
Table of contents
- الیکٹرانک میڈیا … ایک بد مست ہاتھی
- اسلامی واَخلاقی اَقدار کی پامالی
- یورپی اندازِ فکر سے متاثر پاکستانی میڈیا کا کردار
- اسلامی کلچر سے بیگانگی اور آزاد خیالی
- فحاشی وعُریانی اور بےحیائی کا فروغ
- بےحیائی پھیلانے والوں کا انجام
- روزِ محشر ہونے والی باز پُرس
- دوسروں کی نقل اُتارنے اور ہنسی مذاق بنانے کی مُمانعت
- تہذیب وثقافت پر یلغار اور اس کا سدِّ باب
- اِ صلاحِ مُعاشرہ میں میڈیا کا کردار اور ذمّہ داری
- پیمرا قوانین میں اضافہ وتبدیلی کے لیے ضروری اِقدامات
- دعا
الیکٹرانک میڈیا …ایک بد مست ہاتھی
برادرانِ اسلام! ہمارے دَور میں الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) ایک بہت بڑی طاقت بن چکا ہے، آج لوگوں کی مثبت یا منفی ذہن سازی میں میڈیا (Media) کا بڑا عمل دخل ہے، اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اسے اب ریاست کے چوتھے سُتون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یہ اپنی اس طاقت کے زعم میں کسی بد مست ہاتھی سے کم نہیں! حاکمِ وقت بھی ان کے شر سے پناہ مانگتا، اور ان سے بات بنائے رکھنے ہی میں اپنی عافیت محسوس کرتا ہے! کسی شخص کو راتوں رات ہیرو (Hero) یا مقبول لیڈر (Popular Leader) بنانا ہو، یا کسی ہیرو (Hero) کو وِلَن (Wilan) بنا کر راتوں رات زمین پر پٹخنا، اب الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : اسپورٹس کلچر کے نقصانات اور اسلامی تعلیمات
اسلامی واَخلاقی اَقدار کی پامالی
عزیزانِ محترم! پاکستانی مُعاشرہ میں میڈیا کی اس طاقت اور ترقی کے فوائد کم، اور نقصانات زیادہ ہو رہے ہیں! الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلز (TV Channels) تو کسی شُترِ بےمُہار سے کم نہیں! جس کے مَن میں جو آتا ہے بول دیتا ہے، انہیں کسی کی اِیذا رَسانی، عیب جُوئی ، راز اِفشانی اور حکمِ شریعت کی خلاف ورزی کی مُطلقاً پرواہ نہیں، حالانکہ یہ سب برائیاں اَخلاق وشَرافت کے مُنافی اور ناجائز وحرام ہیں، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يَدْخُلِ الإِيمَانُ قَلْبَهُ! لَا تَغْتَابُوا الْمسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ؛ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهمْ يَتَّبِعِ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ!»([1]) “اے وہ لوگو، جو صرف اپنی زبان سے اسلام لائے، جبکہ ایمان ابھی اُن کے دِلوں میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو! اُن کی عَیب جُوئی مت کرو! جو اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کی تلاش میں رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب ظاہر فرما دےگا، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ظاہر فرمانے پر آجائے، وہ اپنے گھر میں بھی ذِلّت ورُسوائی سے محفوظ نہیں رہ سکتا!”۔
بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے،کہ کمرشل اِزم (Commercial Ism) کے اس دَور میں، مذہب ووطن اور ناجائز وحرام کی پرواہ کیے بغیر، بیرونی فنڈنگ (Funding) اور ڈکٹیشن (Dictation) پر ایسے پروگرام، ڈرامے اور اشتہارات چلائے جا رہے ہیں، کہ کوئی شریف آدمی اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر، انہیں دیکھنے سے بھی شرمائے! ان اشتہارات اور ڈراموں میں اسلامی واَخلاقی اَقدار کی پامالی کا سلسلہ دھوم دھام سے جا ری ہے! فحاشی، عُریانی اور بےحیائی کو خوب فروغ دیا جا رہا ہے، اولاد کو اپنے والدین کی نافرمانی پر اُبھارا جا رہا ہے، ان کے ساتھ بدسُلوکی سے پیش آنے، اور اپنی جائز وناجائز خواہشات کی تکمیل کی خاطر، سرکشی كى جرأت پیدا کی جارہی ہے، آزادئ نسواں کے نام پر انہیں ماں باپ اور بھائیوں کے ساتھ، غیر اَخلاقی رویہ اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، مال ودَولت، شُہرت، فیشن (Fashion) اور روشن خیالی کے نام پر، ان کے کپڑے اُتروائے جا رہے ہیں، ٹی وی اشتہارات (TV Commercials)، پروگرامز اور فلموں ڈراموں کے ذریعے، انہیں کروڑوں لوگوں کے سامنے سرِ عام برہنہ کیا جا رہا ہے، ان کی عزّت کو نیلام کیا جارہا ہے،اور ایسے ایسے غیر اَخلاقی اور حیا سوز مَناظر فلم بند (Filmed) کیے جا رہے ہیں، کہ زبان وقلم انہیں بیان کرنے سے بھی قاصر ہیں!!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : بڑوں کاادب واحترام اور تربیتِ اولاد
یورپی اندازِ فکر سے متاثر پاکستانی میڈیا کا کردار
برادرانِ اسلام! یہود ونصاریٰ سے ٹی وی اشتہارات کی مد میں ملنے والے، ہر ماہ کروڑوں روپوں نے، میڈیا مالکان اور صحافی برادری کی آنکھیں، اس قدر خِیرہ کر دی ہیں، کہ اِنہیں اب حق وباطل میں فرق محسوس ہی نہیں ہوتا، صحیح وغلط کی پہچان سے یہ لوگ عاری ہو چکے ہیں، جب یہ کسی مذہبی یا سیاسی ایشو (Religious or political issues) پر بات کرتے ہیں، تو اپنی زبان سے یہود ونصاریٰ کی ترجمانی کرتے ہیں، ان کے اَغراض ومَقاصد کا تحفظ، اور اسلامی تعلیمات سے متصادِم سوچ کو پروان دیتے ہیں، اپنے ٹاک شوز (Talk shows) میں جن سیاستدانوں یا مذہبی رَہنماؤں کو، اپنا مَوقف پیش کرنے کے لیے بلاتے ہیں، انہیں اپنی بات پوری کرنے تک کا موقع نہیں دیتے، بار بار ان کی بات کاٹتے اور اپنی مَن مانی کرتے ہیں، اپنے شو(show) کی ریٹنگ (Rating) بڑھانے کے چکر میں، ان سے بدتہذیبی سے پیش آتے، اور غیراَخلاقی طرزِ عمل اپناتے ہیں،اسلامی تعلیمات کے خلاف بات کرنے کے لیے، لبرل مافیا کو بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں، لیکن مذہبی طبقے کا مَوقف سننےکے لیے کسی مستند عالِم دِین سے رُجوع کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی، ہزارہا اَفراد پر مشتمل، ان کے جلسے جلوسوں کی کوریج (Coverage) نہیں کی جاتی، ان کی بریکنگ نیوز(Breaking News) تک نہیں چلائی جاتی، لیکن عورت آزادی مارچ کے نام پر، چند دشمنانِ دِین ووَطن روڈ پر نکل آئیں، تو پاکستان کا سارا میڈیا انہیں لائیو کوریج (Live coverage) دیتا، اور ان کے فحش وبیہودہ پلے کارڈز (Play cards) دنیا بھر میں دِکھا کر، اسلام اور پاکستان کو بدنام کرتا ہے، بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمارا میڈیا، اب ہمارا نہیں رہا، بلکہ یہود ونصاریٰ کا میڈیا ہے، ان کے مفادات کا تحفظ کرتا، اور ان کی زبان بولتا ہے، تو شاید یہ بےجا نہ ہوگا۔ لہٰذا میں اپنے مسلمان بھائی بہنوں سے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا، کہ ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ کر یا کسی نام نہاد دانشور کو سن کر اسلام کے خلاف ہر گز کوئی رائے قائم نہ کریں، بلکہ اپنے علماء سے اس سلسلے میں رُجوع کریں اور صحیح رہنمائی حاصل کریں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اولاد کے حقوق
اسلامی کلچر سے بیگانگی اور آزاد خیالی
حضراتِ گرامی قدر! پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری (Pakistani Drama Industry) میں انٹرٹینمنٹ (Entertainment) کے نام پر، جو مَواد نشر کیا جارہا ہے، وہ کسی طور پر دیکھنے کے لائق نہیں! ہمارےمیڈیا ہاؤسز (Media Houses) اپنے ڈراموں میں سُسر بہو، اور دیور بھابھی کے ناجائز تعلقات دکھا کر، ہماری نسلِ نَو میں بد عملى اور یورپی کلچر (European Culture) کو پروان دے رہے ہیں! آزاد خیالی کا بیج بو کر ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں، تین3 طلاقوں کے باوُجود سابقہ شوہر اور بوائے فرینڈ (Boy Friend) کے ساتھ زندگی گزارتے دِکھا کر، ہماری اسلامی تعلیمات کی اَہمیت کو پامال کر رہے ہیں! تفریحی پروگرامز میں ایسے ذُو معنیٰ الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں، کہ فیملی کے ساتھ بیٹھا شخص سن کر شرم سے پانی پانی ہو جائے! مارننگ شوز (Morning Shows) اور گیم شوز (Game Shows) کے نام پر ناچ گانا، بے پردگی اور نا محرم واَجنبی لوگوں کے ساتھ، بےتکلّفی کے مَواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، یہ تو صرف چند وہ خرابیاں ہیں جن سے تقریباً ہر شخص آگاہ ہے، ورنہ ان فلموں، ڈراموں، تفریحی اور مارننگ شوز (Morning Shows) کے ا یسے اَن گنت منفی اثرات ہیں، جن سے پاکستانی مُعاشرہ بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے! اور یہی وجہ ہے کہ آج یہ چیز نعمت کم، اور زحمت زیادہ محسوس ہو رہی ہے! ایسی فلموں اور ڈراموں کے باعث، ہمارا کلچر (Culture) اور مذہبی مُعاملات سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں! ہماری نوجوان نسل اپنی تہذیب سے بےگانہ ہوتی جا رہی ہے، اپنے رہن سہن کے طور طریقوں اور اندازِ گفتگو کو اپنانے میں انہیں عار محسوس ہوتی ہے، جاہلیت کے اَطوار اور ہندوؤں کے رسم ورَواج کو جدید فیشن سمجھ کر اپنانے میں، ہمارا مُعاشرہ اس قدر آگے نکل چکا ہے، کہ ہماری نسلِ نَو کو اپنی مذہبی تعلیمات کی بھی پروا ہ نہیں رہی۔
فحاشی وعُریانی اور بےحیائی کا فروغ
حضراتِ ذی وقار! فلموں، ڈراموں کے باعث ہمارے مُعاشرہ پر جو منفی اثرات مرتّب ہوئے، ان کے باعث ہمارے ملک میں فحاشی، عُریانی اور بےحیائی بھی بہت عام ہوئی، جبکہ میڈیا کے مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس کا بنیادی سبب ڈراموں کےاسکرپٹس (Scripts) میں یورپی کلچر (European Culture) سے اَخذ کیا گیا وہ مرکزی خیال ہے، جس کا ہمارے مُعاشرتی حقائق اور کلچر (Culture) سے کوئی لینا دینا نہیں! موم بتی مافیا اور عورت مارچ سے متاثرہ سوچ کے حامل ڈرامہ نویس (Drama Writer)، ڈائریکٹر (Director)، پروڈیوسر (Producer) اور ٹی وی چینلز (TV Channels)، بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے ہماری نسلِ نَو میں، مادر پدر آزادی اور فحاشی وبےحیائی کو پروموٹ (Promote) کر کے، ان کی ذہن سازی میں لگے ہوئے ہیں!۔
بےحیائی پھیلانے والوں کا انجام
عزیزانِ مَن! جو لوگ یہود ونصاریٰ کے اس مذموم ایجنڈے کی تکمیل میں کوشاں ہیں، انہیں خوب یاد رکھنا چاہیے، کہ اُن کا یہ فعل دنیا وآخرت میں دردناک عذاب کا باعث ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ لا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ﴾([2]) “یقیناً جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں، کہ مؤمنوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا وآخرت میں دُکھ دینے والا عذاب ہے”۔
روزِ محشر ہونے والی باز پُرس
اسی طرح جو لوگ ایسی فلمیں ڈرامے یا پروگرامز دیکھتے سنتے ہیں، انہیں بھی خوب جان لینا چاہیے کہ جن اَعضاء کے ذریعے آج ہم گناہ کر رہے ہیں، روزِ محشر ہمارے جسم کے ان تمام اَعضاء سے بھی باز پُرس ہوگی، چاہے وہ کان، آنکھ ہو یا دل، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا﴾([3]) “کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے!” لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جب بھی ٹی وی وغیرہ دیکھیں، تو تلاوت ونعت سُنیں، دینی پروگرامز دیکھیں، علمائے اہل سنّت کے بیانات سُننے کا شرف حاصل کریں، اور اَحکامِ شرعیّہ سیکھنے کی کوشش کریں!۔
دوسروں کی نقل اُتارنے اور ہنسی مذاق بنانے کی مُمانعت
حضراتِ گرامی قدر! ٹی وی اور اسٹیج کے کامیڈی شوز (Comedy Shows) میں، عموماً تفریح اور ہنسی مذاق کے نام پر سیاستدانوں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور علمائے دین کے اندازِ گفتگو کی نقل اُتاری جاتی ہے، اور باتوں ہی باتوں میں ان کی کردار کشی بھی کی جاتی ہے، کسی کا یوں مذاق اڑانا، ہنسی بنانا، یا اپنے معنیٰ خیز انداز وگفتار سے اس کی توہین وتذلیل کرنا، میڈیا (Media) کی اِصطلِاح میں میمکری (Mimicry) کہلاتا ہے، ایسا کرنا انتہائی دل آزاری کا باعث، خلافِ شرع اور حرام کام ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَلَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ١ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾([4]).
“اے ایمان والو! مرد مَردوں کی ہنسی نہ بنائیں؛ عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں! اور نہ عورتیں عورتوں کی؛ دُور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں! اور آپس میں طعنہ نہ کرو، اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو؛ کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا! اور جو توبہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں!”۔ لہٰذا جو لوگ اس گناہ میں مبتلا ہیں، انہیں چاہیے کہ فوراً توبہ کریں، اور آئندہ اس فعلِ حرام کے اِرتکاب سے بچیں!۔
تہذیب وثقافت پر یلغار اور اس کا سدِّ باب
میرے محترم بھائیو! ایسے غیر اَخلاقی اور شرعی قباحتوں سے بھر پور ڈراموں، فلموں اور پروگرامز کے باعث، پاکستانی مُعاشرے پر بڑے گہرے اور منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں، ٹی وی چینلز (TV Channels) اپنی ریٹنگ (Rating) اور کمرشلز (Commercials) کے چکر میں، تمام شرعی وقانونی حدود پامال کر رہے ہیں، ان کے اس غیر ذمّہ دارانہ روِیے اور کردار کے باعث، ہمارے مُعاشرے میں نمود ونمائش، بےحیائی اور نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، عورتوں کا لباس روز بروز مختصر ہوتا جا رہا ہے، ٹی وی ڈرامے دیکھ کر مکر وفریب اور جاسوسی سیکھنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے، میاں بیوی اور ساس بہو کے گھریلو جھگڑوں، ناچاقیوں اور طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اولاد کو اپنے والدین پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے، گھریلو خواتین کا اپنے شوہروں پر حکم چلانا اور ان سے نوکروں جیسا برتاؤ کرنا، کیا یہ ہمارا کلچر (Culture) ہے؟!
ہمارا میڈیا یہ سب دِکھا کر آخر کسے خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ آخر ایسی کونسی مجبوری ہے کہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری (Drama Industry) اپنی مَشرقی روایات کی عکّاسی نہیں کر پا رہی؟ کیوں پاکستانی ڈراموں میں مسلمانوں کو مسجد جاتے، نماز پڑھتے اور عبادت کا پابندی کے ساتھ اہتمام کرتے ہوئے نہیں دکھایا جاتا؟ کیوں ہماری عورتیں باحجاب نظر نہیں آتیں؟ کیوں یہ لوگ اپنی فلموں ڈراموں میں داڑھی والوں کی توہین کرتے، علماء کا تمسخر اُڑاتے اور اُن کےپاکیزہ کردار پر کیچڑ اُچھالتے نظر آتے ہیں؟ ایک اسلامی ملک ہونے کے باوُجود کیوں یہ لوگ ہمیشہ مذہبی طبقے ہی سے نالاں نظر آتے ہیں؟ کیا مُعاشرے میں ہونے والی تمام برائیاں، قتل وغارتگری، کرپشن (Corruption)، جنسی استحصال، لُوٹ مار، منشیات فروشی، مہنگائی، ملاوَٹ، ناپ تول میں کمی، ملکی قرضے اور ناکام حکومتی پالیسیوں کے ذمّہ دار، مذہبی طبقہ اور علماء ہیں؟!
میرے محترم بھائیو ذرا سوچیے! دیندار طبقے اور حقیقی مسلمان کے کردار، کیوں آج تک اُن پروگرامز میں جگہ نہیں بنا سکے؟ يا پھر انہیں مقبولیت نہیں مل سکی؟ ان ڈراموں سے لوگوں نے دھوکہ اور فریب، خود غرضی اور مفاد پرستی اور نت نیا فیشن (Fashion) تو سیکھا، لیکن کیوں آج تک ان ڈراموں سے متاثر ہو کر، کسی نے داڑھی نہ رکھی، کوئی نمازی نہ بن سکا، کسی مسلمان کے کردار میں بہتری نہیں آئی، کسی مسلمان عورت نے برقع وحجاب کا اہتمام نہیں کیا؟ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری، یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے!۔
ایک منظّم پلاننگ (Planning) اور سوچی سمجھی سازش کے تحت، ٹی وی چینلز (TV Channels) اور سیکولر اِزم (Secularism) کے حامی حلقوں کی طرف سے پھیلایا جانے والا، یہ ثقافتی وائرس (Cultural Virus)، کینسر (Cancer) کی طرح نہایت خاموشی سے، ہماری تہذیب وثفافت اور مذہبی اَقدار میں سرایت کيا جا رہا ہے، اس ثقافتی یلغار کو روکنے کے لیے ہم سب کو اپنی اپنی ذمّہ داری ادا کرنی ہوگی، اہلِ قلم اپنے قلم کے ذریعے، علمائے دین اپنے وعظ ونصیحت کے ذریعے، اور حاکمِ وقت اپنی طاقت واِقتدار کے ذریعے، ایسے غیرشرعی اُمور کے سدِّ باب اور روک تھام میں اپنا اپنا کردار ادا کریں!۔
اِ صلاحِ مُعاشرہ میں میڈیا کا کردار اور ذمّہ داری
حضراتِ ذی وقار! ماہرینِ نفسیات کے مُطابق، انسان انٹرنیٹ (Internet) یا ٹی وی (TV) پر جو بھی فلم، ڈرامہ یا پروگرام دیکھتا ہے، اس کی شخصیت پر اس کے مثبت یا منفی اثرات ضرور مرتَّب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نسلِ نَو، ہر چیز میں الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media) کو فالو (Follow) کر رہی ہے، ماں باپ یا اسکول کالج میں، اساتذہ کی تربیت کی اُن میں دُور دُور تک کوئی جھلک نظر نہیں آتی، لہذا اب یہ ذمّہ داری میڈیا (Media) کے سر ہے، لہٰذا اُسے چاہیے کہ اپنے پروگرامز میں مُعاشرے کی اِصلاح کے پہلو کو پیشِ نظر رکھے، کسی بھی کردار کے مثبت اور منفی دونوں رُخ ضرور دکھائے جائیں، لیکن مُعاملہ مبہم رکھنے کے بجائے حق بات کو واضح کیا جائے، مُعاشرے پر منفی اثر ڈالنے والے فرضی قصّے کہانیوں، گھریلو ناچاقیوں پر مبنی، نہ ختم ہونے والی ٹی وی سیریلز (TV Serials)، اور قتل وغارتگرى پر مبنی ڈراؤنی فلمیں (Horror Movies) بنانے سے گریز کیا جائے، اچھے، معیاری اور تخلیقی پروگرام بنائے جائیں، اَخلاقی تعلیم وتربیت دیں، ٹیکنیکل ایجوکیشن (Technical education) سے متعلق پروگرام چلائے جائیں، لوگوں کے اندازِ فکر کو مثبت اور شُعور کو پُختہ کیا جائے، اسلامی تعلیمات اور قرآن وسنّت کی تعلیمات کو عام کیا جائے، مسلم ہیروز (Muslim Heroes) کے کارناموں، اور اسلامی تاریخ کے درخشاں پہلو اُجاگر کیے جائیں، اپنی نسلِ نَو کو بزرگوں کى قربانیوں سے آگاہ کیا جائے، دينِ اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے واضح کیا جائے، میڈیا کے ذریعےہونے والی اسلام مخالف عالَمی سازشوں کا جواب بھی میڈیا ہی کی زبان میں دیا جائے، یہود ونصاریٰ اور اُن کی مختلف این جی اوز (NGOs) کو خوش کرنے، اور اشتہارات کے نام پر اُن سے ملنے والے چند ڈالروں (Dollars) کے عوض اپنے مذہب، وطن، حکمرانوں، اَفواج اور علمائے دین کی کردار کشی نہ کی جائے، گھریلو ناچاقیوں، مار دھاڑ، چوری چکاری، قتل وغارتگری، اور خواتین پر فرضی ظلم وستم دکھا کر، مُعاشرے پر منفی اثرات ڈالنے کا سبب مت بنیے! دُنیا پر اپنے مذہب اور وطن کے بارے میں غلط اور منفی تاثر نہ چھوڑیں، لوگوں کو باہم پیار محبت اور عمده اَخلاق کے ساتھ رہنا سکھائیں، انہیں ایک دوسرے کے ساتھ اِیثار، ہمدردی اور حُسنِ سُلوک سے پیش آنے کی ترغیب دیں، دیانت وایمانداری کے واقعات کے ذریعے، پاکستانی مُعاشرے میں مثبت سوچ کے فروغ کے لیے کام کریں، تبلیغی نقطۂ نگاہ سے اپنے پروگرامز (Programs) میں علمائے دین کو زیادہ نمائندگی دیں، نیز ہر چیز کو تجارتی نقطۂ نظر سے نہ پرکھیں، بلکہ ہمیشہ اللہ ورسول کی رِضا کو پیشِ نظر رکھا كریں!۔
پیمرا قوانین میں اضافہ وتبدیلی کے لیے ضروری اِقدامات
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! وطنِ عزیز پاکستان دینِ اسلام کے نام پر بنا ہے، اس میں بسنے والوں کی اکثریت مسلمان اور اسلامی اَحکام پر عمل پیرا ہے، لہٰذا ہمارے حکمرانوں پر یہ بھاری ذمّہ داری عائد ہوتی ہے، کہ وہ ایسے غیرشرعی اُمور کے خلاف فَوری اِقدامات کریں، پیمرا (PEMRA) قوانین سخت کیے جائیں، اس کے قوانین پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نظرِ ثانی کی جائے، فحاشی، بےحیائی اور اسلامی اَقدار کے مُنافی ٹی وی پروگرامز، مارننگ شوز (Morning Shows)، ایوارڈ شوز (Awards Shows)، اشتہارات، اَخلاقیات سے عاری ڈراموں اور اُن میں بولے جانے والے ذُو معنیٰ جملوں پر، فوری طور پر پابندی عائد کی جائے، ایسے ٹی وی مالکان کو بلاکر تنبیہ کی جائے، اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کے لائسنس (License) کینسل کر دیے جائیں!۔
اسی طرح والدین کو بھی چاہیے، کہ اپنے بچوں کی مصروفیات پر گہری نظر رکھیں، اور انہیں ٹیلی ویژن یا انٹر نیٹ پر اَخلاقیات کے مُنافی پروگرام یا ڈرامے دیکھنے کی اجازت ہر گز نہ دیں!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں ذرائعِ اِبلاغ کا مثبت استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما، اس کے منفی استعمال اور اثرات سے بچا، ٹی وی چینلز (TV Channels) اور انٹر نیٹ (Internet) جیسی سہولیات کے ذریعے، تلاوت ونعت اور علمائے دِین کے بیانات سننے کا جذبہ عطا فرما، ہمیں اَخلاق باختہ اور غیر شرعی پروگرامز دیکھنے سے بچا۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کےظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا رب العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في الغيبة، ر: 4880، صـ٦٨٨.