شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا

Home – Single Post

شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا

خاندانِ رسالت ﷺ کی ہر مہکتی کلی اپنی سیرت وکردار سے سارے جہاں کو مہکا رہی ہے، انہی میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی لختِ جگر، خاتونِ جنّت، سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ کی ولادتِ با سعادت اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہوئی، لہذا وہ گھر “مَولدِ فاطمہ” کے نام سے مشہور  ہے([1])۔

مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

یہ بھی ضرور پڑھیں :مسلمان كا اپنے نبی ﷺ سے تعلق

عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی ولادتِ با سعادت کس سَن میں ہوئی؟ اس بارے میں مؤرِّخین کا باہم اختلاف ہے، البتہ قولِ مشہور کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت اعلانِ نبوّت سے پانچ 5 سال قبل، اُس وقت ہوئی جب اہلِ قریش بیت اللہ شریف کی تعمیر میں مصروف تھے([2])۔ شیخ عبد الحق محدِّث دہلوی رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی کتاب “مدارِج النبوّت” میں اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے([3])۔

حضراتِ گرامی قدر! لفظ “فاطمہ” کا لُغوی معنی:  چھڑانے والی ہے([4])۔ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمہُ اللہ علیہ اس نام کا معنی ومفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “نام حضرت زہرا کا ہے فاطمہ، چھڑانے والی، آتش ِجہنّم سے نَجات دینے والی”([5])۔

حضورِ اقدس ﷺ نے اپنی صاحبزادی کا نام فاطمہ رکھا؛ کہ حق تعالی نے انہیں اور ان کے اہلِ محبت کو آتشِ دوزخ سے محفوظ رکھا ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،  مصطفی جان رحمت ﷺ نے فرمایا ہے: «إنّما سمّيتُ ابنتي فاطمةَ؛ لأنّ اللهَ فطمَها ومحبِّيها عن النّار»([6]) “یقیناً میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھاہے، کہ اللہ تعالی نے اسے اور اس کے محبّین کو دوزخ سے دُور رکھا ہے”۔

حکیم الاُمت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمہُ اللہ علیہ “مرقات” کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ “اللہ تعالی نے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا، اُن کی اَولاد اور اُن کے محبّین کو دوزخ کی آگ سے دُور کیا ہے، لہذا آپ رضی اللہ عنہا کا نام فاطمہ ہوا (اور) آپ کا لقب ہے “بتول” اور “زہرا”۔ بتول کے معنی ہیں: منقطع ہونا، کٹ جانا ﴿وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا﴾([7]) (“سب سے ٹوٹ کر اُسی (اللہ تعالی) کے ہو رہو”) چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ تھیں، لہذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی، آپ رضی اللہ عنہا جنّت کی کلی ہیں، حتی کہ آپ کو کبھی حیض (Menses)  نہیں آیا، آپ کے جسم پاک سے جنّت کی خوشبو آیا کرتی جسے حضور ﷺ سونگھا کرتے تھے، لہذا آپ کا لقب زہرا ہوا۔ ہم نے عرض کیا: ؏

بتول وفاطمہ زَہرا لقب اس واسطے پایا

کہ دنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنّت کی نگہت کا”([8])

حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

حضراتِ ذی وقار! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا جگر گوشۂ رسول ہیں، حضور نبئ کریم ﷺ آپ سے بڑی محبت فرماتے، حضرت سیِّدنا مِسْوَر بن مَخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي»([9]) “فاطمہ میرے (جگر کا) ٹکڑا ہے، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا”۔

حضرت سیِّدنا مِسْوَر بن مَخرمہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اَور روایت میں ہے، سروَرِ دوجہاں ﷺ نے فرمایا: «يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»([10]) “جو چیز فاطمہ کو پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے، اور جو اُسے تکلیف دے وہ مجھے ستاتا ہے”۔

حضرت سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سمیت دیگر تمام اہلِ بیت سے محبت، رسول اکرم ﷺ سے محبت ہے، اور ان مقدَّس ہستیوں سے جنگ، سروَرِ کونین ﷺ سے جنگ کے مترادِف ہے، حضرت سیِّدنا زید بن اَرقم رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سیِّدنا علی، سیِّدہ فاطمہ اور امام حسن وحسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالمْتُمْ»([11]) “جو تم سےجنگ کرے میں اُس سے جنگ کرتاہوں، اور جو تم سے صلح کرے میں اُس سے صلح کرتا ہوں”۔

عزیزانِ مَن! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی رضا میں اللہ تعالی کی رضا ہے، اور اُن کی ناراضی اللہ B کی ناراضی کا باعث ہے؛ حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «یا فاطمة! إنّ الله یغضب لِغَضَبِكِ، ویَرضى لرضاك»([12]) “اے فاطمہ تیرے غضب سے غضبِ الہی ہوتا ہے، اور تیری رضا سے اللہ تعالی راضی ہوتا ہے”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کوئی ان کی کسی اَولاد کو اِیذاء پہنچائے، اس نے اپنی جان کو اس خطرۂ عظیمہ میں ڈال دیا؛ کیونکہ اس حرکت سے اُن کو غضب ہوگا، اور اُن (سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) کا غضب غضبِ الہی کا مُوجِب (باعث) ہے، اسی طرح اہلِ بیت -علیہم الرضوان- کی محبت حضرت خاتونِ جنّت کی رضا کا سبب ہے، اور اُن کی رضا  رضائے الہی”([13])۔

جانِ برادر! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا انسانی شکل میں حُور ہیں، اور ظاہری وباطنی طہارت کا پیکر ہیں، حضرت سیِّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «إنّ ابنتي فاطمة حوراء آدمیّة، لم تَحض ولم تطمث»([14]) “بےشك میری صاحبزادی بتول زہرا، انسانی شکل میں حُوروں کی طرح حیض ونفاس سے پاک ہے” ؏

سیِّدہ زاہرہ طیِّبہ طاہرہ

 جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام([15])

میرے محترم بھائیو! دُخترِ رسول حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا افضل ترین جنّتی خواتین میں سے ہیں، حضرت سیِّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْن»([16]) “جنّتی خواتین میں سب سے افضل: خدیجہ بنت خوَیلد،  فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران، اور فرعون کی زَوجہ آسیہ بنت مُزاحم ہیں”۔

حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا جنّتی عورتوں کی سردار ہیں، حضرت سیِّدنا حُذیفہ بن یَمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الجَنَّةِ»([17]) “فاطمہ جنّتی عورتوں کی سردار ہیں”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حضرت زہرا بتول رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کو اہلِ بیت میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، حضرت سیِّدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سیِّدنا علی المرتضی اور سیِّدنا عباس رضی اللہ عنہ ایک بار بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ سے یہ بات پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے، کہ اہلِ بیت میں آپ کو زیادہ محبوب کون ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ»([18]) “فاطمہ بنت محمد ﷺ”۔

حضرت سیِّدنا بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللهِ g فَاطِمَةُ، وَمِنَ الرِجالِ عَلِيٌّ»([19]) “رسول اللہ ﷺ کو خواتین میں سب سے زیادہ محبت (اپنی لاڈلی شہزادی) سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تھی، اور مَردوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے”۔

رسولِ اللہ ﷺ حضرت سیِّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا سے کس قدر زیادہ محبت فرماتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ رحمتِ عالمیان ﷺ سفر پر جانے سے قبل سب سے آخری،  اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلی ملاقات، اپنی لاڈلی شہزادی سیِّدہ فاطمہ بتول زہراء رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ فَاطِمَةَ، وَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ كَانَ أَوَّلُ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا فَاطِمَةَ i»([20]) “رسولِ اکرم ﷺ جب سفر کا اِرادہ فرماتے، تو  سب سے آخر میں  حضرتِ  سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات فرماتے، اور جب سفرسے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کو شرفِ ملاقات بخشتے”۔

برادران۱ِ اسلام! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سیرت وصورت اور حُسن وجمال میں حضور نبئ کریم ﷺ سے بہت مُشابہت رکھتی ہیں، امّ المؤ منین سيِّده عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَشْبَهَ سَمْتاً وَدَلّاً وَهَدْياً بِرَسُولِ اللهِ فِي قِيَامِهَا وَقُعُودِهَا، مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ الله g»([21]) “میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ جو بیٹھنے اٹھنے، چلنے پھرنے، حُسن وخُلق اور گفتگو میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ، سیِّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مُشابہ ہو”۔

حکیم الاُمت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضرت (سیِّدہ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سر سے پاؤں تک ہمشکلِ مصطفی تھیں، آپ رضی اللہ عنہا کی چال ڈھال، ہر وضع قطع حضور کے مشابہ تھی، اللہ نے رسول ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر بنایا تھا۔ ہم نے عرض کیا: ؏

رسول اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا

کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیرِ نبوّت کا([22])

Hazrat Ali

یہ بھی ضرور پڑھیں :شانِ مولائے کائنات رضي الله عنه

سیِّدِ عالَم ﷺ نے حضرت سیِّدنا علی -کرّم الله تعالی وجہہ- سے فرمایا: «إنّ الله b أمرَني أن أزوِّجَكَ فاطمةَ على أربعمئةِ مثقالِ فضّةٍ، أرضيتَ بذلك؟» “مجھے اللہ نے حکم دیا ہے، کہ میں اپنی بیٹی فاطمہ کا نکاح تم سے، چار سو 400 مثقال چاندی مَہر پر کر دُوں، کیا تم راضی ہو؟ حضرت مَولی علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جى ہاں يا رسول الله میں بخوشی قبول کرتا ہوں! پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: «بارَكَ عليكما، وأخرَجَ منكما كثيراً طيّباً»([23]) “اللہ تعالی تم دونوں کو برکت دے! اور نیک وپاک اولادِ کثیر عطا فرمائے!”۔

۲ ہجری رمضان میں حضرت سیِّدہ بتول زہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح جناب سیِّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوا، اور ذی الحجہ میں رخصتی ہوئی، آپ رضی اللہ عنہا کی اَولاد مبارک کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں: (1) حسن (2) حسین (3) محسن (4) زینب (5) اُمّ کلثوم (6) رُقیّہ([24])۔ ؏

کیا بات رضا اُس چمنستانِ کرم کی

زَہرا ہے کَلی جس میں حسین اور حسن پھول([25])

شہزادئ کونین ہونے کے باوُجود سیّدہ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا کے گھر دنیاوی مال واَسباب اور اشیائے ضرورت نہ ہونے کے برابر تھیں، آپ رضی اللہ عنہا کے گھر میں صرف ایک بچھونا تھا، جو رات کو اوڑھنے کے کام آتا، اور دن میں بیٹھنے کے لیے استعمال میں لایا  جاتا، مولائے کائنات سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «لَقَدْ تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ وَمَا لِي وَلَهَا فِرَاشٌ غَيْرُ جِلْدِ كَبْشٍ، نَنَامُ عَلَيْهِ بِاللَّيْل، وَنَعْلِفُ عَلَيْهِ النَّاضِحَ بِالنَّهَارِ. وَمَا لِي وَلَهَا خَادِمٌ غَيْرُهَا»([26]) “حضرت فاطمہ سے میری شادی ہوئی، تو میرے اور اُن کے لیے دُنبے کی کھال کا صرف ایک بچھونا تھا، رات میں اُسے اوڑھ کر سوتے، اور دن میں اُسے (بیٹھنے کے لیے) بچھا لیتے تھے، اور ہمارے پاس خادم بھی کوئی نہیں تھا”۔

حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ اور حضرت سیِّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا باہم ایک دوسرے سے بڑی محبت کرتے تھے، اور اپنی اِزدِواجی زندگی میں بہت خوش تھے، لیکن بتقاضائے بَشریت بعض اَوقات میاں بیوی میں باہم ناراضی کے واقعات بھی پیش آئے،  لیکن دونوں  اس چیز کو کبھی اَنا کا مسئلہ نہ بناتے، اور جلد ہی صلح فرما لیتے تھے۔

حضرت سیِّدنا حبیب بن ابو ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ایک بار حضرت علی اور سیِّدہ فاطمہ کے مابین کسی بات پر باہم ناراضی ہو گئی، تو نبئ کریم ﷺ اُن کے ہاں تشریف لے گئے، رسولِ اکرم ﷺ کے لیے بستر بچھیا گیا، جس پر آپ ﷺ پہلو کے بل لیٹ گئے، (اس دَوران) حضرت سیِّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا حاضرِ خدمت ہوئیں تو ایک جانب بیٹھ گئیں، رحمتِ عالمیان ﷺ نے دونوں کا ہاتھ پکڑ کر باہم صلح کروا دی، رسول الله ﷺ جب باہر تشریف لائے تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جب آپ اندر تشریف لے گئے تھے تو رُوئے انور (چہرۂ مبارک) پر حُزن وملال (پریشانی وغم) کے آثار تھے، اب باہر تشریف لائے ہیں تو ہم حضور کے رُوئے انور پر مسرّت وشادمانی دیکھ رہے ہیں! تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ أَصْلَحْتُ بَيْنَ أَحَبِّ اثْنَيْنِ إِلَيَّ؟»([27]) “مجھے خوش ہونے سے اب کوئی  چیز مانع (رکاوٹ)  نہیں ہے؛ کیونکہ میں نے اُن دو2 (ہستیوں)  میں  صلح کروائی ہے، جو مجھے بہت زیادہ پیارے ہیں”۔

عزیز انِ مَن! حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عفّت، عِصمت اور پاکدامنی کے سبب آپ کی اَولاد پر جہنّم کی آگ حرام کر دی گئی ہے، حضرت سيِّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «إِنَّ فَاطِمَةَ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا، فَحَرَّمَ اللهُ ذُرِّيَتَهَا عَلَى النَّارِ»([28]) “یقیناً فاطمہ پاکدامن ہیں، تو اللہ تعالی نے ان کے سبب ان کی اَولاد پر جہنم کی آگ حرام کر دی ہے”۔

ایک اَور مقام پر حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «إِنَّ اللهَ e غَيْرَ مُعَذِّبِكِ، وَلَا وَلَدِكِ»([29]) “بے شک اﷲ نہ تمہیں عذاب فرمائے گا، نہ تمہاری اَولاد کو”۔

حضور نبئ کریم ﷺ حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا  سے بڑی محبت فرماتے، اور جب آپ بارگاہِ رسالت میں زیارت کے لیے حاضر ہوتیں، تو رحمتِ عالمیان ﷺ کھڑے ہو کر اپنی بیٹی حضرت بتول زہرا رضی اللہ عنہا کا استقبال فرماتے، اور شفقت سے اُن کا ہاتھ چُوما کرتے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَبَّلَهَا، وَأَجْلَسَهَا في مَجْلِسِهِ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ، فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَقَبَّلَتْهُ، وَأَجْلَسَتْهُ في مَجْلِسِهَا»([30]) “حضرت فاطمہ جب اللہ کے حبیب ﷺ کی خدمتِ اقدس ميں حاضر ہوتيں، تو حضور اُن کے لیے کھڑے ہو جاتے، پھر اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لے ليتے، اسے بوسہ ديتے اور انہیں اپنی مَسندِ خاص پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب حضور اکرم ﷺ حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے، تو وہ بھی آپ ﷺ کو ديکھ کر کھڑی ہو جاتيں، آپ کا ہاتھ مبارک اپنے ہاتھ ميں لیتیں، اسے چُومتیں اور حضور ﷺ کو اپنی خاص جگہ پر بٹھاتيں”۔

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ بھی حضرت سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے، ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق، سیِّدہ فاطمۃُ الزہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا: «يَا فَاطِمَةُ! وَاللهِ مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ الله g مِنْكِ! وَاللهِ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَبِيكِ g أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكِ!»([31]) “اے فاطمہ! اللہ کی قسم آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو رسول اللہ ﷺ کا محبوب نہیں دیکھا! اور بخدا! آپ کے والدِ گرامی (یعنی نبئ کریم ﷺ) کے بعد لوگوں میں سے، کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز وپیارا نہیں!”۔

عام طَور پر نسَب کا سلسلہ باپ سے چلتا ہے، لیکن حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو یہ شرف بھی حاصل ہے، کہ ان کی اَولاد کو رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی اَولاد قرار دیا، اور خود کو اُن کا ولی ووارث قرار دیا، حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ بَنِي أُمٍّ يَنْتَمُونَ إِلَى عَصَبَةٍ إِلَّا وَلَدَ فَاطِمَةَ، فَأَنَا وَلِيُّهُمْ وَأَنَا عَصَبَتُهُمْ»([32]) “سب کی اَولادیں اپنے باپ کی طرف نسبت کی جاتی ہیں سوائے اَولادِ فاطمہ کے، کہ میں اُن کا ولی اور وارِث (یعنی جدّ ِامجد) ہوں”۔

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اﷲ تعالی نے یہ فضیلت خاص امام حسن وامام حسین اور ان کے حقیقی بھائی بہنوں کو عطا فرمائی -رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین- کہ وہ رسول اﷲ ﷺ کے بیٹے ٹھہرے، پھر ان کی جو خاص اَولاد ہے ان میں بھی وہی قاعدہ عام جاری ہوا، کہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہوں، اس لیےسبطین کریمین (رسول اللہ ﷺ کے نواسوں) کی اَولاد “سیّد” ہیں، نہ کہ بناتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اَولاد؛ کہ وہ اپنے والدوں ہی کی طرف نسبت کی جائیں گی”([33])۔ ؏

خونِ خیرُ الرُسُل سے ہے جن کا خمیر

اُن کی بےلَوث طینت پہ لاکھوں سلام!([34])

حضرت سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا عشقِ رسول کا پیکر تھیں، آپ رضی اللہ عنہا مصطفی جانِ رحمت ﷺ سے بے حد پیار ومحبت کرتی تھیں، اور رسولِ اکرم  ﷺ کو اپنے دل وجان سے زیادہ محبوب رکھتیں، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “ایک روز حضرت فاطمہ روتی ہوئی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئیں، تو رحمتِ عالمیان ﷺ نے دریافت فرمایا: «يَا بُنَيَّةُ مَا يُبْكِيكِ؟» “اے میری پیاری بیٹی کیوں روتی ہو؟” حضرت فاطمہ نے عرض کی کہ میں کیوں نہ روؤں؟کفّار کا ایک گروہ اس بات پر لات، عُزی اور مَنات کی قسمیں کھا رہا ہے، کہ آپ (حضور) ﷺ کو دیکھتے ہی شہید کر دیں گے! اور ان میں کوئی شخص ایسا نہیں جو آپ ﷺ کوشہید کرنے کے درپَے نہ ہو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَا بُنَيَّةُ ائْتِنِي بِوَضُوءٍ!» “اے میری پیاری بیٹی! میرے پاس وضو کا برتن لے کر آؤ” پھرحضور نبئ کریم ﷺ نے وضو فرمایا، اور مسجد کی طرف تشریف لے گئے، جب کفّارِ قریش نے رسولِ اکرم ﷺ کو دیکھا تو (بے اختیار) یہ بول اٹھے کہ “یہ رہے وہ (محمد)”  پھر اُن کے سر جھک گئے، اور ان کی ٹھوڑیاں ساقط ہو گئی، یہ اپنی آنکھیں تک اوپر نہ اٹھا سکے، رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی میں خاک لے کر ان پر ماری اور فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» “چہرے بگڑ گئے!” لہذا جس جس شخص کو (اُس دن) تاجدارِ رسالت ﷺ کے دستِ مبارکہ سے کوئی کنکر   لگا، وہ غزوۂ بدر کے دن حالتِ کفر میں قتل ہوا”([35])۔

سروَرِ دو جہاں ﷺ کی لاڈلی شہزادی حضرت سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا وصفِ اِیثار وسخاوت بھی اَوجِ کمال پر تھا، آپ کے دَر پر آنے والا کوئی سائل خالی ہاتھ نہیں لَوٹتا تھا، اور  بظاہر تنگدستی کے باوُجود خُوب صدقہ وخیرات فرماتیں، حضرت سیِّدنا زید بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “رسول اللہ ﷺ کی شہزادی سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، اپنا مال بنو ہاشم اور بنو مطلب پر صدقہ کر دیا کرتیں”([36])۔

حضور نبئ کریم ﷺ نے سیِّدہ بی بی فاطمہ اور حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مابین گھریلو کام کاج تقسیم فرما دیے تھے؛ تاکہ کسی ایک فرد پر سارا بوجھ نہ پڑے، اور گھریلو اُمور کو احسن انداز سے انجام دیا جا سکے، حضرت سیِّدنا ضَمرَہ بن حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «قَضَى رَسُولُ الله g عَلَى ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ بِخِدْمَةِ الْبَيْتِ، وَقَضَى عَلَى عَلِيٍّ بِمَا كَانَ خَارِجاً مِنَ البَيتِ مِنَ الخِدمَةِ»([37]) “رسول اللہ ﷺ نے اُمورِ خانہ داری (مثلاً چکی پیسنا، کھانا پکانا اور جھاڑو وغیرہ لگانا) اپنی شہزادی فاطمہ کے سپرد فرمائے، اور گھر سے باہر کے کام (مثلاً بازار سے سودا سلف لانا اور اونٹ کو پانی پلانا وغیرہ) حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ذمّہ لگا دیے”۔

دُخترِ رسول حضرت سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھریلو کام کاج کے حوالے سے اپنی اس ذمہ داری کو نہایت خُوش اُسلوبی سے انجام دیا، اس اَمر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «وَكَانَتْ أَحَبَّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَتْ عِنْدِي فَجَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا، وَأَصَابَهَا مِن ذَلِكَ ضُرٌّ»([38]) “حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور نبئ کریم ﷺ کو اپنے اہل وعِیال میں سب سے زیادہ محبوب تھیں، وہ میری زَوجیت میں تھیں، وہ چکّی چلایا کرتی تھیں جس سے اُن کے ہاتھ سخت ہو گئے تھے، وہ مشکیزے سے پانی بھر کر لایا کرتی تھیں، جس سے اُن کی گردن پر نشان پڑ گئے تھے، وہ گھر میں جھاڑُو دیا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے غبار آلُود ہو جاتے، وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلایا کرتی تھیں، جس سے اُن کے کپڑے خراب ہو جایا کرتے، اور انہیں ایسا کرنے میں مشکل بھی پیش آتی تھی”۔

ایک بار رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے، تو حضرت سیِّدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو، رحمتِ عالمیان ﷺ سے اپنے لیے غلام مانگ لانے کا مشورہ دیا، اس غرض سے کاشانۂ اقدس پر حاضر ہوئیں، تو حضور نبئ کریم ﷺ کو نہ پایا، لہذا حضرت سیِّدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے آنے کا سبب بیان کیا اور واپس تشریف لے آئیں، حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “حضور ﷺ ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم سونے کے لیے  بستر پر لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو فرمایا: «مَكَانَك» “اپنی جگہ پر رہو!” حضور نبئ کریم ﷺ تشریف لائے، میرے اور سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھ گئے، حتی کہ میں نے حضور ﷺ کے قدم کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا، أَوْ أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَكَبِّرَا ثَلاَثاً وَثَلاَثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاَثاً وَثَلاَثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلاَثاً وَثَلاَثِينَ، فَهَذَا خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ»([39]) “کیا میں تمہیں خادِم سے بہتر چیز نہ بتا دُوں؟ جب تم اپنے بستر  پر (سونے کے لیے) آؤ تو ۳۳ بار “سبحان اﷲ” پڑھ لو، اور ۳۳  بار “الحمدﷲ” اور ۳۴ بار “اﷲ اکبر” یہ عمل  تمہارے لیے خادِم سے بہتر ہے”۔

مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے ہمیں یہ درس ملتا ہے، کہ گھریلو کام کاج کو ہرگز بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے، اور اُمورِ خانہ داری کو بنیاد بنا کر گھر میں لڑائی جھگڑا سے اجتناب کرنا چاہیے، نیز وہ والدین جو گھریلو کام کاج کے باعث اپنی بیٹیوں کے سسرال کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے اُسوۂ حسَنہ کو پیشِ نظر رکھیں، اور اُس پر عمل کریں، کہ تاجدارِ رسالت ﷺ اگر چاہتے تو اپنی شہزادی کی سہولت کے لیے خادِم عنایت فرما دیتے، لیکن مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے تعلیمِ اُمت کے لیے ایسا نہ فرمایا، اور حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو “تسبیحِ فاطمہ” تعلیم فرمائی۔

بحیثیت زوجہ سیِّدہ بی بی فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا نہایت صابر وشاکر خاتون تھیں، آپ رضی اللہ عنہا نے انتہائی غربت اور مشکلات کے باوُجود ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا، کبھی اپنے شَوہر حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے حرفِ شکایت اپنی زبان مبارک پر نہ لائیں، نیز خود سروَر ِ دوجہاں ﷺ نے بھی حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے اس اَمر کا کبھی شکوہ نہیں فرمایا، بلکہ ہمیشہ اپنی لاڈلی شہزادی کو صبر کی تلقین فرماتے رہے!۔

حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ایک روز حضور نبئ کریم ﷺ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے، آپ اس وقت اونٹ کے بالوں سے بنا  ہوا موٹا لباس زیبِ تن کیے چکّی میں آٹا پیس رہی تھیں، سروَرِ کونین ﷺ کی اُن پر نظر پڑی تو حضور ﷺ کی  آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، سرکارِ دو جہاں ﷺ نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: «يا فاطمة! تجرعي مرارة الدنيا لنعيم الأبد»([40]) “بیٹی فاطمہ! دنیا کی تنگی پر صبر کرو؛ تاکہ (تمہیں) جنّت کی اَبَدی نعمتیں حاصل ہوں”۔

آج ہماری بہو بیٹیوں کو چاہیے کہ حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہاکی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں، ان کے نقشِ قدم کی پَیروی کریں، گھریلو کام کاج سے تنگ آکر کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں، بلکہ صبر کریں؛ کہ صبر کے بدلے بروزِ قیامت جنّت کی اَبَدی نعمتیں حاصل ہوں گی! البتہ اگر شوہر بے جا مار پیٹ کرتا ہو،  نان نفقہ (خرچہ وغیرہ) نہ دیتا ہو، یا عورت کے دیگر حقوق ادا نہ کرتا ہو، تو عورت عزت واحترام اور ادب کے ساتھ اپنے جائز حقوق  کا مُطالبہ کر سکتی ہے، کہ اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو یہ شرف بھی حاصل ہے، کہ سرکارِ دوجہاں ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد سب سے پہلے آپ کا وصال شریف ہوا، اور آپ رضی اللہ عنہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ سے جا ملیں، اور اس اَمر کی پیشگی خبر خود رسول اللہ ﷺ نے سیِّدہ فاطمہ کو دی، اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: «إِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقاً بِي!»([41]) “میرے اہل وعِیال میں، تم سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی!”۔

اپنے بابا جان رحمتِ عالمیان ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد، حضرت سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا حضور نبئ کریم ﷺ کی یاد اور فراق میں اکثر بےچین رہا كرتیں، اور بالآخر رسول اللہ ﷺ کے وصالِ ظاہری کے تقریبا ً چھ 6 ماہ بعد 3 رمضان المبارک کو، حضرت سیِّدہ بتول زہرا رضی اللہ عنہا بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں،  وصال شریف کے وقت آپ کی عمر شریف اٹھائیس 28  برس تھی([42])۔

حضرت سیِّدہ بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟ اس بارے میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ آپ کی نمازِ جنازہ حضرت سیِّدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی([43])، دوسرا قول ہے کہ  حضرت سیِّدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی([44])، جبکہ تیسرا اور صحیح قول یہ ہے کہ سرَورِ کونین ﷺ کی لاڈلی شہزادی سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی([45])۔

مختار قول کے مطابق حضرت سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مزارِ پُر انوار مدینہ منوّرہ کے مشہور قبرستان “جنّت البقیع” میں ہے([46])۔

اے اللہ! ہمیں خاتونِ جنّت کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرما، ان سے سچی محبت نصیب فرما،  ہماری ماؤں بہنوں کو سیِّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی شرم وحیا سے وافر حصہ عطا فرما، حضرت بتول زہرا رضی اللہ عنہا کی  طرح مشکلات اور مَصائب پر صبر کا جذبہ عنایت فرما، ہر حال میں خوش رہنے کی سوچ عطا فرما،  قناعت کی دَولت عطا فرما، مسلمان خواتین کو اپنے شَوہروں  کی ناشکری سے بچا،  ہمیں اپنی بہو بیٹیوں کو سیِّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر عمل کی سوچ عطا فرما، اہلِ بیت کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ان کی بے ادبی اور گستاخی سے محفوظ فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “السيرة الحلَبية” باب ذكر مولده g، 1/91، 92.

([2]) “الطبقات الكبرى” لابن سعد، 4097- فاطمة بنت رسول الله g، 8/16.

([3]) “مدارج النبوّت” قسم 5، باب اوّل در ذکر اولاد، وصل دختران آنحضرت ﷤، جزء 2، ؃ 459۔

([4]) “المعجم الوسيط” باب الفاء، فطم، 2/695.

([5]) “فتاوی رضویہ” کتاب المناقب والفضائل، رسالہ “مُنية اللَّبیب أنّ التشریعَ بیدِ الحبیب” 19/285۔

([6]) “الصواعق المحرقة” الباب 11، الفصل 1، صـ153. و”كنز العمّال” حرف الفاء، كتاب الفضائل من قسم الأقوال، الباب 5، الفصل 2 في فضائل أهل البيت، ر:34222، 12/50.

([7]) پ29، المزّمّل: 8.

([8]) “مرآۃ المناجیح” نبی ﷺ کے گھر والوں کے فضائل، پہلی فصل،8/413۔

([9]) “صحيح البخاري”  كتاب أصحاب النبّي g، ر: 3714، صـ946.

([10]) المرجع نفسه، كتاب النكاح، ر: 5230، صـ1308.

([11]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ما جاء في فضل فاطمة i، ر: 3870، صـ 873.

([12]) انظر: “معجم أبي يعلى الموصلي” باب العين، ر: 220، 1/190. و”الصواعق المحرقة” الباب 11 في فضائل أهل البيت …إلخ، الفصل 1، صـ175، ملتقطاً.

([13]) “سوانحِ کربلا” اہلِ بیتِ نبوّت، ؃ 87۔

([14]) انظر: “کنز العمّال” حرف الفاء، كتاب الفضائل من قسم الأقوال، الباب 5، الفصل 2 في فضائل أهل البيت، ر: 34221، ١٢/50.

([15]) “حدائقِ بخشش” حصّہ دُوم، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، ؃ 309۔

([16]) “مُسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن عباس k، ر: 2903، 1/678. و”السنن الكُبرى” للنَّسائي، كتاب المناقب، مناقب مريم بنت عمران i، ر: 8297، 7/388. و”مستدرَك الحاكم” كتاب التفسير، تفسير سورة التحريم، ر: 3836، 4/1437. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد، ولم يخرجاه بهذا اللفظ”. ]وقال الذَهبي:[ “صحيحٌ”.

([17]) “صحيح البخاري” كتاب فضائل أصحاب النّبي g، تحت باب مناقب قرابة رسول الله g…إلخ، صـ945. و”السنن الكُبرى” للنَّسائي، كتاب المناقب، حذيفة بن اليمان h، ر: 8240، 7/368.

([18]) “مُسند أبي داود الطيالسي” مسند أسامة بن زيد، ر: 668، 2/24. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب مناقب أسامة بن زيد h، ر: 4154، صـ1249. [قال أبو عيسى:] “هذا حديثٌ حسن. وكان شُعبةُ يضعِّف عمرَ بن أبي سلَمة”. و”مستدرَك الحاكم” كتاب التفسير، تفسير سورة الأحزاب، ر: 3562، 4/1337. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه”. ]وقال الذَهبي:[ “عمرُ بن أبي سلَمة ضعيفٌ”.

([19]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ما جاء في فضل فاطمة h، ر: 3868، صـ873. [قال أبو عيسى:] “هذا حديثٌ حسن غريب”.

([20]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب فاطمة بنت رسول الله، ر: 4739، 3/169.

([21]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ما جاء في فضل فاطمة i، ر: 4210، صـ1259.

([22]) “مرآۃ المناجیح” نبی ﷺ کے گھر والوں کے فضائل، پہلی فصل،8/ 413۔

([23]) “المواهب اللدُنية” المَغازي، بين بدر وأحد، زواج علي من فاطمة، ٢/385، ملتقطاً.

([24]) “مرقاة المفاتيح” كتاب المناقب والفضائل، باب المناقب أهل بيت النبي g، الفصل 1، تحت ر: 6139، 10/513.

([25]) “حدائقِ بخشش” حصہ اوّل ، سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمَن پھول، ؃  79۔  

([26]) “الطبقات الكبرى” لابن سعد، 4097- فاطمة بنت رسول الله g، 8/18.

([27]) “الطبقات الكبرى” لابن سعد، 4097- فاطمة بنت رسول الله g، 8/21.

([28]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ر: 4726، 5/1775.

([29]) “المعجم الكبير” للطَبراني، باب العين، ر: 11685، 11/210.

([30]) “الأدب المفرَد” للبخاري” باب الرجل يقبل ابنته، ر: 997، صـ219. و”سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب ما جاء في القيام، ر: 5175، 5/567، 568. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ما جاء في فضل فاطمة i، ر: 4210، صـ1259، 1260. ]قال أبو عیسی:[ “هذا حديثٌ حسنٌ صحيح، غريبٌ من هذا الوجه. وقد رُوي هذا الحديثُ من غير وجه عن عائشة”. و”صحيح ابن حِبّان” كتاب التاريخ، ذكر إخبار المصطفى g فاطمة أنّها أوّلُ لاحقٍ به من أهله بعد وفاته، ر: 6914، صـ1204، 1205.

([31]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب فاطمة بنت رسول الله، ر: 4736، 5/1779.

([32]) “المعجم الكبير” للطَبراني، باب الحاء، ر: 2632، 3/44.

([33]) “فتاوی رضویہ” کتاب الطلاق، باب النسب، شرع مطہَّر میں نسَب باپ سے لیا جاتا ہے، 10/ 428۔

([34]) “حدائقِ بخشش” حصّہ دُوم، مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام، ؃ 309۔

([35]) “مستدرَك الحاكم” كتاب الطهارة، وأمّا حديث عائشة i، ر: 583، 1/268. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد”. ]وقال الذَهبي:[ “صحيحٌ”.

([36]) “السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب الوقف، باب الصدقات المحرمات، 6/161.

([37]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب أقضِية رسول الله g، ر: 29069، 6/10.

([38]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في التسبيح عند النوم، ر: 5024، 5/491.

([39]) “صحيح البخاري” كتاب الدعوات، باب التكبير والتسبيح عند المنام،  ر: 6318، صـ1497.

([40]) “إحياء علوم الدين” كتاب الفقر والزهد، بيان تفضيل الزهد فيما هو من ضروريات الحياة، 4/233.

([41]) “فضائل الصحابة” للإمام أحمد، فضائل فاطمة بنت رسول الله g، ر: 1345، 2/764. و”صحيح مسلم” كتاب الفضائل الصحابة j، باب فضائل فاطمة بنت النّبي g، تحت ر: 2450، الجزء 7، صـ143.

([42]) انظر: “تاريخ دِمشق” لابن عساكر، باب ذكر بنيه وبناته m وأزواجه، 3/128. و”مرقاة المفاتيح” كتاب المناقب والفضائل، تحت ر: 6138، 10/513. و”مدارج النبوّت” قسم 5، باب 1، وصل دخترانِ آنحضرت ﷺ، ذکر وفات فاطمہ …الخ، الجزء 2، ؃ 461۔

([43]) انظر: “الطبقات الكبرى” لابن سعد، ذكر بنات رسول الله g، 4089- فاطمة بنت رسول الله g، 6/21. و”مرقاة المفاتيح” كتاب المناقب والفضائل، باب مناقب أهل بيت النبي g، تحت ر: 6138، 10/513.

([44]) دیکھیے: “مدارج النبوّت” قسم 5، باب 1، وصل دخترانِ آنحضرت ﷺ، ذکر وفات فاطمہ …الخ، الجزء 2، ؃ 461۔

([45]) انظر: “الطبقات الكبرى” لابن سعد، ذكر بنات رسول الله g، 4089- فاطمة بنت رسول الله g، 6/21. و”حلية الأولياء” ميمون بن مهران …إلخ، ر: 4895، 4/100. و”السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب الجنائز، باب من قال الوالي أحق بالصلاة على الميّت من الولي، 4/29. و”الرياض النضرة في مناقب العشرة” الفصل 9: في خصائصه، الجزء 1، صـ176. و”كنز العمال” حرف الميم، كتاب الموت من قسم الأفعال، صلاة الجنائز، ر: 42856، 15/303.

([46]) دیکھیے: “مدارج النبوّت” قسم 5، باب 1، وصل دخترانِ آنحضرت ﷺ، ذکر وفات فاطمہ …الخ، الجزء 2، ؃ 461۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *