
Table of contents
عبادت وریاضت کی اہمیت وفضیلت
برادرانِ اسلام! رمضان شریف اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں اور مبارک ساعتوں کے ساتھ جلوہ گر ہو چکا ہے، یہ مہینہ عبادت وریاضت اور کامیابیوں کے حصول کا مہینہ ہے، ہمیں چاہیے کہ اس مبارَک مہینے میں زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ بجالائیں، زُہد وتقوی اور پرہیزگاری اختیار کریں؛ کہ اسی میں ہماری عزّت اور دنیا وآخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے، اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ﴾([1]) “یقیناً اللہ تعالی کے ہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے”۔
عزیزانِ محترم! رمضان المبارک کو دیگر تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے، اس مہینے میں اللہ رب العزّت کی عنایتوں اور کرم نوازیوں کا دریا جوش پر ہوتا ہے، اس مبارک مہینے میں عبادت وریاضت کا اجر وثواب بہت بڑھا دیا جاتا ہے، حضرت سیِّدُنا ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُصَلِّي فِي لَيْلَةٍ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفاً وَخَمْسَمِئَةِ حَسَنَةٍ بِكُلِّ سَجْدَةٍ، وَبَنَى لَهُ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، لَهَا سِتُّونَ أَلْفَ بَابٍ، لِكُلٍّ بَابٍ مِنْهَا قَصْرٌ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِيَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ. فَإِذَا صَامَ أَوَّلَ [يَوْمٍ] مِنْ رَمَضَانَ، غَفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى أَنْ تُوَارَى بِالْحِجَابِ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ سَجْدَةٍ يَسْجُدُها فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِلَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا خَمْسَمِئَةِ عَامٍ!»([2]).

یہ بھی ضرور پڑھیں :استقبالِ رمضان
“جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور وہ آخری رات تک بند نہیں ہوتے، جو بندہ اس ماہِ مبارک کی کسی رات میں نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالی اُس کے ہر سجدے کے بدلے اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے، اس کے لیے جنّت میں سُرخ یاقُوت کا گھر بناتا ہے، جس کے ستّر ہزار دروازے ہیں، اس کے ہر دروازے سے سونے کا سُرخ یاقوت سے مزیّن ایک محل ہے۔ اور جو کوئی ماہِ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے گذشتہ ایک سال کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس کے لیے نمازِ صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، ماہِ رمضان کے رات یا دن میں جو کوئی سربسجود ہوتا ہے، اس کے ہر سجدے کے بدلے اُسے (جنّت میں) ایک ایسا (بڑا اور طویل) درخت عطا کیا جاتا ہے، جس کے سائے میں گھوڑسوار پانچ سو500 برس تک چلتا رہے!”۔
عبادت وریاضت کی فضیلت سے متعلّق ایک اَور روایت میں حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ایک دیہاتی نبئ کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام ارشاد فرمائیں، جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنّت کا حقدار ہو جاؤں ، نبئ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ المَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ المَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ» “اللہ کی عبادت کر و، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکات دو، اور رمضان کے روزے رکھو”۔ دیہاتی نے کہا کہ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان باتوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا، جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا»([3]) “اگر کوئی کسی جنّتی کو دیکھنا چاہے،تو اسے دیکھ لے!”۔
عبادت وریاضت کی ترغیب ہی سے متعلّق ایک روایت میں، حضرت سیِّدنا مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں ایک سفر میں نبئ اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کے وقت چلتے ہوئے نبئ رحمت ﷺ سے قریب ہوا، اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنّت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دُور رکھے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِيماً، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ الله عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئاً، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ» “تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے! اور یقیناً یہ عمل اس کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو ، نماز قائم کرو، زکات دو ، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو” ، پھر رحمتِ عالمیان ﷺ نے فرمایا: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْماءُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ»([4]) ” کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں! (1) روزہ ڈھال (Shield) ہے، (2) صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، (3) اور آدھی رات میں آدمی کا نماز (تہجد) ادا کرنا!”۔
حضراتِ محترم! رمضان المبارک کے روزے فرض کیے جانے کا مقصد تقویٰ وپرہیزگاری ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جو ریاضت، اصلاحِ نفس اور باطنی طہارت کا سبب ہے، ارشادِ خداوندی ہے: ﴿يَآاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾([5]) “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلے والوں پر فرض ہوئے تھے؛ تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے”۔
مفسّرینِ کرام فرماتے ہیں کہ “روزے کا مقصدِ اعلیٰ، اور اس سخت ریاضت کا پھل یہ ہے، کہ تم متقی اور پاکباز بن جاؤ، روزے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف کھانے پینے اور جِماع سے پرہیز کرو، بلکہ تمام بُرے اَخلاق اور اعمالِ بد سے انسان مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرے۔ تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بےتاب ہو رہے ہو، تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا، ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانا پاس رکھا ہے، لیکن تم ہاتھ تو کُجا، آنکھ اُٹھا کر اُدهر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، اس کی وجہ صرف یہی ہے نا، کہ تمہارے رب کا یہ حکم ہے! اب جب حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے تم نے ترک کر دیں، تو وہ چیزیں جن کو تمہارےرب تعالى نے ہمیشہ ہمیشہ کے ليے حرام کر دیا ہے، مثلاً چوری، رشوت، بد دیانتی وغیرہ حرام کاریاں، اگر یہ خیال پختہ ہو جائے، تو کیا تم ان کا اِرتکاب کر سکتے ہو؟ ہر گز نہیں کرو گے!۔ مہینے بھر کی اِس مشقت کا مقصد یہی ہے، کہ تم سال کے باقی گیارہ11 ماہ بھی اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے حرام سے اجتناب کرو۔ لہذا جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں، لیکن جھوٹ، غیبت، بدنظری، فحش گوئی اور گالی گلوچ وغيره برائیوں سے باز نہیں آتے، ان كے متعلّق سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے واضح الفاظ میں فرما دیا: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»([6]) “(جس نے روزہ رکھنے کے باوجود) جھوٹ اور اُس پر عمل نہیں چھوڑا، رب تعالی کو اُس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں”([7])۔
میرے بزرگو ودوستو! روزے میں جہاں مسلمان کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے اپنے آپ کو روكے رکھتا ہے، وہیں اسے چاہیے کہ جھوٹ، غیبت وغیرہ گناہوں سے بھی باز رہے؛ تاکہ اسے تقویٰ وپرہیزگاری حاصل ہو، اور یہی روزے کا مقصد بھی ہے۔ حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلٰكِنْ مِنَ الْكَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ»([8]) “روزہ صرف کھانے پینے سے باز رہنے کا نام نہیں، بلکہ روزہ جھوٹ، گناہوں، اور بےكار چيزوں سے بچنے کا نام ہے”۔
اسی طرح ایک اَور حدیثِ پاک میں حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»([9]) “جس نے ماہِ رمضان میں ایمان کی حالت میں، ثواب کی اُميد سے قیام کیا، اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں”۔ یعنی جو مسلمان روزه دار، فرائض وواجبات اور نمازِ تراویح، نوافل، تلاوتِ قرآن اور ديگر نیک اعمال میں وقت گزارتا ہے، اس کی مغفرت كر دى جاتى ہے۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ خود کو عبادت وریاضت کا عادی بناتے ہوئے، نمازِ پنجگانہ کی پابندی کریں، اپنی زبان کی حفاظت كريں، غيبت وچغلى، گالی گلوچ، بد کلامی اور بدنگاہی سے اجتناب کریں، رمضان المبارَک میں فیس بک (Facebook)، ٹک ٹاک (Tik Tok)، ٹویٹر (Twitter) اور دیگر سوشل میڈیا (Media Social) ذرائع پر ٹائم پاس کرنے کے بجائے، اپنا وقت عبادت وریاضت میں گزاریں، قرآنِ پاک کی تلاوت کریں، اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھیں، ذکر واَوراد کی کثرت کریں، دینی کتب کا مطالعہ کریں، اور تراویح وقیام اللیل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں۔
جوانی میں عبادت کی فضیلت
میرے نوجوان دوستو اور بھائیو! احادیثِ مبارَکہ میں جوانی میں عبادت وریاضت کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے، جو شخص جوانی میں توبہ کرتا ہے، اور اپنا وقت عبادت وریاضت میں صَرف کرتا ہے، بروزِ قیامت اس کے لیے فرشتوں جیسا مقام اور سایۂ رحمت کا وعدہ ہے، حدیث شریف میں فرمایا : «سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِيْ ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» “سات7 قسم کے لوگ ایسے ہیں، جن کو اللہ تعالی (قیامت کے دن) اپنے سائے رَحمت میں جگہ عطا فرمائے گا، جس دن اُس کے سایۂ رحمت کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا”، انہی میں سے ایک کے متعلّق فرمایا : «وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ»([10]) “وہ جوان جس نے جوانی اپنے رب کی عبادت میں گزاری”۔
اسی طرح ایک اَور حدیث شریف میں ہے: «وَلِلشَّابِّ التَّارِكِ لِحُرُمَاتِ اللهِ، الْعَامِلِ بِطَاعَةِ اللهِ، كُلُّ أَجْرِ سَبْعِينَ صِدِّيقاً»([11]) “اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے، اور اس کے اَحکام پر عمل کرنے والے نوجوان کے لیے، ستّر70 صدّیقین کے برابر ثواب ہے”۔
علّامہ ابنِ رجب حنبلی رحمہُ اللہ جوانی میں عبادت کرنے سے متعلّق ارشاد فرماتے ہیں کہ “جس نے اللہ تعالی کو اس وقت یاد کیا، جب وہ جوان اور تندرست تھا، تو اللہ تعالی اُس کا اُس وقت خیال رکھے گا، جب وہ بوڑھا اور کمزور ہو جائے گا، اور اسے بڑھاپے میں بھی اچھی قوّتِ سماعت، بصارت، طاقت اور ذَہانت عطا فرمائے گا”([12]) ۔
زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانیے
عزیزانِ مَن! ہماری زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے، لہذا ہمیں اپنے شب وروز غفلت میں گزار کر، اسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے، اس چند روزہ زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانتے ہوئے، خوب عبادت وریاضت کرنی چاہیے، فرائض وواجبات کی پابندی، علمِ نافع، عملِ صالح اور رضائے الہی جیسے اَہداف کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ اسی میں ہماری کامیابی اور سرخ رُوئی ہے، بصورتِ دیگر ناکامی کا عمیق (گہرا) گھڑا ہمارا مقدّر ٹھہرے گا (معاذاللہ)۔
رَحمتِ عالم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: «اغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ: (1) شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، (2) وَصَحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، (3) وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، (4) وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، (5) وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ»([13]) “پانچ5 چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: (۱) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، (2) صحت کو بیماری سے پہلے، (3) مالداری کو فقیری سے پہلے، (4) فرصت کو مصروفیت سے پہلے (5) اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو!”۔
میرے بھائیو! ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، رمضان المبارَک کی بابرکت ساعتوں، اور اس میں ہونے والی چھماچھم رحمتوں کی برسات سے فائدہ اٹھائیے، سچے دل سے توبہ واستغفار کیجیے، زیادہ سے زیادہ وقت اللہ A کی عبادت میں گزاریے، زُہد وتقوی اختیار کیجیے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا خاص اہتمام کیجیے، ورنہ یاد رکھیے! اگر توبہ سے قبل موت آگئی، تو پھر کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بجا لانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی، اور بروزِ قیامت ہم اپنے پل پل کا حساب وکتاب دے رہے ہوں گے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے، کہ مصطفی جانِ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يوم الْقِيَامَةِ حتّى يُسْأَلَ عن أَرْبَعِ خِصَالٍ: (١) عن عُمُرهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، (2) وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاهُ، (3) وَعَنْ مَالِهِ من أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، (4) وَعَنْ علمهِ مَاذَا عَمِلَ فيه»([14]) “بروزِ قیامت آدمی اُس وقت تک اپنی جگہ سے قدم نہیں ہٹا سکے گا، جب تک چار4 سوالات کے جواب نہ دے لے: (۱) عمر کس کام میں گزاری؟ (۲) جوانی کیسے گزاری؟ (۳) مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ (۴) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟”۔
میرے محترم بھائیو! فکرِ آخرت پر مبنی اس فرمانِ رسول ﷺ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ہر بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ وہ نفسانی خواہشات سے بچتا رہے، عِفّت، عصمت اور پاکدامنی کے حصول کے ذرائع اختیار کرتا رہے، بدنگاہی، فحش اَعمال وکلام، جھوٹ، غیبت، چغلی، حرام ومشتبہ چیزوں، فلموں، ڈراموں، گانے باجوں، بےپردگی وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچ کر، اَحکامِ شریعت، فرائض واَعمالِ صالحہ وغیرہ جیسی عبادات کی بجاآوری ميں خوب كوشش کرے، نیز اس ماہِ مبارك کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے تمام گناہوں، اور نافرمانی والی زندگی سے توبہ کر کے، اپنی عاقبت سنواریے، اور سچی توبہ کر کے اللہ ورسول کے پیارے بن جائیے۔
دعا
اے اللہ! رمضان المبارک کے صدقے،ہمارے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف فرما، ہمیں سچی توبہ کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما، رمضان شریف کی خوب خوب برکتیں نصیب فرما، ہمیں اس ماہِ مبارک کے تمام روزے رکھنے، نمازِ تراویح ادا کرنے، اور ذوق وشوق سےدیگر عبادات ونیک اعمال کی توفیق وہمت عطا فرما، اس ماہِ غفران کے صدقے ہماری اور ہمارے تمام عزیز واقارب کی بخشش ومغفرت فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہٰی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([2]) “شعب الإيمان” 23- باب في الصيام، ر: ٣٦٣٨، ٣/١٣٤١.
([3]) “صحيح البخاري” باب وجوب الزكاة، ر: ١٣٩٧، صـ٢٢٥.
([4]) “سنن ابن ماجه” باب كفّ اللسان في الفتنة، ر: ٣٩٧٣، صـ٦٧٤.
([6]) “صحيح البخاري” كتاب الصّوم، ر: ١٩٠٣، صـ٣٠٦.
([7]) “تفسير ضياء القرآن” البقرة، زیرِ آيت: ١٨٣، ١/١٢٣، ١٢٤ ،ملتقطاً۔
([8]) “السنن الكبرى” للبَيهقي، كتاب الصيام، ٤/٢٠٩.
([9]) “صحيح البخاري” باب تطوّع قيام رمضان من الإيمان، ر: ٣٧، صـ٩.
([10]) “صحيح البخاري” كتاب الأذان، ر: ٦٦٠، صـ١٠٧.
([11]) “الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك” ر: ٢٢٩، صـ٧٨.
([12]) “مجموع رسائل ابن رجب” قوله: يحفظك، 3/100 ملخّصاً.
([13]) “شعب الإيمان” باب في الزهد وقصر الأمل، ر: ١٠٢٤٨، ٧/٣٣١٩.