
Table of contents
- نکاح کی اہمیت
- نکاح محبت، اتفاق اور اتحاد کا ذریعہ ہے
- نکاح اسلامی مُعاشرتی نظام کا ایک اہم رکن ہے
- جو نکاح پر قدرت رکھتا ہو وہ ضرور نکاح کرے
- نکاح کے سبب نصف دِین مکمل ہو جاتا ہے
- نکاح کے لیے عورت کی پارسائی اور نیک سیرت کو دیکھا جائے
- اسلام میں شادی کا تصوُر بڑا آسان ہے
- مروّجہ شادیوں کے مشکل ہونے کی وُجوہات
- منگنی اور عیدی
- مہندی کی رسم
- دولہا دلہن کے مہنگے ملبوسات اور میک اَپ وغیرہ
- شادی کے مہنگے دعوت نامے
- مہنگے شادی ہال، اسٹیج ڈیکوریشن، اور اَنواع واقسام کے کھانے
- بڑی بڑی براتیں
- شادیوں کا وڈیو شوٹ اور لائیٹنگ
- بھاری حق مہر
- کھانے پینے میں بے اعتدالی اور اِسراف
- جہیز کی رسم
- شادی بیاہ مشکل ہونے کا ایک سبب مروّجہ ” دعوتِ ولیمہ ” ہے
- عہدِ رسالت میں ہونے والے ولیموں کی سادگی کا عالَم
- غیر شرعی اور بیہودہ رسمیں
- بیہودہ رسموں اور فُضولیات کو ترک کریں
- دعا
الحمد لله ربّ العالمين، والصّلاةُ والسّلامُ على خاتمِ الأنبياءِ والمرسَلين، وعلى آلهِ وصحبهِ أجمعين، أمّا بعد: فأعوذُ باللهِ مِن الشّيطانِ الرّجيم، بسمِ الله الرّحمنِ الرّحيم.
حضور پُرنور، شافعِ یومِ نشور ﷺ کی بارگاہ میں ادب واحترام سے دُرود وسلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اللّهمّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيِّدِنا ومولانا وحبيبِنا محمّدٍ وعلى آلهِ وصَحبهِ أجمعين.
نکاح کی اہمیت
برادرانِ اسلام! اسلامی نظامِ مُعاشرت میں نکاح (شادی) کو بڑی اہمیت حاصل ہے؛ کیونکہ یہ اِیمان، عفّت وعصمت کی حفاظت، اور نسلِ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہے،یہی وجہ ہے کہ انسان کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق ركهتا ہو، وہ اپنے طَور پر شادی بیاہ کو ضروری قرار دیتا ہے، بغیر شادی کے اگر مَرد وعورت باہمی تعلق رکھیں، تو پوری دنیا کے باشُعور اور باحیاء لوگ اسے معیوب جانتے ہیں، شادی بیاہ گویا انسان کی فطری ضرورت ہے!۔
کائنات ميں سب سے پہلے حضرت سیِّدنا آدم علیہ السلام اور حضرت سيِّده حوّا رضي الله عنه عقدِ نکاح کی بدَولت رشتہاِزدِواج میں منسلک ہوئے، اس طرح پہلا رشتہ جو وُجود میں آیا، وہ مياں بيوى کا رشتہ ہے۔ نکاح ایک حیثیت سے عبادت اور دوسری حیثیت سے باہمی مُعاملہ ومُعاہدہ بھی ہے، لہٰذا جو نکاح کے لائق ہوں اُن کا نکاح کر دیا جائے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَآىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ﴾([1]) “نکاح کردو اپنوں میں سے اُن کا جو بے نکاح ہوں، اور اپنے قابلِ نكاح غلاموں اور کنیزوں کا، اگر وہ فقیر ہوں تو الله تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا، اور الله وسعت والا علم والا ہے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں فرق
نکاح محبت، اتفاق اور اتحاد کا ذریعہ ہے
عزیزانِ محترم! نکاح محبت، اتفاق واتحاد کا ذریعہ، اور اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، نکاح کے ذريعے میاں بیوی میں قدرتی طَور پر محبت واُلفت پیدا ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ پہلے اجنبی ہوں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠﴾([2]) “یہ الله تعالى کی ایک نشانی ہے کہ تمہارے ليے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے؛ تاکہ ان سے آرام پاؤ، اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی، یقیناً اس میں غور کرنے والوں کے ليے نشانیاں ہیں”۔
نکاح اسلامی مُعاشرتی نظام کا ایک اہم رکن ہے
حضراتِ گرامی قدر! نکاح اسلامی مُعاشرتی نظام کا ایک اہم رکن ہے، جو زَوجین (میاں بیوی) کو حلال طریقے سے اِزدِواجی رشتے میں منسلک کرتا ہے۔ مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «النّكَاحُ سُنَّتي؛ فَمَنْ رَغِبَ عَن سُنَّتي فَلَيْسَ منيِّ»([3]) “نکاح میری سنّت ہے، تو جس نے میری سنّت سے منہ موڑا اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں” یعنی وہ میرے طریقے پر نہیں!۔
جو نکاح پر قدرت رکھتا ہو وہ ضرور نکاح کرے
حضراتِ ذی وقار! نکاح اِیمان کی حفاظت، تقوی کا حصول اور فحاشی، بےحیائی اور بدکاری سے بچنے کا مؤثِر ذریعہ ہے، لہذا جو مسلمان نکاح پر قدرت رکھتا ہے اُسے ضرور نکاح کرنا چاہیے۔
صحابئ رسول، کاتبِ وحی، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّج؛ فإنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاء»([4]) “اے میرے جوانو! تم میں سے جو نکاح کی قدرت رکھتا ہو اُسے چاہیے کہ نکاح کرلے؛ کہ یہ چیز نگاہ کو نیچا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھتى ہے، اور جو نكاح کی قدرت نہیں رکھتا اسے چاہیے کہ روزے رکھے؛ کہ روزہ خواہشات نفسانی کو دَباتا ہے!”۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی (ت ١٣٩١ھ/١٩٧١ء) اس حدیثِ مبارک کے تحت فرماتے ہیں کہ “جس میں نکاح کے مَصارف (Expenses) برداشت کرنے کی طاقت ہو وہ نکاح کرے، بیوی والا آدمی پاک دامن اور نیک ہوتا ہے، نہ غیر عورتوں کو تکتا ہے، نہ اس کا دل بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے، غرض یہ کہ نکاح آدمی کے لیے حفاظتی قلعہ ہے”([5])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
نکاح کے سبب نصف دِین مکمل ہو جاتا ہے
نکاح کے سبب نصف دِین مکمل ہو جاتا ہے، اور شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے، حضرت اَنس بن مالك رضي الله عنه سے روایت ہے، حضور نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا تَزَوَّجَ العَبْدُ فَقَدْ كَمُلَ نِصْفُ الدِّينِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي!»([6]) “جب بندے نے نکاح کر لیا، تو اپنا آدھا دِین مکمل کر لیا، اب باقی آدھے دِین کے مُعاملہ میں اﷲ سے ڈرتا رہے!”؛ کیونکہ دِین میں فساد کی بڑی وجہیں دو2 ہیں: (۱) شرمگاہ (2) اور پیٹ کے متعلق بے احتیاطیاں۔ جسے اللہ تعالی نے نکاح کی توفیق دی اس کی شرمگاہ کی حفاظت ہوگئی، اب چاہیے کہ اپنے پیٹ کو بھی حرام غذا سے بچائے!۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا گیا نکاح برکت اور خوشحالی کا ذریعہ ہے، حضرت سيِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه سے روایت ہے، حضور نبئ كريم ﷺ نے فرمایا: «التمسُوا الرزقَ بالنكاح!»([7]) “نکاح (شادی) کے ذریعے رزق تلاش کرو”۔
علّامہ عبد الرؤوف مُناوی رحمة الله (ت 1031ھ/1622ء) اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “جب شادی کی نیّت اچھی ہو تو یہ نکاح برکت اور رزق میں وُسعت کا سبب بنتا ہے”([8])۔
نکاح کے لیے عورت کی پارسائی اور نیک سیرت کو دیکھا جائے
عام طَور پر لوگ عورت کے مال، جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہیں، انہی چیزوں کو دیکھ کر اس سے نکاح کرتے ہیں، مگر عقلمندی یہ ہے کہ عورت کی شرافت اور دینداری تمام چیزوں سے پہلے دیکھنی چاہیے، کہ مال اور جمال تو فانی چیزیں ہیں، جبکہ دین ایک لازَوال دَولت ہے۔ حضرت سيِّدُنا ابو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، سركارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا: «تُنكَحُ المـَرأَةُ لأربَعٍ: (1) لِـمالِها (2) ولِـحَسَبِها (3) ولِـجمالِها (4) وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ!»([9]) “نکاح کے لیے عورت کے انتخاب میں چار4 چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے: (1) اس کا مال (2) خاندان (3) حُسن وجمال (4) اور اس کی دینداری۔ تم دِین والی کو اختیار کرو، ورنہ بھلائی سے محروم رہو گے!” یعنی اگر تم ہمارے اس فرمان پر عمل نہ کروگے تو پریشان ہوجاؤ گے۔
لہذا عورت سے نکاح کے لیےاس کے مال وجمال اور ملنے والے جہیز پر نظر نہ رکھی جائے، بلکہ اس کی پارسائی اور نیک سیرت کو دیکھا جائے، کہ نیک پرہیزگار عورت اللہ تعالی کا انعام، عطیہ اور دنیا کے سرمایوں میں سے ایک بہترین سرمایہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضي الله عنه سے روایت ہے، سركارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: «الدُّنيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا المرأَةُ الصَّالِحَةُ»([10]) “دنیا ایک مال ہے، اور دنیا كا بہترین مال نیک عورت (نیک بیوی) ہے”۔
حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں کہ “انسان اسے (یعنی دنیا کو) بَرت کر (استعمال کر کے) چھوڑ جاتا ہے، رب تعالی فرماتا ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ﴾([11]) “تم فرما دو کہ دُنیا کا برتنا تھوڑا ہے”۔ صُوفیاء فرماتے ہیں کہ “اگر دنیا دِین سے مل جائے تو لازَوال دَولت ہے، قطرے کو ہزار خطرے ہیں، دریا سے مل جائے تو رَوانی طُغیانی سب کچھ اس میں آجاتی ہے، اور خطرات سے باہر ہو جاتا ہے؛ کیونکہ نیک بیوی مرد کو نیک بنا دیتی ہے، جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے، ایسے ہی بُری بیوی خدا کا عذاب ہے”([12])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام میں بچوں کے حقوق
اسلام میں شادی کا تصوُر بڑا آسان ہے
اسلام میں شادی کا تصوُر بڑا آسان ہے، حضور نبئ کریم ﷺ اور صحابۂ کرام رضي الله عنه نے اس فریضہ کو نہایت سادگی سے انجام دیا، اور نکاح میں دینداری اور حُسنِ اخلاق کو خاص طَور پر پیش نظر رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، مصطفی جان رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا خَطَبَ إِلَيكُم مَن تَرضَونَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ، فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفعَلُوا تَكُنْ فِتنَةٌ فِي الأَرضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ»([13]) “جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لائے، جس کا دِین واَخلاق تمہیں پسند ہو، تو اُس سے نکاح کر دو، ورنہ زمین میں بہت بڑا فتنہ وفساد برپا ہو گا!”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یارخان رحمة الله اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “جب تمہاری لڑکی کے لیے دِین دار، عادات واَطوار کا درست لڑکا مل جائے، تو محض مال کی ہَوس میں، اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو، اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے، تو اِدھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی، اور اُدھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے، جس سے زِنا پھیلے گا، اور زِنا کی وجہ سے لڑکی والوں کو عار وننگ ہوگی، نتیجہ یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے، قتل و غارت ہوں گے، جس کا آج کل ظُہور ہونے لگا ہے!!”([14])۔
مروّجہ شادیوں کے مشکل ہونے کی وُجوہات
مَوجودہ دَور میں نِکاح (مروّجہ شادی) کرنا، ایک انتہائی مشکل کام بن چکا ہے، اس کی متعدد وُجوہات ہیں، جن میں سے چند اہم اور بڑی وُجوہات حسبِ ذیل ہیں:
منگنی اور عیدی
(1) آج ہمارے مُعاشرے میں شادی کی تقریب سے کچھ عرصہ قبل منگنی (Engagement) کا رَواج ہے، اس میں لڑکا لڑکی کے والدین باہم رشتے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں، اگر یہ مُعاملہ سادگی کے ساتھ ہو تو شرعا ًاس میں کوئی حرج نہیں، لیکن افسوسناک اَمر یہ ہے کہ منگنی کے نام پر اپنے مال ودَولت اور خاندانی اسٹیٹس (Family Status) کا خوب اظہار کیا جاتا ہے، پُر تکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اگر شادی میں کچھ تاخیر ہو تو سالہا سال تک مختلف تہواروں اور عید ی کے نام پر مہنگے مہنگے ملبوسات (کپڑوں)، جوتوں اور دیگر متعدد اشیاء کا باہم تبادلہ ہوتا ہے، اور اگر کوئی ان بے جا اور غیر ضروری رسم ورَواج کی پَیروی نہ کرے، تو انہیں سامنے والوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بسا اَوقات نَوبت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ سالہا سال سے چلنے والی منگنی، پل بھر میں توڑ دی جاتی ہے، پھر دو2 خاندانوں میں باہم شدید ناراضگی پیدا ہو جاتی ہے!۔
لہذا اگر ہم منگنی کی اس رسم کو سادگی سے بجا لائیں، فُضول خرچی سےپرہیز کریں، عیدی کے نام پر بھیجے جانے والے کپڑوں اور دیگر تحائف کو ضروری خیال نہ کریں، تو شادی سے قبل ہونے والے ان غیر ضروری اِخراجات میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، نیز بچوں کی شادیوں کو آسان بنایا جا سکتا ہے!۔
مہندی کی رسم
(2) شادی بیاہ کے اِخراجات میں اضافے کا ایک بڑا سبب مہندی کی رسم بھی ہے، اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ رسم اتنی زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے، کہ اس کے بغیر شادی کی تقریب اُدھوری اور نامکمل سمجھی جاتی ہے۔ مہندی کی تقریب (Ceremony) کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لاکھوں روپے خرچ کرکے شادی ہال (Marriage Hall) کی بکنگ (booking) کروائی جاتی ہے، میوزک (Music) اور ڈانس (Dance) کا اہتمام ہوتا ہے، سینکڑوں لوگوں کو مدعو (Invited) کیا جاتا ہے، جن کے لیے ریفریشمنٹ (Refreshment) کے نام پر اَنواع واَقسام کے کھانے، مثلاً حلوہ پوری، کباب پراٹھے، نان گوشت، کشمیری چائے، یا آئس کریم (Ice Cream) وغیرہ کا بندوبست کیا جاتا ہے، اور اس سارے اہتمام پر لاکھوں روپے خرچ کر دیے جاتے ہیں، جبکہ یہ وہ تقریب ہے جس کا شادی (نکاح) سے براہِ راست کوئی تعلق ہی نہیں، نہ ہی اس تقریب کے لیے اس قدر اہتمام اور لوگوں کو بُلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سادگی اختیار کریں، اور مہندی کی رسم نہ کریں، یا اسلامی تعلیمات کی خلاف وَرزی سے بچتے ہوئے اسے چھوٹے پیمانے پر صرف اپنے گھر تک محدود رکھیں، تو لاکھوں روپے ضائع ہونے سے بچائے جاسکتے ہیں!!۔
یقین جانیے کہ جہاں ہمارا یہ عمل شادیوں کو آسان بنائے گا، وہیں ہمارا وقت اور پیسہ بھی بچے گا، اور ہم اللہ ورسول کی ناراضی سے بھی بچے رہیں گے!۔
دولہا دلہن کے مہنگے ملبوسات اور میک اَپ وغیرہ
(3) دولہا دلہن کے مہنگے ملبوسات (Expensive Clothes) اور میک اَپ (Make Up) وغیرہ کے اِخراجات بھی شادی کو مشکل بنانے کا ایک بڑا سبب ہیں، چند گھنٹوں پر مشتمل شادی کی تقریب کے لیے دولہا اور دلہن دونوں کے لیے ہزاروں لاکھوں روپے مالیت کی شیروانی اور لہنگا وغیرہ خریدا جاتا ہے۔ اسی طرح دولہا یا دلہن کے میک اَپ (Bridal Makeup) پر آنے والا خرچ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن اس کے باوُجود ہم لوگ ان چیزوں سے دستبردار ہونے، اور انہیں ترک کرنے کے لیے کسی طَور پر تیار نہیں!۔
خدارا! ان خُرافات اور غیر ضروری چیزوں کے شکنجے سے باہر نکلیں، اور شادی جیسے نیک کام کو آسان بنائیے!۔
شادی کے مہنگے دعوت نامے
(4) شادی بیاہ کے مہنگے دعوت ناموں (Wedding Invitation) کا تعلق بھی اُن غیر ضروری اِخراجات سے ہے، جن پر قابُو پا کر ہم اپنے بال بچوں اور بہن بھائیوں کی شادیوں کو آسان بنا سکتے ہیں؛ کیونکہ یہ ایسی چیز ہر گز نہیں جس کا متبادِل نہ ہو، ہم چاہیں تو یہ کام فون کال (Phone Call)، واٹس ایپ پیغام (WhatsApp Messages)، یا زبانی دعوت دے کر بھی کیا جا سکتا ہے۔
اگر شادی کارڈ (Wedding Invitation) بھیجنا ہی ضروری ہے، تو سادہ اور سستے شادی کارڈز (Wedding Invitation) سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے، لیکن ہم لوگ نمود ونمائش کے چکر میں مہنگے سے مہنگے شادی کارڈز بنواتے ہیں، جن پر ہزاروں روپے خرچ آتا ہے، بسا اَوقات صرف ایک کارڈ پانچ سو500 سے ایک ہزار روپے میں پڑتا ہے، اس کے باوُجود ہم لوگ شادی بیاہ کے موقع پر صرف دِکھاوے اور تفاخُر کے چکر میں پیسے کو پانی کی طرح بہاتے اور خرچ کرتے ہیں، جو ایک مسلمان کو کسی طَور پر زیب نہیں دیتا، بلکہ قرآن وحدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، اِرشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۰۰۲۶ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤااِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ١ؕ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا﴾([15]) “فُضول (یعنی ناجائز کام میں پیسہ) نہ اُڑا، یقیناً اُڑانے والے (فُضول خرچ کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں (کہ ان کی راہ چلتے ہیں)”۔
یاد رکھیے! بےمقصد اور غیر ضروری طَور پر پیسہ ضائع کرنا اللہ A کو ہرگز پسند نہیں، حضرت سيّدنا مُغیرہ بن شعبہ رضي الله عنه سے روایت ہے، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّ اللهَ كَرِهَ لَكُم ثَلَاثاً: (1) قِيل وَقَال (2) وَإضَاعَةَ المَالِ (3) وَكَثرَةَ السُّؤَال»([16]) “یقیناً اللہ تعالی نے تمہارے ليے تین3 کاموں کو ناپسند فرمایا ہے: (۱) فُضول بات (۲) مال ضائع کرنا (۳) اور بہت مانگتے رہنا (یا سوال بہت کرنا)”۔ لہذا اپنے مال ودَولت کا درست استعمال کریں، اسے ناجائز وحرام کاموں کے بچا کر، نیک اور اچھے کاموں میں خرچ کریں۔
مہنگے شادی ہال، اسٹیج ڈیکوریشن، اور اَنواع واقسام کے کھانے
(5) مہنگے شادی ہال (Marriage Halls)، اسٹیج ڈیکوریشن (Stage Decoration)، دولہا دلہن کی انٹری (Entry of Bride and Groom)، اور شرکائے بَرات کے لیے اَنواع واقسام کے کھانے بھی شادی کو مشکل بنانے کا باعث ہیں؛ کیونکہ اگر ہم چاہیں تو ان اُمور میں سادگی اختیار کرکے لاکھوں روپے بچا سکتے ہیں، لیکن اس وقت بچت کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا، اور ہمارے دل ودماغ پر صرف شہرت اور واہ واہ کی خواہش غالب ہوتی ہے؛ تاکہ محلّہ وبرادری میں ہماری ناک اونچی ہو، لوگ ہماری شادی کو مدّتوں یاد رکھیں، اور اس کی مثالیں دیں، وغیرہ وغیرہ!۔
بڑی بڑی براتیں
(6) سینکڑوں ہزاروں افراد پر مشتمل بڑی بڑی براتیں (Marriage Reception) بھی شادی کو مشکل بنانے اور اس کے اِخراجات میں اِضافے کا باعث ہیں۔ بعض لوگ لڑکی والوں کی غربت کا ذرّہ برابر لحاظ نہیں کرتے، اور باراتیوں کی ایک بڑی تعداد لانے پر بضد رہتے ہیں، جبکہ شادی بیاہ میں صرف چند لوگوں کے سِوا، کسی کی خاص ضرورت نہیں ہوتی، لہذا انہیں چاہیے کہ اپنے اس غیر اَخلاقی روِیے پر غور کریں، اور اپنے مسلمان بھائی کی مشکلات میں اضافہ کا باعث نہ بنیں۔ پھر اگر بہت قریبی تعلق والوں کی ناراضگی کا اندیشہ ہو، انہیں اپنے مجبوری سے آگاہ کریں، اور ولیمہ کا دعوت نامہ بھیج کر اپنے ہاں مدعو کر لیں؛ تاکہ لڑکی والوں پر بوجھ بھی نہ پڑے، اور رشتہ داری اور تعلق بھی متاثِر نہ ہو!۔
شادیوں کا وڈیو شوٹ اور لائیٹنگ
(7) جن چیزوں کے باعث شادی بیاہ کےاِخراجات میں بےپناہ اضافہ ہوتا ہے، اُن میں شادی کے وڈیو شوٹ (Video Shoot) اور لائیٹنگ (Lighting) کا بھی بڑا عمل دخل ہے، اس وقت ایک عام ویڈیو میکر (Video Maker) بھی شادی کی مُووِی (Movie) بنانے کے لیے لاکھوں روپے وصول کرتا ہے، اسی طرح معمولی چراغاں (Lighting) کروانے کا خرچ بھی ہزاروں میں ہے، اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر بھی شادی ہو سکتی ہے۔ مگر انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ان چیزوں کو اَب شادی کی اہم ترین ضروریات سمجھا جاتا ہے، اگر ہم میں سے ہر ایک کچھ نہ کچھ کوشش کرے، اپنے گھر، خاندان اور یار دوستوں میں بیٹھ کر ان چیزوں کی حَوصلہ شکنی کرے، شادی بیاہ کے غیر ضروری رسم ورَواج کو شمار کرے، انہیں عہدِ رسالت میں ہونے والی شادیوں کے بارے میں بتائے، اور لوگوں کو بے جا اِخراجات سے بچنے کے لیے ذہن سازی کرے، تو جن والدین کے پاس مروّجہ شادی بیاہ کے اِخراجات نہیں ہیں، اُن کے بچے بچیوں کی شادیاں بھی ممکن ہو پائیں گی، اور یوں نکاح کے رجحان میں اِضافہ کے سبب فحاشی، بےحیائی اور بدکاری کا بھی خاتمہ ہو جائے گا، نیز ہماری معمولی سی کوشش کے ذریعے رفتہ رفتہ ایک صالح مُعاشرہ تشکیل پا جائے گا!۔
بھاری حق مہر
(8) بھاری حق مہر بھی شادی (نکاح) جیسے آسان کام کو مشکل بنانے کا ایک اہم اور بڑا سبب ہے، جبکہ ہمارے مُعاشرے میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جن کے پاس بھاری حق مہر کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ رقم، گھر، یا سونا (Gold) نہیں ہوتا۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی بچیوں کا حق مہر کم سے کم لکھوائیں؛ تاکہ دینے والوں کو مشکل پیش نہ آئے، اور ایسا کرنا بہت باعثِ برکت ہے۔حضرت سیِّدنا عُقبہ بن عامر رضي الله عنه سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ»([17]) “بہترین مہر وہ ہے جو آسان (یعنی ہلکا) ہو”۔
نیز شادی کےمجموعی اِخراجات کا کم ہونا بھی برکت کا باعث ہے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ أَعظَمَ النكَاحِ بَرَكَةً، أَيْسَرُهُ مُؤُونَةً»([18]) “وہ نکاح بہت با برکت ہے جس میں بوجھ کم ہو”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة الله اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ ” جس نکاح میں فریقین کا خرچہ کم کروایا جائے، مہر بھی معمولی ہو، جہیز بھاری نہ ہو، کوئی جانب مقروض نہ ہو جائے، کسی طرف سے سخت شرائط نہ ہوں، وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے، ایسی شادی خانہ آبادی ہے۔ آج ہم حرام رسموں اور بیہودہ رَواجوں کے ذریعے شادی کو خانہ بربادی، بلکہ خانہا ئے بربادی بنا لیتے ہیں، اﷲ تعالی اس حدیث پاک پر عمل کی توفیق دے”([19])۔
کھانے پینے میں بے اعتدالی اور اِسراف
(9) آج ہمارے مُعاشرے میں بہت بڑی بےاعتدالی اور اِسراف، شادی بیاہ کے کھانوں میں ہو رہا ہے، جبکہ دینِ اسلام کھانے پینے اور خرچ کرنے میں بھی اعتدال کا درس دیتا ہے، اور حد سے تجاوُز کرنے ( یعنی اِسراف) سے منع فرماتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ﴾([20]) “کھاؤ پیؤ اور حد سے نہ بڑھو، یقیناً حد سے بڑھنے والے اللہ تعالی کو پسند نہیں!”۔
سورۂ فرقان میں اللہ تعالی کے پسندیدہ بندوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے،کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ بخل و کنجوسی کرتے ہیں، اور نا ہی اِسراف وفُضول خرچی کرتے ہیں، بلکہ خرچ کرنے میں میانہ روى اور اعتدال سے کام لیتے ہیں۔ ارشاد ِباری تعالی ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾([21]) “وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں، اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں”۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ شادی بیاہ سمیت اپنے تمام اُمور میں اعتدال اور میانہ رَوی اختیار کریں؛ کہ دینِ اسلام ہمیں میانہ رَوی کی تعلیم دیتا ہے؛ کیونکہ کسی بھی چیز میں بخل، کنجوسی یا فُضول خرچی اور اِسراف، دونوں تباہی وہلاکت کا باعث ہیں، لہذا اِعتدال اور میانہ رَوی ہی سب سے بہتر چیز ہے!۔
جہیز کی رسم
(10) جہیز کے مطالبات نے بھی آج شادی (نکاح) جیسی پیاری سنّت کی ادائیگی کو مشکل ترین بنا کر رکھ دیا ہے، اور دولہا والوں کی طرف سے اَنواع واقسام کی اشیاء کا مطالبہ سامنے آنا، آج کوئی نئی بات نہیں، جبکہ دلہن والوں سے جہیز کا مطالبہ کسی طَور پر جائز نہیں؛ کیونکہ ضروری سامان اور اسباب کا انتظام دولہا کے ذِمّہ ہے، البتہ لڑکی والے بخوشی دلہن کو کچھ دیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حضرت سيِّدنا علی رضي الله عنه فرماتے ہیں: «جَهَّزَ رَسُولُ اللهِ g فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ، وَقِربَةٍ، وَوِسَادَةٍ حَشوُهَا إذخِرٌ»([22]) “رسول اللہ ﷺ نے خاتونِ جنّت سيِّده فاطمہ طیّبہ طاہرہ رضي الله عنه کے لیے جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک ايسا تکیہ عطا فرمایا، جس میں اِذخِر (ایک خوشبودار سبز ) گھاس بھرى ہوئى تھى”۔
جس طرح لڑکے والوں کے لیے جہیز کا مطالبہ جائز نہیں، اسی طرح لڑکی والوں کو بھی چاہیے کہ اپنی بچی کو جہیز دیتے وقت، برادری میں محض اپنی ناک اونچی رکھنے، یا نمود ونمائش کی غرض سے بے جا خرچے کر کے، دیگر غریب گھرانوں کے لیے دشواریوں کا باعث نہ بنیں؛ کیونکہ آج کل غریب گھرانوں کی اکثر بچیاں، بڑے شادی ہالز (Marriage Halls) میں انواع واَقسام کے کھانوں، اور کثیر سامان کا انتظام نہ ہونے کے باعث، اچھے رشتوں کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی دہلیز چُھو رہی ہیں!! اس کے نتیجے میں مُعاشرے میں بدکاری، فحاشی اور بےحیائی جیسی دیگر خُرافات میں اضافہ ہو رہا ہے!! لہذا ہمیں چاہیے کہ شادی بیاہ سمیت تمام مُعاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، اور شادی (نکاح) جیسے نیک کام کو آسان سے آسان تَر بنائیں۔
شادی بیاہ مشکل ہونے کا ایک سبب مروّجہ “دعوتِ ولیمہ“ ہے
(11) شادی بیاہ میں تاخیر اور اس کے مشکل ہونے کا ایک سبب مروّجہ “دعوتِ ولیمہ” بھی ہے، دیگر خُرافات کی طرح ولیمے کا کھانا بھی سنّت کے بجائے، اب محض ایک دعوت ورسم بن کر رہ گیا ہے، جس میں بے جا خرچے کیے جاتے ہیں، اپنے مَن پسند شادی ہال (wedding Hall) کی مہینوں پہلے بکنگ (Booking) کروائی جاتی ہے، ناچ گانےکا بندوبست کیا جاتا ہے، اور غیر ضروری طَور پر اَنواع واقسام کے کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور جو لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی لوگوں کی دیکھا دیکھی سُودی قرض لے کر شاہانہ دعوتِ ولیمہ کا اہتمام کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ تاکہ برادری میں ان کی ناک اونچی رہے، جبکہ یہ سب فُضول اور غیر ضروری رسم ورَواج کی پَیروی کے سِوا کچھ نہیں؛ کیونکہ ولیمہ کی سنّت ادا کرنے کے لیے قطعا ً اتنے زیادہ اور بڑے پیمانے پر اہتمام کی ضرورت ہرگز نہیں!۔
عہدِ رسالت میں ہونے والے ولیموں کی سادگی کا عالَم
عہدِ رسالت میں ولیمہ کتنی سادگی سے ہوتا تھا؟ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے حضرت سیِّدہ صفیّہ رضي الله عنه سے نکاح کے بعد جو ولیمہ کیا، اُس میں گوشت یا روٹی کا کوئی اہتمام نہیں تھا، بلکہ کھانے کے لیے صرف کجھور اور گھی کا حلوہ تیار کیا گیا تھا۔ حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضي الله عنه فرماتے ہیں: «أَقَامَ النَّبِيُّ g بَيْنَ خَيْبَرَ وَالمَدِينَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ، يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ المُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِن خُبْزٍ وَلاَ لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلاَلًا بِالأنطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالأَقِطَ وَالسَّمْنَ»([23]) “خیبر سے واپسی میں خیبر اور مدینہ کے مابین، حضرت صفیہ رضي الله عنه کے ساتھ رخصتی کے سبب رسول اللہ ﷺ نے، تین3 راتوں تک قیام فرمایا، میں (انس بن مالک رضي الله عنه) مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت میں بُلا لایا، اس ولیمہ میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی، بلکہ حضور ﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا، تو دسترخوان بچھا دیے گئے، اور اُس پر کجھوریں، پنیر اور گھی رکھ دیا”۔
مصطفی جان رحمت ﷺ نے حضرت سیِّدہ زینب بنتِ جحش رضي الله عنه سے نکاح فرمایا، تو ولیمہ کے طَور پر ایک بکری کا گوشت پکایا گیا، حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضي الله عنه فرماتے ہیں: «مَا أَوْلَمَ النَّبِيُّ g عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، أَوْلَمَ بِشَاةٍ»([24]) “حضور نبئ کریم ﷺ نے حضرت زینب رضي الله عنه کے نکاح پر جیسا ولیمہ کیا، ویسا ولیمہ اَزواجِ مطہَّرات میں سے کسی کا نہیں کیا، وہ ولیمہ ایک بکری (کے گوشت) سے کیا گیا”۔
حضور اکرم ﷺ نے جتنے بھی نکاح فرمائے، اُن میں یہ سب سے بڑا ولیمہ تھا (جس میں پوری ایک بکری کا گوشت پکایا گیا([25]))؛ کیونکہ دیگر ولیموں کے مَوقع پر تاجدارِ کونَین ﷺ نے پنیر، سَتّو اور کجھور وغیرہ سے ضِیافت (دعوت) فرمائی!۔
حضرت سیِّدنا عبد الرحمن بن عَوف رضي الله عنه نے نکاح کیا، تو رسولِ اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»([26]) ” ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کر لو!”۔
مذکورہ بالا تمام احادیثِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ استطاعت نہ ہو، تو غیرضروری تکلُفات میں پڑنے، اور قرض لے کر بڑی دعوت کرنے کے بجائے سادگی اور مختصر کھانے سے بھی ولیمہ کی سنّت ادا کی جا سکتی ہے، اور خود کو مقروض ہونے سے بچایا جاسکتا ہے!۔
غیر شرعی اور بیہودہ رسمیں
(12) شادی بیاہ کے اِخراجات بڑھانے اور اسے مالی طَور پر مشکل بنانے میں، غیرشرعی اور بیہودہ رسموں کا بھی بڑا عمل دخل ہے، نوجوان اجنبی لڑکے، بالخصوص لڑکیاں ان بیہودہ رسموں میں پیش پیش رہتی ہیں، اور دودھ پلائی، راستہ رُکوائی اور جُوتا چُھپائی وغیرہ جیسی مختلف اور متعدد رسموں کے نام پر ہزاروں روپے وصول کرتی ہیں۔ اگر دولہا والوں کے پاس مال ودَولت کی فراوانی ہو، تو وہ مطالبہ سے بھی زیادہ ادا کرکے تفاخُر کا اظہار کرتے ہیں، اور اگر دولہے کا تعلق غریب گھرانے سے ہو ، تو بظاہر چھوٹی چھوٹی نظر آنے والی یہ رسمیں اُن کی عزتِ نفس کا جنازہ نکال دیتی ہیں، اور لڑکی والے منہ مانگی رقم نہ ملنے پر دولہا اور اس کے باراتیوں کا مذاق اڑاتے، اور ہنسی ہنسی میں انہیں خُوب ذلیل ورُسوا کرتے ہیں، یہ کسی طَور پر مناسب نہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات میں اس کی سخت مُمانعت ہے۔ حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عَمرو سے روایت ہے، سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «المُسلِمُ مَن سَلِمَ المسلِمُونَ مِن لِسَانِهِ وَيَدِه»([27]) “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے، دوسرے مسلمان سلامت ومحفوظ رہیں!”۔
حضرت سیِّدنا ابو موسیٰ اشعری رضي الله عنه نے فرمایا، کہ صحابۂ کرام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کونسا اسلام افضل ہے؟ (یعنی کون اچھامسلمان ہے؟) رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِه»([28]) “جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں!”۔
ایک اچھے اور حقیقی مسلمان کی پہچان ہے، کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو ذلیل ورُسوا نہیں کرتا، نہ انہیں حقیر جانتا ہے۔ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «المُسْلِمُ أَخُو الْمسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ»([29]) “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر نہ ظلم کرتا ہے، نہ اسے ذلیل کرتا ہے، اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے!”۔
اس کے برعکس جو شخص ایسا کرے، وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُلُّ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُه»([30]) “ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزّت (وآبرُو پامال کرنا) حرام ہے!”۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ شادی بیاہ ہو یا کوئی اَور مَوقع، اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی عزّت وحرمت کا خیال رکھیں، بلاوجہِ شرعی انہیں اَذیّت نہ دیں، اُن کی غربت کا مذاق نہ اُڑائیں، انہیں ذلیل ورُسوا نہ کریں، اور نہ ہی اُن کی عزتِ نفس کو مجروح (پامال) کریں!۔
بیہودہ رسموں اور فُضولیات کو ترک کریں
اکثر گھرانوں میں ان فُضول رسموں کا بوجھ اٹھانے کی سکت اور طاقت نہیں ہوتی، لیکن وہ اپنی ظاہری نمود ونمائش کو برقرار رکھنے، اور صرف لوگوں کی باتوں سے بچنے کی خاطر، سُودی قرض کے بوجھ تلے دبنے سے بھی گریز نہیں کرتے! حالانکہ ایسا کرنا حرام ہے۔
صدر الشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی رحمة الله شادی کی رسموں کی غرض سے، قرض لینے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ * “بعض لوگ (رُسوم کی) اِس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے، مگر (انہیں) رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں! مثلاً لڑکی جوان ہے، اور رُسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں، تو یہ نہ ہوگا کہ رُسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں؛ کہ سُبکدوش ہوں اور فتنہ کا دروازہ بند ہو! اب رُسوم کے پورا کرنے کو بھیک مانگنے [كے لیے] طرح طرح کی فکریں کرتے، اس خیال میں کہ کہیں سے مل جائے تو شادی کریں، برسیں (کئی سال) گزار دیتے ہیں، اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
* بعض لوگ قرض لے کر رُسوم کو انجام دیتے ہیں، یہ ظاہر کہ مفلس کو قرض دے کون؟ پھر جب یوں قرض نہ ملا تو بَنیوں (ہندو تاجروں) کے پاس گئے اور سُودی قرض کی نَوبت آئی، سُود لینا جس طرح حرام (ہے) اسی طرح دینا بھی حرام (ہے)، حدیث میں دونوں پر لعنت آئی، اﷲ ورسول کی لعنت کے مستحق ہوتے، اور شریعت کی مخالفت کرتے ہیں، مگر رسم چھوڑنا گوارا نہیں کرتے!۔
* پھر اگر باپ دادا کی کمائی ہوئی کچھ جائیداد ہے تو اُسے سُودی قرض میں مکفول (Pledge) کیا، ورنہ رہنے کا جَھونپڑا ہی گِروی رکھا، تھوڑے دنوں میں سُود کا سیلاب سب کو بہالے گیا! جائیداد نیلام ہوگئی، مکان بَنیے (ہندو تاجر) کے قبضہ میں گیا، دَربدَر مارے مارے پھرتے ہیں، نہ کھانے کا ٹھکانہ، نہ رہنے کی جگہ۔ اس کی مثالیں ہر جگہ بکثرت ملیں گی، کہ ایسے ہی غیرضروری مَصارف کی وجہ سے مسلمانوں کی بیشتر جائیدادیں سُود کی نذر ہو گئیں! پھر قرض خواہ کے تقاضے اور اُس کے تشدُد آمیز لہجہ سے رہی سہی عزّت پر بھی پانی بہہ جاتا ہے۔ یہ ساری تباہی بربادی آنکھوں دیکھ رہے ہیں، مگر اب بھی عبرت نہیں ہو تی، اور مسلمان اپنی فُضول خرچیوں سے باز نہیں آتے!”([31])۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے، ان تمام بیہودہ رسموں اور فُضولیات کو ترک کریں، سادگی اختیار کریں، اور نکاح جیسی عظیم اور بابرکت سنّت کی ادائیگی میں آسانی پیدا کریں!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں قرآن وسنّت کا پابند بنا، نکاح سمیت دیگر تمام فرائض وواجبات اور مُعاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرما، ہمیں رشتہ کرتے وقت اچھے اور نیک لوگوں کا انتخاب کرنے کی توفیق عطا فرما، جن کے رشتوں میں رکاوَٹیں ہیں انہیں دُور فرما، نیک اور صالح رشتے عطا فرما، ہمیں اپنی اَولاد کی جائز خواہشات کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرما، بے جا فُضول خرچی اور اِسراف ، نمود ونمائش، غُرور وتکبُر اور تفاخُر سے بچا، اور شادی بیاہ سمیت تمام تقریبات میں گانے باجوں، بےپردگی، فُضولیات ولَغویات اور بیہودہ وغیرشرعی رسموں سے بچا، آمین یا ربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([3]) انظر: “البدر المنير” لابن ملقَّن، كتاب النكاح، باب ما جاء في فضله، 7/425.
([4]) انظر: “صحيح مسلم” كتاب النكاح، باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه …إلخ، ر: 1، الجزء 4، صـ128.
([5]) “مرآۃ المناجیح” نکاح کا بیان، پہلی فصل، زیرِ حدیث: 3080، 5/2، ملتقطاً۔
([6]) انظر: “شُعَب الإيمان” الباب 37 في تحريم الفُروج …إلخ، فصل في الترغيب في النكاح …إلخ، ر: 5488، 4/1918.
([7]) انظر: “الفردَوس بمأثور الخطاب“ للدَيلَمي، باب الألف، ر: 282، 1/88.
([8]) “التيسير شرح الجامع الصغير” حرف الهمزة، تحت ر: 1567، 2/63.
([9]) انظر: “صحيح مسلم” كتاب النكاح، باب استحباب نكاح ذات الدِين، ر: 53، الجزء 4، صـ175.
([10]) المرجع نفسه، كتابُ الرَّضاع، باب خير مَتاع الدنيا …إلخ، ر: 59، الجزء 4، صـ178.
([12]) “مرآۃ المناجیح” نکاح کا بیان، پہلی فصل، زیرِ حدیث: 3083، 5/3، ملتقطا ً۔
([13]) انظر: “سنن الترمذي” أبواب النكاح، باب ما جاء فيمَن تضرضون دِينَه فزوّجُوه، ر: 1109، صـ524.
([14]) “مرآة المناجيح” نکاح کا بیان، دوسری فصل، زیر حدیث: 3090، 5/7، ملتقطا ً۔
([15]) پ١٥، بني إسرائيل: ٢٦، ٢٧.
([16]) انظر: “صحیح البخاري، کتاب الزکاة، ر: ١٤٧٧، صـ483.
([17]) انظر: “مُستدرَك الحاكم” كتاب النكاح، أما حديث سالم، ر: 2742، 2/198.
([18]) انظر: “شُعَب الإيمان” 42- باب في الاقتصاد …إلخ، ر: 6567، 5/2239.
([19]) “مرآة المناجيح” نکاح کا بیان، تیسری فصل، زیرحدیث: 3097، 5/11۔
([22]) انظر: “سنن النَّسائي” كتاب النكاح، باب جهاز الرجل ابنته، ر: 3384، صـ796.
([23]) انظر: “صحيح البخاري” كتاب المَغازي، باب غزوة خيبر، ر: 4213، صـ1045.
([24]) المرجع نفسه، كتاب النكاح، باب الوليمة ولو بشاةٍ، ر: 5168، صـ1295.
([25]) دیکھیے: “بہارِ شریعت” حصّہ 16، نکاح کا بیان، ولیمہ اور ضِیافت کا بیان، 3/388، ملخصا ً۔
([26]) انظر: “صحيح البخاري” كتاب البيوع، ر: 2048، صـ593.
([27]) المرجع نفسه، كتاب الإيمان، باب: المسلم من سَلِمَ المُسْلِمُونَ …إلخ، ر: 10، صـ196، 197.
([28]) المرجع السابق، باب: أيّ الإسلام أفضل؟ ر: 11، صـ197.
([29]) انظر: “صحيح مسلم” كتاب البرّ والصلة والآداب، باب تحريم ظلم المسلم …إلخ، ر: 32، الجزء 8، صـ11.