
Table of contents
- قربانی
- قربان ی کا معنی
- قربانی کا آغاز
- اللہ ربّ العالمین کی رضا وخوشنودی کی خاطر عمل صالح
- قربانی ہر امّت کے ليے مقرّر فرمائی گئی
- ربِ کریم کو جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے
- قربانی کاحکم
- رحمتِ عالم ﷺ ، صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام قربانی کرتے رہے
- صاحبِ نصاب مقیم حاجی پر بھی عید الاَضحی کی قربانی واجب ہے
- گائے اور اونٹ میں سات7 سات7 آدمی شریک ہو سکتے ہیں
- فَوت شدگان كى طرف سے قربانی
- قربانی کے جانور کی عمر
- قربانی کے جانور عیوب سے پاک ہوں
- قدرت کے باوجود قربان ی نہ کرنے پر وعید
- صاحبِ نصاب پر ہر سال ایک قربانی ہے
- نصاب كيا ہے؟
- حاجتِ اصلیہ (ضروریاتِ زندگی) سے مراد
- قربانی کا ثواب
- بہترین قربانی
- الله تعالى ک ی بارگاہ میں سب سے محبوب قربانی
- قربانی واجب ہونے کى شرائط
- قربانی کے جانور كی اقسام
- قربانی کے جانور وں کی عمریں
- قربانی کے شرکاء
- جانور ذبح کرنے سے پہلے
- قربانی کی کھال اور اُس کی جھول وغیرہ کا حکم
- ذ َ بح کا طریقہ
- گوشت کی تقسیم
- دعا
قربانی
عزیزانِ گرامی قدر! اللہ تعالی نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، ان عبادات میں سے کچھ فرض ہیں اور کچھ واجب، مگر دونوں ہی ضروری ہیں۔ بعض کا تعلّق انسان کے بدن سے ہے، اور بعض کا اس كے مال سے۔ جو عبادات بدن سے متعلق ہیں وہ بدَنیہ کہلاتی ہیں، اور جن کا تعلق مال سے ہے وہ عباداتِ مالیہ کہلاتی ہیں۔ مالی عبادات میں سے ایک عظيم عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی کا مفہوم بہت وسیع ہے، لیکن ہم یہاں صرف اس قربانی کے ضروری فضائل و مسائل کا ذکر کریں گے، جو عید الاَضحیٰ کے موقع پر کی جاتی ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ
قربانی کا معنی
علّامہ راغب اصفہانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: “القربان” سے مراد ہر وہ چیز ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالی کا قُرب حاصل کیا جائے۔ اور عُرف میں قربان بمعنی “نسیکة” یعنی “ذبیحہ” کے استعمال ہوتا ہے”([1])۔
قربانی کا آغاز
تخلیقِ انسانیت کے آغاز ہی سے، انسان میں قربانی کا جذبہ کار فرما ہے، قرآنِ مجید میں حضرت سيِّدنا آدم D کے دو2 بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے، ارشادِ بارى تعالى ہے: ﴿اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ﴾([2]) “جب دونوں نے ایک ایک نیاز (قربانى) پیش کی، تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی ناقبول ہوئی، (ايك دوسرے سے) بولا: قسم ہے میں تجھے قتل کر دوں گا! (دوسرے نے) کہا کہ جو خوفِ خدا والے ہيں، اللہ انہیں سے قبول کرتا ہے”۔ مطلب یہ کہ قربانی کا قبول کرنا، اللہ تعالى کا کام ہے، اور وہ اہل تقوی کی قربانی قبول فرماتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فلسفۂ قربانی اور ہمارا مُعاشرہ
اللہ ربّ العالمین کی رضا وخوشنودی کی خاطر عمل صالح
ميرے محترم بھائیو! یہ بات بہت ضروری ہے، کہ ہر نیک کام اللہ ربّ العالمین کی رضا وخوشنودی کے حصول کی خاطر انجام دیا جائے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾([3]) “(اے حبیب) آپ فرما دیجیے! کہ یقیناً میری نماز، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ کے ليے ہے، جو سارے جہان کا ربّ ہے”۔
قربانی ہر امّت کے ليے مقرّر فرمائی گئی
عزیز ہم وطنو! ایمان والی پچھلی امّتوں میں بھی قربانی رائج تھی، اللہ A کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا﴾([4]) “ہر امّت کے ليے ہم نے ایک قربانی مقرّر فرمائی”۔
ربِ کریم کو جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے
خالقِ کائنات ﷻ ہماری قُربانیوں سے متعلق ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ﴾([5]) “اللہ تعالی کو ہرگز نہ اِن کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ اِن کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اللہ تک باریاب ہوتی ہے”۔ یعنی ربِ کریم B کو ان جانوروں کے گوشت اور خون کی قطعاً حاجت نہیں، وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کس قدر اُس كا خوف اور تقویٰ موجود ہے! اطاعت و فرمانبرداری کے کتنے جذبات مَوجزن ہیں!۔ اللہ تعالى کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو نانِ شبینہ کے محتاج ہیں، لیکن ان کا جی چاہتا ہے کہ کاش! ہمارے پاس بھی وسائل ہوتے، تو ہم اللہ A کی راہ میں قربانیاں پيش کرتے۔ ممکن ہے کہ ان لوگوں کو قربانی نہ کرنے کے باوجود، محض حسنِ نیّت کا ثواب مل جائے، جو ریاکاری کی قربانی والوں کو کبھی میسّر نہ آئے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد
قربانی کاحکم
یاد رہے کہ قربانی کرنا بہت ہی پیاری سنّت، اور ایک ایسی عبادت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت سیِّدنا اسماعیل D کی جان کے فدیہ میں ذبیحہ دے کر، لوگوں کے لیے اس کو مقرّر فرما دیا۔ حضرت سیِّدنا ابراہیم D نے جب اپنے رب تعالی سے نیک اولاد کی دعا کی، تو اللہ تعالی نے اُنہیں حضرت سیِّدنا اسماعیل D عطا فرمائے، اور پھر انہیں ذَبح کرنے کا حکم دے کر امتحان لیا، حضرت سیِّدنا ابراہیم D جو اپنے رب تعالی کے ہرحکم کو تسلیم کرتے رہے، یہاں تک کہ اپنے پیارے بیٹے کو ذَبح کے لیے بھی پیش کر دیا، جبکہ یہ بیٹا آپ کو بڑھاپے میں عطا کیا گیا، اور وہ اس وقت تک آپ کے اکلوتے بیٹے تھے، یہ سب کچھ بیٹے کی محبت پر اللہ تعالی کی محبت کو ترجیح دینے کے سبب ہوا۔
اللہ تعالی نے ان کی اس نیکی کا یہ بدلہ عطا فرمایا، کہ ان کے بیٹے کے فدیہ میں ایک عظیم ذبیحہ بھیج دیا، اس واقعہ کو اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا: ﴿رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۰۰ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ۰۰۱۰۱ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّيْۤ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى ١ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١ٞ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۱۰۲ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِۚ۰۰۱۰۳ وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّٰۤاِبْرٰهِيْمُ۠ۙ۰۰۱۰۴ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۰۵ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِيْنُ۰۰۱۰۶ وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ﴾([6]).
“ان (ابراہیم) نے کہا: الہٰی مجھے لائق اولاد دے! تو ہم نے اسے ایک عقلمند لڑکے کی خوشخبری سنائی، پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا، تو اس نے کہا کہ اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا کہ میں تمہیں ذَبح کر رہا ہوں، اب تم دیکھ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ (بيٹے نے جواب میں) کہا کہ اے میرے والد! آپ کو جس بات کا حکم ہوتا ہے آپ وہ کیجیے! الله نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صابر پائیں گے! تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی، اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا، اس وقت کا حال مت پوچھو! اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم! یقیناً تم نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں، یقیناً یہ رَوشن امتحان تھا، اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اُس کے فدیہ میں دے کر اُسے بچا لیا”۔
ہر دور میں قربانی کا یہ سلسلہ چلتا رہا، حتّی کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی قربانی کا رَواج رہا، مگر ان کا طریقۂ کار یہ تھا کہ جانور ذَبح کرنے کے بعد، اس كا خون کعبۂ معظّمہ کی دیواروں پر لگا دیتے، اور گوشت بتوں کے سامنے اکٹھا کر دیتے تھے، بعد ازاں جب حضور نبئ رحمت ﷺ، خاتم المرسلین کا تاج سجائے مبعوث ہوئے، تو خالقِ کائنات ﷻ نے قربانی کو باقی رکھتے ہوئے، اپنے حبيبِ كريم اور آپ ﷺ کی اُمَّت کو قربانی کا حکم فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾([7]) “تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو!”۔
رحمتِ عالم ﷺ، صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام قربانی کرتے رہے
حضور رحمتِ عالم ﷺ خود بھی، اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے ہوئے قربانی کرتے رہے۔ حضرت سیِّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كَانَ النَّبِيُّ g يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ»([8]) “نبئ کریم ﷺ دو2 مینڈھے قربان کیا کرتے تھے، اور میں بھی دو2 مینڈھے قربان کرتا ہوں”۔
اسی طرح دیگر صحابۂ کرام وتابعینِ عظام بھی قربانی کے جانوروں کی پروَرش کرکے، انہیں فربہ کرنے کا خاص اہتمام فرماتے، اور پھر انہیں اللہ کی راہ میں قربان کیا کرتے، چنانچہ حضرت سیِّدنا ابو اُمامہ بن سہل رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: «كُنَّا نُسَمِّنُ الأُضْحِيَّةَ بِالْمدِينَةِ، وَكَانَ المُسْلِمُونَ يُسَمِّنُونَ»([9]) “مدینۂ منوّرہ میں ہم اور دیگر مسلمان بھی، قربانی کے جانوروں کی پروَرش کرکے انہیں خوب فربہ کیا کرتے تھے”۔
صاحبِ نصاب مقیم حاجی پر بھی عید الاَضحی کی قربانی واجب ہے
محترم بھائیو! حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: «فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى، أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ g عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ»([10]) “جب ہم مِنی میں تھے، تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اَزواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے”۔ اس حدیثِ پاك سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ آنحضرت ﷺ کا گائے ذَ بح کرنا، عید الاضحیٰ کی قربانی کے لیے تھا”([11]) جو کہ صاحبِ نصاب پر حج کی قربانی کے علاوہ ہے۔
گائے اور اونٹ میں سات7 سات7 آدمی شریک ہو سکتے ہیں
میرے عزیز ہم وطنو! حضرت سیِّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ g فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ» “حج وعمره کے موقع پر، ہم نبئ كريم ﷺ کے ساتھ، فی اونٹ سات7 لوگ شریك ہوئے”، کسى نے دریافت کیا، کہ کیا گائے میں بھی سات7 لوگ شریک ہو سکتے ہیں؟ حضرت سیِّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمايا: «مَا هِيَ إِلَّا مِنَ الْبُدنِ»([12]) “گائے بھی قربانی کے ڈِیل دار (بڑی جسامت والے، بھاری بھر کم) جانور میں سے ہے”۔ اور صحیح بھی یہی ہے کہ گائے اور اونٹ میں سات7 سات7 لوگ شریک ہو سکتے ہیں، اور یہی مسلک جُمہور محدثین اور حنفیہ کا ہے۔
فَوت شدگان كى طرف سے قربانی
عزیزانِ محترم! حضرت سیِّدنا حنَش رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت ہے، کہ حضرت سیِّدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو2 مینڈھوں کی قربانی کی: ایک نبئ کریم ﷺ کی طرف سے، اور ایک خود اپنی طرف سے، اور فرمایا: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ g أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ، فَأَنَا أُضَحِّي أَبَداً»([13]) “رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا، کہ میں اُن کی طرف سے قربانی کروں! لہذا میں ہمیشہ اسی طرح قربانی کرتا رہوں گا!”۔ “یہ اس پر بات پر دلیل ہے، کہ اگر کوئی فَوت شدہ مسلمان کی طرف سے قربانی کرے تو جائز ہے”([14])۔
قربانی کے جانور کی عمر
عزیز دوستو! حضرت سیِّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ»([15]) “دو2 دانت والے (اونٹ کی عمر پانچ5 سال، گائے کی عمر دو2 سال، اور بکرے کی عمر ایک سال یا اس سے زیادہ) کے علاوہ کسی کی قربانی مت کرو! ہاں اگر دشواری ہو تو، اس سے کم عمر والے (جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو، صرف اُس) دنبہ کی قربانی کرلو!”۔
قربانی کے جانور عیوب سے پاک ہوں
برادرانِ اسلام! قربانی کرنے والے کے لیے ضروری ہے،کہ جانور اچھا اور بے عیب خریدے، حضور نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَرْبَعَةٌ لَا يَجْزِيْنَ فِي الْأَضَاحِي: (1) الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، (2) وَالْمرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، (3) وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، (4) وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي»([16]) “چار4 قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں: (۱) وہ کانا جانور جس کا کانا پَن صاف معلوم ہو، (۲) ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو، (3) ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پَن صاف معلوم ہو، (4) اور ایسا کمزور وناتواں جانور، جس کی ہڈیوں میں گُودا نہ رہا ہو”۔
قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر وعید
قابلِ صد احترام بھائیو! حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا»([17]) “جس شخص کے پاس قربانی کرنے کی وسعت وقدرت ہو، پھر بھی وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے!”۔ لہٰذا جو لوگ قربانی کی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتے، ان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، اوّل یہی نقصان کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب، اور عيد گاه میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع ودعا سے محروم ہوگئے، مزید یہ کہ وہ گنہگار بھی ہیں۔
صاحبِ نصاب پر ہر سال ایک قربانی ہے
پیارے بھائیو! حضرت سیِّدنا مِخنَف بن سُلیم رضی اللہُ عنہ کہتے ہیں، کہ ہم عرَفہ میں نبئ کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، تب نبئ رحمت ﷺ نے فرمایا: »يا أيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ، فِيْ كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً»([18]) “اے لوگو! گھر کے ہر فردپر، ہر سال ایک قربانی ہے”، یعنی گھر میں جتنے افراد صاحبِ نصاب ہوں گے، ان پر قربانی لازم ہوگی۔
لہذا جو استطاعت رکھتا ہو، مگر اس کے پاس جانور خریدنے کے لیے رقم نہیں، تو حکم یہ ہے كہ “اگر قربانی اُس پر واجب ہے، اور اس وقت اس کے پاس روپیہ نہیں، تو قرض لے کر، یا اپنی کوئی چیز فروخت کرکے قربانی کا جانور حاصل کرے، اور قربانی کرے”([19])۔ یا بڑے جانور یعنی اونٹ، گائے وغیرہ میں حصّہ لے کر شراکت داری کرے۔
نصاب كيا ہے؟
ہر بالغ، مقیم مسلمان، مرد وعورت، مالکِ نصاب پر قربانی واجب ہے۔ مالکِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے، کہ اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی، یا اتنی مالیت کی رقم، یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت، یا اتنی مالیت کا حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو، اور اس پر شریعتِ مطہّرہ کی طرف سے مقرّر کردہ زکات یا فطرہ، یا خود لازم کردہ منّتِ شرعی کی ادائیگی، یا بندوں کا اتنا قرض نہ ہو، جسے ادا کركے مذکورہ نصاب باقی نہ رہے([20])۔
حاجتِ اصلیہ (ضروریاتِ زندگی) سے مراد
فقہائے کرام فرماتے ہیں، کہ حاجتِ اصلیہ (ضروریاتِ زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں، جن کی عموماً انسان کو ضرورت رہتی ہے، اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی ودشواری كا سامنا كرنا پڑتا ہے، جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری، علمِ دین سے متعلق حاجت كى کتابیں، اور پیشے سے متعلق اَوزار وغیرہ([21])۔ اگر “حاجتِ اصلیہ” کی تعریف پیشِ نظر رکھی جائے، تو بخوبی معلوم ہوگا، کہ ہمارے گھروں میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں، کہ جو حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں، چنانچہ اگر ان کی قیمت كل ملا كر ساڑھے باوَن تولہ چاندی کے برابر پہنچ گئی، تو قربانی واجب ہوگئی!!۔
قربانی کا ثواب
میرے بزرگو ودوستو! حضرت سیِّدنا زید بن ارقم رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ کے چند اصحاب کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ مصطفی ٰجانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» “تمہارے باپ ابراہیم کی سنّت ہے!” انہوں نے سوال کیا: یا رسولَ اللہ! ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: «بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ!» “جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے!” صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اُون کے بدلے؟ سروَرِ کونین ﷺ نے فرمایا: «بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ!»([22]) “اُون کے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے!”۔
بہترین قربانی
محترم دوستو! حضرت سیِّدنا ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضور رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا: «خَيْرُ الأُضْحِيَّةِ الكَبْشُ»([23]) “قربانی كے لیے سب سے بہتر دُنبہ ہے”۔
الله تعالى کی بارگاہ میں سب سے محبوب قربانی
جانِ برادر! حضرت سیِّدنا ابو اسود انصاری رضی اللہُ عنہ، اپنے ابا جان سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں: «أَحَبُّ الضَّحَايَا إلَى اللهِ، أَعْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا»([24]) “الله تعالى کو سب سے زیادہ، موٹی تازى، اور بلند قامت، یا عمدہ قسم کی قربانی محبوب ہے”۔
قربانی واجب ہونے کى شرائط
“قربانی واجب ہونے کى شرائط یہ ہیں: (۱) اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں، (۲) اِقامت یعنی مقیم ہونا، لہذا مسافر پر واجب نہیں، (۳) تونگری یعنی مالکِ نصاب ہونا، یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، وہ مراد نہیں جس سے زکات واجب ہوتی ہے۔ یعنی قربانی واجب ہونے کے لیے، مال کا مالِ نامی ہونا شرط نہیں”([25])، نیز اس مال پر سال گزرنا بھی کوئی ضروری نہیں۔
(٤) حر یت یعنی آزاد ہونا، جو آزاد نہ ہو اُس پر قربانی واجب نہیں؛ کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں، لہٰذا عبادتِ مالیہ اُس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں، عورتوں پر واجب ہوتی ہے، جس طرح مَردوں پر واجب ہوتی ہے، اس کے لیے بالغ ہونا شرط ہے؛ کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے، اور نہ اُس کی طرف سے اُس کے باپ پر واجب ہے”([26])۔
قربانی کے جانور كی اقسام
“قربانی کے جانور تین3 قسم کے ہیں: (۱) اونٹ، (٢) گائے، (٣) بکری۔ ہر قسم میں اُس کی جتنی انواع ہیں، سب داخل ہیں، نر اور مادہ، خصّی (وہ جانور جس کے خصیے نکال دیے گئے ہوں) اور غیر خصی، سب کا ایک حکم ہے، یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے، اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ، بکری میں داخل ہیں، ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔
قربانی کے جانوروں کی عمریں
قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے: (1) اونٹ پانچ5 سال کا، (2) گائے دو2 سال کی، (3) بکری ایک سال کی۔ اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں، زیادہ ہو تو جائز، بلکہ افضل ہے۔ ہاں صرف دنبہ یا بھیڑ کا چھ6 مہینے کا بچہ، اگر اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، تو اُس کی قربانی جائز ہے۔
قربانی کے شرکاء
قربانی کے سب شرکاء کی نیّت تقرُبِ الہی (یعنی اﷲتعالی کا قرب حاصل كرنا) ہو، یعنی کسی کا ارادہ گوشت حاصل کرنے کا نہ ہو۔ اور یہ ضرورى نہیں کہ وہ تقرُب ایک ہی طرح کا ہو، یعنی ضروری نہیں کہ سارے شریک قربانی ہی کرنا چاہتے ہوں، بلکہ ایک بڑے جانور (اونٹ اور گائے) میں قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے؛ کیونکہ عقیقہ بھی تقرُبِ الہی کی ایک صورت ہے۔
جانور ذبح کرنے سے پہلے
جانور ذَبح کرنے سے پہلے چھری کو اچھی طرح تیز کر لیا جائے، اور ذَبح کے بعد جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے، اُس کے تمام اعضاء سے روح نکل نہ جائے، اُس وقت تک اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹیں، اور نہ چمڑا اُتاریں۔
بہتر یہ ہے کہ اگر اچھی طرح ذَبح کرنا جانتا ہو، تو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے، اور اگر اچھی طرح ذبح کرنا نہیں جانتا، تو دوسرے کو حکم دے کہ وہ ذبح کرے، مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے، کہ وقتِ قربانی خود بھی حاضر ہو۔
حدیثِ پاک میں ہے: حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت سيِّده فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ» “اُٹھ کر اپنی قربانی کے پاس آؤ؛ کہ اُس کے خون کے پہلے ہی قطرہ میں جو کچھ گناہ کیے ہیں، سب کی مغفرت ہو جائے گی”، اس پر حضرت سيِّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا نبی اﷲ! یہ آپ کی آل کے لیے خاص ہے؟ یا آپ کی آل کے لیے بھی ہے اور عام مسلمین کے لیے بھی؟ فرمایا: «لَا بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»([27]) “نہیں بلکہ تمام مسلمین کے لیے عام ہے”۔
قربانی کی کھال اور اُس کی جھول وغیرہ کا حکم
قربانی کا چمڑا، اُس کی جھول (قربانی کے جانوروں پر ڈالا گیا کپڑا) رسّی اور اُس کے گلے میں ڈلا ہوا ہار، ان سب چیزوں کو صدقہ کر دے۔ قربانی کے چمڑے کو خود بھی اپنے کام میں لاسکتا ہے، یعنی اُس کو باقی رکھتے ہوئے، اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے”([28])۔ لیکن اگر اسے بیچے گا، تو پھر اس مال کو صدقہ کرے، خود اپنے خرچ میں نہیں لا سکتا۔
ذَبح کا طریقہ
قربانی سے پہلے جانور كو چارہ پانی دیں، یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں۔ ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کریں۔ اور پہلے سے چھری تیز کر لیں، ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اُس کے سامنے چھری تیز کی جائے۔ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں، کہ قبلہ کو اُس کا منہ ہو، اور اپنا داہنا پاؤں اُس کے پہلو پر رکھ کر، تیز چھری سے جلد ذبح کر دیا جائے، اور ذبح سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے: “إِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا أَنَا مِنَ الْمشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُکِيْ وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِيْ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، لا شَرِیْكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمسْلِمِیْنَ، اَللّٰهُمَّ لَكَ وَمِنْكَ، بِسْمِ اللهِ اَللهُ أَکْبَرُ”.
“میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا، جس نے آسمان اور زمین بنائے، خاص اسی کا ہو کر، اور میں مشرکوں میں نہیں، یقیناً میری نماز، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اﷲ تعالی کے ليے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہوا ہے، اور میں مسلمان ہوں۔ الٰہی! یہ (قربانی) بھی تیری ہی توفیق سے ہے، اور تیرے ہی لیے ہے۔ اﷲ کے نام سے، اور اﷲ سب سے بڑا ہے”۔ اسے پڑھ کر ذبح کر دے۔
قربانی اگر اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے: اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلَ مِنِّي، کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِكَ إِبْرَاهِیْمَ n وَحَبِیْبِكَ مُحَمَّدٍ m. “اے اﷲ تو مجھ سے (اس قربانی کو) قبول فرما! جیسے تُو نے اپنے خلیل ابراہیم اور اپنے حبیب محمد ﷺ سے قبول فرمائی”([29])۔
اس طرح ذبح کرے کہ جانور کی چاروں4 رگیں کٹ جائیں، یا کم سے کم تین3 رگیں کٹ جائیں۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری پیچھے گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے؛ کہ اس سے جانور کو بلا وجہ تکلیف ہوتی ہے۔
اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہے، تو “مِنِّي” کی جگہ “مِن” کے بعد اُس کا نام لے، جس کی طرف سے ہے([30])۔
گوشت کی تقسیم
قربانى كا جانور اگر مشترک ہے، جیسے گائے یا اونٹ، تو وزن سے گوشت تقسیم کیا جائے، صرف اندازے سے تقسیم نہ کریں۔ پھر اس گوشت کے تین3 حصّے کر کے، ایک حصّہ فقراء پر تصدُّق (خيرات) کرے، ایک حصّہ دوست واحباب کے یہاں بھیجے، اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے رکھے، اور اس میں سے خود بھی کچھ کھالے، اور اگر اہل وعِیال زیادہ ہوں، تو تہائی سے زیادہ، بلکہ کُل گوشت بھی گھر کے استعمال میں لاسکتا ہے([31])۔
قربانی کا چمڑا اپنے کام میں بھی لاسکتا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی نیک کام کے لیے دے دے، مثلاً مسجد یا دینی مدرسہ کو دے دے، یا کسی فقیر کو دے دے۔ بعض جگہ یہ چمڑا امام مسجد کو دیا جاتا ہے، اگر امام کی تنخواہ میں نہ دیا جاتا ہو، بلکہ اِعانت (مدد) کے طور پر ہو تو حرج نہیں۔ “البحر الرائق” میں مذکور ہے کہ قربانی کرنے والا، بقر عید کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے، اس سے پہلے کوئی دوسری چیز نہ کھائے، یہ مستحب ہے، اس کے خلاف کرے جب بھی حرج نہیں”([32])۔
دعا
اے اللہ! ہم میں جو صاحبِ نصاب ہیں، انہیں اپنے مال سے بہترین جانور قربان کرنے کی توفیق عطا فرما، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت والفت کو اَور زیادہ فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسَنہ کو قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما۔
الٰہی! تمام مسلمانوں کی جان، مال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، جن مصائب وآلام کا انہیں سامنا ہے، ان سے نَجات عطا فرما۔ ہمارے وطنِ عزیز کو اندرونی وبَیرونی خطرات وسازشوں سے محفوظ فرما، ہر قسم کی دہشتگردی، فتنہ وفساد، خونریزی وقتل وغارتگری، لُوٹ مار اور تمام حادثات سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اس مملکتِ خداداد کے نظام کو سنوارنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کو دینی وسیاسی فہم وبصیرت عطا فرما کر، اِخلاص کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی توفیق عطا فرما، دین ووطنِ عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو غریقِ رحمت فرما، اُن کے درجات بلند فرما، ہمیں اپنی اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کی سچی اِطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسنّت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کرام کی سچی مَحبت، اور اِخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفی کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے ہمیں وافَر حصّہ عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کا پسنديدہ بنده بنا، اے الله! تمام مسلمانوں پر اپنى رحمت فرما، سب كى حفاظت فرما، اور ہم سب سے وه كام لے جس میں تیری رِضا شاملِ حال ہو، تمام عالَمِ اسلام کی خیر فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّةِ أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “مفردات ألفاظ القرآن” القاف، صـ414، 415.
([6]) پ٢٣، الصّٰفّٰت: 100-1٠٧.
([8]) “صحيح البخاري” كتاب الأضاحي، ر: 5553، صـ987.
([9]) “صحيح البخاري” بَابٌ فِي أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ g بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، صـ987.
([10]) “صحيح البخاري” كتاب الأضاحي، ر: 5548، صـ986.
([11]) “فتح الباري” باب الأضحية للمسافر والنساء، تحت ر: 5548، ١٠/8.
([12]) “صحيح مسلم” كتاب الحج، ر: 3188، صـ553.
([13]) “مستدرَك الحاكم” كتاب الأضاحي، ر: 7556، 7/2694.
([14]) “الكاشف عن حقائق السنن” كتاب الصلاة، تحت ر: ١462، 3/252.
([15]) “صحيح مسلم” باب سنّ الأضحية، ر: 5082، صـ876.
([16]) “سنن النَّسائي” كتاب الضحايا، ر: 4377، الجزء 7، صـ228.
([17]) “سنن ابن ماجه” باب الأضاحي واجبة هي أم لا؟ ر: 3123، صـ534.
([18]) “سنن ابن ماجه” باب الأضاحي واجبة هي أم لا؟ ر: 3125، صـ535.
([19]) “فتاوى امجدیہ” كتاب الاُضحیہ، 3/315۔
([20]) “بہارِ شریعت” زكات كا بیان، حصّہ5، ١/878، 880۔ وقربانی، حصّہ پانزدہم15، ۴/۱۳۲۔
([21]) “بہارِ شریعت” زكات كا بیان، حصّہ پنجم5، ١/880، 881۔
([22]) “سنن ابن ماجه” باب ثواب الأضحية، ر: 3127، صـ535.
([23]) “سنن الترمذي” باب [خَيْرُ الأُضْحِيةِ الكَبْشُ] ر: 1517، صـ368.
([24]) “التلخيص الحبير” كتاب الضحايا، مدخل، تحت ر: 1966، ٤/35٠.
([25]) “بہارِ شریعت” صدقۂ فطر کا بیان، حصّہ5، ١/935۔
([26]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/332، ملتقطاً۔
([27]) “مستدرك الحاكم” كتاب الأضاحي، ر: 7524، ٤/247.
([28]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/339، 340، 343-345، ملتقطاً۔
([29]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/352، ملتقطاً۔
([30]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/353، ملتقطاً۔
([31]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/353، ملتقطاً۔
([32]) “بہارِ شریعت” قربانی کا بیان، مسائلِ فقہیہ، حصّہ15، 3/353، ملتقطاً۔