
Table of contents
- زیادہ پسندیدہ روزے
- شعبان پاک صاف کرنے والا مہینہ ہے
- ماہِ شعبان المعظّم کی تعظیم
- افضل ر وزے
- زیادہ روزے
- پورے مہینے کے روزے
- دو ماہ متواتر روزے
- صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کا جذبہ
- شعبان کے پانچ حروف اور ان کے مَعانی
- ماهِ شعبان میں اِطاعت وفرمانبرداری
- درود شریف كى کثرت
- توبہ کے ذریعہ گناہوں سے پاکى
- تمام مہینوں میں سب سے افضل مہینہ
- دعا
میرے عزیز دوستو! ماہِ شعبان المعظّم میں مصطفیٰ جانِ رَحمت ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ، اعمالِ صالحہ اور روزوں کی کثرت کیا کرتے؛ کیونکہ دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ اس مہینے کے روزوں کی فضیلت بھی زیادہ ہے۔ حضرت سیِّدنا اُسامہ بن زَید رضی اللہ عنہما نے نبئ کریم ﷺ کی خدمتِ اقدَس میں عرض کی، یارسول اللہ! میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظّم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں! رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا: «ذٰلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبَ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلىٰ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِيْ وَأَنَا صَائِمٌ»([1]) “یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مقدّس مہینہ ہے، جس سے لوگ غافل ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، لہذا میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل رب تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے، تو میں حالتِ روزہ میں ہوں”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :استقبالِ رمضان
زیادہ پسندیدہ روزے
محترم بھائیو! شعبان المعظّم اللہ تعالی کی طرف سے بندۂ مؤمن کے لیے ایک عظیم عطیّہ، بھلائیوں اور عطاؤں والا مہینہ ہے، سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے اسے بہت پسند فرمایا، حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «كَانَ رَسُوْلُ اللهِ g يَصُوْمُ فَلَا يُفْطِرُ حَتّىٰ نَقُوْلَ: مَا فِيْ نَفْسِ رَسُوْلِ اللهِ g أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُوْمُ حَتّىٰ نَقُوْلَ: مَا فِيْ نَفْسِه أَنْ يَصُوْمَ الْعَامَ، وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِيْ شَعْبَان»([2]) “رسول اللہ ﷺ مسلسل روزے رکھتے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ اس سال روزے نہیں چھوڑیں گے، پھر آپ كبهى روزے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوتا کہ آپ ﷺ اس سال روزہ نہیں رکھیں گے، نیز حضور كو سب سے زیادہ شعبان کے روزے پسند تھے”۔
حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «كَانَ أَحَبُّ الشُّهُوْرِ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ g أَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَان، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ»([3]) “رسول اللہ ﷺ کو تمام مہینوں میں شعبان کے روزے زیادہ پسند تھے، یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیا کرتے”۔ لہٰذا ہمیں بھی محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے کے پیشِ نظر، ماہِ شعبان میں اپنی استطاعت وآسانی کے مطابق، اعمالِ صالحہ اور روزوں کی کثرت کرنی چاہیے۔
شعبان پاک صاف کرنے والا مہینہ ہے
عزیز دوستو! مبارک اوقات ومقامات میں نیکی کا ثواب، اور برکاتِ الہیّہ کا نُزول زیادہ ہوتا ہے، بندے کی غلطیاں کوتاہیاں مُعاف كى جاتى ہیں۔ حضرت سيِّده عائشہ صدّيقہ طيّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبئ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «شعبانُ شهري، ورمضانُ شهرُ اللهِ، وشعبانُ المطهِّرُ, ورمضانُ المکفِّرُ»([4]) “شعبان میرا اور رمضان اللہ تعالی کا مہینہ ہے، شعبان پاک صاف کرنے والا مہینہ ہے، اور رمضان خطاؤں کا كفّاره ہے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ
ماہِ شعبان المعظّم کی تعظیم
محترم بھائیو! حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفى جانِ رَحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «شَعْبَانُ شَهْرِي، فَمَنْ عَظَّمَ شَهْرَ شَعْبَانَ فَقَدْ عَظَّمَ أَمْرِي، وَمَنْ عَظَّمَ أَمْرِي كُنْتُ لَهُ فَرَطاً وَذُخْراً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»([5]) “شعبان میرا مہینہ ہے، جس نے ماہِ شعبان کی تعظیم کی یقیناً اُس نے میرے حکم کی تعظیم کی، اور جس نے میرے حکم کی تعظیم کی، قیامت کے دن میں اُس کا پيش رو ہوں گا، اور اُس كے ليے بھلائیوں کا ذخیرہ كروں گا”۔
افضل روزے
عزيز دوستو! سرکارِ مدینہ ﷺ سے سوال ہوا، کہ رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ تاجدارِ رسالت ﷺ نے فرمایا: «شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ»([6]) “تعظیمِ رمضان کے لیے شعبان کے روزے ہیں”۔
زیادہ روزے
اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ g اسْتكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَاماً فِي شَعْبَانَ»([7]) “میں نے رسولُ اللہ ﷺ کو ماہِ رمضان کے سِوا، کسی اَور مہینے میں مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی آپ کو کسی اَور مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے دیکھا”۔
پورے مہینے کے روزے
میرے بھائیو! شعبان وہ مہینہ ہے کہ سیرتِ نبوی ہمیں، اس میں طاعت وعبادت میں کثرت کی طرف رَہنمائی فرماتی ہے۔ حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ g فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَاماً مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلاً، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّه»([8]) “میں نے نبئ كريم ﷺ کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ اکثر دنوں کے روزے رکھتے، بلکہ پورا مہینہ روزہ رکھا کرتے”۔
دو ماہ متواتر روزے
حضرت سیِّدہ اُمّ سلَمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ g يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ»([9]) “میں نے نبئ اكرم ﷺ کو شعبان و رمضان کے علاوہ، دو2 ماہ مسلسل روزے رکھتے نہیں دیکھا”۔
صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کا جذبہ
حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “ماہِ شعبان کا چاند نظر آتے ہی، صَحابۂ کرام رضی اللہ عنہ تلاوتِ قرآنِ پاک کی طرف خوب متوجہ ہو جاتے، اپنے اَموال کی زکاۃ نکالتے؛ تاکہ فقراء ومساکین ماہِ رمضان کے روزوں کے ليے تیاری کرسکیں، حُکّام قَیدیوں کو طلب کر کے جس پر حد قائم کرنا ہوتی، اُس پر حَد قائم کرتے، بقیہ میں سے جن کو مناسِب سمجھتے انہیں آزاد کر دیتے۔ تاجِر اپنے قرضے ادا کر دیتے، دوسروں سے اپنے قرضے وصول کر لیتے، اور رمضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غُسل کر کے (ان ميں سے بعض حضرات) اعتکاف میں بیٹھ جایا کرتے”([10])۔
شعبان کے پانچ حروف اور ان کے مَعانی
میرے دوستو اور بزرگو! شعبان کے حروف سے متعلّق رُموز واَسرار بیان فرماتے ہوئے، حضرت سیِّد الاولیاء غوث الثقلین رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “شعبان میں پانچ5 حروف ہیں: ش ع ب ا ن۔ ش سے شرف (بزرگی) مراد ہے، ع سے عُلو (بلندی)، ب سے بِر (نیکی)، الف سے اُلفت (محبّت) اور نون سے نور (روشنی) مراد ہے۔ ان حروف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ ماہِ شعبان میں بندوں کو رب تعالى کی یہ نعمتیں عطا ہوں گی”([11])۔
ماهِ شعبان میں اِطاعت وفرمانبرداری
جانِ برادر! اَحوالِ زندگی، تغیّر ِزمانہ اور اس کی بےثباتی كے درس كے ساتھ، شعبان المعظّم کی اَہمیّت یوں بیان فرمائی گئی کہ “زندگی کے تین3 اَحوال ہیں: (1) حالتِ گزشتہ جو بیت چکی، (2) حالتِ موجودہ جس میں عمل کرنا ہے، (3) حالتِ آئندہ جس كى اميد ہے…
اسی طرح مہینے تین3 ہیں: (1) رجب وہ تو گزر گیا پھر نہیں لَوٹے گا، (2) اور رمضان کا انتظارکیا جا رہا ہے، تم نہیں جانتے کہ اس کو پانے کے لیے زندہ رہو گے یا نہیں؟ (3) اور شعبان ان دو٢ مہینوں کے درمیان واسطہ ہے، اس میں اِطاعت وفرمانبرداری کو غنیمت سمجھنا چاہيے!”([12])۔
درود شریف كى کثرت
عزيزانِ محترم! اسی ماہ مبارک شعبان میں آیتِ درود نازل ہوئی، او ردرودِ پاک کا حکم آیا ہے، اسی لیے اس مہینے میں کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہيے۔ “غنیۃ الطالبين” میں ہے کہ “شعبان وہ مہینہ ہے جس میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، برکتیں نازل ہوتی ہیں، خطائیں بخش دى جاتیں ہیں، گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، اور حضور نبئ اکرم ﷺ کی خدمت میں کثرت سے ہديۂ درود نچھاور کیا جاتا ہے، جو مخلوق میں سب سے بہتر ذاتِ گرامی ہیں۔ اور یہ مہینہ نبئ مختار ﷺ پر درود وسلام پیش کيے جانے کا خصوصی مہینہ ہے”([13])۔
توبہ کے ذریعہ گناہوں سے پاکى
اس ماهِ مبارک میں بھی دل کا میل اور روح کا زنگ دُور کرنے، اور گناہوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کے ليے، حضور سیِّد المرسلین ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے دربارِ حق تعالی میں دعا کی جائے۔ “غنیۃ الطالبين” میں ہے کہ “ہر صاحبِ عقل مؤمن کو چاہيے، کہ اس مہینے میں غفلت نہ برتے، بلکہ اسی ماہ میں سابقہ غفلتوں کوتاہیوں سے توبہ کے ذریعہ گناہوں سے پاک ہو کر، رمضان المبارک کے استقبال کی تیّاری کرے، اللہ تعالی کی بارگاہ میں تضرُّع وزاری کرے، اورشعبان کے مہینہ میں بارگاہِ خداوندی میں صاحبِ مہینہ، پیکر حمد وثنا، حضور نبئ کریم ﷺ کا وسیلہ لے، یہاں تک کہ اس کے دل کا فساد دُور ہو، اور اس کے باطن کا مرض دفع ہو جائے”([14])۔
تمام مہینوں میں سب سے افضل مہینہ
پيارے بھائیو! چونکہ یہ مہینہ حضور اقدس ﷺ کا مہینہ ہے، اس لیے تمام مہینوں سے افضل ہے، جیسا کہ “غنیۃ الطالبين” میں ہے کہ “اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَرَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ﴾ “آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا اور اختیار فرماتا ہے”۔ اللہ تعالی نے ہر چیز سے چار٤ کو منتخب فرمایا، پھر ان چار٤ میں سے ایک کو افضلیت کے لیے پسند فرمایا۔ فرشتوں ميں حضرت جبریل، حضرت میکائیل، حضرت اِسرافیل اور حضرت عزرائیل علیہ السلام کو چُن لیا، پھر ان میں سے حضرت جبریل D کو افضلیت کے لیے پسند فرمایا۔
انبیائے کرام علیہمُ السَّلام میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور سیِّدنا محمد ﷺ کو اختیار فرمایا، اور ان میں سے حضور سیِّدنا محمد ﷺ کو مصطفی بنایا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں سے چار4 صحابہ کومنتخب فرمایا، حضرات ابوبکر وعمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہ، پھر ان میں سے حضرت سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی۔ اسی طرح مہینوں میں سے چار٤ کومنتخب فرمایا: رجب، شعبان، رمضان اور محرّم، ان میں سے شعبان کو پسند فرمایا، اور اس کو حضور نبئ اکرم ﷺ کا مہینہ قرار دیا۔ تو جس طرح حضور نبئ اکرم ﷺ انبیائے کرام میں افضل ہیں، اسی طرح آپ کا مہینہ تمام مہینوں میں افضل ہے”([15])۔
دعا
اے اللہ! ہمیں شعبان المعظّم میں بھی زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی توفیق عطا فرما، ملک وقوم کی خدمت اور حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سنن النَّسائي” كتاب الصيام، ر: 235٣، الجزء 4، صـ٢٠٧.
([2]) “مسند الإمام أحمد” مسند أنس بن مالك …إلخ، ر: 13٤0٢، ٤/٤٥٨.
([3]) “سنن أبي داود” كتاب الصيام، ر: ٢٤3١، صـ٣٥٣.
([4]) “مُسند الفردوس” حرف الشين المعجمة، ٢/٢٣٣، ٢٣٤ من المخطوط.
([5]) “شعب الإیمان” ٣٢. باب في الصيام، ر: ٣٨١٣، ٣/١٣٩٨.
([6]) “سنن الترمذي” باب ما جاء في فضل الصدقة، ر: 663، صـ170.
([7]) “صحيح مسلم” باب صيام النبي ﷺ…، ر: ٢٧٢1، صـ٤٧١.
([8]) “سنن الترمذي” أبواب الصوم، تحت ر: ٧3٦، صـ١٨٦.
([9]) “سنن الترمذي” أبواب الصوم، ر: ٧3٦، صـ١٨٦.
([10]) “الغنیة لطالبي طریق الحقّ b” فصل، 1/٣٤١.