
Table of contents
- غریب عوام کی حالتِ زار
- گرانفروشی کے حوالے سے اَسلاف کا طرزِ عمل
- مہنگائی کے خواہاں تاجروں کی مذمّت
- مہنگائی اور بے برکتی کے چند اَسباب
- قحط اور مہنگائی کا سبب بننا رحمتِ الہی سے دُوری کا باعث ہے
- وقت کا تقاضا اور ہمارے حکمرانوں کی ذمّہ داری
- حکمرانوں سے رِعایا کے حقوق کے بارے میں پوچھ گچھ ہونی ہے!
- رِعایا کے حقوق کی پامالی کی سزا
- خلاصۂ کلام
- دعا
غریب عوام کی حالتِ زار
برادرانِ اسلام! گرانفروشی (مہنگائی) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا یوں تو آج پوری دنیا کر رہی ہے،لیکن غریب اور ترقّی پذیر ممالک کے لیے کورونا وائرس (Corona Virus) کے بعد سے اس پر قابوپانا مزید مشکل ہوگیا ہے، اگر وطنِ عزیز پاکستان کی بات کی جائے تو مہنگائی کی حالیہ طوفانی لہر نےغریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کھانے پکانے کاتیل، چینی، آٹا، دالیں، سبزیاں، انڈے، گوشت، بجلی وگیس کے بل، بچوں کی اسکول فیس، اور پیٹرول (Petrol) وغیرہ سمیت متعدِد اشیائے ضرورت، متوسّط طبقے کی پہنچ سے بھی دُور ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ مزدور اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ مہنگائی کی اس چکّی میں کس طرح پِس رہے ہیں، اور انہیں کیسے کیسے مسائل کا سامنا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
آج کا غریب مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشی جیسے فعلِ حرام کا بھی مرتکب ہو رہا ہے، اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو زہر دے رہا ہے ، لیکن مجال ہے کہ ہمارے نااہل حکمرانوں کی ہوَسِ اِقتدار میں کوئی فرق آیا ہو! یا اُن کی سیاسی مصروفیات اور موج مستیوں میں کوئی کمی واقعی ہوئی ہو! وہ ہر چیز سے بےنیاز وبےخبر ہو کر صرف ایوانِ اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے اُترنے، حُصولِ اقتدار کے لیے باہم رَسّہ کشی کرنے، اور اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی میں مصروف نظر آتے ہیں، ان کے طرزِ عمل سے یوں لگتا ہے جیسے اپنے ملک کی غریب عوام اور ان کے مسائل میں انہیں کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مزدوروں کے حقوق
گرانفروشی کے حوالے سے اَسلاف کا طرزِ عمل
حضراتِ گرامی قدر! ہمارے اَسلاف حد سے زیادہ مہنگائی اور بےجا منافع خوری سے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے ہرگز قائل نہیں تھے، وہ اپنے سامانِ تجارت کو معمولی نفع پر بیچتے، اور اپنے مسلمان بھائیوں کو تنگی سے بچا کر آسانی پیدا کرنے، اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے؛ کہ اَیسا کرنا اسلامی تعلیمات میں سے ہے، حضرت سیِّدنا انَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُو»([1]) “آسانی کرو سختی نہ کرو، اور لوگوں کو خوش کرو نفرت نہ دلاؤ”۔
ہمارے بزرگانِ دین تو مہنگائی اور قحط سالی کے دَور میں اپنا سامانِ تجارت مسلمانوں کو انتہائی سستا بلکہ بعض اَوقات تو مُفْت مہیا کرنے کی کوشش کیا کرتے، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جب قحط پڑا، تو حضرت سیِّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل غلّہ (Grains) اور تمام کھانے پینے کی اشیاء، بھاری منافع ملنے کے باوُجود مدینہ منوّرہ کے مسلمانوں میں مفت تقسیم فرما دیں([2]) ۔
مہنگائی کے خواہاں تاجروں کی مذمّت
حضراتِ ذی وقار! مہنگائی بڑھنے پر خوشی کا اِظہار کرنا انتہائی مذموم ہے، اور ایسا کرنے والے تاجر کو حدیثِ پاک میں بُرا کہا گیا ہے، حضرت سیِّدنا مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «بِئْسَ الْعَبْدُ الْـمُحْتَكِرُ! إِذَا رَخَّصَ اللهُ الْأَسْعَارَ حَزِنَ، وَإِذَا غَلَّى فَرِحَ»([3]) “غلّہ روکنے والا بندہ بہت بُرا ہے کہ جب اللہ تعالی بھاؤ سستا کرے تو رنجیدہ ہوتا ہے، اور جب مہنگا کر دے تو خوش ہوتا ہے”۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ “اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونا، اور ان کی خوشی پر ناراض ہونا، لعنتی لوگوں کا کام ہے، خوشی و غم میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ غلّہ کے ناجائز بیوپاریوں کا عام (طور پر) حال یہی ہوتا ہے کہ اَرزانی (چیزیں سَستی ہونے کا ) سُن کر اُن کا دل بیٹھ جاتاہے،گِرانی(مہنگائی) کے لیے ناجائز عمل کرتے ہیں، اُلٹے وظیفے پڑھتے ہیں، لوگوں سے قحط کی دعائیں کراتے ہیں،نَعُوْذ بِاﷲ!وقت پر بارش ہو تو اُن کے گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے”([4])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد
مہنگائی اور بے برکتی کے چند اَسباب
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بےبرکتی کے متعدِد اَسباب ہیں، ان میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
(1) بے جا ٹیکسوں (Taxes) کی بھرمار
مہنگائی کا ایک بڑا سبب ظالمانہ ٹیکسز (Cruel Taxes) ہیں، بنیادی طور پر ٹیکس دو2 طرح کے ہوتے ہیں: (1) بلا واسطہ ٹیکس (Direct Tax)، (2) بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax)۔ بلا واسطہ ٹیکس (Direct Tax) آمدنی پر لگتا ہے، جیسے اِنکم ٹیکس (Income Tax)، ویلتھ ٹیکس (Wealth Tax)، اور کارپوریٹ ٹیکس (Corporate Tax) وغیرہ، جبکہ بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax) اَشیاء کے استعمال پر عائد کیا جاتا ہے، جیسے سیلز ٹیکس (Sales Tax)، ویلیو ایڈڈ ٹیکس (Value Added Tax)، ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی (Excise and Customs Duty) وغیرہ۔
پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ اشیائے ضرورت پر ظالمانہ طور پر عائد کیے جانے والے یہی بالواسطہ ٹیکس(Indirect Tax) ہیں؛ کیونکہ ان بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کے لاگو ہونے سےمُعاشی ترقی کا سفر سُستی کا شکار ہو جاتا ہے، ملکی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوتی ہے، اَشیاء کی قیمتیں اصل قیمتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، اور عوام کی قوّتِ خرید اور پہنچ سے دُور ہو جاتی ہیں ۔
اگرچہ بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax) کا اِطلاق بلاامتیاز امیر وغریب دونوں پر ہوتا ہے، لیکن امیر کی بہ نسبت غریب آدمی اس ٹیکس سے کہیں زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور ظلم بالائے ظلم یہ کہ جنرل سیلز ٹیکس (General Sales Tax) کی مَد میں یہ ناحق ٹیکس (Tax)ایسے فقراء ومساکین اور بھکاری بھی دینے پر مجبور ہیں، جن کے پاس دو2 وقت کا کھانا بھی آسانی سے میسّر نہیں، بلکہ وہ اپنے گھر کا نظام زکاۃ فطرہ اور صدقہ خیرات سےچلا رہے ہوتے ہیں!۔
نا حق ٹیکس وُصولی کا انجام
میرے محترم بھائیو! لوگوں پر بےجا اور نا حق ٹیکس (Tax) عائد کرنا، عوام پر ظلم وزیادتی ہے، ایسا کرنے والے کے لیے احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں، حضرت سیِّدنا عُقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ»([5]) “(لوگوں سے نا حق) ٹیکس وصول کرنے والا جنّت میں داخل نہیں ہوگا”۔
نا حق ٹیکس (Tax) وصولی جہنّم میں داخلے کا باعث ہے، حضرت سیِّدنا رُوَیفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ صَاحِبَ المَكْسِ فِي النَّارِ»([6]) “(ناحق) ٹیکس وصول کرنے والا جہنّم میں جائے گا”۔ لہذا ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ اپنی رِعایا وعوام پر بےجا ٹیکسوں (Taxes) کا بوجھ نہ ڈالیں، اُن کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانی پیدا کریں، فوری طَور پر بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax) کو سِرے سے ختم کریں؛ تاکہ غریب عوام اور بےروزگار شہری متاثر نہ ہوں! اور اگر بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Tax) کو فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہ ہو، تو اُسے کم سے کم ترین سطح پر ضرور لائیں؛ تاکہ غریب عوام کو کچھ ریلیف (Relief)ملے، ورنہ ہمارا وطنِ عزیز یونہی آئی ایم ایف (IMF) اور عالمی بینک (World Bank) جیسے استحصالی اداروں کے چُنگل اور مَن مانیوں کا شکار ہوتا رہے گا، اور ملک کا غریب طبقہ اپنےحکمرانوں کی نااہلی اور بدعنوانی کے باعث بڑھنے والی مہنگائی کے بوجھ تلے دَبتا چلا جائے گا۔
(3) غیر ضروری اخراجات
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! مہنگائی کا ایک بڑا سبب غیرضروری اَخراجات بھی ہیں۔ حکومت کے شاہانہ اَخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ اسے پورا کرنے کے لیے غریبوں، فقیروں اور مستحقینِ زکاۃ سے بھی ٹیکس(Tax) وصول کرنا پڑتا ہے۔ ہر حکومت اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پانچ سالہ منصوبے لاتی ہے، جو ایک طرح کے کاسمیٹک منصوبے (Cosmetic Projects) ہوتے ہیں، جنہیں دکھاکر عوام سے ووٹ (Vote) وصول کیا جاتا ہے، نیز طویل المعیاد منصوبوں پر کوئی حکومت کام نہیں کرنا چاہتی؛ کیونکہ وہ کام ان کے پانچ سالہ دَور میں مکمل نہیں ہو سکے گا، اور اس کا کریڈٹ (Credit) اگلی کسی حکومت کو مل جائے گا، لہذا ظاہری دِکھاوے کے پروجیکٹس (Projects) کو ترجیح دی جاتی ہے، اور وسائل کا بے دریغ استعمال کرکے انہیں ضائع کیا جاتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک بنیادی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے باوُجود دیگر ممالک کا محتاج بن کر رہ گیا ہے، یہاں تک کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوُجود ہمیں غذائی اَجناس (Food Items) دیگر ممالک سے منگوانی پڑ جاتی ہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ حکمرانوں کو تو عوام کا احساس نہیں، مگر خود عوام کو بھی کہاں اپنا احساس ہے؟ آج ہماری اکثریت فضول خرچیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، بڑے بڑے ہوٹلوں پر عمدہ کھانوں، مہنگے مہنگے فینسی کپڑوں، بیش قیمت سجاوٹی سامان اور اشیاء پر ہماری کمائی کا ایک بڑا حصہ خرچ ہو رہا ہے، بجائے یہ کہ ہم اپنی فضول خرچی اور اِسراف پر قابو پائیں، ہم ہر وقت مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہیں۔
یاد رکھیے! دینِ اسلام میں فضول خرچی کی بڑی مُمانعت بیان کی گئی ہے، اور اَیسا کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۰۰۲۶ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤااِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ﴾([7]) “فُضول (یعنی ناجائز کام میں پیسہ) نہ اُڑا، یقیناً اُڑانے والے (فُضول خرچ کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں (کہ ان کی راہ چلتے ہیں)”۔
اِعتدال ومیانہ رَوِی ہی سب سے بہترین راستہ ہے، ارشاد ِباری تعالی ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا﴾([8]) “وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں، اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مصطفی جانِ رحمت…. انسانِ کامل
(4) جدید اور شاہانہ طرزِ زندگی
برادرانِ اسلام! مہنگائی کی ایک بڑی وجہ جدید اور شاہانہ طرزِ زندگی ہے، ہم لوگوں نے محدود ذرائع آمدن کے باوُجود بےتحاشا غیر ضروری چیزوں کو اپنی ضرورت بنا لیا ہے،ہم لوگ مغربی ممالک (Western Countries) کی طرح ماڈرن لائف اسٹائل (Modern Lifestyle)اپنانا چاہتے ہیں، لندن وپیرس (London and Paris) جیسی شاہانہ اور پُر تعیش زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور اس کے لیے قرض لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
پُرآسائش طرزِ زندگی اورسامانِ تزیُن وآرائش کی بےجاخریداری اور غیرضروری طلب کےباعث بازاروں میں چیزوں کی قلّت ہو رہی ہے، جبکہ نئے پیداواری ذرائع قائم نہیں کیے جا رہے، تاجر حضرات منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اِضافہ ہو رہا ہے۔
(5) ایندھن (Fuel) کا غیر ضروری استعمال
جانِ برادر! دن بدن بڑھتی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ایندھن (Fuel) کا غیرضروری استعمال بھی ہے، ایک وقت وہ تھا کہ جب لوگ صرف ضرورت کے تحت سفر کیا کرتے، مہینوں اس کی تیاری اور منصوبہ بندی (Planning) کرتے تھے، سفر میں پیش آنے والے حالات، واقعات اور مُشاہدات کو “سفر نامہ” کی صورت میں قلمبند کیا کرتے؛ کیونکہ اس وقت سفر کرنا ایک بہت بڑا کام بلکہ معرکہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج کے ترقّی یافتہ دَور میں نت نئی سفری سہولیات اور ذرائع کے سبب، بلاوجہ اور غیرضروری سفر کو ہم نے اپنی عادت بنا لیا ہے، یار دوستوں کی محفل میں بیٹھے بٹھائے اچانک گھومنے پھرنے اور آوارہ گردی کرنے کا پروگرام بن جاتا ہے، اور لوگ سیرو تفریح، پکنک (Picnic) اور لانگ ڈرائیو (Long Drive) کے نام پر گاڑی لے کر نکل پڑتے ہیں،سینکڑوں کلو میٹر (Hundreds of kilometers) پر مشتمل غیرضروری سفر کرتے ہیں، اور بےتحاشا ایندھن اور پیٹرول (Petrol) پُھونک ڈالتے ہیں، پھر اس اَمر پر غور کرنے کی ذرّہ برابر زحمت گوارہ نہیں کرتے کہ ہزاروں روپے کا جو پیٹرول (Petrol)ہم نے اپنے ایک غیر ضروری سفر پر ضائع کیا ، وہ ہمارے اپنے ملک کی پیداوار نہیں، بلکہ اس کے لیے دیگر ممالک کو لاکھوں ڈالر (Millions of Dollars) دینے پڑتے ہیں، بھاری ٹیکس (Tax) ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے ملکی معیشت کمزور ہوتی ہے، قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے، اور مہنگائی میں تیزی سے اِضافہ ہوتاہے۔
نیز وطن عزیز پاکستان میں زیادہ تر بجلی بھی تیل سے پیدا کی جاتی ہے، اس لیے بجلی کا بےدریغ استعمال اور ضائع کرنا بھی مہنگائی اور غیرملکی قرضوں میں اِضافہ کا ایک بڑا سبب ہے، لہذاایندھن اور پیٹرول (Petrol) کو ہرگز ضائع نہ کریں، غیرضروری سفر اور سیر سپاٹوں سے اجتناب کریں کہ اس میں پیسے اور وقت دونوں کا ضائع کرنا ہے۔
(6) سپلائی (Supply) کی قلت
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! اشیائے ضروریہ کا بازار میں وافر مقدار میں نہ پہنچنا، اور اس کی قلت ہونا بھی مہنگائی کا ایک سبب ہے، جو چیز وافر مقدار میں مارکیٹ(Market) میں نہیں پہنچتی، جب اُس کی طلب زیادہ اور پیداوار کم ہوتی ہے، تو اس کی قیمت دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہے۔
(7) ناپ تول میں کمی
حضراتِ ذی وقار! مہنگائی کا ایک سبب ناپ تول میں کمی بھی ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «ما نقص قومٌ المكيالَ، إلّا ابتلاهُم الله c بالغَلاء، ونقصِ الثمرات»([9]) “جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، اللہ تعالی انہیں مہنگائی اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کر دیتاہے”۔
میرے محترم بھائیو! ناپ تول میں کمی کرنا، یا ڈنڈی مارنا، یا صاحبِ حق کو اس کے حق سے کم دینا، بروزِ قیامت ہلاکت، بربادی اور بڑے خسارے کا باعث ہے، ایسا کرنا اللہ تعالی کے غضب کو اُبھارتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَۙ۰۰۱ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَٞۖ۰۰۲ وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَؕ۰۰۳ اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ۰۰۴ لِيَوْمٍ عَظِيْمٍۙ۰۰۵ يَّوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾([10]) “کم تولنے والوں کے لیے ہلاكت ہے، کہ وہ جب اَوروں سے ماپ کر لیں تو پورا لیں، اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیں تو کم کر دیں، کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے؟ ایک عظمت والے دن کے لیے! جس دن سب لوگ اللہ ربّ العالمین کے حضور (حساب کے لیے) کھڑے ہوں گے”۔
لہذا ناپ تول میں کمی ہرگز نہ کریں، ہمیشہ وزن سے کچھ زیادہ دیا کریں؛ کہ تجارت میں ہمارے پیارے آقا ﷺ کا یہی اُسلوب رہا، اور اسی بات کی آپ ﷺ نے اپنی امّت کو بھی تلقین فرمائی، حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا»([11]) “جب تم وزن کرو تو کچھ زیادہ کر لیا کرو!” ([12])۔
(8) اَشيائے خورد ونوش کی ذخيرہ اندوزی
جانِ برادر! اَشیائے خورد ونوش (کھانے پینے کی چیزوں) کی ذخیرہ اَندوزی بھی مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے، تاجر حضرات ذاتی نفع کی خاطر کھانے پینے کی اشیاء اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر كے، اُن کے دام بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں، یہ عمل انتہائی مذموم اور انسانیت کے مُنافی ہے، نیز دینِ اسلام میں اس کی سخت مُمانعت ہے۔
حضرت سیِّدنا معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سروَرِ دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ»([13]) “جو غلّہ روکےاُس نے نا فرمانی کی”۔
حضرت سیِّدنا مَعقل بن يَسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو متعدِد بار یہ فرماتے سنا: «مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ المُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَه عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»([14]) “جس نے مسلمانوں پر اَشیائے ضروریہ کو (بلا جواز) مہنگا کرنے کی کوشش کی، اللہ تعالی اُس کا ٹھکانہ قيامت کے دن ضرور بڑی آگ میں بنائے گا”۔
قحط اور مہنگائی کا سبب بننا رحمتِ الہی سے دُوری کا باعث ہے
میرے محترم بھائیو! بازار میں مالِ تجارت پہنچنے سے پہلے ہی خرید لینا، اور اسے ذخیرہ کرکے مصنوعی قحط پیدا کرنا اور مہنگائی کا سبب بننا، اللہ تعالی کی رحمت سے دُوری اور پھٹکار کا باعث ہے، جبکہ اس کے برعکس قحط سالی کے زمانے میں، کھانے پینے کی اشیاء بازار میں فراہم کر کے قحط دُور کرنا، اور مہنگائی میں کمی لانے کی کوشش کرنا ، رزق میں خیر وبرکت کا ذریعہ ہے، حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ، وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ»([15]) “بازار میں غلّہ لانے والا روزی دیا جائے گا، اور روکنے والا ملعون (اللہ کی رحمت سے دُور) ہے”۔ یعنی “جو تاجر باہر سے شہر میں غلّہ لائے،جس کی وجہ سے یہاں کا قحط دُور ہو جائے (اور مہنگائی میں کمی واقع ہو جائے) اللہ اُسے روزی (میں خیر و برکت) دے، اور جو غلّہ کو ذخیرہ کرکے قحط پیدا کر دے، اُس پر خدا کی پھٹکار ہو”([16])۔
(9) کیپٹل اِزم (Capitalism)کا مایا جال
میرے محترم بھائیو! مہنگائی میں مسلسل اضانے کا ایک بڑا سبب دنیا میں رائج موجودہ مُعاشی نظام ہے، اسے انگریزی اِصطلاح میں کیپٹل اِزم (Capitalism) کہتے ہیں۔ اس مُعاشی نظام کی بنیاد قرض اور سُودی لین دین ہے، آئی ایم ایف (IMF) اور عالمی بینک (World Bank) جیسے استحصالی ادارے، اس نظام کے ذریعے کسی بھی ملک کی صنعت وتجارت کو کنٹرول (Control) کرتے ہیں، نیز مَن مانا منافع حاصل کرکے ہماری ساری دولت، شیرِ مادَر سمجھ کر چُوس لیتے ہیں!!۔
(10) کنزیومر اِزم (Consumerism) کا فروغ
حضراتِ ذی وقار! ہمارے وطنِ عزیز سمیت دنیا بھر میں موجودہ مہنگائی کا ایک بڑا سبب، کنزیومر اِزم (Consumerism) کا فروغ بھی ہے، مُعاشرے میں فرضی ضرورت پیدا کر کے بازار میں اپنا مال اس طرح پیش کرنا، کہ جیسے اُسے خریدے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہو، یہ طریقۂ کار کنزیومر اِزم (Consumerism) کہلاتا ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھنے کے لیے اپنی ہی مثال لے لیجیے، پہلے پہل سال میں صرف ایک بار عید کے موقع پر کپڑے سلواتے تھے، لیکن آج جس کے پاس تھوڑا بہت پیسہ آگیا، وہ ہر نئے فیشن کے کپڑے بنوانا لازم سمجھتا ہے، بلکہ آن لائن (Online) خریداری بھی خوب مزے سے کرتا ہے۔ اسی طرح اپنے مکمل طرزِ زندگی پر غور کرتے چلے جائیے، تو بےشمار مثالیں سامنے آ کر خود ہی مسئلہ سمجھاتی چلی جائیں گی!۔
اس غیرضروری اور بےتحاشا خریداری (Shopping) سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم نے ترقی کر لی اور مُعاشی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں، حالانکہ دَرحقیقت ہم پستی وزَوال کی طرف گامزن ہو رہے ہوتے ہیں!۔
لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ آن لائن خریداری (Online Shopping) اور مغربی ممالک (Western Countries) سے ہر چیز درآمد (Import) کرکے ہم صرف خریدار بن کر نہ رہیں، بلکہ اپنی اشیائے ضرورت کو اپنے وطن میں خود تیار کریں، اور ضرورت کے مطابق ایکسپورٹ (Exports) بھی کریں، غیرملکی قرضوں سے نَجات حاصل کریں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی مُعاشی پالیسیاں (Economic Policies) خود بنائیں؛ تاکہ ملکی معیشت میں بہتری آئے، عوام خوشحال ہو، اور مہنگائی میں کمی واقع ہو!۔
(11) بجلی کی قیمت میں ہوش رُبا اِضافہ
حضراتِ گرامی قدر! مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بجلی کی قیمت میں ہوش رُبا اِضافہ بھی ہے، توانائی کی قیمتوں میں اِضافہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے، کار خانے بند ہو جاتے ہیں، فیکٹریوں (Factories) میں بنائی جانے والی اشیاء کی لاگت (Cost) میں اِضافہ ہو جاتا ہے، اس کے باعث تاجر حضرات کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی متاثِر ہوتے ہیں، اور مہنگائی کی صورت میں یہ بوجھ بھی انہیں اٹھانا پڑتا ہے۔
(12) کرپشن اور بد عنوانی
جانِ برادر! وطنِ عزیز میں مہنگائی کا ایک بڑا سبب کرپشن وبدعنوانی (Corruption) بھی ہے، ہمارے حکمران ، وُزراء، قومی وصوبائی اسمبلی کے اراکین، جج، وکلاء، صحافی، اور سکیورٹی فورسز (Security Forces) سے لے کر عام سرکاری ملازمین تک، کرپشن وبد عنوانی (Corruption) اور رشوت کے لین دَین میں سر سے پاؤں تک ملوّث ہیں، اور منصبی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی بھی بَرت رہے ہیں، ان کا یہ مذموم عمل قومی خزانے میں بڑی کمی کا باعث بنتا ہے، ترقی کا عمل سُست رَوِی کا شکار ہوتا ہے، اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شرحِ سُود اور مہنگائی میں اِ ضافہ ہو رہا ہے، اور عوام کا جینا مُحال ہوتا جا رہا ہے!!۔
(13) دو طبقاتی نظام اور اِشرافیہ کو حاصل مُراعات
حضراتِ ذی وقار! ہمارے وطن میں مہنگائی کا ایک اہم اور بڑا سبب دو طبقاتی نظام، اور اِشرافیہ (Elite Class) کو حاصل طرح طرح کی بےجا مُراعات ہیں۔ ہمارے حکمران اور اِشرافیہ ہر ماہ لاکھوں کروڑوں تنخواہ کی مَد میں وُصول کرتے ہیں، لیکن اس کے باوُجود انہیں مفت پیٹرول(Free Petrol)، مفت بجلی (Free Electricity)، مفت گیس (Free Gas)، مفت رہائش (Free Accommodation)، مفت ہوائی سفر (Free Air Traveling) اور نوکرچاکروں جیسی متعدد سہولیات ومُراعات حاصل ہیں، جبکہ دوسری طرف عوام کا حال یہ ہے کہ خون پسینہ ایک کرکے بیس 20 سے تیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا شخص، اپنی ضرورت کی ہر چیز خود خریدتا ہے، پانی بجلی اور گیس (Gas) کے بل خود ادا کرتا ہے، مکان کا کرایہ اپنی جیب سے دیتا ہے ، ملک کو قرضوں سے نَجات دلانے اور قومی خزانے کو بھرنے کے لیے ہرقسم کے بےجا ٹیکسز (Unnecessary Taxes) بھی ادا کرتا ہے، لیکن بدلے میں مُراعات تو دُور کی بات ہے، بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
ہمارے وطن میں مُعاشی اَبتری اور بد حالی کا یہ عالَم ہے، کہ غریب اپنے بچوں کے لیے چھت مہیّا کرنے کے چکر میں اپنی ساری زندگی گزار دیتا ہے، لیکن ایک چھوٹاسا مکان تک نہیں بنا پاتا، شہری آبادی سے دُور جنگل بیابان میں نئی بننے والی کسی ہاؤسنگ سوسائٹی (Housing Society) میں پانچ مَرلے کا ایک چھوٹا سا پلاٹ (Plot) خریدنے کی کوشش کرے ، تو اُس سے چالیس 40 سے پچاس 50 لاکھ طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی ملک میں اِشرافیہ نوازی کا یہ عالَم ہے، کہ اَربوں روپے مالیت کی زمینیں انہیں اپنی عیّاشیوں اور مَوج مستیوں کے لیے مفت یا کوڑیوں کے مول تھالی میں رکھ کر پیش کر دی جاتی ہیں۔
میرے محترم بھائیو! اسلام آباد کا “گنز کلب” (Guns Club) بہتّر 72 ایکڑ (Acres) پر مشتمل ہے، یہ اِشرافیہ (Elite Class) کا کلب ہے جو کہ نیشنل پارک (National Park) میں بنایا گیا ہے، حکومت نے عیّاشی کے اس اَڈّے کے قیام کے لیے ساری زمین کلب (Club) کو مفت فراہم کی۔ اسی طرح “وزیر اعظم ہاؤس” (Prime Minister’s House) کے انتہائی قریب اور سرینا ہوٹل (Serena Hotel) کے پہلو میں اِشرافیہ (Elite Class) کے لیے دو سو چوالیس 244 ایکڑ (Acres) پر مشتمل “اسلام آباد کلب ” (Islamabad Club) قائم کیا گیا، اور کلب (Club) کو یہ زمین ایک روپیہ فی ایکڑ (Acres) سالانہ کے حساب سے دی گئی([17])۔
لمحۂ فکریہ ہے کہ جو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہو، جس کے سر پر بیرونی قرضوں کی تلوار لٹک رہی ہو، اُس کی عوام کا مہنگائی کے مارے بُرا حال ہو، وہ قومی وسائل کے ساتھ ایسا کھلواڑ اور اِشرافیہ کے لیے اَربوں ڈالرز (Billions of dollars) کی مُراعات کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے؟!
“اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اِشرافیہ، کارپوریٹ سیکٹر (Corporate Sector)، جاگیرداروں اور اسٹیبلیشمنٹ (Establishment) کو دی گئی اقتصادی مُراعات ایک اندازے کے مطابق، 17.4ارب ڈالر (Dollar) یا ملکی معیشت کا تقریباً چھ 6 فیصد ہیں، اور ملک میں مُراعات حاصل کرنے والا سب سے بڑا شعبہ کارپوریٹ سیکٹر (Corporate Sector) ہے، جو مجموعی طور پر 4.7 ارب ڈالرز(Dollars)کی مُراعات یا سبسڈیز (Subsidies) حاصل کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی پارلیمان (Parliament) میں جاگیرداروں اور کارپوریٹ مالکان (Corporate Owners) کی بھرپور نمائندگی ہے، اور زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار جاگیردار یا کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی مُراعات ختم کرنے کی بات آتی ہے، تو غریب عوام کو دی جانے والی مُراعات اور سبسڈیز (Subsidies) کے خاتمے پربحث کی جاتی ہے، جبکہ اِشرافیہ کو ملنے والی مُراعات زیر بحث ہی نہیں آتیں؛ کیونکہ پارلیمان (Parliament) میں موجود نمائندگان طبقۂ اِشرافیہ (Elite Class) سے تعلق رکھتے ہیں”([18])۔
(14) سیاستدانوں کا پروٹوکول (Protocol)
حضراتِ گرامی قدر! ہمارے حکمرانوں، وزیر وں ، مُشیروں، ججوں اور بیورو کریٹس (Bureaucrats) کی سکیورٹی (Security) اور شاہانہ پروٹوکول (Luxury Protocol) بھی مہنگائی کے بڑے اَسباب میں سے ہے۔ سرکاری اَعداد وشمار کے مطابق “صدر مملکت، وزیراعظم، وُزراء، مُشیران ومعاونین کی سکیورٹی اور پروٹوکول (Security and Protocol) کا سالانہ خرچ، 45 کروڑ 43 لاکھ روپے ہے، عدلیہ کا خرچ 30 کروڑ 45 ہزار روپے، اور اسلام آباد پولیس کا سیکورٹی (Security) کی مَد میں خرچ 95 کروڑ 46 لاکھ روپے ہے۔
اسی طرح اگر بلحاظِ آبادی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے، پنجاب کی بات کریں، تو گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کی سکیورٹی اور پروٹوکول (Security and Protocol) پر سالانہ 42 کروڑ 70 لاکھ روپے، جبکہ پنجاب کے سابق وُزراء اور بیوروکریٹس (Bureaucrats) کی سکیورٹی (Security) پر سالانہ 10 کروڑ 58 لاکھ 70 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ نیز لاہور میں عدلیہ کا سکیورٹی اور پروٹوکول (Security and Protocol) کی مَد میں سالانہ خرچ ایک اَرب 14 کروڑ 31 لاکھ روپے ہے، صوبے میں سکیورٹی اور پروٹول (Security and Protocol) کے دیگر اَخراجات 83 کروڑ 36 لاکھ روپے ہیں، یوں(صرف لاہور کے) مجموعی اَخراجات 2 اَرب 50 کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں”([19])۔
میرے عزیز ہم وطنو! اگر ہم نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، اور مہنگائی سے نَجات حاصل کرنی ہے، تو ہمیں اپنی اِشرافیہ کے طور طریقوں کو بدلنا ہوگا، اُن کی مُراعات واپس لینا ہوں گی، اور آئینِ پاکستان کی رُو سے اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ “تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں “([20]) اور کوئی بھی شخص حکمِ شریعت سے بالاتر نہیں۔
یقین جانیے! اگر ان خطوط پر ہم اپنی ملکی پالیسی (Domestic Policy) بنانے اور اُسے نافذ کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو ہمارا وطن دن دُگنی رات چَوگنی ترقی کرے گا، ورنہ خاکم بدَہن! وطنِ عزیز “اسلامی جُمہوریہ پاکستان” کے بجائے اِشرافیہ جُمہوریہ پاکستان بن کر رہ جائے گا!۔
مہنگائی کو کافی حد کم کیا جاسکتا ہے۔
وقت کا تقاضا اور ہمارے حکمرانوں کی ذمّہ داری
لیکن ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہمارے حکمران اور ایلیٹ کلاس (Elite Class) اس نیک کام میں پہل کریں؛ کیونکہ پُرتعیُش طرزِ زندگی اور مُعاشی نظام کی تباہی کےذمہ دار سب سے زیادہ یہی لوگ ہیں،انہوں نے اپنی کرپشن، وبدعنوانی (Corruption) اور لوٹ کھسوٹ سے وطنِ عزیز کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے، اس پاک سرزمین پر بسنے والا ہر شہری، اور نیا پیدا ہونے والا ہر بچہ، غیرملکی قرضوں کا اَسیر بنا دیا گیا ہے، ہمارے قومی اداروں کو یہود ونصاریٰ کے ہاتھوں گِروی رکھا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوُجود ہمارے نا اہل حکمران اور نام نہاد اِشرافیہ اپنی موج مستیوں ، سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ، اور ذاتی مفادات کی جنگ میں مسلسل مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف غریب مہنگائی کی چکّی میں پِس رہا ہے، اس کی غربت میں مسلسل اِضافہ ہو رہا ہے، کم آمدنی والے لوگ ہماری غفلت اور طبقاتی تقسیم کی وجہ سے مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں، ہم غریب مزدوں کا حق صحیح طور پر اَدا نہیں کرتے، انہیں ان کی محنت کا پورا صِلہ نہیں دیتے، ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُن کی محنت کو کم پیسوں میں خرید کر خود زیادہ بچت ونفع کماتے، اس کے باعث غریب محنت کشوں کےچولہے بند ہو رہے ہیں، غریب آدمی اپنے بچوں سمیت خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہا ہے، مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو زہر دے رہی ہیں، الاَمان الاَمان!۔
حکمرانوں سے رِعایا کے حقوق کے بارے میں پوچھ گچھ ہونی ہے!
لہذا ہمارے حکمران اور دیگر اصحابِ اختیار لوگ اُس وقت سے ڈریں جب روزِ محشر اُن سے اُن کی رِعایا (عوام) اور ماتحت لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، حساب ہوگا! حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ فَهُوَ رَاعٍ عَلَيْهِمْ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُمْ، وَالْـمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ، وَهِيَ مَسْؤُوْلَةٌ عَنْهُمْ، وَالعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»([35]).
“تم میں سے ہر ایک حاکم ہے، اور اُس سے اُس کی رِعایا کے بارے میں سوال ہوگا، پوچھا جائے گا! * تو لوگوں کا امیر جو اُن پر حاکم ہے، اس سے اُس کی رِعایا کے بارے میں سوال ہوگا، * ہر آدمی اپنے گھر والوں پر حاکم ونگہبان ہے، اور اس سے اس کے اہل وعِیال کے بارے میں سوال ہوگا، * عورت اپنے شَوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر نگہبان ہے، اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا، * غلام (ومُلازِم) اپنے آقا (ومالک) کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے بھی اس بارے میں پوچھا جائے گا، لہذا جان لو کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ونگہبان ہے، اور ہر ایک سے
اس کی رَعیت کے بارے میں (قیامت کے دن) باز پُرس ہوگی!!”۔
رِعایا کے حقوق کی پامالی کی سزا
حضراتِ گرامی قدر! آج جو لوگ مَسْندِ اقتدار پر بَراجمان ہو کر اقتدار کے مزے لُوٹ رہے ہیں، انہیں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیےکہ مَنصب وحکمرانی ایک اَمانت ہے، اور اس میں خِیانت کرنے والے کی سزا بروزِ قیامت جنّت سے محرومی ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «لَا يَسْتَرْعِي اللهُ عَبْدًا رَعِيَّةً، يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»([36]) “اللہ تعالی جب کسی بندے كو رِعایا کا نگران (حاکم) بناتا ہے، اور وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رِعایا کے حقوق پامال کرتا ہو، تو اللہ تعالى اُس پر جنّت حرام کر دیتا ہے”۔
خلاصۂ کلام
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! ہمارے حکمرانوں پر لازم ہے کہ رِعایا کے حقوق کا خاص خیال رکھیں، اپنے عوام کی حق تلفی نہ کریں، ان کے لیے مشکلات کا باعث نہ بنیں، ان پر بےجا ٹیکس (Tax) نہ لگائیں، زیادہ مہنگائی نہ ہونے دیں، لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کریں، انہیں مشکلات اور تنگی کا شکار نہ ہونے دیں، سرکاری اداروں میں بےجا اخراجات کو کنٹرول (Control) کریں، کرپشن وبدعنوانی (Corruption) پر قابو پائیں، اپنے پروٹوکول (Protocol) میں کمی کریں، سرکاری وسائل کا بےجا استعمال نہ کریں، سادہ طرزِ حکمرانی اختیار کریں، سرکاری وسائل پر شاہانہ طرزِ زندگی گزارنے والے سیاستدانوں اور سرکاری مُلازموں کو دی جانے والی اِضافی مُراعات ان سے واپس لیں، اور عوام کی حق تلفی سے بچیں بچیں بچیں!!۔
دعا
اےاللہ! ہمیں رزقِ حلال کی فراوانی کے اسباب اختيار كرنے، اور کثرت سے توبہ واِستِغفار کی سعادت نصیب فرما، ہمارے رزقِ حلال میں وسعتیں برکتیں عطا فرما،ہمیں اسلامی طریقے کے مُطابق تجارت اور کاروبار کی توفیق عطا فرما، رزقِ حلال کمانے اور حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرما، حرام اور ناجائز اشیاء کی تجارت سے بچا، ہمارے حکمرانوں کو اپنی رِعایا کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا جذبہ، سوچ اور توفیق عطا فرما، انہیں اپنی عوام کی حق تلفی سے محفوظ فرما، ہمیں توکُل وقناعت کی صفت سے مزیَّن فرما، سادگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما، اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی سے بچا!۔
اےاللہ! اپنے حبیب کریم ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام کی سچی محبت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اےاللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی اور چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی اور کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان، مال، عزّت، آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “صحيح البخاري” كتاب العلم، ر: 69، صـ17.
([2]) انظر: “الرياض النضرة في مناقب العشرة” الباب 3 في مناقب أمير المؤمنين عثمان بن عفّان h، الفصل 9 في ذكر نبذ من فضائله، 3/ 43، 44.
([3]) “شُعب الإيمان”، فصل في ترك الاحتكار، ر: 11215، 7/ 525.
([4]) “مرآۃ المناجیح” تجارتوں کا باب، غلّہ روکنے کا بیان، تیسری فصل، 4/ 321۔
([5]) “سنن أبي داود” كتاب الخراج والإمارة والفيء، باب في السعاية على الصدقة، ر: 2937، صـ427.
([6]) “مسند الإمام أحمد” حديث رُوَيفِع بن ثابت، ر: 17001، 28/ 211.
([7]) پ١٥، بني إسرائيل: ٢٦، ٢٧.
([9]) “قرّة العيون” للسمرقندي، الباب 5 في عقوبة أكل الربا، ر: 67، صـ62.
([11]) “سُنن ابن ماجه” باب الرجحان في الوزن، ر: ٢٢٢٢، صـ٣٧٣.
([12]) دیکھیے: “تجارت کا نبوی اُسلوب” وعظ الجمعہ 26 اگست 2022ء۔
([13]) “صحيح مسلم” باب تحريم الاحتكار في الأقوات، ر: 4122، صـ702.
([14]) “مُسنَد الإمام أحمد” حديث معقل بن يسار h، ر: 20313، 33/ 426.
([15]) “سنن ابن ماجه” باب الحكرة والجلب، ر: 2153، 2/ 728.
([16]) “مرآۃ المناجیح” تجارتوں کا باب، غلّہ روکنے کا بیان، دوسری فصل، 4/ 318۔
([17]) دیکھیے: “اسلام آباد کلب: دھوتی سے آگے” روزنامہ 92، ڈیجیٹل ایڈیشن 24 جنوری 2023ء۔
([18]) دیکھیے: “اِشرافیہ کی مُراعات اور غریب کا پسینہ” روزنامہ جنگ ڈیجیٹل ایڈیشن 8 جون 2022ء۔
([20]) “اسلامی جُمہوریہ پاکستان کا دُستور” باب اوّل، بنیادی حقوق، آرٹیکل 25، 14۔
([21]) “حلية الأولياء” سلَمة بن دينار …إلخ، 3/ 239.
([22]) “سنن أبي داود” كتاب الوتر، باب في الاسْتِغْفارِ، ر: 1518، صـ224.
([24]) “حلية الأولياء” بِشر بن الحارث …إلخ، 8/ 347.
([27]) “مُسند البزّار” مسند حذيفة بن اليمان k، ر: ٢٩١٤، 7/314.
([29]) “سنن ابن ماجه” كتابُ التِّجارة، ر: 2144، صـ361.
([31]) “صحیح البخاري، کتاب الزکاة، ر: ١٤٧٧، صـ٢٤٠.
([32]) المرجع نفسه، کتاب اللباس، صـ١٠٢٠.
([33]) “اِحیاء العلوم” باب اوّل، پیٹ کی شہوَت کا بیان، مہنگائی ختم کرنے کا طریقہ، 3/ 352۔
([34]) “صحيح مسلم” كتابُ الإيمان، ر: ٢٨٤، صـ٥٧.