مکّہ مکرّمہ کی فضیلت

Home – Single Post

مکّہ مکرّمہ

برادرانِ اسلام! مکّہ مکرّمہ  وہ مقدّس شہر ہے جہاں رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور پروَرش ہوئی، یہیں سے دینِ اسلام کا سورج پوری آب وتاب سے چمکا،  مصطفی جانِ رحمت ﷺ پر سب سے پہلی وحی  بھی یہیں نازل ہوئی، اسی شہرِ مکّہ میں مسلمان حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے حاضر ہوتے ہیں، اس کی زیارت کے لیے دن رات تڑپتے اور دعائیں کرتے ہیں، اسی مبارک شہر میں مسلمانوں کا قبلہ  یعنی بیت اللہ شریف، مقام ِ ابراہیم، صفا ومَروہ اور  آبِ زمزم  ہے۔ یہ وہ مبارک  جگہ ہے جہاں سے نُزولِ قرآن کا سلسلہ شروع ہوا، اسی شہر میں خلفائے راشدین، اور دیگر صحابۂ کرام ﷡ نے دینِ اسلام کے لیے بےپناہ قربانیاں دیں، یہ وہ مبارک جگہ ہے جہاں دن رات رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ

عزیزانِ محترم! مکّہ مکرّمہ وہ سر زمینِ امن وامان ہے، جو ساری دنیا کے لیے ہدایت ورَہنمائی کا سر چشمہ ہے، اس مبارک شہرکی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اللہ ربّ العالمین نے  قرآنِ کریم میں اس  شہرِ اَمن کی قسم ارشاد فرمائی، فرمایا: ﴿لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ۰۰۱ وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ﴾([1]) “مجھے اس شہر (مکّہ مکرمّہ) کی قسم، کہ اے حبیب! آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُراد آبادی ﷫  فرماتے ہیں کہ “اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہ عظمت مکّہ مکرّمہ کو سیِّد ِ عالَم ﷺ کی رَونق اَفروزی کی بدَولت حاصل ہوئی”([2])۔

میرے محترم بھائیو! غَور وفکر کا مقام ہے، کہ اس مبارک شہر میں صفا ومَرْوہ کی پہاڑیاں ہیں، آبِ زمزم کا کنواں ہے، مقامِ ابراہیم ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں کعبۃ اللہ شریف ہے، لیکن اللہ تعالی نے ان میں سے کسی مقام کی قسم یاد نہیں فرمائی، صرف مکّہ مکرّمہ کی قسم یاد فرمائی، اور اس کی وجہ بھی خود ہی بیان فرمائی کہ ” اےحبیبﷺ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں (اس لیے مجھےاس  شہر کی قسم!)”۔

علاوہ ازیں عالَمِ اَرواح میں بھی نبئ کریم ﷺ ہمیشہ سے سب سے افضل واعلیٰ اور برتر وبالا رہے، اور یہ چیز اللہ تعالی کے علم میں پہلے سے تھی کہ مصطفی جانِ رَحمت ﷺ کی اسی شہر ِ امن وامان میں ولادت ہوگی، اور یہیں سے اعلانِ نبوّت فرما کر آپ ﷺ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز فرمائیں گے، لہذا رسولِ اکرم ﷺ کی خاطر آپ کی تشریف آوری سے قبل ہی، مکہ مکرمہ کو، آپ ﷺ کے صدقہ وطفیل فضیلت بخش دی۔ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا ﷫ نے اس اَمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب ارشاد فرمایا: ؏

وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا، نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا

کہ کلامِ مجید نے کھائی شہا تِرے شہر وکلام وبَقا کی قسم!([3])

یہ بھی ضرور پڑھیں :حضورِ اکرم ﷺ کا حُسن وجمال

حضراتِ گرامی قدر! مکّہ مکرّمہ جیسی مبارک اور پُرامن سر زمین کو جو فضیلتیں حاصل ہیں، وہ رُوئے زمین کے کسی شہر کو حاصل نہیں۔ خالقِ کائنات ﷯ کا سب سے پہلا گھر “بیت اللہ شریف” بھی اسی شہر میں ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ﴾([4]) “یقیناً سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے مقرّر ہوا، وہ ہے جو مکّہ مکرّمہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہاں کا رَہنما”۔

اس مبارک شہر میں اللہ تعالی کی متعدد واضح اور کھلی نشانیاں ہیں، جو اس کی حرمت وفضیلت پر دلالت کرتی ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ﴾([5]) “اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ”۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت “تفسیر ِ مدارِک” اور “تفسیرِ خازِن”([6]) میں ہے کہ “ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں، کہ وُحوش (جنگلی جانور) ایک دوسرے کو حرم میں اِیذاء نہیں دیتے، حتی کہ کتّے اس سر زمین میں ہرن پر حملہ آوَر نہیں ہوتے، وہاں شکار نہیں کرتے، اور لوگوں کے دل کعبہ معظّمہ کےلیے اس قدر بےتاب رہتے ہیں، کہ  صرف اس کی طرف نظر کرنے سے ان کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، ہر شبِ جمعہ اَرواحِ اَولیاء اس مبارک گھر کے گرد حاضر ہوتی ہیں، اور جو کوئی اس مبارک گھر کی بےحرمتی کا قصد کرے برباد ہو جاتا ہے، انہیں نشانیوں میں سے مقامِ ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں بھی ہیں، جن کا آیتِ مبارکہ میں بیان فرمایا گیا([7])۔

صفا اور مَروہ کی پہاڑیاں جہاں حاجی صاحبان سعی کرتے ہیں، وہ  بھی اللہ تعالی کی اُن نشانیوں میں سے ہیں جو شہرِ مکّہ میں واقع ہیں، ارشادِ باری  تعالی ہے: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا﴾([8]) “یقیناً صفا اور مَروہ  اللہ کی نشانیوں  میں سے ہیں، تو جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرے، اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :واقعۂ معراج اور دیدارِ الٰہی

عزیزانِ مَن! مکّہ مکرّمہ کی حُدودِ حرم امن وسکون کا گہوارہ ہے، جو اِس کے اندر داخل ہو جاتا ہے محفوظ ومامون رہتا ہے: ﴿وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا﴾([9]) “جو اس (حرم) میں آئے امان میں ہو”۔ “یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل وجِنایت  کرکے حرم میں داخل ہو، تو وہاں نہ اسے قتل کیا جائے، نہ اس پر حد قائم کی جائے”([10])۔

ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ﴾([11]) “کیا انہوں نے (یعنی اہلِ مکّہ نے) یہ دیکھا کہ ہم نے (مکّہ مکرمّہ کو) حرمت والی زمین پناہ بنائی، اور ان کے آس پاس والے لوگ اُچک لیے جاتے ہیں” یعنی قتل وگرفتار کر لیے جاتے ہیں۔

حضراتِ ذی وقار! مکّہ مکرّمہ کی تعظیم، تکریم اور اس کی  حرمت وفضیلت کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ اس کی حُدود (حرم) میں خون بہانا تو در کِنار، درخت تک کاٹنے کی اجازت نہیں، حضرت سیِّدنا ابوشُرَیح عدوی ﷛ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنْ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَماً، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَراً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا اليَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ!»([12]).

“یقیناً اللہ تعالی نے مکّہ کو حرم قرار دیا ہے، اور اسے لوگوں نے حرم قرار نہیں دیا، لہذا جو کوئی اللہ تعالی اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے مکّہ میں خون بہانا جائز نہیں، اور نہ ہی اس کے لیے مکّہ کے کسی درخت کو کاٹنا جائز ہے، اگر کوئی شخص مکّہ میں (فتح مکہ کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے قِتال کو اپنے لیے حُجّت بنائے، تو اس سے کہہ دو کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو مکّہ میں قتال کی اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی، اور مجھے (یعنی رسول اللہ کو) بھی دن کی صرف ایک ساعت (گھڑی) کے لیے اجازت دی تھی، اور آج اس شہر مکّہ کی حرمت کل کی طرح پھرسے لَوٹ آئی ہے، اور چاہیے کہ جو (یہاں) موجود ہے، وہ غائب (یعنی غیرموجود لوگوں)تک یہ حدیث پہنچا دے!”۔

حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس ﷟ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ، يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»([13]) “یقینا ً اللہ تعالی نے اس شہر (مکّہ مکرّمہ) کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ہی سے حُرمت والا بنا دیا تھا، لہذا حُرمتِ الٰہی کی وجہ سے یہ شہر قیامت تک حُرمت والا ہی رہے گا!”۔

جانِ برادر! رسولِ اکرم ﷺ کو مکّہ مکرّمہ سے بے پناہ محبت، اُنس اور لگاؤ تھا، حضرت سیِّدنا ابنِ عبّاس ﷟  فرماتے ہیں، کہ  سروَرِ کونین ﷺ نے ہجرتِ مدینہ کے وقت،   مکّہ مکرّمہ سے مخاطِب ہو کر فرمایا: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ! وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ، مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ!»([14]) “اے شہرِ مکہ! تُو کتنا پاکیزہ شہر اور مجھے کتنا محبوب ہے! اگر میری قوم مجھے یہاں سے جانے پر  مجبور نہ کرتی، تو میں تیرے سوا کہیں اَور سکونت اختیار نہ کرتا!”۔

رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! مسلمانوں کا قبلہ “بیت اللہ شریف” مکّہ مکرّمہ میں ہے، ساری دنیا کے مسلمان اس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں، اور حج وعمرہ کے موقع پر جی بھر کر اس کی زیارت اور خوب طواف کرتے ہیں، اللہ ربّ العزت کے اس پاکیزہ اور مقدّس گھر کا طواف بڑی برکتوں، رحمتوں اور بخشش ومغفرت کا ذریعہ ہے، حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عبّاس ﷟ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ طَافَ بِالبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةً، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»([15]) “جس نے پچاس50 بار خانۂ کعبہ کا طواف کیا، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اپنی ماں سے آج ہی پیدا ہوا ہو”۔

میرے محترم بھائیو! مکّہ مکرّمہ کی فضلیت کی ایک وجہ “حجرِ اَسود ” بھی ہے، یہ جنّت سے لایا گیا وہ مبارک پتھر ہے، جو بروزِ قیامت مسلمانوں کی شفاعت کرے گا، اور ان کے حق میں گواہی دے گا، حضرت سیِّدہ طیِّبہ طاہرہ عائشہ صدّیقہ ﷝ سے روایت ہے، نبئ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَشْهِدُوا هَذَا الْحَجَرَ خَيْراً؛ فَإِنَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ، يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ»([16]) “اس پتھر (حجرِ اَسود) کو خیر پر گواہ بنا لو؛ کیونکہ یہ قیامت کے روز شَفاعت کرنے والا ہے، اور اس کی شَفاعت قبول بھی ہوگی، اس کی ایک زبان اور دو2 ہونٹ ہیں، یہ ہر اس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا اِستِلام کیا ہوگا!”۔

مکّہ مکرّمہ کی فضیلتوں میں سے ایک یہ بھی ہے، کہ یہاں کی مسجدِ حرام میں ادا کی گئی ایک نماز کے بدلے میں، ایک لاکھ نمازوں کا ثواب دیا جاتا ہے، حضرت سیِّدنا انَس بن مالک ﷛ سے روایت ہے، نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «صَلَاةٌ فِي الْمسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِئَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ»([17]) “مسجدِ حرام میں ایک نماز (کا ثواب) ایک لاکھ نمازوں  کے برابر ہے”۔

عزیزانِ محترم! جہاں مکّہ مکرّمہ اور حرمِ مکّی  کی شان وعظمت سے متعلّق، قرآن وحدیث میں متعدد فضائل آئے ہیں، وہیں اس میں رہنے والے مقامی وغیرمقامی باشندوں کو، ڈرانے دھمکانے یا انہیں مَصائب واذیت میں مبتلا کرنے والوں کے لیے، دردناک عذاب کی وعیدیں بھی بیان ہوئی ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ ا۟لْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ١ؕ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ﴾([18]) “یقیناً وہ جنہوں نے کفر کیا، اور روکتے ہیں اللہ کی راہ اور ادب والی مسجد سے، جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرّر کیا، کہ اس میں ایک جیسا حق ہےوہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اُس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے!”۔

صدر الاَفاضل علّامہ سیِّد نعیم الدین مُرادآبادی ﷫ فرماتے ہیں کہ “امامِ اعظم ابوحنیفہ ﷫ کے نزدیک یہاں (اس آیتِ مبارکہ میں) مسجدِ حرام سے مکّہ مکرّمہ یعنی جمیع حرم مُراد ہے، اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے، کہ حرم شریف شہری اور پردیسی سب کے لیے یکساں ہے، اس میں رہنے اور ٹھہرنے کا  سب کو حق ہے، بجبر اس سے کوئی کسی کو نکالے نہیں”([19])۔


([1]) پ٣٠، البلد: ١، ٢.

([2]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 30، البلد، زیرِ آیت: 2،؃ 1068۔

([3]) “حدائق بخشش، حصہ اوّل ، ہے کلامِ الہی میں شمس وضُحی ترے چہرۂ نورِ فزا کی قسم،؃ 80۔

([4]) پ٤، آل عمران: ٩٦.

([5]) پ٤، آل عمران: ٩٧.

([6]) “تفسير الخازِن” پ٤، آل عمران، تحت الآية: ٩٧، ١/٢٧٢.

([7]) “تفسير المدارِك” پ٤، آل عمران، تحت الآية: ٩٧، ١/٢٧٥، ٢٧٦.

([8]) پ٢، البقَرة: ١٥٨.

([9]) پ٤، آل عمران: ٩٧.

([10]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 4، آلِ عمران، زیرِ آیت: 97،؃ 112۔

([11]) پ٢١، العنكبوت: ٦٧.

([12]) “صحيح البخاري” كتاب المغازي، ر: ٤٢٩٥، صـ٧٢٧.

([13]) “صحيح مسلم” كتاب الحجّ، باب تحريم …إلخ، ر: ٣٣٠٢، صـ٥٧٠.

([14]) “سنن الترمذي” [باب] في فضل مكّة، ر: ٣٩٢٦، صـ٨٨٣.

([15]) المرجع نفسه، باب ما جاء في فضل الطواف، ر: ٨٦٦، صـ٢١٤.

([16]) “المعجم الأوسط” باب الألف، من اسمه إسماعيل، ر: ٢٩٧١، 2/188.

([17]) “سنن ابن ماجه” باب ما جاء في الصلاة في …إلخ، ر: ١٤١٣، صـ2٣8.

([18]) پ١٧، الحج: ٢٥.

([19]) “تفسیر خزائن العرفان” پ 17،  الحج، زیرِ آیت: 25،؃ 601۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *