حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کا نظامِ خلافت

Home – Single Post

حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کا نظامِ خلافت

عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدنا صدیقِ اكبررضی اللہ عنہ کا نام عبد اللہ، لقب صدیق اور عتیق ہے۔ آپ کے والد کا نام ابو قُحافہ عثمان، اور والدہ ام الخیر سلمٰی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسَب ساتویں پُشت میں رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ سے تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت میں بھی قوم میں معزَّز مکرّم تھے۔ آپ نے قبلِ اسلام بھی کبھی شراب نہیں پی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کے موقع پر حضورِ اکرم ﷺ کے رفیقِ سفر اور یارِ غار بھی رہے([1])۔

میرے محترم بهائيو! حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں، قرآنی آیات بھی نازل ہوئی ہیں، مکّۂ مکرّمہ سے ہجرت كے وقت رحمتِ عالمیان ﷺ، اور حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دَورانِ سفر غارِ ثَور میں بھی رہے۔ اللہ تعالی نے اس واقعہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: ﴿ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ اِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللهَ مَعَنَا﴾([2]) “صرف دو2 جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے، جب اپنے دوست سے فرماتے تھے، کہ غم نہ کرو، یقیناً اللہ تعالى ہمارے ساتھ ہے!”۔ یعنی  مصطفی جانِ رحمت ﷺ حضرت سيِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ كو تسلّی دے رہے تھے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں، کہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے([3])۔ لہذا جو شخص حضرت سيِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرے، وہ اس آيتِ قرآنی کا منکِر ہو کر کافِر ہوا([4])۔

برادرانِ اسلام! اسی طرح حضرت سيِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے، جب حضرت سيِّدنا بلال حبشى رضی اللہ عنہ کو بہت بھاری قیمت پر خرید کر آزاد کیا، تب  کفّار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا، کہ ابوبكر نے ایسا کیوں کیا؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا، جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا! اس پر یہ آیتِ مباركہ نازل ہوئی: ﴿وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزَى﴾([5]) “کسی کا اس پر كچھ احسان نہیں، جس کا بدلہ دیا جائے”۔ یعنی حضرت سيِّدنا صدیق اكبر رضی اللہ عنہ کا یہ كام محض اللہ تعالی کی رضا کے ليے ہے، کسی کے احسان کا بدلہ نہیں، اور نہ ان پر حضرت سيِّدنا بلال رضی اللہ عنہ کا کوئی احسان ہے۔ لہذا ہمیں بھی  کسی پر احسان کے بدلے میں نہیں، بلکہ ہر نیک کام صرف اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لیے انجام دینا چاہیے۔

رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! سيِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لقب “صدیق” کا سبب بیان کرتے ہوئے، امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیِّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہ نے فرمايا: «لمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ﷺ إِلَى الـْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ فَارْتَدَّ نَاسٌ، فَمَنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَمِعُوا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ h، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمقْدِسِ؟ قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ المَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأُصُدِّقُهُ فِيمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ! أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ!»([6]).

“جب نبئ رَحمت ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی، تو آپ ﷺ نے صبح لوگوں کے سامنے اس واقعہ کو بیان فرمایا، لوگوں نے اس بارے میں چے مگوئیاں کیں، کچھ لوگ اس سے انکاری ہوکر مرتَد ہوئے، اور ایمان والوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر دَوڑتے ہوئے حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: آپ اپنے دوست (محمد) کے بارےمیں کيا کہتے ہیں؟ جو وہ  کہتے ہيں، کہ انہوں نے راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی سیر کی! آپ رضی اللہ عنہ نے كہا: کیا حضور ﷺ نے واقعی یہ فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمايا كہ اگر حضور ﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا!۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں، کہ وہ رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمايا کہ ہاں، میں تو اُن کی آسمانی خبروں کی بھی صبح وشام تصدیق کرتا ہوں، جو اس بات سے بھی زیادہ حیران کُن اور تعجب والی بات ہے!”۔

الحمد للہ، ہم اہلِ ایمان کا بھی یہی عقیدہ ہے، کہ اللہ تعالی نے رات کے ایک قلیل حصہ میں، اپنے حبيبِ كريم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک کی سیر کرائی، پھر وہاں سے آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کو لے گیا، آپ ﷺ کو عرش وکرسی دکھائی، اور پھر خود اپنی ملاقات کا شرفِ عظیم بھی بخشا!۔

عزيز دوستو! حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفىٰ جانِ رحمت ﷺ نے سيِّدنا جبريل D سے فرمایا: «يا جبريلُ! على أمّتي حسابٌ؟ فقال: نعم، عليهم حسابٌ ما خلا أبا بكر الصدّيق، ليس عليه حسابٌ. قيل: يا أبا بكرٍ أُدخُلِ الجنّةَ! قال: لن أَدخُلَها حتّى أدخُلَ معي مَن أحبَّني في دار الدّنيا!»([7]) “میں نے جبریل سے پوچھا کہ کیا میری امّت کا حساب ہوگا؟ حضرت جبریل نے عرض کی: جی ہاں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا تمام لوگوں کا حساب ہوگا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا جائے گا، کہ اے ابو بکر! جنّت میں داخل ہو جاؤ! وہ کہیں گے، کہ جب تک دنیا میں مجھ سے محبت رکھنے والوں کو جنّت میں داخل نہ کرلوں، میں جنّت میں داخل نہیں ہوں گا!”۔ اس سے ثابت ہوا کہ سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی محبت بھی جنّت میں داخلے کا اہم سبب ہے۔

حضراتِ گرامى قدر! سيِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں، جنہیں سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے فرضیتِ حج کے بعد، پہلے ہی سال میں امیر الحجاج مقرّر فرمایا، ا ور انہیں اپنے سامنے مرض الوفات میں اپنی جگہ نماز کے لیے امام مقرّر فرمایا۔ حضرت سيِّدنا مولا علی -كرّم الله تعالى وجہہ الکریم- کا ارشاد ہے: «لمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ ﷺ نَظَرْنَا فِي أَمْرِنَا، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ ﷺ قَدْ قَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِدِينِنَا، فَقَدَّمْنَا أَبَا بَكْرٍ»([8]) “نبئ رَحمت ﷺ کے وِصال كے بعد، جب ہم نے غور کیا (تو اس نتیجہ پر پہنچے)، کہ جب نماز کے مُعاملہ میں نبئ کریم ﷺ نے سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مقدَّم فرمایا، اور ہمارے دین کے لیے انہیں امام بنانا پسند فرمایا، تو ہم دنیاوی مُعاملات میں بھی ان پر راضی ہوگئے، یعنی ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کی بیعت کر کے، انہیں خلیفہ مقرّر كر دیا”۔ اس سے پتا چلا کہ سب سے پہلے خلیفہ سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور یہی ہم اہلِ اسلام کا نظریہ ہے۔

حضرت سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرّر ہونے کے بعد، منبر پر جلوه فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد، پہلا خطبۂ خلافت ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ! أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنِّي قَدْ وُلِّيتُ عَلَيْكُمْ، وَلَسْتُ بِخَيْرِكُمْ، فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِينُونِي، وَإِنْ أَسَأْتُ فَقَوِّمُونِي. الصِّدْقُ أَمَانَةٌ، والكذبُ خيانةٌ، والضعيفُ منكم قويٌّ عندي حتّى أزيحَ علّتَه إِنْ شَاءَ اللهُ، وَالْقَوِيُّ فِيكُمْ ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ منه الحقَّ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا يَدعُ قَوْمٌ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا ضَرَبَهُمُ اللهُ بِالذُّلِّ، ولا يشيعُ قومٌ قطُّ الفاحشةَ إِلَّا عَمَّهُمُ اللهُ بِالْبَلَاءِ، أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِذَا عَصَيْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ!!، قُومُوا إِلَى صَلَاتِكُمْ يَرْحَمْكُمُ اللهُ!»([9]) “لوگو! میں تمہارا امیر بنا دیا گیا ہوں، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھا کام کروں تو تم میری مدد کرنا، اور اگر برا کروں تو مجھے درست راه بتا دينا۔ سچائی ایک امانت ہے، اور جھوٹ خیانت ہے۔ جو تم میں کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے، الله تعالى نے چاہا تو میں اس کا شکوہ دور کردوں گا، اور جو تم میں طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے، تو ان شاء الله تعالى میں اس سے كمزور كا حق لے کر رہوں گا۔ جو قوم جہاد چھوڑ دیتی ہے، اللہ B اس پر ذلت مسلَّط کر دیتا ہے، اور جس قوم میں بے حیائى عام ہوجائے، اللہ تعالى ان پرمصیبت عام کر دیتاہے۔ جب تک میں اللہ ورسول کی اطاعت کروں، تو تم بھی میری فرمانبرداری کرنا، اور جب میں اللہ و رسول کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں!!۔ اچھا اب نماز کو اٹھو اللہ تعالى تم پر رحم فرمائے!”۔

یہ خطبہ اپنے اختصار کے باوجود اہم ترین اسلامی خطبات میں سے ايك ہے۔ اس خطبہ میں حضرت نے حاکم اور رعایا کے در میان مُعاملات کے سلسلہ میں عدل ورحمت کے قواعد بيان فرمائے۔ اس بات پر ياد دہانی کرائی، کہ حكّام کی اطاعت اللہ ورسول کی اطاعت پر منحصر ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی؛ کیونکہ جہاد اس امّت کى عزّت وشان کے لیے انتہائی اَہمیت کا حامل ہے۔ نیز بے حیائی اور فحاشى كےكاموں سے اجتناب پر زور دیا؛ کیونکہ مُعاشرہ کو فتنہ وفساد سے بچانے کے لیے، یہ چیز انتہائی ضروری ہے۔

محترم بھائیو! حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیعتِ خلافت کے دوسرے روز، کچھ چادریں لے کر بازار جارہے تھے، حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: «أين تريدُ؟» “آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟” فرمایا: «إلى السُّوقِ» “(بغرضِ تجارت) بازار جا رہا ہوں”، حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: «تصنعُ ماذا وقد وُلّيتَ أمرَ المسلمينَ؟!» “آپ رضی اللہ عنہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ اب آپ مسلمانوں کے امیر ہیں!” یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «فمِن أين أُطعِم عِيالي؟» “(اگر میں یہ کام نہ کروں) تو پھر اپنے اہل وعِیال کو کہاں سے کھلاؤں گا؟” حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: «انطلِقْ، يَفرض لك أبو عبَيدةَ» “آپ واپس چليے، آپ کے اخراجات حضرت ابو عبَیدہ طَے کریں گے”۔ پھر یہ دونوں حضرات سیِّدنا ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، حضرت سیِّدنا ابو عبیدہ بن جرّاح نے فرمایا: «أَفرَضُ لك قُوتَ رجلٍ من المهاجرينَ، ليس بأفضلِهم ولا أوكَسِهم، وكِسوةَ الشِّتاءِ والصَّيفِ، إذا أخلقتَ شيئاً رددتَه وأخذتَ غيرَه!» “ميں آپ (حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کے اَہل و عِیال کے واسطے) ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کرکے روزينہ، اور موسمِ سرما و گرما کا لباس مقرّر کرتا ہوں، اس طور پر کہ جب وہ لباس قابلِ استعمال نہ رہے، تو واپس دے کر اُس کے عِوض دوسرا لے لیا كريں!”۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ نے حضرت سیِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے ليے آدھی بکری کا گوشت، لباس اور روٹی مقرّر کر دی([10])۔

اس واقعہ میں ہر جگہ اور ہر دَور کے حکمرانوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے، کہ وہ بیت المال میں سے اتنی تنخواہ لیں، جتنی ایک اوسط درجہ کے ملازِم کی اُجرت ہوا کرتی ہے، یعنی شاہ خرچی سے بچ کر، ملک وقَوم کی حقیقی خدمت انجام دیں، تب ان کی رِعایا انہیں خیر وبرکت کی دعاؤوں سے نوازے گی، جس سے ان کی دنیا اور آخرت سَنوَر جائے گی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : حقوق العباد

عزيزانِ محترم! عموماً انسان جس سے محبت کرتا ہے، اس سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت کرنے لگتا ہے۔ حضرت سيِّده فاطمۃ الزہرا، اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے، جب حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق سے مطالبہ کیا، کہ خیبر اور فدک کی جائيداد (رسولِ اکرم ﷺ) کی میراث کے طور پر ان میں تقسیم کی جائے! اس مطالبہ کے جواب میں حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کہ میں نے نبئ كريم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا المَالِ» “ہم (نبیوں کے) مال میں وراثت نہیں ہوا کرتی، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدَقہ ہے، البتہ آل محمد اس میں سے نفَقہ لے سکتی ہے”۔ اُس پروَردگار کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! رسول اﷲ ﷺ کی قرابتداری مجھے اپنے اَقرِباء سے زیادہ محبوب ہے!”([11])۔

چنانچہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس جائيداد کا وہی انتظام کیا جو رسولِ اکرم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ہوا کرتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس میں سے سال بھر کے لیے اہلِ بیت کا نفَقہ نکالتے، اس کے بعد جو باقی بچتا اسے الله کا مال قرار دیتے، یعنی مسافروں، غریبوں، مسکینوں اور حاجتمندوں پر صرف کیا کرتے۔ اور جس طرح تاجدارِ رسالت ﷺ سے محبت، ایمان کا حصہ اور اس کا کمال، بلکہ حقیقتِ ایمان ہے، سرکارِ کائنات ﷺ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز، بالخصوص اہلِ بیتِ اَطہار سے محبت بھی ایمان کا تقاضا ہے!!۔

جانِ برادر! تمام اَدیان کے مسخ ہو جانے کی اصل وجہ وہ بدعات ہیں جو رفتہ رفتہ جزوِ مذہب ہوکر، اس کی اصلی صورت اس طرح بدل دیتے ہیں، کہ اصل دین کی صحیح تعلیم ومتبعین کی ایجادات میں امتیاز و فرق دشوار ہو جاتا ہے۔ حضرت سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دَور میں بدعات بہت کم پیدا ہوئیں، تاہم جب کبھی کسی بدعت کا ظہور ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے مٹانے میں پورا زور لگا دیا۔

ایک بار حج کے موقع پر قبیلہ احمس کی عورت کے بارے میں معلوم ہوا، کہ وہ گفتگو نہیں کرتی، آپ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی: «مَا لَهَا لَا تَكَلَّم؟» “وہ کلام کیوں نہیں کرتی؟” تو لوگوں نے کہا کہ اس نے خاموش حج کا ارادہ کیا ہے، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے فرمایا: «تَكَلَّمِي! فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الجَاهِلِيَّةِ!» “یہ زمانۂ جاہلیت کا طریقہ ہے، یہ جائز نہیں، تم بات چیت کر لو!”، اس عورت نے بات کی، اور کہا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا: «أَنَا أَبُو بَكْرٍ»([12]) “ميں ابوبکر ہوں”۔

حضرت سیِّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «لمَّا احْتُضِرَ أَبُو بَكْرٍ h، قَالَ: يَا عَائِشَةُ! انْظُرِي اللِّقْحَةَ الَّتِي كُنَّا نَشْرَبُ مِنْ لَبَنِهَا، وَالْجَفْنَةَ الَّتِي كُنَّا نَصْطَبِحُ فِيهَا، وَالْقَطِيفَةَ الَّتِي كُنَّا نَلْبَسُهَا، فَإِنَّا كُنَّا نَنْتَفِعُ بِذَلِكَ حِينَ كُنَّا فِي أَمْرِ المُسْلِمِينَ، فَإِذَا مِتُّ فَارْدُدِيهِ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ h أَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ h، فَقَالَ عُمَرُ h: رَضِيَ اللهُ عَنْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ! لَقَدْ أَتْعَبْتَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكَ!»([13]).

“حضرت ابو بكر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت فرمایا، کہ اے عائشہ دیکھو! یہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے ہیں، اور یہ بڑا پیالہ جس میں ہم پیتے ہیں، اور یہ چادر جو ہم اوڑھتے ہیں، ان سے اسی وقت تک نفع اٹھا سکتے ہیں جب تک ہم مسلمانوں کے امرِ خلافت انجام دیتے رہیں گے، جس وقت میں وفات پاجاؤں تو یہ تمام سامان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دے دینا۔ چنانچہ جب حضرت ابو بكر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں (عائشہ )نے یہ تمام چیزیں حسبِ وصیت حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجوا دیں، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے! کہ آپ نے تو اپنے بعد آنے والوں کو تھکا دیا ہے!!”۔ یعنی آپ نے اپنے بعد والوں کو بھی انتہائی احتیاط کی تاکید ورَہنمائی فرما دی۔

میرے دوستو اور بزرگو! سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ سیِّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ كے (آخری ایّام میں) جب مرض میں اضافہ ہوا، تو انہوں نے پوچھا: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» “آج کونسا دن ہے؟” ہم نے عرض کی: پیر کا دن ہے، فرمایا: «فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ؟» “رسول اللہ ﷺ نے کس دن وصال فرمایا؟” سیِّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: پیر کے دن رحلت فرمائی، اس پر فرمایا: «فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ»([14]) “مجھے امید ہے کہ میں آج دن یا رات میں کسی وقت فَوت ہو جاؤں گا!”۔

محترم حضرات! حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرضِ وفات میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: «إِذَا مِتُّ وَفَرَغْتُمْ مِنْ جَهَازِي، فَاحْمِلُونِي حَتَّى تَقِفُوا بِبَابِ الْبَيْتِ، الَّذِي فِيهِ قَبْرُ النَّبِيِّ ﷺ, فَقِفُوا بِالْبَابِ وَقُولُوا: “السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ!” فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ وَفُتِحَ الْبَابُ, -وَكَانَ الْبَابُ مُغْلَقاً- فَأَدْخِلُونِي فَادْفِنُونِي, وَإِنْ لَمْ يُؤْذَنْ لَكُمْ فَأَخْرِجُونِي إِلَى الْبَقِيعِ وَادْفِنُونِي».

“جب میں انتقال کر جاؤں، اور تم لوگ میرے غسل وکفن سے فارغ ہو چکو، تو میرا جنازہ اُٹھا کر نبئ کریم ﷺ کے روضۂ مبارکہ کے دروازہ کے سامنے رکھ دینا، اور عرض کرنا: “اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو! یہ ابوبکر اجازت چاہتا ہے!” اگر اجازت مل جائے اور دروازہ کھل جائے (کیونکہ وہ دروازہ بند رہتا تھا) تو مجھے اندر لے جا کر دفن کر دینا، اور اگر اجازت نہ ملے تو اُٹھا کر بقیع میں دفن کردینا”۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور درِ نبی پر پہنچ  کر یہ گزارش کی، تو دروازے کا تالا گرا اور دروازہ کھل گیا، اور روضۂ پاک کے اندر سے آواز آئی  کہ “محبوب کو محبوب سے ملادو؛ کہ حبیب اپنے حبیب کی ملاقات کا مشتاق ہے”([15])۔

13 سنِ ہجری 22 جُمادی الآخره کو آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا، لہذا اس دن آپ رضی اللہ عنہ کا دن، عقیدت  واحترام سے منایا جاتا ہے۔

ہم اہل سنّت وجماعت کا عقیدہ ونظریہ ہے، کہ انبیاء ومرسلین علیہ السلام کے بعد، تمام لوگوں میں سب سے افضل، حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ   ہیں([16])۔

اےاللہ! ہمیں سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سچی محبت، ان کی شکرگزاری، اور ان کی سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطا فرما، ہمیں ایسے پابندِ شریعت حکمران عطا فرما، جو وطن عزیز میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ رائج  کریں، جو اپنے طرزِ حکمرانی میں تیرے حبیب ﷺ اور ان کے خلفائے راشدین کی اتّباع  کریں، ہر طرف عدل وانصاف کا دَور دَورہ ہو جائے۔ ہمیں اپنی عبادت ونیک اعمال، اور اپنے اَحکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما، ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔

الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز  کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق  عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “تاريخ الخلفاء” الخليفة الأوّل: أبو بكر الصدّيق h، صـ41 بتصرّف.

([2]) پ10، التوبة: 40.

([3]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، صـ26-30 ملتقطاً بتصرّف.

([4]) “الدرّ المختار” كتاب الصلاة، باب الإمامة، 3/534 بتصرّف.

([5]) پ30، الليل: 19.

([6]) “مستدرَك الحاكم” أبو بكر بن أبي قحافة k، ر: 4407، 5/1665.

([7]) “تاریخ دِمشق” تحت ر: 3398- عبد الله …إلخ، 30/153.

([8]) “الطبقات الكبير” ر: 3433، ٣/167.

([9]) “البدایة والنهایة” ذكر اعتراف سعد بن عبادة بصحّة …إلخ، ٥/٢٤٨.

([10]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، صـ63 بتصرّف.

([11]) “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: 4035، 4036، صـ682.

([12]) “صحيح البخاري” كتاب مناقب الأنصار، ر: 3834، صـ643 ملتقطاً.

([13]) “المعجم الكبير” سِنُّ أَبِي بَكْرٍ وَخُطْبَتُهُ وَوَفَاتُهُ h، ر: 38، ١/6٠.

([14]) “مسند الإمام أحمد” مسند السيِّدة عائشة i، ر: 24241، ٩/297.

([15]) “الشريعة” للآجرّي، باب ذكر دفن …إلخ، تحت ر: 1861، ٥/2382.

([16]) “شرح العقائد النسفیة” صـ٢٢٧.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *