، اور جب وہ لشکر فتح یاب ہو کر واپس لَوٹے گا، تو ملکِ شام میں حضرت سیِّدنا عیسی D کا نُزول ہو چکا ہوگا!۔

غزوۂ ہند سے متعلق احادیثِ نبویہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے، کہ جب تک بیت المقدس فتح نہیں ہو گا اُس وقت تک مشرقِ وسطی (Middle East) میں جنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اور یہود وہنود کی طرف سے مسلمانوں پر ہونے والے مَظالم بھی بڑھتے چلے جائیں گے، اسلام دشمنی میں آج یہود وہنود ایک ہو چکے ہیں، ایک طرف اسرائیل (Israel) فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی (Genocide) کر رہا ہے، دوسری طرف مشرکینِ ہند نے ہندوستان کے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ لہذا عالَمِ اسلام کی اَفواج، اور  بالخصوص اَفواجِ پاکستان (Pakistan Army) کو چاہیے کہ غزوۂ ہند سے متعلق حدیثوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، اپنی دفاعی اور اِقدامی پالیسی کو اَز سرِ نَو مرتَّب کریں!!!

نیز یہ کہ مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں “خُراسان” کا ذکر ہے، اصل میں یہ لفظ “خور+ آسان” یعنی مشرق ہے۔ قدیم زمانے میں لفظ خُراسان کا اِطلاق افغانستان اور ایران کے بعض علاقوں پر ہوا کرتا([80])۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس خطے کے مجاہدین بھی امام مہدی علیہمُ السَّلام کے لشکر کا حصہ ہوں گے، اور یہی وہ لشکر ِ امام مہدی ہوگا جو بعد میں بیت المقدس (فلسطین) سے ہندوستان پر حملہ آوَر ہوکر  غزوۂ ہند میں شریک ہوگا! لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی نَوجوان نسل کو غزوۂ ہند کی اہمیت سے آگاہ کریں، انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دیں؛ تاکہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی جا سکے، اور اپنے مسلمان بھائیوں پر قہر ڈھانے والے ہنود ویہود کا سدِ باب کیا جا سکے!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) دیکھیے: “منکرینِ حدیث کے شُبہات اور اُن کا ردّ” چند مشہور منکرینِ حدیث،؃ 28، ملخصا ً۔

([2]) “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، غزوة الهند، ١/٤٠٩.

([3]) “سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، الجزء 6، صـ42.

([4]) دیکھیے: “کیا ہے غزوۂ ہند کی حقیقت” اَز ڈاکٹر حفیظ الرحمن، ملخصاً۔  

([5]) “سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، ر: ٣١٧٠، الجزء 6، صـ43. و”السنن الكبرى” للنَسائي، كتاب الجهاد، غزوة الهند، ر: ٤٣٦٧، ٤/ ٣٠٢. و”السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب السِير، باب ما جاء في قتال الهند، 9/176.

([6]) انظر: “الجرح والتعديل” للرازي، تحت ر: ١٠٥ – أحمد بن عثمان بن حكيم، ٢/٦٣. و”تهذيب الكمال” باب الألف، تحت ر: 77 – أحمد بن عثمان بن حكيم بن ذبيان الأودِي، ١/204. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب الألف، تحت ر: ١٢١٦٢- أحمد بن عثمان بن حكيم الأودي، ٨/٤٢.

([7]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب الزاي، تحت ر: ٤٦١ – زكريا بن عدي، صـ ١٦٥. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب الزاي، تحت ر: ١٣٢٩٢- زكريا بن عدي أبو يحيى الكُوفي، ٨/٢٥٣.

([8]) انظر: “تهذيب الكمال” باب الزاي، تحت ر: ١٩٧٧ – زكريا بن عدي بن رزيق، 6/314.

([9]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب العين، تحت ر: ١٠٦٧ – عبيد الله بن عَمرو، صـ٣١٩. و”الجرح والتعديل” للرازي، تحت ر: ١٥٥١ – عبيد الله بن عَمرو الرَقّي، ٥/٣٢٩.

([10]) انظر: “تاريخ ابن مَعين” تحت ر: ٥٠٣٤ – سمعت يحيى يقول …إلخ، ٤/٤١١. و”الثِقات” للعجلي، باب الزاي، تحت ر: ٤٨٢ – زيد بن أبي أنيسة، صـ١٧٠. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب الزاي، تحت ر: ٧٨٨٨ – زيد بن أبي أنيسة الجزري، ٦/٣١٥.

([11]) انظر: “تهذيب الكمال” باب الزاي، تحت ر: 2071 – زيد بن أبي أنيسة، 6/430.

([12]) انظر: “تهذيب الكمال في أسماء الرجال” باب السين، تحت ر: ٢٦53 – سیّار، أبو الحكم العنزي الواسطي، 8/243. وقال الذهبي: “عن أبي هريرة بخبر منكَر لا يعرف مَن ذا. وحديثه: وعدنا بغزوة الهند”. ]انظر: “ميزان الاعتدال” للذهبي، تحت ر: ١٤٣٦ – جبر أو جبَير بن عبيدة، ١/٣٨٨[. وقال ابن حجر: “قرأتُ بخط الذَهبي: “لا يعرف مَن ذا، والخبرُ منكَر” انتهى. وذكره ابنُ حِبّان في الثِقات”. ]انظر: “تهذيب التهذيب” حرف الجيم، من اسمه جبر وجبريل، تحت ر: 933 – جبر بن عُبيدة، ٢/25[

([13]) انظر: “الثِقات” لابن حِبّان، باب الجيم، تحت ر: ٢٠٧٦ – جبر بن عبيدة، ٤/١١٧.

([14]) “مُسند الإمام أحمد” مُسند أبي هريرة، ر: ٨٨31، 3/301.

([15]) انظر: “مُسند الإمام أحمد” مُسند أبي هريرة، ر: ٨٨31، 3/301. و”البداية والنهاية” لابن كثير، الأخبار عن غزوة الهند، ٦/٢٤٩.

([16]) انظر: “تهذيب الكمال” باب الياء، تحت ر: 7375 – يحيى بن إسحاق البجلي،  20/12. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف الياء، تحت ر: ٧٤٩٩ – يحيى بن إسحاق السيلحيني، صـ٥17.

([17]) انظر: “تهذيب التهذيب” للعسقلاني، حرف الباء، تحت ر: 692- البراء بن عبد الله بن يزيد الغنوي، ١/445. و”ميزان الاعتدال في نقد الرجال” للذَهبي، حرف الباء، تحت ر: ١١٤٠ – البراء بن عبد الله بن يزيد الغنوي البصري، ١/٣٠١.

([18]) انظر: “تهذيب التهذيب” للعسقلاني، حرف الباء، تحت ر: 692- البراء بن عبد الله بن يزيد الغنوي، ١/445، 446.

([19]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب الحسن، تحت ر: ٢٧٥ – الحسن بن أبي الحسن، صـ113. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب الحاء ، تحت ر: ٢١٠٢ – الحسن بن أبي الحسن أبو سعيد البصري، ٤/١٢٢. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف الحاء، تحت ر: ١٢٢٧ – الحسن بن أبي الحسن البصري، صـ99.

([20]) انظر: “مُسند الإمام أحمد” مُسند الأنصار، ومن حديث ثوبان h, ر: ٢٢459، 8/327. و”سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، ر: ٣١٧2، الجزء 6، صـ43. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الأوسط” وسقطَ تابعيه، والظاهر أنّه راشد بن سعد، وبقية رجاله ثِقات”. ]انظر: “مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الجهاد، باب غزو الهند، تحت ر: ٩٤٥٣، ٥/366[

([21]) “التاريخ الكبير” للبخاري، تحت ر: ١٧٤٧ – عبد الأعلى بن عدي البهراني قاضي حمص عن ثوبان، ٦/٧٣.

([22]) “كتاب الجهاد” لابن أبي عاصم، فضل غزو البحر، ر: ٢٨٨، ٢/٦٦٥.

([23]) “السُنن الكبرى” للنَسائي، كتاب الجهاد، غزوة الهند، ر: ٤٣٦٩، 4/٣٠٣.

([24]) “المعجم الأوسط” باب الميم، من اسمه: محمد، ر: ٦٧٤١، 5/107. وقال الطَبَراني: “لا يُروى هذا الحديثُ عن ثوبان إلّا بهذا الإسناد تفردَ به الزَبيدي”.

([25]) “الكامل في ضعفاء الرجال” تحت ر: ٣٥١ – الجرّاح بن مليح البهراني الحمصي، ٢/٤٠٨.

([26]) “السُنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب السِير، باب ما جاء في قتال الهند، ٩/176، 177.

([27]) “تاريخ دِمشق” لابن عساكر، حرف الميم، تحت ر: ٦١٩٢ – محمد بن حامد بن عبد الله، ٥٢/٢٤8.

([28]) “فيض القدير شرح الجامع الصغير” حرف العين، ر: 5436، ٤/٣١٧.

([29]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب الهاء، تحت ر: ١٧١٤ – هاشم بن القاسم، صـ٤٥٤. و”تهذيب الكمال” حرف الهاء، تحت ر: 7134 – هاشم بن القاسم، 19/216. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف الهاء، تحت ر: ٧٢٥٦ – هاشم بن القاسم، صـ501.

([30]) انظر: “الكاشف” للذَهبي، حرف الباء، تحت ر: ٦١٩ – بقية بن الوليد، ١/٢٧٣.

([31]) انظر: “الثِقات” لابن حِبّان، باب العين، تحت ر: ٨٨٩٤ – عبد الله بن سالم، ٧/٣٦. و”تهذيب الكمال” حرف العين، تحت ر: ٣٢٨٥ – عبد الله بن سالم الأشعري، 10/160. و”الكاشف” للذَهبي، حرف العين، تحت ر: ٢٧٣٦ – عبد الله بن سالم الأشعري، ١/٥٥٥. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف العين، تحت ر: ٣٣٣٥ – عبد الله بن سالم الأشعري، صـ247.

([32]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب الميم، تحت ر: ١٥١٢ – محمد بن الوليد الزَبيدي، صـ٤١٥. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب اللام، تحت ر: ١٠٤٩٧ – محمد بن الوليد بن عامر، ٧/٣٧٣. و”تهذيب الكمال في أسماء الرجال” حرف الميم، تحت ر: 6263 – محمد بن الوليد بن عامر الزَبيدي، 17/308.

([33]) انظر: “الثِقات” للعجلي، باب اللام، تحت ر: ١٤٢٩ – لقمان بن عامر، صـ٣٩٩. و”الثِقات” لابن حِبّان، باب اللام، تحت ر: ٥١٥٠ – لقمان بن عامر، ٥/345. و”ميزان الاعتدال” للذَهبي، حرف اللام، تحت ر: ٦٩٨٦ – لقمان بن عامر، ٣/٤١٩. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف اللام، تحت ر: ٥٦٧٩ – لقمان بن عامر، صـ400.

([34]) انظر: “الثِقات” لابن حِبّان، باب العين، ر: ٤١٩٠ – عبد الأعلى بن عدي البهراني، ٥/١٢٩. و”مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار” لابن حِبّان، ر: ٨٩٤ – عبد الاعلى بن عدي البهراني، صـ١٨٨. و”الكاشف” للذَهبي، حرف العين، تحت ر: ٣٠٧٩ – عبد الأعلى بن عدي البهراني، ١/٦١١. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف العين، تحت ر: ٣٧٣٥ – عبد الأعلى بن عدي البهراني، صـ274. و”خلاصة تذهيب تهذيب الكمال” حرف العين المهلمة، من اسمه: عبد الأعلى، تحت ر: 3953، 2/139.

([35]) انظر: “صحيح الجامع الصغير وزياداته” للألباني، حرف العين، ر: ٤٠١٢، ٢/ ٧٤٢.

([36]) “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، غزوة الهند، ر: ١٢٣٦، ١/٤٠٩.

([37]) انظر: “تهذيب الكمال” حرف الصاد، تحت ر: ٢٨71 – صفوان بن عَمرو بن هرم، 9/121. و”الكاشف” للذَهبي، حرف الصاد، تحت ر: ٢٤٠٢ – صفوان بن عَمرو، ١/504. و”تقريب التهذيب” للعسقلاني، حرف الصاد، تحت ر: ٢٩٣٨ – صفوان بن عَمرو بن هرم، صـ 218.

([38]) انظر: “مُسند الإمام أحمد” مُسند أبي هريرة، ر: ٧١31، 3/5. و”مُستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر أبي هريرة الدَوسي ، ر: ٦١٧٧، 6/2225.

([39]) انظر: “كتاب الجهاد” لابن أبي عاصم، فضل غزو البحر، ر: ٢٩١، ٢/٦٦٨.

([40]) “تاريخ بغداد” تحت ر: ٥٢90 – عبد الله بن محمد بن أحمد بن محمد بن أحمد …إلخ، 8/199.

([41]) “عِلل الحديث” لابن أبي حاتم، ر: ٩٩٣، ٣/440، 441.

([42]) “التاريخ الكبير” تحت ر: ٢٣٣٣ – جبر بن عبيدة، ٢/٢٤٣.

([43]) “تهذيب التهذيب” تحت ر: 933 – جبر بن عُبيدة، 2/25.

([44]) “مُسند إسحاق بن راهْوَيه” ما يُروى عن محمد بن قيس وغيره عن أبي هريرة، ر: ٥٣٧، ١/٤٦٢.

([45]) انظر: “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، غزوة الهند، ر: ١٢٣٦، ١/٤٠٩. و”سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، الجزء 6، صـ43. و”غزوۂ ہند” از ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی، امام مَہدی کے ساتھ غزوۂ ہند کرنے والوں کے لیے9  بِشارتیں،؃ 76، 77، ملخصا ً۔

([46]) انظر: “صحيح البخاري” كتاب المغازي، باب غزوة مُؤتة من أرض الشام، صـ ٧٢١. و”المغازي” للواقدي، غزوة مُؤتة، ٢/٧٥٥. و”دلائل النبوّة” لأبي نعَيم، الفصل 25، ذكر ما جرى من الدلائل في غزوة مؤتة، صـ٥٢٨.

([47]) انظر: “صحيح البخاري” كتاب المغازي، صـ ٦٦٧.

([48]) انظر: “فتح الباري شرح صحيح البخاري” كتاب المغازي، ٧/320، ملخصاً.

([49]) “سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، الجزء 6، صـ42.

([50]) “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، غزوة الهند، ١/٤٠٩.

([51]) المرجع نفسه.

([52]) “مُسند الإمام أحمد” مُسند الأنصار، ومن حديث ثوبان h, ر: ٢٢459، 8/327.

([53]) “التاريخ الكبير” للبخاري، تحت ر: ١٧٤٧ – عبد الأعلى بن عدي البهراني قاضي حمص عن ثوبان، ٦/٧٣.

([54]) “كتاب الجهاد” لابن أبي عاصم، فضل غزو البحر، ر: ٢٨٨، ٢/٦٦٥.

([55]) “سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، الجزء 6، صـ43.

([56]) “السُنن الكبرى” للنَسائي، كتاب الجهاد، غزوة الهند، ر: ٤٣٦٩، 4/٣٠٣.

([57]) “المعجم الأوسط” باب الميم، من اسمه: محمد، ر: ٦٧٤١، 5/107. وقال الطَبَراني: “لا يُروى هذا الحديثُ عن ثوبان إلّا بهذا الإسناد تفردَ به الزَبيدي”.

([58]) “الكامل في ضعفاء الرجال” تحت ر: ٣٥١ – الجرّاح بن مليح البهراني الحمصي، ٢/٤٠٨.

([59]) “مُستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر أبي هريرة الدَوسي ، ر: ٦١٧٧، 6/2225.

([60]) “السُنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب السِير، باب ما جاء في قتال الهند، ٩/176، 177.

([61]) “تاريخ دِمشق” لابن عساكر، حرف الميم، تحت ر: ٦١٩٢ – محمد بن حامد بن عبد الله، ٥٢/٢٤8.

([62]) “تاريخ الإسلام” للذَهبي، ١/٧١٢.

([63]) “البداية والنهاية” لابن كثير، الأخبار عن غزوة الهند، ٦/٢٤٩.

([64]) “فيض القدير شرح الجامع الصغير” حرف العين، ر: 5436، ٤/٣١٧.

([65]) “البداية والنهاية” لابن كثير، الأخبار عن غزوة الهند، ٦/٢٤٩، ملخّصاً.

([66]) “تاريخ الإسلام” للذَهبي، الطبقة: ٤٣، تحت ر: ٥٠ – محمود بن سبكتكين،  ٩/٣٦٩، ملخصّاً.

([67]) دیکھیے: “دار الافتاء دیوبند ” حدیث وسنّت، فتوی : 9604، آن لائن ایڈیشن۔

([68])   https://www.youtube.com/@GhamidiCIL.

([69]) دیکھیے: “جب ہندوستان فتح ہوگا”  سندھ کی خرابی ہند سے،  ہند کی چین سے ،؃ 45، ملخصا ً۔

([70]) انظر: “مُسند الإمام أحمد” مُسند الأنصار، ومن حديث ثوبان h, ر: ٢٢459، 8/327. و”سنن النَسائي” كتاب الجهاد، باب غزوة الهند، ر: ٣١٧2، الجزء 6، صـ43. وقال الهيثمي: “رواه الطَبَراني في “الأوسط” وسقطَ تابعيه، والظاهر أنّه راشد بن سعد، وبقية رجاله ثِقات”. ]انظر: “مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الجهاد، باب غزو الهند، تحت ر: ٩٤٥٣، ٥/366[

([71]) “سنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب ما جاء في علامات خروج الدَجَّال، ر: ٢٢٣٨، صـ٥١٣.

([72]) دیکھیے: “جب ہندوستان فتح ہوگا” غزوۂ ہند… احادیثِ مبارکہ کی رَوشنی میں،؃ 16، ملخصا ً۔

([73]) انظر: “كتاب الفِتن” لنعَيم بن حمّاد، ما يكون بعد المهدي، ر: ١٢١٥، ١/٤٠٢.

([74]) انظر: “سُنن أبي داود” كتاب المهدي، ر: ٤٢٨٥، صـ٦٠١، ٦٠٢. و”مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، ر: ٨٦٧٠، 8/3099. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط مسلم ولم يخرجاه”. وقال الذَهبي: “عمران ضعيفٌ ولم يخرج له مسلمٌ”.

[75])) “سنن الترمذي” کتاب الفِتن، باب ماجاء في المهدي، ر: ٢٢٣٠، صـ٥١٢. وقال الترمذي: “وفي الباب عن علي وأبي سعيد وأمّ سلَمة وأبي هريرة. وهذا حديثٌ حسنٌ صحيح”.

[76])) “مُستدرَك الحاكم” کتاب الفِتن والملاحِم، ر: ٨٤٣٢، 8/2996. وقال الحاكم: “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخَين”. وقال الذَهبي: “على شرط البخاري ومسلم”.

[77])) انظر: “البداية والنهاية” لابن كثير، كتاب الفتن والملاحم، فصل في ذكر المهدي الذي يكون في آخر الزمان، 19/62، ملخصاً.

([78]) “المعجم الكبير” للطَبَراني، باب الصاد، سليمان بن حبيب المحاربي …إلخ، ر: ٧٤٩٥، ٨/١٠2. قال الهيثمي: “رواه الطَبَراني وفيه عنبسة بن أبي صغيرة وهو ضعيف”. ]انظر: “مجمع الزوائد” كتاب الفِتن، باب ما جاء في الملاحم، تحت ر: ١٢٤١٩، ٧/438[

[79])) “سُنن الترمذي” أبواب الفِتن، باب [في العمل في الفِتن] …إلخ، ر: ٢٢٦٩، صـ٥٢١. وقال الترمذي: “هذا حديثٌ غريب”.

([80]) دیکھیے: “وکی پیڈیا” آزاد دائرۃ المعارف۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *