برکاتِ اعتکاف

Home – Single Post

برکاتِ اعتکاف

حضراتِ گرامى قدر! اعتكاف ایک ایسی عبادت ہے جو سابقہ امتوں میں بھی موجود تھی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴾([1]) “ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ طواف والوں، اور اعتکاف والوں، اور رکوع و سجود والوں کے ليے میرا گھر خوب ستھرا کرو!”۔

Blessings of Ramadan

یہ بھی ضرور پڑھیں :استقبالِ رمضان

عزیزانِ محترم! یوں تو رمضان المبارك کا پورا مہینہ ہی رَحمتیں برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے، مگر اس كے آخری دس10 دن پہلے بیس20 دنوں سے زیادہ اَہمیّت اور انفرادی شان رکھتے ہیں، ان میں شبِ قدر کو پانے کے لیےاہلِ ایمان اعتکاف بهى كرتے ہیں۔ اِعتکاف کے لُغوی معنی ہیں دَھرنا دینا، مطلب یہ کہ معتکِف اللہ تعالی کی بارگاہ میں، عبادت پر کمر بستہ ہو کر مسجد ميں بیٹھ جاتا ہے، ڈیرے ڈال دیتا ہے، اس کی  يہی آرزُو ہوتی ہے کہ کسی طرح پروردگارِ عالَم مجھ سے راضی ہوجائے۔

رمضان المبارک کی بیس20 تاریخ کا سورج ڈوبتے ہی اِعتکاف کا وقت شروع ہو جائے گا، دنیا کے سارے کاروبار چھوڑ کر رمضان شریف کے آخری دنوں میں اللہ تعالی کے قُرب واطاعت کی غرض سے، مَرد حضرات کى مسجد اور خواتین کى اپنے گھروں میں گوشہ نشینى كا نام اِعتکاف ہے۔ اِعتکاف کی تعریف بیان کرتے ہوئے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “مسجد میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے ٹھہرنا اِعتکاف ہے، اور اس کے لیے مسلمان کا  عاقل اور جَنابت وحیض ونَفاس سے پاک ہونا شرط ہے، بُلوغت شرط نہیں، بلکہ وہ نابالغ جو نماز ومسجد کے آداب کی سُوجھ بُوجھ رکھتا ہو، اگر بہ نیّتِ اِعتکاف مسجد میں ٹھہرے، تو اُس كا یہ اِعتکاف بهى صحیح ہے۔

علمائے ذی وقار اعتکاف کے بارے میں فرماتے ہیں، کہ “اِعتکاف کی تین3 قسمیں ہیں: (1) واجب، (2) سنتِ مؤکَّدہ (3) اور مستحب۔ اگر کسی نے اِعتکاف کی نذر ومنت مانی تو اُس پر اِعتکاف واجب ہے۔ رمضان المبارک میں آخری عشرہ کا اِعتکاف سنّتِ مؤکَّدہ على الكفايہ ہے۔ واجب اور سنّتِ مؤکَّدہ کے علاوہ جو اِعتکاف ہو مستحَب ہے”([2])۔

برادرانِ اسلام! خالقِ کائنات ﷻ كا  ہم اَہلِ ایمان پر اِنعام, اِکرام اور کرم بالائے کرم ہے، كہ وه ذاتِ اقدس A رمضان المبارک كے آخرى عشرہ میں ہمیں خوب نیکیوں اور بھلائیوں کا موقع فراہم کرتا ہے، کہ اس عشرے  میں مسلمان طلبِ ثواب، شبِ قدر کی تلاش اور اس کے حصول کے لیے اعتکاف کرتے ہیں،  مصطفى جانِ رحمت ﷺ بھی ہر سال اعتکاف کیا کرتے۔ حضرت سيِّده عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: «أَنَّ النَّبِيَّ g كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللهُ b، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهٗ مِنْ بَعْدِه»([3]) “حضور نبئ کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے، يہاں تک کہ اللہ A سے جا ملے، پھر آپ کے بعد آپ کی اَزواجِ مطہَّرات اعتکاف کرتیں رہیں”۔

رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! رَحمتِ کونَین ﷺ خود اِعتکاف کرنے کے ساتھ ساتھ، دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے، کہ جو اَہلِ ایمان رمَضان کریم کے آخری عشرہ کا اِعتکاف کرتے ہیں، انہیں دو2 حج اور دو2 عُمروں کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ حضرت سیِّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدَس ﷺ نے فرمایا: «مَنِ اعْتكَفَ عَشْراً فِيْ رَمَضَانَ، كَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ»([4]) “جس نے رمَضان میں دس10 دن اِعتکاف کیا، وه اَیسا ہے جَیسے اس نے دو2 حج اور دو2 عُمرے کیے”۔

Virtues of Shaban in Islam: A Sacred Month of Fasting, Purification, and Preparation for Ramadan

یہ بھی ضرور پڑھیں : فضائلِ شعبان المعظم

میرے بھائیو! جو شخص اِعتکاف کرے وہ گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، اور اُسے کثیر نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔ حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيُجْرٰى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا»([5]) “معتكف گناہوں سے باز رہتا ہے، اور تمام تَر نیک كام انجام دینے والے کی طرح، اُسے نیکیاں عطا کی جاتی ہیں”۔

جانِ برادر! اِعتکاف کا سارا وقت رَحمتیں برکتیں سمیٹنے، نیکیوں، بھلائیوں، تلاوتِ قرآن، فرائض ونوافل، صدَقات وخیرات اور تراويح، تہجد اور دیگر اَعمالِ صالحہ کی کثرت کا عشره ہے۔ شبِ قدر پانے کے لیے اس عشرے میں اِعتکاف کیا جاتا ہے، لہذا اس کے مسائل واَحكام سیکھنا بهى معتكِف حضرات پر لازم ہیں۔ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ۠ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِي الْمَسٰجِدِ﴾([6]) “جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو، تو عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ”۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ “اس میں بیان ہے، کہ اعتکاف میں عورتوں سے قربت اور بوس و کنار حرام ہے، اور مَردوں کے اعتکاف کے ليے مسجد ضروری ہے”([7])۔

حضراتِ محترم! اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں: «السُّنَّةُ عَلَى المُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضاً، وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً، وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا، وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، ولا اعتكافَ إلّا بِصَوْم»([8]) “معتکف کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے، کہ وہ نہ کسی مریض کی عِیادت کو جائے، نہ کسی جنازے میں شرکت کرے، نہ کسی عورت کو چُھوئے، نہ اُس کے ساتھ مِلاپ کرے، نہ ہی ناگُزیر ضروریات کے سوا کسی کے لیے باہَر نکلے، اور بغیر روزه کے اعتکاف درست نہیں”۔

اعتکاف کی فضلیت بیان کرتے ہوئے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “اِعتکاف کے لیے سب سے افضل مقام مسجدِ حرام ہے، پھر مسجدِ نبوی، پھر مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس، پھر اس جگہ جہاں بڑی جماعت ہوتی ہو۔ عَورت کا مسجد میں اِعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی ایک جگہ مقرّر کر کے وہاں اِعتکاف کرے”([9])۔

“بالغ ہونا اعتکاف کے لیے شرط نہیں، بلکہ ايسا نابالغ جو تمیز اور اچھے برے کا شعور رکھتا ہے، اگر اعتکاف کی نیت سے مسجد میں ٹھہرے، تو اسكا اعتکاف صحیح ہے”([10])۔

اعتکاف کا وقت بیان کرتے ہوئے، صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، کہ جو اِعتکاف کرنا چاہتا ہو، وہ “بیسوَیں20 روزہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے، بنیّتِ اِعتکاف مسجد میں حاضر ہو، اور تیس30 کے غروب، یا انتیس29 کو عيد كا چاند ہونے کے بعد وہاں سے باہر آئے۔ اگر بیس20 تاریخ کو بعد نمازِ مغرب اِعتکاف کی نیّت کی، تو یہ اِعتکافِ سنّتِ مؤکَّدہ ادا نہ ہو گا۔ رمَضان کا اِعتکاف سنّتِ کفایہ ہے، کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہو گا، اور پورے شہر میں كسى ایک نے کر لیا تو سب بریُ الذِمّہ ہو گئے”([11])۔

عبادت وریاضت اور ماہِ رمضان

یہ بھی ضرور پڑھیں : عبادت وریاضت اور ماہِ رمضان

“سنّتِ اعتکاف، یعنی رمضان شریف کے آخری دس10 دنوں میں جو کیا جاتا ہے، اُس میں روزہ شرط ہے، لہٰذا اگر کسی مریض یا مسافر نے اعتکاف تو کیا، مگر روزہ نہ رکھا، تو سنّت ادا نہ ہوئی، بلکہ نفلی اعتکاف ہوا”([12])۔

بلا عذر معتکف کو مسجد سے باہر جانا ٹھیک نہیں، اس طرح اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، علّامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اِعتکافِ واجب میں معتکِف کو مسجد سے بلا عُذر نکلنا حرام ہے، اگر نکلا تو اُس كا اِعتکاف ٹوٹ جائے گا، اگرچہ بھول کر نکلا ہو۔ یونہی اِعتکافِ سنّت بھی بلا عُذر مسجد سے باہر نکلنے پر ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح عَورت بھی اِعتکافِ واجب ومسنون میں بلا عُذر نہیں نکل سکتی”([13])۔ اگر کسی عذر کے سبب باہر جانا ہو، تو اس میں بھی احتیاط ضروری ہے، علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “اگر کوئی قضائے حاجت کے لیے باہر گیا تھا، اور كسى نے اسے باہر روک لیا، تو اِعتکاف ٹوٹ گیا”([14])۔

علّامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ “معتکِف مسجد ہی میں کھائے، پيے اور سوئے، ان اُمور کے لیے مسجد سے باہر گيا تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا”([15])۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ “معتکِف نے دن میں بھول کر کھا لیا، تو اعتکاف فاسد نہ ہوا، گالی گلوچ یا جھگڑنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، مگر بے نور وبے برکت ہوجاتا ہے”([16])۔

معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو2 عذر ہیں، جن سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا: ایک: حاجتِ طبعی جو مسجد میں پوری نہ ہو سکے، جیسے: پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل۔ اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو، تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔ دوسرا: حاجتِ شرعی، مثلاً: نمازِ جمعہ کے لیے جانا (جبکہ اس مسجد میں جہاں اعتکاف کیا، جمعہ نہ ہوتا ہو)، یا اذان کہنے کے لیے (خارجِ مسجد) جانا، جبکہ (وہاں) جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو، اور اگر اس کا راستہ اندر سے ہو، تو غیرِ مؤذّن بھی جا سکتا ہے، مؤذّن کی تخصیص نہیں([17])۔

“بری بات زبان سے نہ نکالنا واجب ہے، اور جس بات میں نہ ثواب ہو نہ گناہ، یعنی مباح (جائز) بات بھی معتکف کو مکروہ ہے سوائے ضرورت كے، اور بے ضرورت مسجد میں مباح کلام، نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ معتکف قرآنِ مجید کی تلاوت، حدیث شریف کی قراء ت، اور درود شریف کی کثرت، علمِ دین کا درس و تدریس، نبئ رحمت ﷺ و دیگر انبیاء کے سِیرو اذکار، اور اولیاء و صالحین کی حکایات اور امورِ دین کی کتابت (تصنیف وتالیف) كرے”([18])۔ لہذا جو بھی اعتکاف کرے اسے اعتکاف کے مسائل پہلے ہی سیکھ لینا لازم ہیں؛ تاکہ اس کا اعتکاف شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو۔

اے اللہ! اعتکاف کا ارادہ رکھنے والوں کو، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق مرحمت فرما، انہیں اس کی برکتوں سے مالا مال فرما، انہیں اور ہم سب کو مساجد کا خوب ادب واحترام کرنے کی سعادت نصیب فرما، اور دیگر تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوشى سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام ﷡ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔ وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العال


([1]) پ١، البقرة: 187.

([2]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/412.

([3]) “صحيح مسلم” كتاب الاعتكاف، ر: ٢٧٨٤، صـ٤٨٣.

([4]) “شعب الإيمَان” بابُ في الاعتكاف، ر: 3966، 3/1445.

([5]) “سُنن ابن ماجه” كتابُ الصِّيام، ر: 1781، صـ297.

([6]) پ2، البقرة: 187.

([7]) “تفسیر خزائن العرفان” پ2، البقرة، زیرِ آیت: 187،؃ 56  ملتقطاً۔

([8]) “سنن أبي داود” باب المعتكف يعود المريض، ر: 2473، صـ358.

([9]) “الفتاوى الهندية” كتابُ الصَّوم، البابُ السابع في الاعتكاف، 1/211.

([10]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/409.

([11]) “بہارِ شریعت” اِعتکاف کا بیان، حصّہ پنجم، 1/1021۔

([12]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/415.

([13]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/412.

([14]) “الفتاوى الهندية” كتابُ الصَّوم، البابُ السابع في الاعتكاف، 1/212.

([15]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/435.

([16]) “الفتاوی الهندیة” کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ١/213.

([17]) “ردّ المحتار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/423-427 بتصرّف.

([18]) “الدرّ المختار” كتابُ الصَّوم، بابُ الاعتكاف، 6/439، 440.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Recent Blog

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *