حجِ بیت اللہ

Home – Single Post

حجِ بیت اللہ

برادرانِ اسلام! ماہِ ذو الحجہ کی آمد آمد ہے، یہ بہت ہی مبارک اور مقدّس مہینہ ہے، اللہ تعالی نے اس مبارک ماہ میں بہت سی بھلائیاں جمع فرما دی ہیں، اس مہینہ میں کچھ ایسے مبارک ایام بھی ہیں، جنہیں اللہ تعالی نے دیگر ایام پر فضیلت دی ہے، وہ ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس10 دن ہیں، ان دنوں کو اللہ تعالی نے بڑی برکتوں سے نوازا ہے، جن میں ہم اعمالِ صالحہ  اورتقویٰ وپرہیزگاری اختیار کر کے قربِ الہی حاصل کر سکتے ہیں۔

اس ماہِ مبارک کے پہلے عشرہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكى عِنْدَ اللهِ b وَلَا أَعْظَمَ أَجْراً مِنْ خَيْرٍ يَعْمَلُه فِيْ عَشْرِ الْأَضْحٰى»([1]) “ذوالحجہ کے ابتدائی عشرے میں جو نیک عمل کیا جائے، اللہ تعالی کے ہاں اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور اجر وثواب والا کوئی عمل نہیں”، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان مبارک اوقات کو غنیمت جانے، اور ان میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال انجام دے، اللہ تعالی کی فرمانبرداری، اس کے ذکر، روزوں اور صدَقات وخیرات کی کثرت کرے۔

The Virtues of the First Ten Days of Dhul-Hijjah

یہ بھی ضرور پڑھیں : فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ

عزیزانِ محترم! اللہ تعالی کا زمین پر سب سے پہلا گھر کعبۂ معظمہ ہے، جس کی حاضری کا شرف حاصل کرنے والے ان دنوں (پہلے عشرہ ذی الحجہ میں)  فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَۚ۰۰۹۶ فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ١ۚ۬ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا١ؕ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ﴾([2]) “یقیناً سب میں  پہلا  گھر  جو  لوگوں  کی عبادت کو مقرّر ہوا، وہ  ہے جو  مکّہ میں  ہے  برکت  والا، اور سارے جہان کا رَہنما، اس  میں کھلی نشانیاں  ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ، اور جو شخص اس میں آئے امان میں ہو، اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر  کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک چل سکے، اور جو انکار کرے تو  اللہ سارے جہان سے بےپرواہ ہے”۔

حضراتِ گرامى قدر! خالقِ کائنات ﷻ کے عطا کردہ مبارک اَیام میں سے آٹھ ٨ سے بارہ١٢ ذی الحج  تک کے ایام بھی ہیں، انہیں “ایامِ حج” کہاجاتا ہے۔ انہی  دنوں میں اسلام  کا  ایک  اہم ترین رُکن “حجِ بيت الله” ادا كيا جاتا ہے، جو اس مبارک سفر کا اصل مقصد ہے۔ ان ايام میں ربِ کائنات ﷻ نے ہمارے لیے بھلائی کے مواقع مہیا فرمائے ہیں، کہ ہم ان مبارک لمحات میں زیادہ سے زیادہ آخرت کا سامان کر سکتے ہیں، لہذا ہم میں سے ہر ایک کو فريضۂ حج کى ادائیگی کےلیے ہر وقت تیار ومستعد رہنا چاہیے۔

تعمیرِ کعبہ معظمہ کے بعد حضرت سیِّدنا ابراہیم D سے باری تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ۰۰۲۷ لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِيْرَٞ۰۰۲۸ ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ﴾([3]) “(اے ابراہیم) لوگوں میں حج کی عام ندا کر دو! وہ تمہارے پاس پیادہ بھی حاضر ہوں گے، اور ہر دُبلی اُونٹنی پر بھی، دُور دراز کی تمام راہوں سےآ ئیں گے؛ تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں اور مقرّرہ دنوں میں اللہ کا نام لیں، اس پر کہ الله تعالى نے اُنہیں روزی دی بےزبان چوپايوں كى صورت میں،تو اِن میں سے تم خود بھی کھاؤ، اور مصیبت زدہ محتاجوں کو بھی  کھلاؤ! پھر (حاجی) اپنا میل کچیل دُور کریں، اور اپنی منّتیں پوری کریں، اور اس آزاد گھر (خانۂ كعبہ) کا طواف کریں”۔

مفسرینِ کرام فرماتے ہیں: “چنانچہ حضرت سیِّدنا ابراہیم D نے جبلِ ابو قُبَیس پر کھڑے ہو کر، چاروں طرف آواز دی کہ “اےاللہ کے بندو اللہ کے گھر کی طرف آؤ!” قیامت تک پیدا ہونے والوں نے یہ آواز سُنی، جس نے جتنی بار لبَّيك کہا وہ اُتنی بار حج ادا کرے گا، اور جو رُوح خاموش رہی وہ حج نہ کرسکے گی۔ اس آیتِ مباركہ میں نبئ کریم ﷺ کو بھی حکم ہے کہ آپ لوگوں میں حج کی فرضیّت کا اعلان فرما دیجیے”([4])۔

قربانی کے فضائل ومسائل

یہ بھی ضرور پڑھیں : قربانی کے فضائل ومسائل

عزيز انِ مَن! حج دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، آقائے نامدار، سروَرِ  کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: «بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: (١) شَهَادَة أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ، (٢) وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، (3) وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، (4) وَالحَجِّ، (5) وَصَوْمِ رَمَضَانَ»([5]) “اسلام کی بنیاد پانچ 5 سُتونوں (Pillars)  پر رکھی  گئی: (١) اس بات  کی  گواہی دینا  کہ  اللہ  کے  سوا  کوئی  عبادت  کے  لائق  نہیں، اور جنابِ محمد ﷺ اس  کے رسول  ہیں، (٢) نماز قائم  کرنا، (٣) زکاۃ دینا، (4) حج  کرنا (٥) اور رمضان کے روزے رکھنا”۔

میرے محترم بھائیو! حجِ مبرور سے مراد  وہ  حج  ہے، جس میں اللہ  رب العزّت کی  نافرمانی  نہ  کی  گئی  ہو، اور حج کے بعد حاجی نیک اعمال زیادہ سے زیادہ بجا لائے اور حتَی  المقدور گناہوں سے  بچتا رہے۔ حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیبّہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے حضورِ اکرم ﷺ سے دریافت كیا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ سمجھتی  ہیں کہ جہاد سب  سے  افضل عمل  ہے، تو  کیا ہم جہاد نہ کریں؟  مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَکِنْ أَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ»([6]) “(تم خواتين کے لیے) افضل  ترین جہاد حجِ مبرور ہے”۔

حضراتِ گرامى قدر! جو مسلمان حج كی ادائیگی صرف اللہ B کی رضا وخوشنودی کے لیے  کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے سارے گناہ مُعاف فرما کر، اُسے گناہوں سے بالکل پاك وصاف فرما دیتا ہے، حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے, مصطفى جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»([7]) “جس نے اللہ تعالى کی خاطر حج کیا، اور اس ميں كوئى فحش وگناہ كا كام نہیں کیا، وہ گناہوں سے اَيسا پاک ہو کر لَوٹے گا جيسے آج ہى پیدا ہوا ہو”، محدثینِ کرام فرماتے ہیں كہ “حجِ مبرور کا حصول اس طرح ہوتا  ہے، کہ دَورانِ حج حاجی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے، نہ کسی کو گالی دے، نہ کسی گناہ کا اِرتکاب کرے”([8])۔

حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ خَرَجَ حَاجّاً فَمَاتَ، كَتَبَ اللهُ لَهُ أَجْرَ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»([9]) “جو حج کے ارادے سے نکلا اور راستے میں مر گیا، تو الله تعالى قیامت  تک  اس  کے  لیے  حج  کا  ثواب  لکھ دیتا ہے”۔

برادرانِ ملّتِ اسلامیہ! “حج اِحرام باندھ کر نویں9 ذی الحجہ  کو عرَفات  میں  ٹھہرنے، اور  کعبۂ معظمہ  کے طواف  کا نام ہے، اس  کے لیے ایک خاص وقت مقرّر ہے کہ اس میں یہ افعال کیے  جائیں تو  حج ہے۔ حج  نو۹  ہجری میں  فرض ہوا، مگر عمر  بھر میں صرف  ایک بار فرض ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے۔ دکھاوے کے لیے حج کرنا، اور مالِ  حرام سے حج کو جانا حرام ہے۔ حج  کو جانے کے لیے جس سے اجازت لینا واجب ہے، بغیر اس کی اجازت  کے جانا مکروہ ہے، مثلاً ماں باپ اگر اس کی خدمت کے محتاج ہوں، اگر ماں  باپ نہ ہوں تو دادا، دادی کا بھی یہی حکم ہے، یہ حجِ فرض کا حکم ہے، اور نفل ہو تو مطلقاً والدین  کی اِطاعت  لازم ہے”([10])۔

مکّہ مکرّمہ کی فضیلت

یہ بھی ضرور پڑھیں : مکّہ مکرّمہ کی فضیلت

حضراتِ گرامی قدر! حج واجب ہونے کی آٹھ٨ شرائط ہیں، جنہیں صدر الشریعہ بدر الطریقہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ  کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ

(۱) “اسلام: یعنی مسلمان ہونا، اگر اسلام لانے  سے پیشتر صاحبِ استطاعت  تھا، پھر  فقیر ہوگیا اور اسلام لایا، تو زمانۂ کفر  کی استطاعت  کی بناء پر، اسلام لانے کے  بعد حج فرض نہ ہوگا۔ اور  مسلمان کو استطاعت تھی اور حج نہ کیا تھا، اب فقیر  ہوگیا تو اس پر اب بھی فرض ہے۔

(٢) دار الحرب  میں  ہو تو یہ بھی ضروری ہے، کہ یہ بات جانتا ہو کہ  اسلام کے فرائض میں سے حج بھی ہے، لہٰذا جس وقت استطاعت تھی اس وقت یہ مسئلہ معلوم نہ تھا، اور جب معلوم ہوا اُس وقت استطاعت نہ تھی، تو حج فرض نہ ہوا۔

(٣) عاقل ہونا، مجنون (پاگل) پر حج فرض نہیں۔

(٤) بالغ ہونا؛ کیونکہ نابالغ اَحکامِ شرعیّہ کا مکلَّف نہیں ہوتا، لہٰذا بالغ  ہونے تک اس پر حج فرض نہیں، اور بالغ ہونے سے قبل حج کر لے، تو بالغ ہونے کے بعد صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں، اسے دوبارہ فرض حج  کرنا ہوگا۔

(٥) آزاد ہونا: باندی، غلام پر حج فرض نہیں، یعنی حج فرض ہونے  کے لیے یہ بھی ضروری ہے، کہ حج کرنے والا آزاد ہو، غلام نہ ہو۔ اگر حالتِ  غلامی  میں  حج کیا تو حج  نفل  ہوا، لہٰذا آزادی حاصل ہونے کے  بعد مستطیع (قادِر) ہونے  کی  صورت  میں  فرض حج دوبارہ کرنا ہوگا۔

(٦) تندرست ہو کہ حج کو جا سکے، اس کے اعضاء سلامت ہوں۔ انکھیارا  ہو یعنی دیکھ سکتا ہو۔ اَپاہج اور  فالج والے، اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکے، حج فرض نہیں۔

(٧) صاحبِ  استطاعت  ہونا: یعنی سفر خرچ کا مالک  ہو، اور سواری پر  قادِر ہو، خواہ سواری اس کی مِلک ہو، یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے۔

(٨) وقت: یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرائط  پائے جائیں۔ اور اگر  دُور کا رہنے والاہے، تو جس وقت وہاں کے لوگ جاتے ہوں، اُس وقت شرائط پائی جائیں،  اور اگر شرائط ایسے وقت میں پائے گئے کہ اب نہیں پہنچے گا، تو حج  فرض  نہ  ہوا”([11])۔

حضراتِ ذی وقار! حج کی نیّت سے رختِ سفر باندھنے والے کو چاہیے کہ (۱) اپنے اس مبارک سفر سے فقط رِضائے الٰہی کا قصد اور تقرُب کی نیّت کرے؛ کیونکہ ہر عملِ صالح میں اِخلاص قبولیت کی اہم شرط ہے؛ اس لیے دنیاوی شہرت ا ور واہ واہ کی خواہش کو ہرگز اپنے دل کے کسی کونے میں بھی جگہ نہ دے، ورنہ ساری محنت، مشقّت  رائیگاں  و بے کار جائے گی!۔

(۲) تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے سچی توبہ کرے، اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا عہد کرے۔

(۳) جن لوگوں کا قرض دینا ہو، یا امانت پاس ہو، ادا کر دے۔

(۴) جن کے مال  ناحق لیے  ہوں ، واپس کرے یا مُعاف کروا لے۔

(۵) ضرورت سے زائد توشہ لے کر اپنے ہم سفر اَحباب کی مدد، اور فقراء کو بطورِ صدقہ دیتا رہے؛ کہ یہ  حجِ مبرور کی علامت ہے۔

(۶) مَصارفِ سفرِ حج کے لیے اپنی حلال کمائی استعمال کرے؛ کیونکہ مالِ حرام کا لُقمہ یا لباس وغیرہ، دعاؤں اور عبادات کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوَٹ ہیں۔

(٧) قرآن و سنّت کی رَوشنی میں حج سے متعلق ضروری اَحکامِ شرعیہ سے آگاہی حاصل کرے، اور انہیں خوب ذہن نشین کر لے۔

(٨) حج کے لیے گھر سے نکلتے ہوئے یہ تصوُر کرے کہ جیسے دنیا سے جا  رہا ہے۔

(٩) واپسی تک اپنی، اہل و عِیال اور مال کی حفاظت کے لیے دعا کرے۔

(١٠) حالتِ اِحرام میں فُضول گفتگو سے پرہیز کرے، اور اپنی زبان کی خصوصی طَور پر حفاظت کرے، کسی کی دل آزاری ہرگز نہ کرے، کسی کی طرف سے ناحق تکلیف پہنچنے پر، لڑنے جھگڑنے کے بجائے عفو ودرگزر سے کام لے۔

(١١) نماز ہرگز ترک نہ کرے، کہ  ہمیشہ بہت بڑا گناہ ہے، اور اس حالت میں مزید سخت تر، اور خدا A کی ناراضگی مول لینے  کاباعث ہے۔ بہت سے حُجاجِ کرام چھوٹی چھوٹی تکلیف پر نماز ترک کر دیتے ہیں، جو انتہائی ناپسند اور اشد حرام ہے([12])۔

عزیزانِ مَن! لَغویات میں پڑنے کے بجائے ذکرِ الہی کے ساتھ اپنا دل بہلائیں؛ کہ فرشتہ ساتھ رہے گا، بالخصوص دَورانِ حج موبائل فون (Mobile Phone)  کا استعمال شدید ضرورت کے بغیر ہرگز نہ کریں۔ خشوع و خضوع كے ساتھ ذکر واَذکار کے بجائے، جگہ جگہ سیلفی (Selfie) بنا کر سوشل میڈیا (Social Media) پر اَپلوڈ (Upload) کرنے میں اپنا وقت ہرگز ضائع  نہ کریں! کیا آپ نے لاکھوں روپے اور رو  رو کر اِس پاک دَر کی حاضری کے لیے دعائیں، فقط اس فوٹو بازى (Photography) کے لیے کی تھیں؟ یقیناً نہیں! کیا معلوم زندگی میں دوبارہ یہ سعادت نصیب ہو يا نہ ہو، لہذا ان مقدّس ساعتوں کو غنیمت جانیے، اور اپنے رب تعالى کو اس طرح راضی کرنے  کی کوشش کیجیے کہ کبھی  ناراض  نہ  ہو!۔

برادرانِ اسلام! ایامِ حج کی یہ مقدّس ساعتیں اس قدر بابرکت ہیں کہ اس پروَردگار رحمٰن ورحیم کا دریائے رحمت خُوب جوش میں ہوتا ہے، اور خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے اس کے گنہگار بندوں کو جہنم سے آزادی کے پروانے تقسیم  کیے جاتے  ہیں۔ امّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ  فِيْهِ عَبْداً مِنَ النَّار، مِنْ يَوْمِ عَرَفَة، وَإِنَّهُ لَيَدْنُوْ ثُمَّ يُبَاهِيْ بِهِمُ المَلَائِكَةَ، فَيَقُوْلُ: مَا أَرَادَ هؤُلاَءِ؟»([13]) “یومِ عرَفہ سے زیادہ کوئی دن ايسا نہیں، جس ميں اللہ تعالی بندوں کو جہنم سے رہائی دے، اللہ تعالی اپنی رحمت کے ساتھ ان بندوں کے قریب ہو جاتا ہے، پھر فخر کے طَور پر فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟!”۔

حضرت سیِّدنا عبّاس بن مِرداس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کی شام اپنی اُمّت کے لیے دعا كی، تو جواب دیا گیا: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الظَّالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» “میں نے ظالم کے سوا سب کی مغفرت فرمادی؛ کیونکہ میں مظلوم کا حق لینے کے لیے ظالم کی پکڑ ضرور فرماؤں گا!” نبئ کریم ﷺ نے عرض کیا: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» “یا رب! اگر تُو چاہے تو مظلوم کو جنّت عطا فرما دے، اور ظالم کو بخش دے!”۔ اُس  دن  یہ  دعا  قبول  نہ  ہوئی، پھر مزدلفہ  میں  صبح کے وقت حضور ﷺ نے اِسی دعا کا اِعادہ کیا، اُس وقت یہ دعا قبول ہوئی، اس پر رسول  اللہ  ﷺ  نے  تبسم  فرمایا، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق اور  حضرت سیِّدنا عمر رضی اللہُ عنہ نے عرض کی، کہ ہمارے ماں باپ حضور پر قربان! اس وقت تبسم فرمانے کا کیا سبب ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ، لَـمَّا عَلِمَ أَنَّ اللهَ b قَدْ اسْتَجَابَ دُعَائِي، وَغَفَرَ لِأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ»([14]) “دشمنِ خدا ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول فرما لی ہے،اور میری اُمت کی مغفرت کر دی ہے، تو اپنے سر پر خاک ڈال كر واویلا کرنے لگا، اس کی یہ گھبراہٹ دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی”۔

عزیزانِ گرامی قدر! حج کے کل پانچ5 ایام ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

 پہلا دن آٹھ۸ ذو الحجہ ہے جسے “یوم الترویہ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن سے مناسکِ حج کی ادائیگی شروع ہوتی ہے، اس لیے جس نے اِحرام نہ باندھا ہو وه باندھ لے۔ “نہا دھو کر مسجدِ حرام میں آئے، اور طواف کرے، اور اس کے بعد طواف کی نماز  بدستور ادا کرے، پھر دو2 رکعت سنّتِ احرام کی نیّت سے پڑھے، اس کے بعد حج کی نیّت کرے اور لبیک کہے۔ جب آفتاب نکل آئے تو منیٰ کی طرف چلے، اور اگر آفتاب نکلنے سے پہلے ہی چلا گیا تب بھی جائز ہے، اور زوال کے بعد بھی جا سکتا ہے، مگر ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھے”([15])۔

حج کا دوسرا دن نو9 ذی الحجہ ہے جسے “یومِ عرفہ” بھی کہتے ہیں۔ نو9 ذی الحجہ کو منیٰ میں نمازِ فجر ادا کرکے میدان ِعرَفات پہنچنا ہے۔ بعد اَزاں خطبہ سن  کر نمازِ ظہر وعصر ملا کر پڑھنا ہے، اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہونا ہے، مزدلفہ پہنچ کر نمازِ مغرب اور عشاء کو بھی  ملا کر ادا کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص آفتاب ڈُوبنے سے پہلے، اِزدِہام کے خوف سے حدودِ عرفات سے باہر نکل گیا، تو اس پر دَم واجب ہے، اور اگر غروبِ آفتاب سے قبل پھر واپس لَوٹ آیا، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا تو دَم مُعاف ہوگیا، اور سورج ڈُوبنے کے بعد واپس آیا، تو دَم ساقط نہ ہوا([16])۔ وُقوفِ عرفہ حج کا رُکنِ اعظم ہے کہ اس کے بغیر حج ادا نہ ہوگا۔

حج کے تیسرے دن یعنی دس10 ذى الحجہ کو “یوم النحر یا بقر عید” کہتے ہیں۔ وُقوفِ مزدلفہ سے فارغ ہو کر طُلوعِ آفتاب کے وقت منیٰ کی طرف چلیں، اور چلنے سے قبل رَمی کے لیے سات7 کنکریاں یہیں سے لے کر تین3 مرتبہ اچھی طرح دھو لی جائیں۔ منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جَمرۃ العُقبی جائیں، اور رَمی کریں (یعنی کنکریاں ماریں) رَمی  سے  فارغ  ہونے کے بعد قربانی میں مشغول ہوں۔ واضح رہے کہ یہ قربانی وہ نہیں جو بقر عید میں ہوا کرتی ہے؛ کہ وہ تو مسافر پر اَصلاً نہیں ہے، اور مقیم مالدار پر واجب ہے، اگرچہ حج کی ادائیگی کے لیے منی میں ہو، بلکہ یہ قربانی حج کا شُکرانہ ہے۔ حج کی قربانی قارِن اور متمتع پر واجب ہے اگرچہ فقیر ہو، اور مُفرِد کے لیے مستحب ہے، اگرچہ غنی ہو۔ قربانی کے بعد مرد حَلْق کریں کہ افضل ہے، یا بال کتروائیں کہ رُخصت ہے۔ عورتوں  کو  بال  منڈوانا حرام ہے، وہ  فقط  ایک  پَورہ کے برابر بال کتروا لیں۔ اس کے بعد افضل یہ ہے کہ دَس 10 ذی الحجہ ہی کو  بیت اللہ جا کر طوافِ زیارت کیا جائے، یہ طواف حج کا دوسرا رُکن  ہے، اِس کے سات7  پھیرے  کیے  جائیں  گے، جن میں چار پھیرے فرض ہیں کہ بغیر اِن کے طواف ہوگا، نہ حج([17])۔

میرےمحترم بھائیو! “دَسویں، گیارہویں اور بارہویں ذی  الحجہ  کی  راتیں منیٰ ہی میں بسر کرنا سنّت ہے، نہ مزدلفہ میں، نہ مکہ میں، اور نہ راہ میں، لہٰذا جو شخص دس10 یا  گیارہ11 کو طواف  کے  لیے  گیا، واپس آکر رات مِنیٰ میں ہی  گزارے۔ گیارہ11 اور بارہ12 ذى الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جَمروں کی رَمی کرے([18])۔

(حج کے) پانچویں دن، یعنی بارہ12 ذى الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جَمرات کی رَمی پر حج مکمل ہو جائے گا، البتہ مکہ سے روانگی کے وقت طوافِ وَداع واجب ہے”([19])۔

میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! عموماً دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ بلاعذرِ شرعی، اور بعض باَمرِ مجبوری زوال سے قبل ہی رَمی کرکے واپسی کے لیے چل پڑتے ہیں، ایسا  کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اِس کے متعلق امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا رحمہُ اللہ علیہ ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ “بارہویں تاریخ  قبلِ زوال (رَمی کرکے) چل دینے کی ضرور اَب وہاں عادت نکالی ہے، اور یہ ہمارے مذہب اور ظاہر الروایہ میں گناہ ہے …اندیشۂ صحیح ہو تو یہ صورت مجبوری کی ہے،  ضعیف روایت پر  عمل کرکے قبل زوال رَمی کر سکتا ہے”([20])۔

اے اللہ! ہمیں بھی بار بار حج کی بااَدب سعادت نصیب فرما، شریعتِ مطہَّرہ کے اَحکام پر  عمل کی  توفیق مرحمت فرما، اِن مقدّس ایامِ حج کے صدقے ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو مُعاف فرما، ہم سب کے کاروبار، مال، جان اور عزّت وآبرُو کی حفاظت فرما، اور اپنے ظاہری و باطنی خزانوں  سے ڈھیروں  برکتوں کا نزول فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔


([1]) “سنن الدارمي” كتاب الصَوم، باب في فضل العمل في العَشر، ر: 1774، 2/41.

([2]) پ٤، آل عمران: ٩٦، ٩٧.

([3]) پ17، الحجّ: 27- 29.

([4]) “تفسیر نورالعرفان” پ 17، الحج، زیرِ آیت: 27، ؃ 534۔

([5]) “صحیح البخاري” کتاب الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم …إلخ، ر:8، صـ5.

([6]) المرجع نفسه، كتاب الحجّ، باب فضل الحج المبرور، ر: 1520، صـ247.

([7]) المرجع السابق، ر: 1521، صـ247.

([8]) “نزہۃ القاری” كتاب المناسك، 4/265 ۔

([9]) “مُسند أبي يَعلى” الأعرَج عن أبي هريرة، ر: 6350، 5/44، 45.

([10]) “بہارشریعت” حج کا بیان،مسائلِ فقہیّہ، حصّہ 6، 1/1035، 1036، ملخصاً۔

([11]) ایضاً، حج واجب ہونے کے شرائط، حصّہ 6، 1/1036 – 1043،  ملتقطاً۔

([12]) ایضاً، آدابِ سفر ومقدّماتِ حج کا بیان، حصّہ 6، 1/1051-1067،  ملتقطاً۔

([13]) “صحيح مسلم” كتاب الحجّ، ر: 3٢٨8، صـ٥٦٨، ٥٦٩.

([14]) “سنن ابن ماجه” باب الدّعاء بعرَفة، ر: ٣٠١٣، صـ٥١٣، ٥١٤.

([15]) “بہارشریعت” حج کا بیان، منیٰ کی روانگی  اور عرَفہ کا وُقوف، حصّہ 6، 1/1119، 1120، ملتقطاً۔

([16]) ایضاً، ؃ 1120- 1130، ملتقطاً۔

([17]) ایضاً، ؃ 1138- 1144،  ملتقطاً۔

([18]) ایضاً، باقی دنوں کی رَمی، حصّہ 6، 1/1146،  ملتقطاً ۔

([19]) ایضاً۔

([20]) “فتاوی رضویہ” کتاب الحج، نویں ذى الحجہ کو آفتاب نکلنے کے بعد منی …الخ، 8/506، ملتقطاً۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *