
Table of contents
- دَجَّال کی وجہِ تسمیہ
- دجّال کا حُلیہ
- دجّال کا موجودہ ٹھکانہ
- خروج ِدجّال کب ہوگا؟
- جنگِ عظیم اور خروجِ دجّال
- خروجِ دجّال سے قبل دنیا کی حالتِ زار
- دجّال کے خروج کا مقام
- فتنۂ دجّال سے آگاہی اور اُس کی علامات
- زمانۂ دجّال میں غذائی قلّت کا سامنا
- دجّال کی مدّتِ اِقامت اور اس کے اختیارات
- دجّال کے اوّلین پیروکار
- مدینہ منوّرہ میں تین3 زلزلے
- فتنۂ دجّال سے بچاؤ کے طریقے
- دجّال کے فتنے سے بچنے کے لیےسورۂ کہف کی آیات
- سورۂ کہف کی ابتدائی دس10 آیات کی فضیلت
- سورۂ کہف کی آخری دس10 آیات
- دجّال سے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا پڑاؤ
- دَجّال کا خاتمہ
- دجّال کا ذکر قرآنِ مجید میں نہ ہونے کی وجہ
- فتنۂ دجّال سے پناہ کی دعا
- دعا
دَجَّال کی وجہِ تسمیہ
برادرانِ اسلام! لغت کے اعتبار سے دَجَّال کا مادّہ دَجل ہے، جس کا معنی ہے: شیطانی چالوں سے دوسروں کو دھوکے میں ڈالنا، حقیقت کو چھپانا، جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا ہے۔ چونکہ دجَّال میں یہ سب عُیوب موجودہیں، لہٰذا اسے دَجَّال کہتے ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں دَجَّال سے مراد وہ جھوٹا مسیح([1]) ہے، جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اور آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اور خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔
حضراتِ محترم! واضح رہے کہ دجّال کے نام کے ساتھ لفظِ “مسیح” بمعنی اسمِ مفعول ہے، یعنی ممسوح العین، “ایک آنکھ کا کانا”، جبکہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روح اللہ رضی اللہ عنہ کا لقب مسیح بمعنی اسمِ فاعل ہے، یعنی برکت کے لیے چھُونے والے، اور چُھو کر مُردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کرنے والے، لہٰذا باہم کوئی تعارُض نہیں([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :عقیدۂ آخرت
دجّال کا حُلیہ
حضراتِ گرامی قدر! دَجَّال ایک نوجوان کافر مرد ہے، پستہ قد اور عظیم الجثّہ (یعنی بہت موٹا) سرخ رنگت کا مالک، ایک آنکھ سے کانا اور گھنگریالے بالوں والا ہے([3])۔
حضرت سیِّدُنا عُبادہ بن صامِترضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، مصطفیٰ جان رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ، عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ، جَعْدٌ أَعْوَرُ، مَطْمُوسُ الْعَيْنِ، لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْرَاءَ، فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ، فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ!»([4]) “میں نے تمہیں دجّال سے متعلق اتنی باتیں بتا دی ہیں، کہ تمہاری عقل میں نہ سمانے کا خدشہ لاحق ہونے لگا ہے۔ یقیناً دجّال پست قامت، ٹیڑھے پاؤں والا، گھنگھریالے بالوں والا، ایک آنکھ کا سپاٹ ہے، وہ آنکھ نہ اُبھری ہوئی ہے، اور نہ دھنسی ہوگی، اگر تم پر اشتباہ ہو، تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے” (جبکہ دجّال کانا ہے!)۔
ایک اَور مقام پر حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الله لاَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ، إِنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ -وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ- وَإِنَّ المَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَة»([5]) “اللہ تعالیٰ تم سے چُھپا ہوا نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کانا نہیں، اور مسیح دجّال داہنی آنکھ سے کانا ہے، اس کی آنکھ گویا اُبھرے ہوئے انگور کی مانند ہے”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ، اس حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “اے لوگو! دجّال کے حیرت انگیز کرشمے دیکھ کر، اسے خدا نہ سمجھ لینا، اس کے بندہ ہونے کی دلیل، اس کی اپنی کانی آنکھ ہے، وہ اپنے آپ کو شفا نہ دے سکے گا۔ دجّال کی داہنی آنکھ کانی بھی ہوگی، اور اوپر کو انگور کی طرح اُبھری ہوئی بھی، جو ہر شخص کو نظر آئے گی، وہ اپنے اس عیب کو دُور نہ کرسکے گا”([6])۔
حضراتِ ذی وقار! مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارُض معلوم ہوتا ہے؛ کہ ایک روایت کے مطابق “دجّال کی آنکھ بالکل سپاٹ ہوگی” (یعنی نہ اُبھری ہوئی، نہ دھنسی ہوئی)، جبکہ دوسری روایت میں “انگور کی طرح اُبھرى ہوئی” فرمایا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ “مرقاۃ المفاتیح” کے حوالے سے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں فرماتے ہیں کہ “دجّال کی ایک آنکھ تو ہوگی ہی نہیں، وہ حصّہ سر کے پیچھے کی طرح صاف ہوگا، دوسری آنکھ کانی ہوگی، ابھرے ہوئے انگور کی طرح۔ یا اس کی ایک آنکھ کبھی صاف سپاٹ ہوگی، اور کبھی اُبھرا ہوا انگور۔ یا کسی کو وہ آنکھ سپاٹ نظر آئے گی، اور کسی کو اُبھرا ہوا انگور۔ لہٰذا یہ حدیث گزشتہ حدیثوں کے خلاف نہیں، جن میں اس کی آنکھ کو ابھرے ہوئے انگور کی مانند فرمایا گیا ہے”([7])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد
دجّال کا موجودہ ٹھکانہ
عزیزانِ مَن! ایک بار حضورِ اکرم ﷺ نے اپنے پیارے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کو، نماز کے بعد اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہنے کا حکم دیا، اور پھر ارشاد فرمایا: «أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» “کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟” صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں!۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «إِنِّي، وَاللهِ! مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ؛ لِأَنَّ تَمِيماً الدَّارِيَّ، كَانَ رَجُلاً نَصْرَانِيّاً، فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثاً وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ، حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلاً مِنْ لَخْمٍ وَجذَامَ، فَلَعِبَ بِهِمِ المَوْجُ شَهْراً فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ أَرْفَؤُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حىنَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ؛ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ! انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَا سَمَّتْ لَنَا رَجُلاً فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعاً، حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقاً، وَأَشَدُّهُ وثَاقاً، مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ، قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي، فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ».
“میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا ڈرانے کے لیے جمع نہیں کیا، بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے، کہ (تمہیں یہ واقعہ سناؤں کہ) تمیم داری ایک نصرانی شخص تھے، وہ میرے پاس آئے، اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے، اور مجھے ایک بات بتائی، جو اس خبر کے مطابق ہے، جو میں تمہیں دجّال کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوں، چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس30 آدمیوں کے ہمراہ، ایک بحری جہاز میں سوار ہوئے، انہیں ایک مہینے تک سمندر کی موجیں (طوفان کے سبب) دھکیلتی رہیں، پھر ایک دن غروبِ آفتاب کے وقت سمندر میں ایک جزیرے کے قریب پہنچے، پھر وہ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر جزیرے تک گئے، تو وہاں انہیں ایک عجیب سی مخلوق ملی، جو موٹے اور گھنے بالوں والی تھی، بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کے اگلے اور پچھلے حصے کو وہ پہچان نہیں سکے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ خانہ خراب! تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ میں جسّاسہ (جاسوسہ) ہوں، ہم نے کہا کہ جسّاسہ کیاہے؟ اس نے کہا کہ تم لوگ اندر گرجے میں اس شخص کے پاس چلو، جو تمہاری خبر کے بارے میں بہت بے چین ہے، جب اس نے ہمارا نام لیا تو ہم گھبرائے، کہ کہیں وہ شخص شیطان نہ ہو، ہم جلدی جلدی گرجے تک پہنچے، وہاں اندر ایک بہت بھاری بھرکم آدمی تھا، ہم نے اتنی بڑی جسامت والا (یعنی پستہ قامت اور بہت موٹا) اور ایسا مضبوط بندھا ہوا انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس کے ہاتھ کندھوں تک، اور گھٹنے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، ہم نے پوچھا: کم بخت! تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ جب تم نے مجھے پا لیا ہے، اور تمہیں معلوم ہوگیا ہے، تو تم مجھے بتاؤ کہ تم لوگ کون ہو؟ ہم نے کہا کہ ہم عرب کے لوگ ہیں” (اس کے بعد سیِّدنا تمیم داری نے اپنے بحری سفر، طوفان، جزیرہ میں داخل ہونے اور جسّاسہ سے ملنے کی تفصیل دُہرائی):
اس نے پوچھا: «أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ! قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ! قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةِ! قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: هِيَ كَثِيرَةُ الْماءِ، قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ! -قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ! قَالُوا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، هِيَ كَثِيرَةُ المَاءِ، وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قَالُوا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ- قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ -قال-: قَالَ لَهُمْ: قَدْ كَانَ ذَاكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ.
قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ! وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي، إِنِّي أَنَا الْمسِيحُ الدجّالُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجُ فَأَسِيرُ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً، أَوْ وَاحِداً مِنْهُمَا، اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتاً، يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا».
“کیا بیسان (اردن کا ایک شہر، جو اسرائیل کے قبضے میں ہے) کی کجھوروں کے درختوں پر پھل آتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا کہ وہ زمانہ قریب ہے، جب ان درختوں پر پھل نہیں آئیں گے! پھر اس نے بحیرۂ طَبریہ (اسرائیل کے شمال مشرق میں اردن کی سرحد کے قرب) میں پانی سے متعلق پوچھا؟ ہم نے کہا کہ اس میں بہت پانی ہے، اس نے کہا کہ عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائےگا! پھر اس نے زُغَر کے چشمہ کا حال دریافت کیا (جو اسرائیل کی مشرقی سمت میں واقع ہے) کہ اس چشمے میں پانی ہے؟ اور کیا اس کے قریب کے لوگ ا س پانی سے کاشتکاری کرتے ہیں؟ ہم نےکہا: ہاں، پھر اس نے پوچھا کہ ناخواندہ لوگوں کے نبی کے بارے میں بتاؤ! کہ اس نے کیا کیا؟ ہم نے کہا کہ وہ مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ منوّرہ تشریف لے گئے ہیں، اس نے پوچھا کہ کیا عربوں نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے پوچھا: انہوں نے عربوں سے کیا مُعاملہ کیا؟ ہم نے اسے تمام واقعات بتائے، کہ جو لوگ عربوں میں عزیز تھے، اُن پر حضور اکرم ﷺ نے غلبہ حاصل کرلیا، اور انہوں نے حضور کی اطاعت قبول کرلی! اس نے کہا کہ اُ ن کے حق میں اطاعت کرنا ہی بہتر تھا!۔
(پھراس نے کہا کہ) اب میں تمہیں اپنا حال بتاتا ہوں: میں مسیح (دجّال) ہوں، عنقریب مجھے نکلنے کا حکم دیا جائے گا، میں باہر نکلوں گا، اور زمین بھرمیں سیر کروں گا، یہاں تک کہ کوئی آبادی ایسی نہیں چھوڑوں گا، جہاں میں داخل نہ ہوں، چالیس40 راتیں برابر گشت میں رہوں گا، لیکن مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ میں نہیں جاسکوں گا، وہاں جانے سے مجھے روک دیا جائے گا، جب میں ان میں سے کسی ایک شہر میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا، تو فرشتہ مجھے تلوار سے روکے گا، ان شہروں کے ہر راستے پر فرشتے مقرّر ہوں گے”۔
یہ واقعہ سنانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے، اپنا عصا شریف منبر پر مار کر فرمایا: «هَذِهِ طَيْبَةُ! هَذِهِ طَيْبَة! هَذِهِ طَيْبَةُ!» “یہ ہے طیبہ! یہ ہے طیبہ! یہ ہے طیبہ!”۔ پھر مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ؟» “کیا میں تم سے یہی سب نہیں بیان کرتا تھا؟” لوگوں نے عرض کی: جی ہاں!۔ (پھر فرمایا:) …«أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ المَشْرِقِ، مَا هُوَ. مِنْ قِبَلِ الْمشْرِقِ، مَا هُوَ. مِنْ قِبَلِ المَشْرِقِ، مَا هُوَ»([8]) “ہوشیار رہو! کہ دجّال دریائے شام میں ہے، یا دریائے یمن میں، نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے! وہ مشرق کی طرف ہے! وہ مشرق کی طرف ہے!”۔
حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ مذکورہ بالا حدیث شریف کے آخری جزء …«أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ المَشْرِقِ، مَا هُوَ» …إلخ، کی شرح میں دجّال کے ٹھکانے اور سَمت سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ “اس فرمانِ عالی کی بہت سی شرحیں کی گئیں، بہترین شرح یہ ہے کہ دجّال کبھی بحر شام (جانبِ شمال) میں مقیّد رہتا ہے، اور کبھی بحرِ یمن (جانبِ جنوب) کی جیل میں رکھا جاتا ہے، آج کل ان دونوں جیلوں میں نہیں، بلکہ مدینہ منوّرہ سے مشرقی جانب میں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ شامی یا یمنی جیلوں میں مقیّد رہتا ہے، مگر قریبِ خُروج مدینہ منوّرہ میں ان طرفوں (سَمتوں) سے نہ آئے گا، بلکہ مشرق کی طرف سے آئے گا”([9])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
خروج ِدجّال کب ہوگا؟
حضراتِ گرامی قدر! آج کل یہود ونصاریٰ میں سے بعض لوگ، یہ دعویٰ کرتے پھر تے ہیں، کہ دجّال کا خروج ہو چکا ہے، اور وہ اس کذّاب سے ملا قات بھی کر چکے ہیں، یاد رکھیے! یہ سب دعوے فی الوقت جھوٹے اور بلا ثبوت ہیں؛ کیونکہ ہمارے نبئ برحق ﷺ نے خروجِ دجّال سے قبل، بعض ایسی نشانیوں سے متعلق بیان فرمایا ہے، کہ جب تک وہ نشانیاں وُقوع پذیر نہ ہو جائیں، اس وقت تک دجّال کا خروج نہیں ہوسکتا!۔
حضرت سیِّدُنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، کہ نبئ رحمت ﷺ کے پاس مغرب کی طرف سے کچھ لوگ، اونی کپڑوں میں ملبوس آئے، ان کی ملاقات حضورِ اکرم ﷺ سے ایک جھاڑی کے پاس ہوئی، جبکہ وہ کھڑے تھے اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے، میں نے دل میں سوچا کہ چل کر ان کے اور حضور سروَرِ عالَم ﷺ کے درمیان جا کر کھڑا ہو جاؤں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نبئ كريم ﷺ کے ساتھ کوئی دھوکا کر دیں! پھر میں نے سوچا کہ ممکن ہے رسولِ کریم ﷺ ان کے ساتھ آہستہ سے بات کر رہے ہوں، بہرحال میں چلتا ہوا ان کے اور حضور رحمتِ عالم ﷺ کے درمیان آ کر کھڑا ہوا، میں نے حضور پرنور ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے چار4 کلمات محفوظ کر لیے، جنہیں میں اپنے ہاتھ پر شمار کر رہا تھا، حضور سیِّدِ عالم ﷺ نے فرمایا: «تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ، فَيَفْتَحُهَا اللهُ، ثُمَّ فَارِسَ، فَيَفْتَحُهَا اللهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ، فَيَفْتَحُهَا اللهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ، فَيَفْتَحُهُ اللهُ!» “تم لوگ جزیزۂ عرب میں جہاد کرو گے، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے ہاتھ پر فتح دے گا، پھر فارس والوں سے جہاد کرو گے، رب تعالی اس میں بھی تمہیں فتح دے گا، پھر روم سے جہاد کرو گے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن پر بھی فتح عطا فرمائے گا، پھر دجّال سے جہاد کرو گے، تو اللہ رب العالمین اس پر بھی تمہیں فتح یابی نصیب فرمائے گا!”۔
راوی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا نافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اے جابر! اسی لیے ہم سمجھتے ہیں، کہ دجّال کا خروج اس وقت تک نہیں ہوگا، جب تک روم فتح نہ ہو جائے!”([10])۔
جنگِ عظیم اور خروجِ دجّال
حضراتِ محترم! خروجِ دجّال کی بڑی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ اس کے خروج سے قبل دنیا کو ایک اَور عالمی جنگ کا سامنا ہوگا، اور قسطنطنیہ (ترکی) جو مسلمانو ں کے ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا، دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوگا۔ حدیثِ پاک میں ہے، کہ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المَلْحَمَةُ العُظْمَى، وَفَتْحُ القُسْطَنْطِينِيَّةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ!»([11]) “جنگِ عظیم، فتحِ قسطنطنیہ، اور خروجِ دجّال، سات7 مہینوں کے اندر سب کچھ ہو جائے گا!”۔
خروجِ دجّال سے قبل دنیا کی حالتِ زار
حضراتِ گرامی قدر! خروجِ دجّال سے چند سال قبل، دنیا میں دھوکا فریب اور جھوٹ عام ہو جائے گا، فاسق وفاجر لوگ اہم مُعاملات میں رائے زنی کریں گے، حدیثِ پاک میں ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَةً يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ» “دجّال کے خروج سے پہلے چند سال، دھوکا و فریب کے ہوں گے، جھوٹے کوسچا، اور سچے کوجھوٹا بنا کر پیش کیا جائے گا، خیانت کرنے والےکو ا مانتدار، اور امانتدار کو خائن قرار دیا جائے گا، اور ان میں رُوَ یبضہ بات کریں گے”، عرض کی گئی: روَ یبِضہ کون ہیں؟ فرمایا: «الْمرْؤُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ»([12]) “گھٹیا قسم کے لوگ، عام عوام کے اہم مُعاملات میں اپنی رائےدیں گے!”۔
میرے عزیز بھائیو! آج نام نہاد مہذّب دنیا، اور دجّالی میڈیا کا کردار ہمارے سامنے ہے، نیوز چینلز پر فاسق وفاجر، اور کم علم لوگ چوبیس24 گھنٹے، حقائق کو توڑ مروڑ کر، دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مصروف ہیں، وہ جھوٹ کو سچ کہیں، تو دنیا اسے سچ تسلیم کرتی ہے، اور اگر چمکتے سورج کی طرح رَوشن سچ کو جھوٹ کہہ دیں، تو عوام الناس تو رہے ایک طرف، اچھے خاصے پڑھے لکھے اور باشعور لوگ بھی، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں!۔
اسی طرح ہمارا عدالتی نظام بھی سب کے سامنے ہے! کس طرح چور لیٹروں اور ملکی خزانہ لوٹنے والے کرپٹ عناصر کو، باعزت بری کر دیا جاتا ہے، اور غربت واِفلاس سے مجبور ہو کر معمولی جرم کرنے والا عام شہری، سالہاسال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پر مجبور ہوتا ہے!۔ دجّال کے خروج سے قبل دنیا کی جس حالتِ زار سے متعلق، رسولِ محتشم ﷺ نے آگاہ فرمایا تھا، آج وہ حالات بڑی تیزی سے پیدا ہو رہے ہیں۔
لہذا علمائے دین کو چاہیے، کہ اپنی تقریروں اور خطباتِ جمعہ میں، مسلمانوں کو فتنۂ دجّال سے متعلق، وقتاً فوقتاً ضروری آگاہی دیتے رہیں؛ تاکہ وہ اُ س کے دجل وفریب کا شکار ہونے سے بچے رہیں!۔
دجّال کے خروج کا مقام
عزیزانِ گرامی قدر! حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺنے ہم سے بیان فرمایا: «أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالمَشْرِقِ، يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمجَانُّ المُطْرَقَةُ»([13]) “دجّال مشرق کے ایک علاقہ سے ظاہر ہوگا، جسے خُراسان کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے، جن کے چہرے گویا تہہ بہ تہہ ڈھال (یعنی گول، چپٹے اور گوشت سے بھرے) ہوں گے”۔
فتنۂ دجّال سے آگاہی اور اُس کی علامات
حضراتِ محترم! دجّال کا فتنہ وفساد کس قدر بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، کہ تمام انبیائے کرام علیہمُ السَّلام اپنی اپنی امّتوں کو، اس سے خبردار کرتے رہے، اس سے بچنے کی تلقین کرتے رہے، حضرت سیِّدُنا اَنَسْ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الكَذَّابَ، أَلاَ إِنَّهُ أَعْوَرُ! وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ! وَإِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ: “كَافِرٌ”!»([14]) “ہر ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو کانے کذّاب (دجّال) کے فتنے سے ڈرایا، خبردار! یقیناً وہ کانا ہے! اور یقیناً تمہارا رب کانا نہیں! اور یقیناً اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا: “کافر”۔
ایک اَور روایت میں ہے، کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ»([15]) “حضرت آدم علیہمُ السَّلام کی پیدائش اور قیامت کے درمیان، دجّال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں”۔
اسی طرح حضرت سیِّدُنا ہِشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ، فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، افْتُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ! رَبِّي اللهُ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، فَلَا يَضُرُّهُ -أَوْ قَالَ-: فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ!»([16]) “دجّال کا سر پیچھے سے گنجا معلوم ہوگا، جو شخص اس سے یہ کہہ لے گا کہ تُو میرا رب ہے، وہ اس کے فتنے میں مبتلا ہو جائے گا، اور جو شخص اس کی تکذیب کر کے کہے گا، کہ میرا رب تو اللہ ہے، میں اسی پر بھروسا کرتا ہوں، تو وہ اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا!” (یا یہ فرمایا کہ) “اس پر کوئی آزمائش نہیں آئے گی!”۔
حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ کائنات ﷺ نے دجّال کے بارے میں ارشاد فرمایا: «إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَاراً، فَنَارُهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَمَاؤُهُ نَارٌ!»([17]) “اُس دجّال کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی، اور اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا، اور اُس کا پانی آگ ہوگى!”۔
ایک اَور مقام پر حضرت رِبعی بن حراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ حضرت سیِّدُنا حذیفہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہ کسی مقام پر اکٹھے ہوئے، تو حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ، إِنَّ مَعَهُ نَهْراً مِنْ مَاءٍ وَنَهْراً مِنْ نَارٍ، فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ، مَاءٌ، وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ، نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ المَاءَ، فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ، فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً!».
“دجّال کے ساتھ جو چیزیں ہوں گی، میں انہیں دجّال سے زیادہ جانتا ہوں! اس کے ساتھ پانی کی ایک نہر ہوگی، اور ایک نہر آگ کی ہوگی، جسے تم آگ سمجھو گے وہ پانی ہوگا، اور جسے تم پانی سمجھو گے وہ آگ ہوگی، تم میں سے جو شخص اسے پائے اور پیاس کے سبب پانی پینا چاہے، تو اس میں سے پیے جسے وہ آگ سمجھے، تو وہ اسے پانی پائے گا”۔ (اس پر) حضرت سیِّدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے سنا ہے!”([18])۔
زمانۂ دجّال میں غذائی قلّت کا سامنا
عزیزانِ محترم! خروجِ دجّال کے وقت سخت غذائی قلّت اور قحط کا سامنا بھی ہوگا، تمام غذائی اجناس اور پانی کے دستیاب ذخائر دجّال اور اس کے گروہ کے قبضے میں ہوں گے، مسلمان بوند بوند کو ترس رہے ہوں گے، اور غذا کے طور پر سوائے ذکرِ الٰہی کے اَور کوئی چیز دستیاب نہیں ہوگی، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہ حضور پُرنور ﷺ نے قبل از دجّال پیش آنے والے شدائد کا ذکر فرمایا، تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا، کہ اس دن کونسا مال بہترین ہوگا؟ حضور رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ المَاءَ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ» “وہ طاقتور غلام (خادم یا ملازم) جو اپنے گھر والوں (یا مالک) کو پانی لاکر پلا سکے، جبکہ کھانا تو ہوگا ہی نہیں”، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی، کہ پھر اہلِ ایمان مؤمنین کی غذا کیا ہوگی؟ نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ» “تسبیح، تکبیر، تحمید اور تہلیل”، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا، کہ اس وقت اہلِ عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا: «الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ»([19]) “اس وقت اہلِ عرب تعداد میں بہت تھوڑے ہوں گے”۔
میرے عزیز دوستو! غذا فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کا، آج دجّالی قوّتوں کی ملکیت میں ہونا محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ سب دجّال کی آمد کے سلسلے میں، ان لوگوں کی طرف سے کی جانے والی پلاننگ اور تیاریوں کا حصّہ ہے، ہم مسلمانوں کو بنظرِ غائر اس کا مُشاہدہ کرنے اور عالمی حالات و واقعات کو سمجھنے کی بھی اشد ضرورت ہے!۔
دجّال کی مدّتِ اِقامت اور اس کے اختیارات
برادرانِ گرامی! دجّال کا خروج درحقیقت اللہ رب العزّت کی طرف سے، اپنے بندوں کی بہت بڑی آزمائش ہوگی، حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ»([20]) “حضرت آدم علیہمُ السَّلام کی تخلیق سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والی کوئی بھی مخلوق، (فتنہ وفساد وآفت) میں دجّال سے بڑی نہیں”۔
دجال کی آمد کے وقت کے حالات بیان کرتے ہوئے رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «أَرْبَعُونَ يَوْماً، يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ»([21]) “چالیس40 دن میں سب سے پہلا دن سال بھر کے برابر، دوسرا دن مہینے بھر کے برابر، اور تیسرا دن ہفتے بھر کے برابرہوگا، جبکہ باقی تمام ایّام عام دنوں کی طرح”، یعنی چوبیس24 چوبیس24 گھنٹے کے ہوں گے۔
رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ، مُنْذُ ذَرَأَ اللهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ، أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ»([22]) “جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم D کی اولاد کو زمین میں پھیلایا یقیناً کوئی فتنہ دجال کے فتنہ سے زیادہ شدید نہیں ہوا”، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ»([23]) “ایک باغ اور ایک آگ اس کے ہمراہ ہوگی، جو جہنم دکھائی دے، وہ آرام کی جگہ ہوگی، اور جو دیکھنے میں جنّت معلوم ہوگی، وہ حقیقۃً آگ ہوگی”۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ وَيُصَدِّقُونَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ، وَيَأْمُرُ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ»([24]) “وہ خدائی کا دعوی کرے گا، جو اس پر ایمان لائے گا، تو آسمان کو حکم دے گا کہ بارش برسائے تو وہ پانی برسائے گا، زمین کو حکم دے گا تو وہ سبزہ اُگائے گی”۔
خرقِ عادت (بظاہر ناممکن کاموں) پر اسے قدرت دی جائے گی، جس کا اظہار وہ وقتاًفوقتاً کرتا رہے گا، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: «ثُمَّ يَأْتِي الخَرِبَةَ فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَيَنْصَرِفُ مِنْهَا فَيَتْبَعُهُ، كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ»([25]) “پھر دجّال کسی ویرانے میں آکر ( زمین کو) حکم دے گا، کہ اپنے خزانے نکال دے! اور جب وہ وہاں سے واپس لَوٹے گا، تو خزانے اس کے پیچھے ایسے چل پڑیں گے، جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کی اتّباع کرتی ہیں”۔
اسی طرح ایک اَور روایت میں، حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شُعبہ رضی اللہ عنہ سے ہے، کہ دجّال کے بارے میں نبئ کریم ﷺ سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا، حضور نبئ كريم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: «مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ؟» “تجھے اس سے کیا ضرر پہنچے گا؟” میں نے عرض کی: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی! نبئ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ!»([26]) “یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے!”۔
شارحِ بخاری حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “دجّال اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اسے خرقِ عادت پر قدرت عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ مُردے بھی جِلائے گا (یعنی زندہ کرے گا)، بارش برسائے گا، کھیتی اُگائے گا، وغیرہ وغیرہ، جس سے کمزور ایمان والے اس کے پھندے میں پھنس جائیں گے، مگر ساتھ ہی ساتھ ایسی نشانیاں بھی اس کے ساتھ ہوں گی، جو اس کے جھوٹے ہونے کی بیّن دلیل ہوں گی، مثلاً کانا ہونا، یہ عیب ہے، اور معبود وہ ہے جو ہر عیب سے پاک ہے! معبود وہ ہے جو ہرچیز پر قادر ہے، اگر یہ معبود ہوتا تو کانا کیوں ہوتا؟ اور بالفرض اس کی ایک آنکھ کانی تھی، تو اسے درست کیوں نہیں کر لیا؟ نیز اس کی پیشانی پر ک، ف، ر لکھا ہوگا، اگر وہ معبود ہوتا تو اسے مٹا کیوں نہیں دیا؟”([27])۔
دجّال کے اوّلین پیروکار
عزیزانِ محترم! بعض روایات کے مطابق دجّال کے اکثر پَیروکار یہود ی ہوں گے۔ حضرت سیِّدُنا اَنَسْ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ إصْبَهَانَ، سَبْعُونَ أَلْفاً، عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ»([28]) “اَصفہان کے ستّر ہزار یہودی دجّال کے پَیروکار ہوں گے، جن پر طیلسان نامی لباس ہوگا”۔
میرے عزیز! طیلسان ایک خاص قسم کا لباس (مثلِ شال) ہے، جو زینت کے طور پر کندھے اور سر ڈھانپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسلام کے ابتدائی دَور میں جب تک یہ یہودکا نشانِ خاص رہا، ممنوع رہا، اور جب اس کا رَواج عام ہوگیا، تب یہ مُباح (جائز) ہوگیا۔ دجّال کے اوّلین ستر ہزار پَیروکار جوقومِ یہود سے ہوں گے، ان کے پہچان کی خاص نشانی یہی ہے، کہ وہ “طیلسان” لباس استعمال کرتے ہوں گے۔
علاوہ ازیں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ “اس زمانہ میں یہود شہرِ اَصفہان میں کثرت سے ہوں گے، اَصفہان ایران کا مشہور شہر ہے، یہیں دجّال کا زور زیادہ ہوگا، اور دجّال کے پہلے مُعاون ومددگار یہود ہوں گے”([29])۔
مدینہ منوّرہ میں تین3 زلزلے
عزیزانِ گرامی قدر! دجّال اپنے سفید گدھے پر، برق رفتاری کے ساتھ دنیا بھر کا گشت کرے گا، مکّہ معظّمہ اور مدینہ منوّرہ کے سوا، دنیا کا کوئی خطّہ ایسا نہ ہوگا جہاں دجَّال نہ پہنچا ہو، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ المَلاَئِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ، وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ الله!»([30]) “دجّال مدینہ طیّبہ کے پاس آئے گا، اور فرشتوں کو اس کی حفاظت پر مامور پائے گا، ان شاء اللہ A نہ دجّال مدینہ طیّبہ میں آسکتا ہے، اور نہ ہی طاعون!”۔
حضرت سیِّدُنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا يَدْخُلُ المَدِينَةَ رُعْبُ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ!»([31]) “مسیح دجّال کا رعب ودبدبہ، مدینہ منوّرہ میں داخل نہیں ہوسکے گا، اُس دن مدینہ شریف کے سات7 دروازے ہوں گے، اور ہر دروازے پر دو2 فرشتے، بطورِ محافظ موجود رہیں گے!”۔
ایک اَور مقام پرحضرت سیِّدُنا اَنَسْ بن مالکرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَجِيءُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَنْزِلَ فِي نَاحِيَةِ المَدِينَةِ، ثُمَّ تَرْجُفُ المَدِينَةُ ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ!»([32]) “دجّال مدینہ منوّرہ کے ایک کنارے اُترے گا، پھر مدینہ منوّرہ تین3 بار (زلزلے کے سبب) لرز اُٹھے گا، جس کےسبب سارے کافر اور منافق لوگ، یہاں سے نکل کر دجّال کے پاس پہنچ جائیں گے!”۔
فتنۂ دجّال سے بچاؤ کے طریقے
برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! فتنۂ دجّال کی شدّت اور غلبہ اس قدر ہوگا، کہ کسی مسلمان کے پاس اس سے دُور بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، اس کے شبہات کا اثر اِس قدر قوّی ہو گا، کہ مضبوط سے مضبوط ایمان والا بھی لڑکھڑا جائے گا، حضرت سیِّدُنا عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ، فَوَاللهِ! إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ -أَوْ لِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ-»([33]) “جو شخص دجّال سے متعلق سنے، تو چاہیے کہ اُس سے دُور بھاگے!؛ کیونکہ جو اس کے پا س جائے گا، اگرچہ اپنے آپ کو مؤمن سمجھتا ہو، وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑے گا؛ کیونکہ دجّال کے لائے ہوئے شکوک وشبہات ہی کچھ ایسے خطرناک ہوں گے، کہ آدمی ڈگمگا جائے!”۔
دجّال کے فتنے سے بچنے کے لیےسورۂ کہف کی آیات
عزیزانِ مَن! حضرت سیِّدُنا نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے دجّال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ! فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ؛ فَإِنَّهَا جِوَارُكُمْ مِنْ فِتْنَتِهِ!» ([34]) “اگر دجّال نکلا اور میں تمہارے درمیان موجود رہا، تو تم سے پہلے میں اُس پر دلیل قائم کر کے غلبہ پاؤں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تم میں موجود نہ رہوں، تو ہر شخص اپنی طرف سے دلیل قائم کر کے غلبہ پائے، اور میرے بعد بھی اللہ ہر مسلمان کا والی اور وارث ہے۔ تو تم میں سے جو اُسے پائے، اس پر “سورۂ کہف” کی ابتدائی آیات تلاوت کرے؛ کیونکہ یہ اس کے فتنے کا بچاؤ ہیں”۔
سورۂ کہف کی ابتدائی دس10 آیات کی فضیلت
ایک اَور روایت میں ہے، کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ، عُصِمَ مِن فتنَة الدَّجَّالِ!»([35]) “جو شخص “سورۂ کہف” کی ابتدائی دس10 آیات یاد کرلے، وہ دجّال کے فتنہ سے بچا لیا جائے گا!”۔
سورۂ کہف کی آخری دس10 آیات
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ، كَانَتْ لَهُ نُوراً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَقَامِهِ إِلَى مَكَّةَ، وَمَنْ قَرَأَ بِعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا، ثُمَّ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَمْ يَضُرَّهُ!»([36]) “جو کوئی “سورۂ کہف” پڑھے، تو وہ بروزِ قیامت اس کے لیے وہاں سے لے کر مکۂ مکرّمہ تک نور ہوگی، اور جو کوئی اس سورت کی آخری دس10 آیات پڑھے، پھر اگر دجّال نکلا، تو اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا!”۔
دجّال سے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا پڑاؤ
حضراتِ ذی وقار! دجّال سے مقابلہ کرنے کے لیے، مسلمانوں کا پڑاؤ دِمشق کے قریب “غُوطہ” کے مقام پر ہوگا، حضرت سیِّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ فُسْطَاطَ المُسْلِمِينَ يَوْمَ المَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ، إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ، يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ!»([37]) “(دجّال سے) جنگ کے دَوران مسلمانوں کا پڑاؤ، شہرِ دِمشق کی ایک جانب “غوطہ” کے مقام پر ہوگا، اور دِمشق شام کے شہروں میں سے ایک بہترین شہر ہے!”۔
آسمان سے نازل ہونے کے بعد، حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی D مسلمانوں کے ساتھ مل کر، دجّال اور اس کے لشکر کے خلاف جہاد فرمائیں گے، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔
دَجّال کا خاتمہ
میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو! قرآن وحدیث کی تعلیمات کے مطابق، حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی D زندہ ہیں، اور قُربِ قیامت ميں آسمان سے نُزول فرمائیں گے۔ آپ D نہ خدا ہیں، اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں۔ آپ D جب دوبارہ تشریف لائیں گے، تب لوگوں سے اسلام کی خاطر لڑیں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیز کو قتل کریں گے، جِزیہ موقوف کر یں گے، اور دجّال کو قتل کریں گے([38])۔
اللہ رب العزّت نے آپ D کو ایسا بلند مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے، کہ آپ D جب بهى كسى ایسے کافر کے پاس سے گزریں گے، جس کے مقدَّر ميں ایمان نہیں، وہ وہیں مَر جائے گا۔ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: «فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ»([39]) “حضرت عیسیٰ D جیسے ہی کسی کافر کے پاس سے گزریں گے، آپ کے سانس كى خوشبو پہنچتے ہی وہ مَر جائےگا، اور آپ D کی سانس کی خوشبو، آپ کی حدِ نگاہ تک پھیلتی ہو گی”۔
دجّال کی نظر جونہی حضرتِ سیّدنا عيسىٰ D پر پڑے گی، وہ پگھلنے لگے گا، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الْمِلْحُ فِي الْماءِ»([40]) “دجّال اس طرح پگھلے گا، جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے”۔
وہ بچنے کے لیے آپ D سے دُور بھاگنے کی کوشش کرے گا، حضرت سیِّدُنا عيسىٰ D اس لعین کا تعاقُب فرمائیں گے، یہاں تک کہ بیت المقدس کے قریب، “لُد” نامی ایک بستی کے دروازےپر اسے پکڑ لیں گے، اور وہیں نیزے کے وار سے اُسے ہلاک فرمائیں گے۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَأْتِي الْمسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمشْرِقِ، هِمَّتُهُ المَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْملَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ»([41]) “مسیحِ دجّال مشرق کی طرف (یعنی خُراسان) سے آئے گا، اس کا ارادہ مدینہ منوّرہ کا ہوگا، حتّی کہ جبلِ اُحد کے پیچھے اترے گا، پھر فرشتے اس کا منہ ملکِ شام کی طرف پھیر دیں گے، اور وہ وہیں ہلاک ہوگا!”۔
ایک اَور روایت میں ہے: «فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلَهُ»([42]) “حضرتِ سیِّدنا عيسىٰ D دجّال کو تلاش کریں گے، یہاں تک کہ اسے بابِ “لُد” میں پائیں گے، تو وہیں اسے قتل کریں گے”۔
دجّال کا ذکر قرآنِ مجید میں نہ ہونے کی وجہ
عزیزانِ گرامی قدر! بعض حضرات کا یہ کہنا ہے، کہ احادیثِ مبارکہ میں فتنۂ دجّال کو کائنات کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیاہے، پھر قرآنِ مجید میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ بعض اہلِ علم نے اس اعتراض کے جواب میں، سورۃ الانعام کی آیت بطورِ دلیل پیش کی، کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ﴾([43]) “وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تیرا رب آئے، یا تیرے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی، کسی شخص کو اس کاایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی، کہہ دیجیے کہ انتظار کرو، یقیناً ہم بھی منتظر ہیں!”۔
حضراتِ گرامی قدر! جن نشانیوں کا ذکر اس آیتِ مبارکہ میں کیا گیا ہے، ایک حدیث شریف کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے، کہ ان میں سے دجّال بھی ایک نشانی ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ، لَا يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْراً: (١) طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، (٢) وَالدَّجَّالُ، (٣) وَدَابَّةُ الْأَرْضِ»([44]) “تین3 نشانیاں جب نمودار ہو جائیں، تو پھر کسی کو اب ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لاچکا ہو، یا اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی ہو، وہ نشانیاں یہ ہیں: (۱) سورج کا مغرب سے نکلنا، (۲) دجّال کا خُروج، (۳) اور اللہ کی مخلوق (دابۃُ الارض) کا نکلنا”۔
عزیزانِ محترم! دجّال کا ذکر قرآنِ پاک میں واضح طور پر نہ ہونے کا حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، مگر عدمِ ذکر میں حکمتِ الٰہی شاید، حدیثِ پاک کی اَہمیت کو اُجاگر کرنا بھی ہو، جیسے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا([45])، غیر شادی شدہ زانی کے لیے کوڑوں کے علاوہ جلاوطنی کی سزا([46])، پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے کی حُرمت کاذکر([47])، صرف احادیثِ مبارکہ میں ہے، بالکل ایسے ہی دجّال کا ذکر بھی واضح طور پر صرف احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے، لہٰذا جس طرح ہم دیگر کئی مسائلِ شرعیہ کو صرف احادیثِ مبارکہ کی بنیاد پر تسلیم کرتے ہیں، اسی طرح دجّال سے متعلق اُمور پر بھی ایمان رکھنا ہم پر لازم ہے؛ کیونکہ احادیثِ مبارکہ جہاں قرآنِ پاک کے اَحکام کی تفسیر وتشریح بیان کرتی ہیں، وہیں بعض ایسے مسائل بھی بیان کرتی ہیں، جن کا ذکر بظاہر قرآنِ پاک میں موجود نہیں ہے۔
فتنۂ دجّال سے پناہ کی دعا
عزیزانِ مَن! فتنۂ دجّال سے پناہ طلب کرنے کے لیے، ہمیں اللہ رب العالمین کے حضور دعاگو رہنا چاہیے؛ کہ یہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی سنّت اور تعلیم ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ فتنۂ دجّال سے یوں پناہ مانگا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ!»([48]) “اے اللہ! میں فتنۂ دجّال سے تیری پناہ مانگتا ہوں!”۔
دعا
اے اللہ! ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی، دجّال کے فتنہ، فساد اور شُرور سے محفوظ فرما، ایمان کی سلامتی عطا فرما، ہمارا خاتمہ بالخیر ہو، دجّال اور اس کی پَیروی کرنے والوں کو نیست ونابود فرما۔ ہمیں تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی، بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوشى سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) انظر: “صحیح مسلم” باب ذكر الدجّال، ر: 7377، صـ1273.
([2]) “مرآۃ المناجیح” دجّال کا ظہور، فصلِ اوّل، 7/210۔
([3]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجّال، ر: 7128، صـ1227 بتصرّف.
([4]) “سنن أبي داود” باب خروج الدَّجَّال، ر: 4320، صـ606.
([5]) “صحیح البخاري” كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى: ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي﴾، ر: 7407، صـ1274.
([6]) “مرآۃ المناجیح”قيامت کے سامنے ہونے والی علامات اور دجّال کا بیان، پہلی فصل، 7/210۔
([7]) “مرآۃ المناجیح”قيامت کے سامنے ہونے والی علامات اور دجّال کا بیان، پہلی فصل، 7/212۔
([8]) “صحیح مسلم” باب قصّة الجسّاسة، ر: 7386، صـ1276، 1277.
([9]) “مرآۃ المناجیح”قيامت کے سامنے ہونے والی علامات اور …الخ، پہلی فصل، 7/2۲9 ملتقطاً۔
([10]) “صحیح مسلم” کتاب الفتن، ر: 7284، صـ1256.
([11]) “سنن الترمذي” أبواب الفتن، ر: 2238، صـ513. ]وقال أبو عيسى[: “هذا حديث غريب لا نعرفه إلّا من هذا الوجه”. و”المعجم الكبير” باب الميم، أبو بحريّة عن معاذ بن جبل، ر: 173، 20/91. و”مستدرك الحاكم” كتاب الفتن والملاحم، ر: 8313، 4/473. سكت عنه الذهبي في “التلخيص”.
([12]) “مسند البزّار” مسند عوف بن مالك الأشجعي I، ر: 2740، 7/174. و”البداية والنهاية” كتاب الفتن والملاحم وأشراط الساعة والأمور العظام يوم القيامة، ذكر خروج الدجال بعد وقوع الملحمة الرومية وفتح القسطنطينية، 19/119. وقال ابن كثير: “وهذا إسنادٌ جيدٌ قويٌ، تفرّد به أحمد من هذا الوجه”. و”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الفتن، باب في أيام الصبر وفيمن يتمسّك بدينه في الفتن، ر: 12228، 7/284. وقال الهيثمي: “رواه البزّار، وقد صرّح ابن إسحاق بالسماع من عبد الله بن دينار، وبقيّة رجاله ثقات”.
([13]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي بكر الصديق I، ر: 12، 1/190. و”سنن ابن ماجه” کتاب الفتن، ر: 4072، 2/1353. و”مستدرك الحاكم” كتاب الفتن والملاحم، أما حديث أبي عوانة، ر: 8608، 4/573. وقال الحاكم: “هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه”. وقال الذهبي:”صحيح”.
([14]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجال، ر: 7131، صـ1228.
([15]) “مسند الإمام أحمد” مسند المدنيّين، ر: 16255، 26/187. و”صحیح مسلم” کتاب الفتن، باب في بقية من أحاديث الدجال، ر: 7395، صـ1279بتصرفٍ.
([16]) “مسند الإمام أحمد” مسند المدنيّين، ر: 16260، 26/191. و”مستدرك الحاكم” كتاب الفتن والملاحم، أمّا حديث أبي عوانة، ر: 8551، 4/554. وقال الحاكم: “هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه”. وقال الذهبي:”على شرط البخاري ومسلم”. و”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الفتن، باب ما جاء في الدجال، ر: 12521، 7/342، 343. وقال الهيثمي: ” له حديث في الصحيح غير هذا. رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح، ورواه الطبراني”.
([17]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجّال، ر: 7130، صـ1227، 1228.
([18]) “صحیح مسلم” کتاب الفتن، باب ذكر الدجّال، ر: 7371، صـ1270.
([19]) “مسند الإمام أحمد” مسند النساء، ر: 24470، 41/18. و”مسند أبي يعلى” مسند عائشة، ر: 4607، 8/78. و”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” كتاب الفتن، باب فيما بين يدي الدجّال من الجهد، ر: 12500، 7/335. وقال الهيثمي: “رواه أحمد وأبو يعلى، ورجاله رجال الصحيح”. و”البداية والنهاية” كتاب الفتن والملاحم وأشراط الساعة والأمور العظام يوم القيامة، ذكر أحاديث منثورة في الدجّال، 19/177. وقال ابن كثير: ” تفرّد به أحمد، وإسناده صحيح فيه غرابة، وتقدّم في حديث أسماء، وأبي أمامة شاهد له، والله أعلم”.
([20]) “صحیح مسلم” کتاب الفتن، ر: 7395، صـ1279.
([21]) “صحیح مسلم” باب ذكر الدجّال، ر: 7373، صـ1271.
([22]) “سنن ابن ماجه” أبواب الفتن، ر: 4077، 2/1359.
([23]) “صحیح مسلم” باب ذكر الدجّال، ر: 7366، صـ1269.
([24]) “سنن الترمذي” أبواب القدر، باب ما جاء في فتنة الدجّال، ر: 2240، صـ 514 ملخّصاً. ]وقال أبو عيسى[: “هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه إلّا من حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر”. “بہارِ شریعت” مَعاد وحشر کا بیان، حصّہ1، ١/120، 121 ملخّصاً۔
([25]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في فتنة الدجّال، ر: 2240، صـ514. ]وقال أبو عيسى[: “هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه إلّا من حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر”.
([26]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجّال، ر: 7122، صـ1227.
([27]) “نزہۃ القاری” کتاب الفتن، باب ذکر الدجّال، تحت ر: 2900، 8/876، 877۔
([28]) “صحیح مسلم” کتاب الفتن، ر: 7392، صـ1278.
([29]) “مرآۃ المناجیح” قيامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان، پہلی اوّل، 7/222۔
([30]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجّال، ر: 7134، صـ1228.
([31]) “صحیح البخاري” باب: لا يدخل الدجال المدينة، ر: 1879، صـ302.
([32]) “صحیح البخاري” باب ذکر الدجال، ر: 7124، صـ1227.
([33]) “سنن أبي داود” باب خروج الدَّجَّال، ر: 4319، صـ606.
([34]) “سنن أبي داود” باب خروج الدَّجَّال، ر: 4321، صـ606، 607.
([35]) “صحیح مسلم” كتاب صلاة المسافرين وقصرها، ر: 1883، صـ326.
([36]) “المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه أحمد، ر: 1455، 2/123. و”مستدرك الحاكم” كتاب فضائل القرآن، ذكر فضائل سور وآي متفرّقة، ر: 2072، 1/752. و قال الحاكم: “هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. ورواه سفيان الثوري، عن أبي هاشم فأوقفه”.
([37]) “سنن أبي داود” باب في المعقل من الملاحم، ر: 4298، صـ604.
([38]) “سنن أبی داود” باب خروج الدَّجَّال، ر:4324، صـ607 ملخّصاً.
([39]) “صَحِیح مسلم” كتاب الفتن وأشراط الساعة، ر: 7373، صـ١271.
([40]) “صحیح مسلم” كتاب الفتن وأشراط الساعة، ر: 7278، صـ1254.
([41]) “صحیح مسلم” کتاب الحج، ر: 3351، صـ579.
([42]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في فتنة الدجّال، ر: 2240، صـ514. ]وقال أبو عيسى[: “هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه إلّا من حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر”.
([44]) “صحیح مسلم” کتاب الإیمان، ر: 398، صـ79.
([45]) “صحیح مسلم” كتاب الحدود، ر: 4414، صـ749، 750.
([46]) “صحیح البخاري” كتاب الشهادات، ر: 2649، صـ429.
([47]) “صحیح البخاري” كتاب النكاح، ر: 5109، صـ914.
([48]) “سنن أبي داود” باب ما يقول بعد التشهّد، ر: 984، صـ150.