
Table of contents
صُلحِ حدَیبیہ کا پسِ منظر
برادرانِ اسلام! مشرکینِ مکّہ کے مَظالم جب حد سے بڑھ گئے، اور مفلوک الحال مسلمانوں کا جینا دُوبھر کر دیا گیا، تب مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے بحکم الہی مدینہ منوّرہ کی طرف ہجرت فرمائی، اور ایک رات سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینہ منوّرہ تشریف لے آئے، لیکن کفّار ومشرکین نے حضور نبئ کریم ﷺ اور مسلمانوں کو یہاں بھی چَین کا سانس نہ لینے دیا، مسلمانوں پر ظلم وستم، حملے اور جنگیں مسلّط کی جاتی رہیں، رسولِ اکرم ﷺ نے رفتہ رفتہ مسلمانوں کو منظّم فرما کر اُن کی پوزیشن کو مستحکم کیا، اور اِرد گرد کے مختلف قبائل سے دِفاعی مُعاہدے فرما کر امن وامان کو بحال کیا۔
ہجرتِ مدینہ کے چھٹے 6 سال سروَرِ کونین ﷺ نے ایک خواب دیکھا، کہ نبئ کریم ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ مکہ معظّمہ میں پُر امن طور پر داخل ہوئے، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنے سروں کے بال منڈوائے، بعض نے ترشوائے، یہ خواب رحمتِ عالمیان ﷺ نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا تو وہ سب بھی بہت خوش ہوئے([1])۔ نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے، اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا تاجدارِ دو عالَم ﷺ اپنے چودہ سو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے روانہ ہوئے، لیکن کفّارِ مکّہ نے حدَیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کو روک لیا، اور مکہ مکرّمہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، اس موقع پر دس 10 سال کے لیے حضور نبئ کریم ﷺ اور قریش کے مابین ایک امن مُعاہدہ طے پایا، جو صلحِ حدَیبیہ کے نام سے معروف ہے، اس مُعاہدے کی رُو سے یہ طے پایا کہ (1) مسلمان اس سال عمرہ کیے بغیر واپس لَوٹ جائیں، آئندہ سال آئیں، اور اپنے ساتھ کوئی ہتھیار نہ لائیں۔ (2) مکّہ مکرّمہ سے جو شخص مدینہ منوّرہ چلا جائے، اسے واپس کر دیا جائے، لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ آگیا، تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ (3) عرب قبائل کو اس بات کا مکمل اختیار اور آزادی ہوگی، کہ وہ حضور نبئ کریم ﷺ یا کفّارِ مکّہ میں سے جس کے ساتھ چاہیں (دوستانہ تعلقات قائم کر کے) مُعاہدہ کر لیں([2])۔
عزیزانِ محترم! بظاہر اس مُعاہدے کے نکات مسلمانوں کے خلاف تھے، لیکن اس کا حقیقی فائدہ مسلمانوں کو ہی ہوا، جنگ رُک گئی، امن ہوگیا، مبلّغینِ اسلام کے ذریعے اسلام کی دعوت عام ہونے لگی، لوگ جُوق دَر جُوق مسلمان ہونے لگے([3])، اور مسلمانوں کی پوزیشن روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد
غزوۂ فتحِ مکّہ کا سبب
حضراتِ گرامی قدر! قریش زیادہ عرصہ تک مُعاہدۂ حدَیبیہ پر کاربند نہ رہ سکے، انہوں نے مسلمانوں کے حلیف اور اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کر کے، عملاً اس مُعاہدے کو توڑ دیا، مصطفی جانِ عالَم ﷺ کو جب اس بات کی خبر ہوئی، تو سروَرِ کونَین ﷺ نے اہلِ مکّہ پر حملے کا فیصلہ فرمایا، اور جنگی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے انتہائی خفیہ انداز سے لشکر کو تیاری کا حکم اِرشاد فرمایا۔
لشکرِ اسلام کی روانگی
عزیزانِ مَن! دس 10 رمضان المبارک آٹھ 8 ہجری (مطابق 630ء) کو رسولِ اکرم ﷺ مدینہ منوّرہ سے، دس 10 ہزار مجاہدینِ اسلام کا ایک عظیم لشکر لے کر روانہ ہوئے، اور بیس 20 رمضان المبارک کو ایک فاتح کی حیثیت سے اپنے وطن مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے، مدینہ منوّرہ سے چلتے وقت حضور نبئ کریم ﷺ اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں تھے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ لشکرِ اسلام کی روانگی کا منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ المَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلاَفٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ، مِنْ مَقْدَمِهِ المَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ المُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ، يَصُومُ وَيَصُومُونَ!»([4]) “نبئ کریم ﷺ رمضان میں مدینہ منوّرہ سے نکلے، آپ ﷺ کے ساتھ دس10 ہزار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ تھے، یہ واقعہ حضور ﷺ کے مدینہ منوّرہ تشریف لانے کے ساڑھے آٹھ سال بعد کا ہے، آپ ﷺ اور جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، مکّہ مکرّمہ کے لیے روانہ ہوئے، سروَرِ کونین ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ روزے سے تھے!”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
حضرت سيِّدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام
حضراتِ محترم! مصطفی جانِ رحمت ﷺ فاتحانہ شان سے، ایک عظیم اسلامی لشکر کے ساتھ سر زمینِ مکّہ مکرّمہ کے قریب پہنچے، تو چند میل دُور پڑاؤ ڈال کر آگ جلانے کا حکم ارشاد فرمایا، اہلِ مکہ رسول اللہ ﷺ اور اسلامی لشکر کی آمد سے بالکل بےخبر تھے، جب انہوں نے ہزاروں مقامات سے آگ جلتی دیکھی، تو بہت خوفزدہ ہوئے، اور حقیقتِ حال سے آگاہی کے لیے ابو سفیان کو بھیجا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)، انہیں پڑاؤ کے قریب دیکھ کر مُحافظوں نے پکڑ لیا، اور لشکر گاہ میں لے آئے، اسلامی لشکر کی شان وشوکت دیکھ کر، ابوسفیان پر بہت ہیبت طاری ہوئی([5])۔ حضرت سيِّدنا عبّاس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس موقع پر قبولِ اسلام کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کیا اور مسلمان ہوگئے([6])، حضرت سیِّدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ قریش کے ایک بڑے سردار اور ناموَر شخصیت کے حامل تھے، آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے قریش کے حَوصلے پست ہوگئے، اور ان کی ہمت جواب دے گئی!۔
عام مُعافی کا اعلان
برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! حضور سروَرِ کونین ﷺ لشکر ترتیب دینے کے بعد، جب مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے، تو قریش کے بعض لوگ مقابلہ کرنے کی کوشش میں مارے گئے، جس پر حضرت سیِّدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! کیا قریش کے تمام جوانوں کے قتل کو جائز کر دیا گیا ہے؟! کیا آج کے بعد کوئی قرشی باقی نہیں رہے گا؟! تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ»([7]) “جس نے ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے لی وہ امان میں ہے!”۔
میرے محترم بھائیو! یہ دینِ اسلام ہی کی انفرادیت ہے، کہ جو ابو سفیان چند لمحے قبل دينِ اسلام کے ایک بڑا دشمن اور مخالف تھے، اسلام قبول کرتے ہی انہیں اتنی عزّت وتوقیر بخشی گئی، کہ ان کے گھر میں پناہ لینے والے ہر شخص کو، رسول اللہ ﷺ نے امان دینے کا اعلان فرمایا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :غزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل
میدانِ جنگ میں بھی ظلم وزیادتی کی ممانعت
عزیزانِ گرامی قدر! دینِ اسلام ایک ایسا آفاقی دین ہے، جو حالتِ جنگ میں بھی کسی مظلوم اور مجبور (چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو) کے ساتھ ظلم وزیادتی کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اپنے ماننے والوں کو بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھنے، اور ان کی رعایت کا حکم دیتا ہے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فتحِ مکّہ کے دن ارشاد فرمایا: «أَلا لا يُجْهَزَنَّ عَلَى جَرِيحٍ، وَلا يُتْبَعَنَّ مُدْبِرٌ، وَلا يُقْتَلَنَّ أَسِيرٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ»([8]) “سن لو! کسی زخمی پر حملہ مت کرنا، جو پیٹھ پھیر کر بھاگ رہا ہو اس کا پیچھا مت کرنا، کسی قیدی کو قتل مت کرنا، اور جس نے خود کو اپنے گھر میں بند کرلیا وہ بھی امان میں ہے!”۔
کعبۃ اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا حکم
حضراتِ محترم! حضور نبئ کریم ﷺ جس وقت مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے، اس وقت کعبۃ اللہ شریف میں سینکڑوں چھوٹے بڑے بُت رکھے تھے، رسولِ اکرم ﷺ نے سب سے پہلے کعبۃ اللہ شریف کو بُتوں سے پاک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا، حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «إِنَّ رَسُولَ الله g لَمَا قَدِمَ، أَبَى أَنْ يَدْخُلَ البَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ!»([9]) “رسول اللہ ﷺ مکّہ میں تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے بُتوں کی موجودگی کے باعث، کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہونے سے انکار فرما دیا، پھر آپ ﷺ کے حکم سے ان بُتوں کو نکال باہر کیا گیا!”۔
گستاخِ رسول کا قتل
برادرانِ اسلام! ابنِ خطل نامی ایک بد بخت گستاخِ رسول تھا، اسے جب بھی موقع ملتا، وہ اپنی دو2 لَونڈیوں سمیت خاتم النبیین ﷺ کی شان میں ہرزَہ سَرائی کرتا، اور سبّ وشتم (گالی گلوچ) کرکے توہینِ رسالت كيا كرتا، فتحِ مکّہ کے بعد جب سروَرِ کونَین ﷺ مکّہ شریف میں داخل ہوئے، تو وہ بد بخت جان بچانے کی غرض سے خانۂ کعبہ میں داخل ہوگیا، ایک شخص نے آکر بارگاہِ رسالت میں عرض کی، کہ ابنِ خطل کعبۃاللہ شریف کے پَردوں سے لپٹ گیا ہے! حضورِ اکرم ﷺ نے عملی طور پر گستاخِ رسول کو سزا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «اقْتُلْهُ»([10]) “اسے قتل کر دو!”۔
فتحِ مکّہ کے روز حُدودِحرم میں قِتال کی خصوصی اجازت
عزیزانِ مَن! حرم شریف میں اگرچہ کسی کو قتل کرنا حرام ہے، لیکن فتحِ مکّہ کے روز اللہ رب العزّت نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو، کچھ دیر کے لیے قِتال کی اجازت عطا فرمائی، اور ابنِ خطل کا قتل اسی ساعت میں ہوا([11])، حرم شریف میں قِتال کی اجازت سے متعلق ایک حدیثِ پاک میں، حضرت سیِّدنا ابو شُرَیح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنْ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَماً، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَراً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا اليَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ»([12]) “یقیناً اللہ تعالی نے مکّہ کو حرم قرار دیا ہے، اور اسے لوگوں نے حرم قرار نہیں دیا، لہذا جو کوئی اللہ تعالی اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے مکّہ میں خون بہانا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے لیے مکّہ کے کسی درخت کو کاٹنا جائز ہے، اور اگر کوئی شخص مکّہ میں رسول اللہ ﷺ کے قِتال کرنے سے، مکّہ میں قتال کی اجازت پر دلیل پکڑے، تو تم اس سے یہ کہو کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مکّہ میں قتال کی اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی دن کی صرف ایک ساعت (گھڑی) کے لیے اجازت دی تھی، اور آج اس مکہ کی حرمت کل کی طرح پھرسے لَوٹ آئی ہے، اور چاہیے کہ جو (یہاں) موجود ہے وہ غائب (یعنی غیرموجود)تک یہ حدیث پہنچا دے!”۔
حضراتِ ذی وقار! حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کی طرف سے تمام اہلِ مکّہ کو عام مُعافی اور امان دینے کے باوجود، گستاخِ رسول کے قتل کا خصوصی حکم جاری فرمانا، اس بات کی واضح دلیل ہے، کہ گستاخِ رسول کی سزا بہر صورت قتل ہے، اور علمائے اُمّت کا بھی ہمیشہ سے اس مُعاملے میں یہی مَوقف رہا ہے، کہ اس کے لیے کوئی مُعافی نہیں، اسے بعد توبہ بھی سزائے مَوت دی جائے گی۔
ناموَر فقیہ علّامہ ابنِ بزّاز رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ “جو رسول اﷲ ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، دنیا میں بعدِ توبہ بھی اسے سزائے موت دی جائے گی، یہاں تک کہ اگر نشہ کی بےہوشی میں بھی کلمۂ گستاخی بکا، جب بھی مُعافی نہیں ہوگی، اور تمام علمائے امّت کا اِجماع واتفاق ہے، کہ نبئ کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے، اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کافر ومستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے”([13])۔
امام ابن ہُمام رحمۃ اللہ علیہ گستاخِ رسول کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “ہر وہ شخص جو دل میں رسول الله ﷺ سے بُغض رکھے، وہ مرتَد ہے، اور آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) سبّ و شتم (گالی گلوچ) کرنے والا تو بدرجہ اَولیٰ مرتَد ہے، اسےقتل کیا جائے گا، بلکہ اگر وہ توبہ کر لے تب بھی، قتل کی سزا اُس پر باقی رہے گی، یہاں تک کہ اگر اس نے حالت ِنشہ میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہو ، تب بھی مُعافی نہیں دی جائے گی”([14])۔ یعنی اس کی توبہ اور معذرت اگر اللہ تعالی قبول فرمالے تو وہ اللہ کی مرضی، مگر ہمیں دنیا میں حکم یہ ہے کہ اس کی سزا مُعاف نہ کی جائے!۔
عزیزانِ محترم! گستاخِ رسول کو سزا دینے کا اختیار صرف حاکمِ وقت کے لیے ہے، عوام الناس میں سے ہر گز کسی کویہ اختیار حاصل نہیں، کہ وہ توہینِ رسالت کے مرتکب کسی شخص کو قتل کرکے قانون اپنے ہاتھ میں لے! اگر گستاخِ رسول کو قتل کرنے کی اجازت عوام الناس کو دے دی جائے، تو اس کی سب سے بڑی خرابی یہ لازم آئے گی، کہ جس کا جب جی چاہے گا، اپنے کسی مخالف یا دشمن پر توہینِ رسالت کی تہمت لگا کر اسے قتل کر ڈالے گا، جس سے مُعاشرے میں بہت بڑا بگاڑ پیدا ہو جائے گا، مُعاشرے میں ہر طرف جنگل کا قانون راج کرنے لگے گا، لہذا اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی!۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ حاکمِ وقت کو بھی یہ بات پیشِ نظر رکھنی ہو گی، کہ توہینِ رسالت کا مرتکِب ہر شخص (مرد ہو یا عورت) واجب القتل ہے، لہذا اس قانون پر عملداری حکومتِ وقت کی ایک اہم ترین ذمّہ داری ہے، اور اگر اس اسلامی شرعی قانون پر کماحقہ عمل نہ کیا گیا، تو اس ڈھیلے پن کے سبب روزبروز اس طرح کے طوفانِ بدتمیزی اور گستاخی کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا، جوکہ ہم اپنے مُعاشرے میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب ان حالات وواقعات، اور حکومتِ وقت کی بےاعتنائی سے مجبور ہو کر کوئی جوان، قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے، اس واقعی گستاخ کو قتل کر دے، تب سارے حکومتی ادارے حرکت میں آجاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ پہلے سارے بھنگ پی کر گہری نیند سو رہے تھے!!۔
خوب یاد رکھیے! کہ اگر کوئی شخص گستاخی کا ارتکاب کرنے کے بعد توبہ کر لے، تب بھی شرعی اعتبار سے کسی بادشاہ، صدر یا وزیرِ اعظم كو یہ اختیار نہیں، کہ وہ اسے اپنے صوابدیدی اختیارات سے مُعاف کرسكے، يا اس کی توبہ قبول کرسكے۔ علّامہ خیرالدین رَملی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “جو کافر توبہ کرے، اس کی توبہ دنیا وآخرت میں قبول ہے، مگر کچھ کافر ایسے ہیں جن کی توبہ قبول نہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو ہمارے نبیﷺ يا کسی اَور نبی کی شان میں گستاخی کے سبب کافر ہوا ہو”([15])۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ناموس ِ رسالت ﷺ جیسے حسّاس مسئلہ میں، دینی غیرت وحمیت کا مُظاہرہ کیا جائے، دیگر مسلم حکمرانوں اور علمائے دین سے رَہنمائی اور مُشاوَرت کر کے اقوامِ متحدہ کے ذریعے، ایسی کڑی قانون سازی کروائی جائے، کہ دنیا بھر میں کسی گستاخِ رسول کو، مصطفی جانِ عالَم ﷺ سمیت، کسی نبی D، کسی صحابی رضی اللہ عنہ یا دیگر دینی مقدَّسات کی توہین کی جرأت نہ ہو!!۔
دعا
اےاللہ! رمضان المبارک کے طفیل ہمارے روزے، تراویح اور دیگر عبادات قبول فرما، ہمیں ریاکاری کی تباہ کاری سے بچا، ہمارے دلوں میں جذبۂ جہاد کو بیدار فرما، ہمیں کفّار پر فتحِ مکّہ جیسی شاندار فُتوحات اور غلبہ عطا فرما، ہمیں ناموسِ رسالت ﷺ پر پہرہ دینے کی توفیق عطا فرما، عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو نیست ونابُود فرما، قادیانیوں کے رُوپ میں یہود ونصاریٰ کی طرف سے اسلام مخالف سازشوں کو ناکام بنا۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دوعالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفيق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) دیکھیے: “تفسیر خزائن العرفان” 945۔
([2]) انظر: “الكامل في التاريخ” وَدَخَلَتْ سَنَةُ ستٍّ من الهجرة، ذكر عمرة الحديبية، 2/85.
([3]) “تاريخ الطَبَري” سنة ستّ من الهجرة، 2/638.
([4]) “صحيح البخاري” باب غزوة الفتح في رمضان، ر: ٤٢٧٦، صـ٧٢٤.
([5]) انظر: “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: ٤٢٨٠، صـ٧٢٤، ٧٢٥.
([6]) انظر: “الطبقات الكبرى” غزوة رسول الله g عام الفتح، 1/441.
([7]) “صحيح مسلم” كتاب الجهاد والسير، ر: ٤٦٢٢، صـ٧٩٣.
([8]) “الأموال” باب فتح الأرض تؤخذ عنوة …إلخ، ر: 159، صـ82.
([9]) “صحيح البخاري” باب من كبّر في نواحي الكعبة، ر: ١٦٠١، صـ٢٦٠.
([10]) “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: ٤٢٨٦، صـ٧٢٥.
([11]) “عمدة القاري” باب لا يعضّد شجر الحرم ، تحت ر: 1٨32، 7/511.
([12]) “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: ٤٢٩٥، صـ٧٢٧.
([13]) “الفتاوى البزّازية” كتاب ألفاظ …، الفصل 2، النوع 1، 6/321، 322.