ذرائعِ اِبلاغ کا مثبت استعمال اور نیکی کی دعوت

Home – Single Post

ذرائعِ اِبلاغ کا مثبت استعمال اور نیکی کی دعوت

برادرانِ اسلام! الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت وہ  تمام سوشل نیٹ ورکس (Social Net Works) جن کے ذریعے  ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکیں، انہیں ذرائع اِبلاغ (Media) کہا جاتا ہے، اس میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، اخبار اور رسائل وجرائد وغیرہ  سب شامل ہیں۔

عزیزانِ محترم! ذرائع اِبلاغ کی اہمیت سے کسی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا، اس کی اِفادیت زندگی کے ہر شعبےمیں مسلّم ہے، اسی کی بدَولت آج فاصلے سمٹ چکے ہیں، اور دنیا ایک گلوبل ولیج (Global Village) کی صورت اختیار کر چکی ہے، اَفکار وآراء کی ترویج اور باہم تبادلۂ خیال میں سہولت پیدا ہو گئی ہے، گھر بیٹھے دنیا کی کسی بھی معروف یونیورسٹی میں آن لائن ایڈمیشن (Online Admission) اور کلاسز (Classes) کے ذریعے تعلیم کا حصول اب ممکن ہو چکا ہے، خبر کی ترسیل اس قدر برق رفتار ہو چکی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رُونما ہونے والا واقعہ، اگلے ہی لمحے  بریکنگ نیوز (Breaking News) بن کر ہمارى اسکرین پر موجود ہوتا ہے، اور اس کی لائیو کوریج (Live Coverage) کی صورت میں ہم براہِ راست، نہ صرف ان مَناظر کو دیکھ سکتے ہیں، بلکہ وہاں موجود نیوز رپورٹر (News Reporter) کو بھی دیکھ اور سُن سکتے ہیں۔ پلے اسٹور (Play Store) پر موجود  آڈیو (Audio) اور ویڈيو کالنگ ایپس (Video Calling Apps) کے ذریعے، دنیا کے کسی بھی ملک میں کال کرکے، نہ صرف اپنے پیاروں سے بات کی جا سکتی ہے، بلکہ ان کی حرکات وسکنات کا بھی معاینہ کیا جا سکتا ہے۔

ان ذرائع اِبلاغ سے استفادہ آج اس قدر آسان ہو چکا ہے، کہ اگر کوئی شخص پڑھا لکھا نہ ہو، یا کسی معذوری کے باعث تحریر نہ کر سکتا ہو، تو وہ وائس آپشن (Voice Option) کے ذریعے، صرف  بول کر بھی اپنے مطلوب تک رَسائی حاصل کر سکتا ہے۔

ذرائع اِبلاغ  کی ترقی سے عوام الناس میں شُعور پیدا ہوا ہے، ان کے علم وہُنر کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، کاروباری لوگ گھر بیٹھے آن لائن بزنس (Online Business) کر کے لاکھوں لاکھ کما رہے ہیں، قرآن وحدیث کی تعلیم کے لیے آن لائن مدارس کا قیام عمل میں آ چکا ہے، دینی اجتماعات اور محافل کا انعقاد ہو رہا ہے، چوبیس24 گھنٹے مسلسل   ٹی وی نشریات  کے ذریعے  حالاتِ حاضرہ سے مکمل آگاہی دی جا رہی ہے، دن بھر نیوزچینلز (News Channels) پر بریکنگ نیوز (Breaking News) کے طور پر چلنے والی خبروں  کو، مکمل چھان بین اور تحقیق کے  ساتھ نیوز پیپرز (News Papers) میں شائع کیا جا رہا ہے۔ الغرض ذرائع اِبلاغ (Media) کا عمل دخل اور اہمیت واِفادیت اس قدر بڑھ چکی ہے، کہ  آج کے اس جدید دَور میں ان کے بغیر زندگی کا تصوُر بھی تقریباً ناممكن سمجھا جاتاہے!۔

حضراتِ گرامی قدر! موجودہ دَور میں ذرائع اِبلاغ یعنی میڈیا (Media) ایک بہت بڑی طاقت بن چکا ہے، ذہن سازی میں اسے کمال حاصل ہے، اس میڈیا نے انسانی سوچ کے زاویے بدل کر رکھ دیے ہیں، آج کا انسان عموماً صرف وہی سوچتا اور دیکھتا ہے جو اسے میڈیا (Media) سنانا اور دکھانا چاہتا ہے، مختلف ممالک کی حکومتیں بنانے اور گرانے میں بھی میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، آج پورا مُعاشرہ ذہنی طور پر میڈیا کا غلام بن چکا ہے، اگر میڈیا سچ کو جھوٹ کہے تو دنیا اسے جھوٹ ماننے لگتی ہے، اور اگر جھوٹ کو سچ کہے تو  دنیا اسے سچ تسلیم کرتی ہے، وہ چاہے کتنے ہی اہم اور حسّاس ایشو (Sensitive Issue) پر بنا کسی دلیل وثبوت کے بات کرے، عموماً کوئی اس سے اختلاف نہیں کرتا!!۔

ایسا کام کرنے والے کو حدیثِ پاک میں “رُوَ یبِضہ” کہا گیاہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَةً يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ» “قیامت کے قریب چند سال دھوکا اور فریب کے ہوں گے، ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کوجھوٹا بنا کر پیش کیا جائے گا،  خیانت کرنے والےکو ا مانتدار اور  امانتدار کو خائن قرار دیا جائے گا، اور ان میں رُوَیبضہ بات کریں گے”، عرض کی گئی: روَ یبِضہ کون ہیں؟ فرمایا: «الْمرْؤُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ»([1]) “گھٹیا قسم کے لوگ عام عوام کے اہم مُعاملات میں، اپنی طرف سے رائے زنی  کریں گے!”۔

میرے محترم بھائیو! ہمارے سیاستدان اور طاقتور طبقہ، ذرائع اِبلاغ کی اس طاقت کو اپنے مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، سیاسی تنظیمو ں، انڈر ورلڈ (Under World) کے لوگوں، اور قانونی وغیرقانونی کاروبار کرنے والی شخصیات نے، مختلف ٹی وی چینلز (TV Channels) کے مالکان کو دھونس دھمکی يا مختلف مُراعات کا لالچ دے کر اپنی مُٹھی میں کر رکھا ہے، ایسے ٹی وی چینلز (TV Channels) اپنے اسپانسرز (Sponsors) کے اشاروں پر اپنے ٹاک شوز (Talk Shows) میں، بنا تحقیق ان کے سیاسی، گروہی یا کاروباری مخالفین کے خلاف، کیچڑ اُچھالتے اور ان کی کردار کُشی (Character Assassination) کرتے ہیں، کوئی انہیں روکنے ٹوکنے یا پوچھنے والا نہیں ہے! آج کے اینکر پرسنز (Anchor Persons) ایک ایسی اِشرافیہ بن چکے ہیں جن کے شرّ وفساد سے ہر  خاص وعام  پریشان ہے!۔

اسی طرح مختلف تنظیموں، اداروں اور شخصیات نے فیس بک (Facebook) اور ٹویٹر (Twitter) وغیرہ پر، اپنی تشہیر اور مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے، باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمیں (Social Media Teams) بنا رکھی ہیں، جو مختلف شفٹوں (Shifts) میں شب وروز  اس کام کو انجام د ینے میں لگی ہوئی  ہیں، سوشل میڈیا ایکسپرٹ (Social Media Expert) بڑی مہارت سے ایڈیٹنگ (Editing) وغیرہ کرکے، اپنے مخالفین کی توہین وتذلیل میں مصروف ہیں، اس پر اپنے مالکان سے خوب داد وتحسین بھی پاتے ہیں!۔

 یاد رکھیے! یہ  فعلِ حرام اور انتہائی معیوب امر ہے، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا (Electronic and Print Media) سے وابستہ تمام صحافی برادری (Journalist Community) اور سوشل نیٹ ورکس (Social Net Works) استعمال کرنے والے تمام احباب، اس بات کو خوب ذہن نشین کر لیں، کہ کسی مسلمان کا مذاق اڑانا، اس کا نام بگاڑنا، توہین وتذلیل اور  طعن وتشنیع کرنا، یا کسی کی ہنسی بنانا جائز نہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا ا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَلَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ١ۚ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾([2]) ” اے ایمان والو! مرد مَردوں کی ہنسی نہ بنائیں، عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں  عورتوں کی، دُور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں، اور آپس میں طعنہ نہ کرو! اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو! کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا! اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں!”۔

عزیزانِ مَن! الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا (Electronic and Print Media) اور سوشل نیٹ ورکنگ (Social Net Working) کے، جہاں متعدد فوائد ہیں وہیں اس کے غلط استعمال كے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ ہر ٹی وی چینل ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور مقبولیت کے چکر میں، فحاشی، بےحیائی اور عُریانیت کو فروغ دے رہا ہے، پاکستانی میڈیا کی بات کریں تو انٹرٹینمنٹ (Entertainment) کے نام پر جو مَواد نشر کیا جا رہا ہے، وہ کسی طور پر بھی دیکھنے کے لائق نہیں!، ہمارا میڈیا (Media) ہولی دیوالی کی تقریبات دکھا کر، ہندوانہ رسم ورَواج عام کرنے کی کوشش کر رہا ہے! فلموں ڈراموں میں ماں باپ کی نا فرمانی، اور بڑے بھائی بہنوں سے بدتمیزی کے مَناظر دکھائے جا رہے ہیں، سُسر بہو، اور دیور بھابھی کے ناجائز تعلقات کے سین (Scenes) دیکھ کر، نسلِ نَو اور ہماری تہذیب وثقافت کو تباہ کیا جا رہا ہے! تفریحی پروگراموں میں ڈائیلاگ (Dialog) کے نام پر ایسے ذُومعنی الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں، کہ فیملی کے ساتھ بیٹھا  شخص سن کر شرم سے پانی پانی ہو جائے! پاکستانی ڈراموں میں زیادہ تر مغربی کلچر (Western Culture) اور لائف اسٹائل (Life Style) کو پرموٹ (Promote) کیا جا رہا ہے! فیشن شوز (Fashion Shows) کے نام پر مسلمان خواتین میں بےپردگی کو عام کیا جا رہا ہے! “عورت آزادی مارچ” جیسے پروگرام دکھا کر ہمارا فیملی سسٹم (Family System) تباہ  کیا جا رہا ہے!!۔

اسی طرح فیس بک (Facebook)، یو ٹیوب(You Tube)، ٹک ٹاک (Tik Tok) اور انٹر نیٹ (Internet) پر اَخلاق باختہ گندی فلموں، ڈراموں اور گانوں کے ذریعے فحاشی، عُریانیت اور بےحیائی پھیلائی جا رہی ہے، نا محرم اور اجنبی لڑکے لڑکیوں میں فرینڈ شپ (Friend Ship) اور باہمی بات چیت کے مَواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،  جو رفتہ رفتہ زِنا اور بدکاری کا باعث بنتے ہیں!!۔

ان ذرائع اِبلاغ کے باعث نوجوان نسل میں مختلف نَوعیت کے جرائم کا رجحان بھی فروغ پا رہا ہے! اَوباش  قسم کے نوجوان دوسروں کے فیس بک پروفائل (Facebook Profile) سے ان کا موبائل نمبر یا ای میل (E-mail) ایڈریس نکال کر انہیں تنگ کرتے ہیں، ان کے واٹس ايپ (Whats App) نمبر پر گندی ویڈیوز، اور غلط قسم کے میسج (Messages) سینڈ کرتے ہیں، انٹر نیٹ کے ذریعے بینک اکاونٹ ہیک (Heck) کرکے لوگوں کے کروڑوں روپے اور حسّاس دستاویزات چُرا رہے ہیں، انہیں عالمی سطح پر بد نام کر رہے ہیں، وکی لیکس (Wiki Leaks) اور پانامہ لیکس (Panama Leaks) اس کی زندہ مثالیں ہیں۔   مسلمان عورتوں کی  چوری چھپے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ (Upload) کر رہے ہیں، لائیو ویڈیوز (Live Videos) کے ذریعے فحش حرکات، جسم کی نمائش بلکہ بدکاری کی تشہیر کا سلسلہ بھی جاری ہے! جذبات سے مغلوب ہو کر انٹر نیٹ کیمرے کے سامنے خود کشی کے واقعات بھی رُونما ہو رہے ہیں!!۔

میرے محترم بھائیو! وطنِ عزیز  پاکستان دینِ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا،  لہذا ہمارے حکمرانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کہ وہ ایسے غیر شرعی اُمور کے خلاف فوری اِقدامات کریں، پیمرا (PEMRA) قوانین سخت کیے جائیں، فحاشی پھیلانے والی ویب سائیٹس (Websites) پر پابندی عائد کی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ  پراکسی ایپس (Proxy Apps) کے ذریعے کوئی غیر قانونی طور پر دوبارہ اسے کھول نہ سکے۔

ٹی وی مالکان کو بلا کر تنبیہ کی جائے، انہیں اشتہارات اور ایوارڈ شوز (Awards Shows) کے نام پر بےحیائی کا پر چار کرنے سے روکا جائے، بصورت دیگر ان کے ٹی وی لائسنس (TV License) کینسل کرکے انہیں قرارِ واقع سزائیں دی جائیں!۔

اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے بچوں  کی مصروفیات پر گہری نظر رکھیں، اور انہیں ٹیلی ویژن یا انٹر نیٹ کے غلط استعمال کی اجازت ہر گز  نہ دیں!۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! موجودہ دَور میں ذرائع اِبلاغ (Media) کا استعمال  دو2 طرح سے  ہو رہا ہے، ایک مثبت اور دوسرا منفی۔ بد قسمتی سے آج مثبت کی بہ نسبت منفی استعمال بہت زیادہ ہے، میڈیا کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کرنے، دينِ اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچانے، لوگوں کے عقائد واعمال کی حفاظت، اور انہیں اچھا مسلمان بننے کی ترغیب دینے کے بجائے، بدی کو عام کیا جا رہا ہے، کفر وشرک کو پرموٹ (Promote) کیا جا رہا ہے، مسلمانوں میں سیکولر ازم اور لبرل ازم (Secularism and Liberalism) کی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے، انہیں غامدی جیسے اسکالرز کے ذریعے گمراہی کے دَلدَل میں دھکیلا جا رہا ہے، جہاد کے بجائے انہیں”امن کی آشا” کا بھاشن دیا جا رہا ہے، علمائے دین کا حقیقی مقام ومرتبہ بتانے کے بجائے مولویوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے، انہیں انتہاء پسند اور پرانے خیالات وافکار  کا حامل قرار دے کر مسترد کیا جا رہا ہے، ان کے پروگرامز کا بائیکاٹ کرکے عالمی سطح پر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ ایک اسلامی ملک کے ذرائع اِبلاغ  کو ہر گز ایسا نہیں ہونا چاہیے!!۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ذرائع اِبلاغ ہر گز مادر پدر آزاد نہیں ہیں، شرعی حُدود وقُیود اور اَخلاقی آداب کی پاسداری ان پر بھی لازم ہے، لہذا درج ذیل اُمور کا خاص طور پر خیال رکھا جانا چاہیے:

(1) میڈیا  کو چاہیے کہ اپنی طاقت کا درست اور مثبت استعمال کرے، اور  ٹی آر پی (Target Rating Point) کے چکر میں  تصدیق کیے بِنا کوئی خبر، بریکنگ نیوز (Breaking News) کے طور پر نہ چلائے، نہ ہی کسی کی کردار کُشی کرے، اللہ رب العالمین نے ہمیں ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ﴾([3]) “اے مسلمانو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے، تو  تحقیق کر لو کہ (صحیح ہے یا غلط)، کہیں کسی قوم کو بےجانے اِیذا نہ دے بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ!”۔

(2) نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے بچنے کی تلقین کرنا، اسلامی مُعاشرے کا بنیادی اصول ہے، لہذا ذرائع اِبلاغ سے وابستہ ہر فرد پر لازم ہے، کہ اپنی اپنی طاقت واختیار کے مطابق، نیکی کی دعوت کو عام کرے اور برائی سے روکے۔ اگر کوئی شخص ٹی وی چینل سے وابستہ ہے تو و ہ اپنے پروگرامز کے ذریعے نیکی کا حکم کر سکتا ہے، برائی سے روک سکتا ہے، قرآنِ كريم کی تعلیم کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہی دی جا سکتی ہے، وقتاً فوقتاً کوئی قرآنی آيت یا حدیثِ مبارکہ ترجمہ وتشریح کے ساتھ پیش کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح پرنٹ میڈیا سے وابستہ افراد بھی اپنے اخبار اور رسائل وجرائد میں مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی سیرتِ طیّبہ، صحابۂ کرام کی حیاتِ مبارکہ اور فاتحینِ اسلام کی شجاعت وبہادری کے واقعات پر مشتمل مضامین شائع کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا تقریباً ہر شخص کے استعمال میں ہے، آپ اس کے ذریعے بھی  دينِ اسلام کا پیغام ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں، کہ ہمیں اس کا حکم ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ﴾([4]) “تم ان سب اُمتوں میں بہتر ہو جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”۔

(3) مسلم مُعاشرے کا امن وسکون اور استحکام، اُخوت وبھائی چارے میں پنہاں  ہے، اسلامی ممالک کے ذرائع اِبلاغ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اُخوتِ اسلامی کو فروغ دینے میں بہت اچھا اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ ایک مسلمان کو یہ حکم ہے کہ محبتیں بانٹے، نفرتیں نہ پھیلائے، اور بھائی چارے کو فروغ دے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾([5]) “مسلمان مسلمان  بھائی ہیں، تو اپنے دو2 بھائیوں میں صلح کراؤ، اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو!”۔

تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضاً»([6]) “مؤمن مؤمن کے لیے عمارت کی مانند ہے، کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے”۔

(4) ذرائع اِبلاغ کے باعث فحاشی وعُریانی کے جراثیم بہت تیزی سے مُعاشرے میں سرایت کر گئے ہیں، اس کی روک تھام اور سدِّ باب بھی میڈیا کی مدد کے بغیر بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے، لہذا ہمارے ذرائع اِبلاغ کو چاہیے کہ اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں، اور فحاشی، عریانی اور بےحیائی کے خلاف عملی اِقدامات کریں، لوگوں میں اس سے بچنے کا شُعور بیدار کریں، اور اس کے دنیوی واُخروی نقصانات سے آگاہ کریں، اللہ رب العالمین نے فحاشی سے بچنے کا واضح طور پر حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾([7]) “ظاہر وپوشيده كسى بےحیائی کے پاس مت جاؤ!”۔

(5)  ذرائع اِبلاغ میں ایک شعبہ  انویسٹی گیٹیو جرنلزم (Investigative Journalism) سے متعلق ہے، اس میں لوگوں کے مُعاملات کی ٹوہ لگائی جاتی ہے، ان کے عُیوب تلاش کیے جاتے ہیں، اور پھر انہیں خوب اُچھالا جاتا ہے۔ دينِ اسلام میں ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جیسا ہم گمان کریں، حقیقتِ حال بھی اس کے مطابق ہو، اللہ رب العزّت ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ١ٞ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ﴾([8]) “اےایمان والو! بہت گمان سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ بهى ہوتے ہیں!”۔

ایک اَور مقام پر ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا﴾([9]) “ان میں سے اکثر تو صرف گمان پر چلتے ہيں، یقیناً گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا!”۔

(6) ذرائع اِبلاغ بالخصوص ٹی وی اور سوشل میڈیا  کے ذریعے، دی جانے والی معلومات عموماً مکمل طور پر سچ نہیں ہوتیں،  ریٹنگ  کے چکر میں اسے بڑھا چڑھا کر اور جھوٹ کی آمیزش کرکے  پیش کیا جاتا ہے، ایسا کرنا انتہائی معیوب، مذموم اور حرام ہے، اللہ رب العالمین نے ایسے لوگوں سے کنارہ کشی كرکے، سچوں کا دامن تھامنے کا حکم دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ﴾([10]) “اےایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ!”۔

حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن مسعود ﷛ بیان کرتے ہیں، سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِيْ إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِيْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتّٰى يُکْتَبَ صِدِّيقاً، وَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِيْ إِلَى الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ يَهْدِيْ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَکْذِبُ حَتّٰى يُکْتَبَ کَذَّاباً»([11]) “سچ نیکی کی طرف رَہنمائی کرتا ہے، اور نیکی جنّت کی طرف لے جاتى ہے، آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تك کہ وہ الله تعالى كے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے، جبكہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتا ہے، آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ الله تعالى كے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے!”۔

اے اللہ! ہمیں ذرائع اِبلاغ کا صحیح اور مثبت استعمال کرنے کی توفیق مرحمت فرما، اس کے منفی اثرات سے بچا، اسے نیکی کی دعوت کو عام کرنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کا ذریعہ بنا، شعبۂ صحافت سے وابستہ تمام افراد سمیت ہم سب کو سچ کہنے اور لکھنے کی توفیق عنایت فرما، جھوٹ، عیب جُوئی اور دوسروں کی کردار کشی سے بچا۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام ﷡ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتّحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتّحاد واتّفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری  فرما!۔

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کےظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما!، آمین یارب العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “مسند البزّار” مسند عوف بن مالك I، ر: 2740، 7/174.

([2]) پ26، الحجرات: 11.

([3]) پ26، الحجرات: 6.

([4]) پ4، آل عمران: 110.

([5]) پ26، الحُجرات: 10.

([6]) “صحيح البخاري” كتاب الصلاة، ر: 481، صـ83.

([7]) پ8، الأنعام: 151.

([8]) پ26، الحجرات: 12.

([9]) پ11، یونس: 36.

([10]) پ11، التوبة: 119.

([11]) “صحيح مسلم” كتابُ الْبر وَالصِّلة والآداب، ر: 6637، صـ1138.

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *