
Table of contents
حضراتِ ذی وقار! حقوق العباد کا لفظی معنی ہے بندوں کے حقوق۔ ان میں والدین، اولاد، زوجہ، رشتہ دار، یتیم، مسکین، مسافر، اہلِ حاجت، ہمسایہ، سائل، قیدی وغيره کے حقوق، اور اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور ہے۔
حقوق العباد ادا کرنا اہلِ ایمان جنتیوں کی صفت ہے۔ بروزِ قیامت نہ صرف اللہ تعالى کے حقوق: نماز، روزہ، زکات، حج وغیرہ کا حساب ہوگا، بلکہ بندوں کے حقوق کا بھی حساب ليا جائے گا، لیکن ہمارا بڑا المیہ یہ ہے، کہ حقوق العبادکی شریعت میں جتنی اہمیت ہے، ہم اتنا ہی اس میں غفلت اورسستی برتتے ہیں۔ اچھے خاصے دیندار اور صوم وصلاۃ کے پابند حضرات بھی، حقوق العبادمیں کوتاہی برتتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا ان حقوق کی معرفت اور ادائیگی پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے انسان کی محرومیاں دور كر، باہمی محبت واتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اسى طرح بغض وعداوت کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :رشتہ داروں کے حقوق
والدَین كے حُقوق
عزیزانِ محترم! حقوق العباد میں سب سے مقدَّم، اور سب سے زیادہ حق انسان پر اس کے والدَین کا ہے، اُن سے بھلائی، حُسنِ سُلوک، ان كى شُکرگزارى اور ان کی خدمت کے بارے میں دِينِ اسلام میں بڑی تاکید آئی ہے۔ قرآنِ حکیم نے کئی مقامات پر مختلف حیثیتوں سے، بڑے حکیمانہ انداز میں والدَين کے ساتھ نیکی اور حُسنِ سُلوک کى تعليم فرمائی ہے۔ بیشتر مقامات پر درسِ توحید واِطاعتِ خداوندی کے ساتھ ہی، والدَین سے حسنِ سلوک کی تاکید بهى فرمائی ہے، فرمانِ خداوندی ہے: ﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا وَّبِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا﴾([1]) “الله تعالى کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک مت ٹھہراؤ، اور ماں باپ كے ساتھ بھلائی کرو!”۔
ایک اَور مقام پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سےپیش آنے کا حکم فرماتے ہوئے، خالقِ کائنات ﷻ نے ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا وَّبِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا﴾([2]) “اےحبيب آپ اِن سے فرما دیجیے! کہ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب تعالى نے حرام کیا، وه یہ کہ كسى كو اللہ کا شریک مَت ٹھہراؤ! اور ماں باپ کےساتھ بھلائی کرو”۔
والدَین كے ساتھ بھلائی
برادرانِ اسلام! اللہ تعالی نے والدَین كے ساتھ بھلائی کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿ وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰنًا﴾([3]) “ہم نے آدمی کو اُس كے اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کے بارے ميں تاکید کی ہے”۔ اس آیتِ مباركہ میں اَولاد کو بڑے اہتمام کے ساتھ والدَین کی خدمت واِطاعت، ادب و احترام ومحبت اور ان كى شکر گزاری کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بارگاہِ الہی میں انسانی رشتوں میں والدَین کا مقام ومرتبہ سب سے بلند وبالا ہے۔
مفسّرینِ کِرام فرماتے ہیں كہ “والدَين كے ساتھ بھلائی میں ہر طرح کی جانى ومالى خدمات داخل ہیں، ماں باپ اگرچہ کافر ہوں، تب بهى ان کی خدمت اَولاد پر لازم ہے؛ کیونکہ ربِ كريم نے مطلقاً والدَین فرمایا”([4])۔ یعنی مسلمان ہوں تو نیکی کرنا، اگر کافر ہوں تو مت کرنا، اِس طرح کی کوئی قَید نہیں لگائی۔ نیز والدَین سے اِحسان یہ ہے کہ ان کے ساتھ بھلائی کی جائے، اِن کی عزّت وتعظیم کی جائے، اِن کے جائز حکم پر خوشی سے عمل کیا جائے، ان کی خدمت کےلیے ہر دَم کوشاں رہا جائے، انہیں خوشی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، انہیں ان کی زندگی اور مَوت کے بعد بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے، اور ان کی طرف سے صدَقات وخیرات اور ایصالِ ثواب بهى کیا جائے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزدوروں کے حقوق
حقوقِ زوجین
محترم سامعین ِ کرام! زَوجین کے حقوق میں سے یہ بھی ہے، کہ وہ اپنے مابین راز کسی پر ظاہر نہ کریں، حضرت سیِّدنا ابو سعید خُدری سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ الله مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الرَّجُلَ يُفْضِي إِلىٰ امْرَأَتِهِ وَتُفْضِيْ إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا»([5]) “اللہ تعالی کے نزدیک قیامت کے دن بد ترین شخص وہ ہوگا: جو اپنی عورت کے قریب جائے اورعورت اُس کے قریب جائے، پھر وہ اس کا راز اِفشا کر دے”۔
اولاد کے حقوق
عزیز دوستو! بچے یا بچی کی ولادت کے بعد کسی نیک ومتقی مسلمان سے، اس کے دائیں کان میں اذان، اور بائیں کان میں اِقامت کہلوانا، اور اسے گھٹی دلوانا، اس کی صحت کا خیال رکھنا، اسے ہر قسم کی ممکنہ بیماریوں سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، بچوں کو ان کی پیدائش ہی سے اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا اور انہیں اسلامی آداب سکھانا، والدین کا انتہائی اہم فریضہ ہے۔
بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے، سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ اليُمْنَى، وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ اليُسْرَى، لَمْ تَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ»([6]) “جس کے ہاں بچى يا بچے کی ولادت ہو، وہ اُس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اِقامت کہے، اس کی برکت سے اُسے اُمّ الصبیان کا مرض نہیں ہوگا”۔ اس طرح ایک بچے يا بچی کو پیدائش کے وقت سے ہی دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرا دیا جاتا ہے، جس کی برکت سے ايك وہ بیماری جس سے بچے بے ہوش ہوجاتے ہیں، اس سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوقِ زوجین ووفاداری
بچوں کے اچھے نام رکھنا
عزیز دوستو! بچے کا ایک حق یہ بھی ہے، کہ اُس کا پیارا سا بامعنیٰ نام رکھا جائے۔ اسلام سے قبل لوگ اپنے بچوں کے نام عجیب وغریب رکھا کرتے تھے، حضور نبئ اکرم ﷺ نے ایسے ناموں کو ناپسند فرمایا، اور اچھے نام رکھنے کا حکم دیا، حضرت سیِّدنا ابو درداء روایت کرتے ہیں، آقائے دو جہاں ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ»([7]) “بروزِ قیامت تم اپنے اور اپنے والد کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو!”۔
اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے نام ہمیشہ اچھے، محترم اور بامعنیٰ رکھنے چاہیے، اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ انبیائے کرام ، صحابۂ کرام ، اولیائے عظام اور بزرگانِ دین کے ناموں پر نام رکھیں جائیں؛ کہ نام بھی اچھے ہوجائیں، اور بچوں کو بزرگوں کی برکت بھی مل جائے، مثلاً: عبد اللہ، عبد الرحمن، عبد القادر، محمد، احمد اور حامد وغیرہ نام رکھیں جائیں۔
پڑوسیوں کے حقوق
جانِ برادر! فضل واچھائی اس شخص کی بیان کی گئی ہے، جو اپنے ہمسائے کے حقوق کی حفاظت کرے، اور اس کے ساتھ بھلائی کرے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «خَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ»([8]) “اللہ تعالی کے نزدیک اچھا پڑوسی وہ ہے، جو اپنے ہمسائے کے لیے اچھا ہو”۔ اور سرورِ عالم ﷺ نے حضرت سیِّدنا ابو ذر کو اپنے اس فرمان کے ذریعے وصیت فرمائی: «يَا أَبَا ذَرٍّ! إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً، فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ»([9]) “اے ابو ذر! جب تم سالن پکاؤ، تو اس میں شوربا زیادہ رکھو، اور اپنے پڑوسی کا بھی خیال رکھو!”۔
یہ عظیم الشان کام ہے، کہ آدمی کو اپنے پڑوسی کے احوال کی خبر ہو، اور اسے اپنے کھانے میں شریک کر کے اس سے محبت کا اظہار کرے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ پڑوسی اس کھانے کامحتاج ہو، بلکہ اسے یہ پتا چلے کہ میرا پڑوسی اس معاملہ میں بھی مجھے نہیں بھولتا،
اس سے اسے خوشی اور اپنائیت محسوس ہوگی، اور اس سے باہمی محبت والفت کو دوام حاصل ہوگا، کہ رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «كُنْ وَرِعاً تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَكُنْ قَنِعاً تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِناً، وَأَحَسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِماً»([10]) “پرہیز گاری اختیار کرو، تو سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔ قناعت اختیار کرلو، تو سب سے زیادہ شاکر بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تو سچے مؤمن بن جاؤ گے۔ اور اپنے پڑوسی سے حسنِ سلوک کیا کرو، تو سچے مسلمان بن جاؤ گے”۔
پڑوسیوں کے ساتھ تعلق ایک ایسا معیار ہے، کہ جس سے آدمی کی بھلائی اس کی برائی سے ممتاز ہوجاتی ہے، ایک شخص نے نبئ کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ میں یہ کیسے جانوں کہ میرے کام اچھے ہیں یا بُرے؟ نبئ رحمت ﷺ نے فرمایا: «إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ! وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُوْلُوْنَ: قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ!»([11]) “جب تُم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو، کہ تُم نے اچھا کیا تو جان لو کہ تُم نے اچھا کیا، اور اگر تُم انہیں یہ کہتے سنو کہ تُم نے بُرا کیا، تو جان لو کہ بلا شبہ تُم نے برا کیا”۔
نبئ کریم ﷺ نے شفاعت کے اسباب میں سے ایک سبب پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو بھی بیان فرمایا؛ کیونکہ اللہ تعالی پڑوسی کی گواہی کو بعض لوگوں کے حق میں قبول فرمائے گا، اور ان کے گناہوں کی بخشش فرما کر ان پر فضل وکرم فرمائے گا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْل أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيْهِ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ!»([12]) “کوئی مسلمان اس حال میں مرتا ہے، کہ اس کے چار4 قریب کے پڑوسی، اس کی اچھائی پر گواہی دیں، تو اللہ تعالی فرماتا ہے، کہ میں نے اس کے بارے میں تمہارے علم کو قبول کیا، اور اس کی ان چیزوں کو بھی مُعاف کیا جو تم نہیں جانتے!”۔
دینِ اسلام نے ایمان کے کامل ہونے کو، پڑوسی سے بھلائی کے ساتھ ملا دیا ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ! وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ! وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ!» “اللہ کی قسم وہ کامل مؤمن نہیں!، بخدا وہ کامل مسلمان نہیں!، اللہ کی قسم وہ کامل مؤمن نہیں!”، صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ کون؟ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «الْجارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» “وہ جس کا پڑوسی اس کے فتنہ وفساد سے محفوظ نہیں”، صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ، اس کے فتنے کیا ہیں؟ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «شَرُّهُ»([13]) “اس کی شرارت” فتنہ ہے۔
دنیا میں آدمی کی سعادت مندی کے اسباب میں سے ایک سبب، ہمسائے سے بھلائی کرنا بھی ہے، کہ اچھے پڑوسی کے سبب راحت وسکون رہتا ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: (١) الْمرْأَةُ الصَّالِحَةُ، (٢) وَالْمسْكَنُ الْوَاسِعُ، (٣) وَالْجَارُ الصَّالِحُ، (٤) وَالْمرْكَبُ الْهَنِيْءُ»([14]) “چار4 چیزیں سعادت مندی میں سے ہیں: (١) نیک بیوی، (٢) کشادہ مکان، (٣) اچھا پڑوسی (۴) اور آرام دہ سواری”۔
اسی لیے پہلے کے لوگ گھر خریدتے وقت، گھر سے پہلے پڑوس دیکھا کرتے تھے۔ “حضرت ابو حمزہ سُکری کے پڑوسی نے ارادہ کیا، کہ وہ اپنے گھر کو فروخت کردے، تو اس سے کہا گیاکہ کتنے کا ہے؟ اس نے کہا: دو ہزار گھر کی قیمت، اور دو ہزار ابو حمزہ کے پڑوس کی، جب یہ خبر حضرت ابو حمزہ کو پہنچی تو انہوں نے اسے چار ہزار بھجوائے، اور فرمایا: یہ لو اور اپنے گھر کو مت بیچو”([15])۔
محترم بھائیو! بلا شبہ پڑوسی سے حسنِ سلوک ان نیک اعمال میں سے ہے، جس کا اجر وثواب اور فوائد، اس کے کرنے والے کو آخرت سے پہلے دنیا میں بھی پہنچتے ہیں، اور یہ زمین کی آبادی اور عمر میں برکت بھی سبب ہے۔ نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «صِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ، وَيَزِيْدَانِ فِي الأَعْمَارِ»([16]) “رشتہ داروں سے اچھا سلوک، اچھے اَخلاق، پڑوسی سے بھلائی، آبادی اور عمر میں برکت کا باعث ہیں”۔
قرض کی ادائیگی
پیارے بھائیو! ہم سب جانتے ہیں، کہ شہادت کا رُتبہ نہایت اعلیٰ واَرفع ہے، ہر سچا مسلمان اس رتبے كى خواہش رکھتا ہے؛ کہ شہید کے سارے گناہ مُعاف کر دیے جاتے ہیں، اسے رب تعالی کی رِضا نصیب ہوتی ہے, اور وه بلاحساب وکتاب جنّت میں داخل كر ديا جاتا ہے۔ اس كے باوجود قرض شہید کا بھی مُعاف نہیں ہوتا، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص سے روایت ہے, سركارِ اَبَد قرار ﷺ نے فرمایا: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيْدِ كُلُّ ذَنْبٍ، إِلَّا الدَّيْنَ»([17]) “شہید کے سارے گناہ مُعاف کر دیے جاتے ہیں، سوائے قرض کے”۔ لہٰذا اس وعید کے پیشِ نظر، ہم میں سے جو مقروض ہے، اسے قرض کی ادائیگی میں سُستی وغفلت کے بجائے جلدی کرنی چاہیے۔
مفلس کون ہے؟
حضرت سيِّدنا ابو ہریرہ سے ایک روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے استفسار فرمایا: «أَتَدْرُونَ مَا الْـمُفْلِسُ؟» “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟” صحابہ کرام -علیہم الرضوان- نے عرض کی، کہ جس کے پاس دراہم و سامان نہ ہو وہ مفلس ہے، ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْـمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي: يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»([18])
میری امت میں مفلس
“میری امت میں مفلس وہ ہے جو بروزِ قیامت، نماز، روزے، زکات لے کر آئے گا، اور یوں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، لہذا اس کی نیکیوں میں سے کچھ کسی ایک مظلوم کو دے دی جائیں گی، اور کچھ دوسرے مظلوم کو، پھر اس کے ذمہ جو حقوق تھے اگر اُن کی ادائیگی سے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں، تو اُن مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائےگا”۔
یہ ہے اس امتِ مسلمہ کا مفلس، جو بہت ساری نیکیوں کے باوجود، حقوق العباد میں کوتاہی کے باعث جہنم میں ڈال دیا جائے گا!!۔
([4]) “تفسیر نورالعرفان” 803۔
(١) “صحيح مسلم” كتاب النكاح، ر: ٣٥٤٢، صـ٦٠٩.
([6]) “مسند أبي يعلى” مسند الحسین بن علي …إلخ، ر: ٦٧٧٤، ٥/١٧٤.
([7]) “سنن أبي داود” کتاب الأدب، ر: ٤٩٤٨، صـ٦٩٧.
([8]) “سنن الترمذي” باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْجِوَارِ، ر: 1944، صـ٤٥٢.
([9]) “صحيح مسلم” كتاب البرّ والصلة والآدب، ر: ٦٦٨٨، صـ١١٤٥.
([10]) “سنن ابن ماجه” باب الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى، ر: ٤٢١٧، صـ٧٢٠.
([11]) “مسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن مسعود h، ر: 38٠8، ٢/٦٣.
([12]) المرجع السابق، أنس بن مالك بن النضر h، ر: 13٥٤١، ٤/٤٨٢.
([13]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي هريرةh، ر: ٧٨٨3، ٣/١٣٧.
([14]) “صحيح ابن حبان” كتاب النكاح، ر: ٤٠٢١، صـ٦٩٩.
([15]) “تاريخ بغداد” ذكر من اسمه: محمد ، ر: ١٦٧٥، ٣/١٦٦.
([16]) “مسند الإمام أحمد” مسند السيِّدة عائشة i، ر: 2٥٣1٤، ٩/٥٠٤.