
Table of contents
فُضولیات کی طرف جھکاؤ
برادرانِ اسلام! یہ بات روزِ رَوشن کی طرح عیاں ہے کہ فرد کا مُعاشرے سے اہم رشتہ ہوتا ہے، رسم ورَواج سماجی زندگی کی علامت، اور مُعاشرےکے اجتماعی پہلوؤں کا عکّاس ہوتے ہیں، جس کا مُعاشرے پر اچھا یا بُرا اثر بھی پڑتا ہے، ہر فرد کی انفرادی واجتماعی زندگی میں رسم ورَواج کی بڑی اہمیت ہے، کوئی زمانہ رسم ورَواج کے اثرات سے خالی نہیں رہا، فُضول رُسوم فرد ومُعاشرے کے چہرےپر بدنما داغ ورُسوائی، غریبوں کا مذاق اور ان کے لیے اِیذاء رَسانی،ان کی حق تلفی، ملک وقوم کے مالی اَثاثوں کے ضِیاع، اور محنت ومزدوری سے کمائے ہوئے مال کے خَسارے کا سبب ہیں۔ اسی طرح شادی بیاہ میں رائج آتش بازی بھی یقیناً حرام اور جُرم ہے؛ کہ اس میں اپنا قیمتی وقت ومال ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تکلیف پہنچانا بھی ہے، قرآن مجید میں ایسے افراد کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۰۰۲۶ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ١ؕ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا﴾([1]) “کبھی بھی فُضول خرچی نہ کیا کرو، یقیناً فضول خرچ شیاطين کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے”۔
غیر مسلموں اور بعض مسلمان اہلِ ثروَت کی قائم کردہ، فُضول وبےکار رسم ورَواج پر آنکھیں بند کرکے دَوڑنے والے، طرح طرح کی اَذیتوں میں مبتلا ہو کر اپنی عزّت وآبرُو تک داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں، اکثر گھرانوں میں ان فُضول رُسوم کا بار اٹھانے کی سکت وطاقت نہیں ہوتی، لہذا ان کے یہاں لڑکے اور لڑکیاں عمر ڈھل جانے کے باوُجود، رشتۂ اِزدِواج سے منسلک نہیں ہو پاتے، اگر ہم ان فُضولیات کوترک کر کے دینِ اسلام کی سچی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں، تو ان کمزور حال بھائی بہنوں کی شادیاں بھی، بھاری قرض کے بوجھ تلے دبے بغیر، مناسب وقت پر ہو سکتی ہیں، لہذا ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے، ان تمام فضولیات کو ترک کریں۔
ہم میں سے ہرایک کو چاہیے کہ دنیا داری کے مُعاملات میں ہمیشہ اپنے سے کم تَر اور کمزور افراد کی طرف دیکھ کر، اپنے پاس موجود نعمتوں پر اللہ کریم کا شکر ادا کرے؛ کہ اُن کے پاس یہ نعمت نہیں ہے جو مجھے عطا ہوئی، اور دینی مُعاملات میں اپنے سے اعلی کو دیکھے کہ فُلاں شخص تو فرائض کے علاوہ سنن ونوافل کا بھی پابند ہے، تو میں ان نیک اعمال میں پیچھے کیوں رہوں! مجھے بھی اعمالِ صالحہ کی کثرت کرنی ہے! لیکن ہمارا مُعاملہ اس کے برعکس ہے، ہم صرف دنیاوی مُعاملات کو دیکھتے ہیں، نت نئے فیشن (Fashion) اپنانے، عمدہ مکانات بنانے، فقط حُصولِ دنیا کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اپنے رب A کی ناشُکری، پریشانی وغم میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی پورا مُعاشرہ ان فضولیات میں گرفتار ہوتا چلا جاتا ہے، لہذا ہمیں خود بھی اس بلا سے بچنا ہے، اور دیگر احباب کو بھی بچانا ہے!!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : شادی بیاہ کو آسان بناؤ
مال ضائع کرنا
رفيقانِ گرامى قدر! حضرت سيِّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: «إِنَّ اللهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثاً: (1) قِيلَ وَقَالَ، (2) وَإِضَاعَةَ المَالِ، (3) وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ»([2]) “یقیناً اللہ تعالی نے تمہارے ليے تین کاموں کو ناپسند فرمایا ہے: (۱) فُضول بات، (۲) مال ضائع کرنا، (۳) اوربہت زیادہ مانگنا اور سوال کرنا”۔
بےپردگى
عزيزانِ محترم! آج کل شادی بیاہ کی غیر شرعی رُسوم میں عورتوں کا بناؤ سنگھار کے ساتھ، بے پردہ ہوکر شریک ہونا بھی عام ہو چکا ہے، جبکہ اسلامی تعلیمات میں عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کے ساتھ پردے کے اَحکام بھی بتائے گئے ہیں، کہ آرائش وزیبائش کا بےجا شَوق کہیں تمہیں غلط راہ پر نہ ڈال دے!! کہیں تمہیں بےحیائی، بےشرمی اور آوارگی کى تاریكیوں میں نہ دھکیل دے!! کہیں تمہیں عزّت وناموس سے محروم نہ کر دے!! کہیں تمہاری دین داری اور دنیا وآخرت کو تباہ وبرباد نہ کر دے!! خواتین پردے کی بدَولت بدقماش وبدمُعاش لوگوں کی ہَوس سے اپنی عزّت، ناموس اور آبرُو کو محفوظ ومامون رکھ سکتی ہيں۔
پردے کا حکم
میرے محترم بھائیو! عورت کا اپنے چہرے اور ہاتھ وپاؤں کے علاوہ بقیہ جسم کا چھپانا، اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو مکمل پردہ بهى لازم وضروری ہے، خالقِ کائنات A کا ارشادِ پاک ہے: ﴿وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ١۪ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ﴾([3]) “مسلمان خواتین کو حکم دیجیے كہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں! اپنی پارسائی کی حفاظت کریں! اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں! مگر جو خود ہی ظاہر ہے اس ميں کچھ حرج نہیں! اور وہ چادریں اپنے گریبانوں (سینوں)پر ڈالے رہیں! اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں!”۔
برادرانِ اسلام! شوہر اور محرم رشتہ دار کے علاوہ دیگر افراد سے اس حکم قرآنی کے تحت مکمل پردہ لازم ہے، جبکہ آج ہمارے ہاں حقوقِ نسواں (Women’s Rights) کے نام پر اسلام کے مخالف، بے راہ رَوی کے شکار، مادَر پدر آزاد خیال خواتین وحضرات بے پردگی، فحاشی وعُریانیت کو فَروغ دینے کی بھرپور کوشش میں ناصرف مصروف ہیں، بلکہ بظاہر کسی حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ آج شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے تمام اُمور، اسلامی تعلیمات کی رَوشنی میں انجام دیں، اور تمام غیر شرعی رُسومات کو نا صرف ترک کریں، بلکہ ان کا مکمل بائیکاٹ (Boycott) بھی کریں، یاد رہے! کہ کوشش کرنا ہمارا کام ہے، جبکہ کامیابی عطا کرنا اللہ تعالی کے ذمّۂ کرم پر ہے، اور وہ کریم کسی کی کوشش کو ضائع نہیں فرماتا!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوقِ زوجین ووفاداری
غیر مَردوں پر اپنی زینت ومَحاسن کے اظہار کی ممانعت
حضراتِ محترم! مسلمان عورتوں کو اپنی زینت ومَحاسن غیر مَردوں پر ظاہر کرنے سے ممانعت فرمائی گئی ہے، ہمارا پروَردگار B ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ١ؕ وَتُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾([4]) “عورتیں اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں؛ کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہونے لگے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ تعالی سے مُعافی چاہو؛ تاکہ مراد پالو!”۔
مزید فرماتا ہے: ﴿وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى﴾([5]) “اپنے گھروں میں ٹھہری رہو! اور اگلی جاہلیت کی طرح بےپردہ نہ رہو!”۔ مفسرِ قرآن صدر الاَفاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ “اگلی جاہلیت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانہ میں عورتیں اِتراتی نکلتی تھیں، اپنی زینت ومَحاسن کا اظہار کرتیں، ایسے لباس پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ چھپ سکیں اور غیرمرد انہیں دیکھیں”([6])۔
اپنے اہل وعِیال کو بے حیائی سے روکنا ضروری ہے
برادرانِ ملّتِ اسلاميہ! مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمُ الْجَنّةَ: (١) مُدْمِنُ الْخَمْرِ، (٢) وَالْعَاقُّ، (٣) وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ»([7]) “تین قسم کے لوگوں پر اﷲ تعالی نے جنّت حرام فرمادی ہے: (١) شراب کا عادی، (2) ماں باپ کا نافرمان (3) اور دَیُّوث -یعنی ایسا بےحیا جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے-“۔
حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہُ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ “جو اپنی بیوی بچوں کے زِنا یا بے حیائی بے پردگی، اجنبی مَردوں سے میل جول، بازاروں میں زینت كے ساتھ پھرنے، بے حیائی کے ناچ گانے وغیرہ دیکھ کر، اپنی طاقت، قدرت واختیار کے باوُجود انہیں نہ روکے، وہ بے حیاء دَیّوث ہے”([8])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :حقوق العباد اور ہیومن رائٹس میں فرق
بدترین کھانا
حضراتِ ذی وقار! شادی بیاہ میں دیگر خُرافات کی طرح ولیمے کا کھانا بھی سنّت کے بجائے، محض ایک دعوت ورسم بن کر رہ گیا ہے، جس میں صرف رشتے داری اور دوستانہ تعلقات ہی کی بنیاد پر لوگوں کو بلایا جانے لگا ہے، جبکہ اس بارے میں حدیث پاک کس انداز سے تنبیہ ورَہنمائی فرماتی ہے ملاحظہ کیجیے! حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمايا کرتے: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الفُقَرَاءُ»([9]) “بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے!”۔
حضراتِ گرامی قدر! آج ہمیں اس حوالے سے بھی بہت توجہ اور غور وفکر کی ضرورت ہے، کہ اپنی تقریبات بالخصوص دعوتِ ولیمہ میں، اُمراء کے ساتھ ساتھ غریب ونادار پڑوسیوں، اور رشتہ داروں کو بھی ضرور بالضرور مدعو کریں، انہیں عزّت واحترام کے ساتھ اپنی محافل ومجالس کا حصہ بنائیں؛ کیونکہ ہمارا ان پر شفَقت ومہربانی کرنا ہمارے لیے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
دعوتوں میں اِسراف
میرے محترم بھائیو! دعوت میں کھانا کھانے والےتمام افراد پر ایک بہت ہی اہم ذمّہ داری عائد ہوتی ہے، کہ کسی بھی صورت اِسراف (کھانا ضائع) نہ ہونے دیں، خاص طَور پر جب بوفے (Buffets) سے کھانا لیا جاتا ہے، تو اکثر لوگ شاید کھانا ختم ہوجانے کے ڈر سے، یا دوبارہ نہ اٹھنے کے خیال سے، اپنی پلیٹ میں اپنے پیٹ وبھوک سے زیادہ کھانا نکال کر خود کو بہت سمجھدار خیال کرتے ہیں، اور پھر بھوک اور تقدیر سے زائد کھانا برتن میں بچا ہوا چھوڑ کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس متروک کھانےکو کھانا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا، یوں رزق کا یہ حصہ ضائع اور بےکار ہوجاتا ہے، جس سے میزبان کو نا صرف مالی طور پر نقصان ہوتا، بلکہ شاید اس کی شدید دل آزاری بھی ہوتی ہو، ساتھ ہی رزق کی بےحرمتی بھی ہوتی ہے، اور روٹی یعنی رزق کی عزّت وقدردانی تاجدارِ رسالت ﷺ نے اپنے عمل مبارک کے ذریعےبھی تعلیم فرمائی، چنانچہ حضرت سیِّدہ عائشہ صديقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبئ رحمتﷺ گھر تشریف لائے، روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، تو اس سے گَرد صاف کی اور کھا لیا، پھر فرمایا: «يَا عَائِشَةُ! أَكْرِمِي كَرِيماً؛ فَإِنَّهَا مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْم قَطُّ، فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ»([10]) “اے عائشہ! اچھی چیز کا احترام کرو؛ کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے رخصت ہوئی ہے، تو لَوٹ کر نہیں آئی”۔
موسیقی اور گانا بجانا
جانِ برادر! غیروں کی تہذیب، زِنا وبدکاری پھیلانے والی چیزوں میں بےپردگی، مَردوں عورتوں کے اختلاط ومیل جول، اور بلااجازت گھروں میں آنے جانے کے علاوہ، ایک چیز موسیقی اور گانا بجانا بھی ہے، یہ چیز بدکاری میں مبتلا کرنے کے لیے جادو کا کام کرتی ہے، سرکارِ دوعالمﷺ نے فرمایا: «لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ، يَسْتَحِلُّونَ …المَعَازِفَ!!»([11]) “میری اُمت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے، جو بینڈ باجوں کو حلال کر لیں گے!!”۔
جہیز کی رسم
عزیزانِ محترم! آج کل شادی بیاہ میں کیے جانے والے بےجا اِخراجات، اور جہیز کے مُطالبات نے اس پیاری سنّت کی ادائیگی کو مشکل ترین بنا کر رکھ دیا ہے، حالانکہ حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبئ رَحمت ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ أَعْظَمَ النّكَاحِ بَرَكَةً، أَيْسَرُهُ مُؤُونَةً»([12]) “وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس میں بوجھ کم ہو”۔ “یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچہ کم کروایا جائے، مہر بھی معمولی ہو، جہیز بھاری نہ ہو، کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے، کسی طرف سے سخت شرائط نہ ہوں، وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے، ایسی شادی خانہ آبادی ہے۔ آج ہم حرام رسموں اور بیہودہ رواجوں کے ذریعے شادی کو خانہ بربادی، بلکہ خانہا ئے بربادی بنالیتے ہیں، اﷲ تعالی اس حدیث پاک پر عمل کی توفیق دے”([13])۔
لہذا لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کی صورت میں اَنواع واَقسام کی اشیاء کا مُطالبہ کسی طرح جائز نہیں، بلکہ ضروری سامان اور اسباب کا انتظام لڑکے کے ذمّہ ہے، البتہ لڑکی والے بخوشی دلہن کو کچھ دیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، حضرت سيِّدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «جَهَّزَ رَسُولُ اللهِ g فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ»([14]) “رسول اللہ ﷺ نے خاتونِ جنّت حضرت سيِّده فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک ايسا تکیہ دیا، جس میں اِذخِر (نامی ایک خوشبودار سبز ) گھاس بھرى ہوئى تھى”۔
حضراتِ گرامی قدر! جس طرح لڑکے والوں کے لیے جہیز کا مطالبہ درست نہیں، اسی طرح لڑکی والوں کو بھی چاہیے کہ اپنی بچی کو جہیز دیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں، کہ کہیں برادری میں محض اپنی ناک اونچی رکھنے، اور لوگوں کو دکھانے کے لیے ہمارا حد سے زیادہ اور بے جا خرچ کرنا، مُعاشرے کے دیگر افراد بالخصوص غریبوں کے لیے دشواریوں کا باعث تو نہیں بن رہا؟! اور آج ایسا ہو ہی چکا ہے کہ غریب گھرانوں کی بچیاں، بڑے شادی ہال میں اَنواع واَقسام کے کھانوں اور کثیر سامان کا انتظام نہ ہونے کے باعث، اچھے رشتوں کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی دہلیز چھولیتی ہیں، نتیجۃً زِنا کاری اور دیگر خُرافات، مُعاشرے کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیم نا صرف حاصل کریں، بلکہ اپنی تمام زندگی، شادی بیاہ اور دیگر تقریبات ومُعاملات میں ان پر عمل کو بھی یقینی بنائیں۔
دعا
اے اللہ! مذکورہ تمام باتوں کو ہمارے لیے دنیا میں باعثِ خیر وبرکت، اور آخرت میں نَجات، اور بخشش ومغفرت کا ذریعہ بنا، ہمیں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں فُضوليات، بےپردگی، مال ضائع کرنے، موسیقی وگانے باجوں اور اِسراف سے بچا، آمین یا ربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([2]) “صحیح البخاري، کتاب الزکاة، ر: 1477، صـ240.
([6]) “تفسیر خزائن العرفان” پ٢٢، الاحزاب، زیرِ آیت: 33 ، 761۔
([7]) “مسند الإمام أحمد” مسند عبد الله بن عمر بن خطّاب، ر: 5372، 2/351.
([8]) “مرآة المناجيح” شراب اور اس کے پینےوالے کی وعید کا بیان، تحت ر: 3655، 5/391۔
([9]) “صحيح البخاري” كتاب النكاح، باب مَن ترك الدعوة …إلخ، ر: 5177، صـ925.
([10]) “سنن ابن ماجه” كتاب الأطعِمة، ر: 3353، صـ571، 572.
([11]) “صحيح البخاري” كتاب الأشرِبة، ر: 5590، صـ992.
([12]) “شعب الإيمان” باب في الاقتصاد …إلخ، ر: 6566، 5/2239.
([13]) “مرآة المناجيح” نکاح کا بیان، تیسری فصل، زير حدیث: 3097، 5/11۔
([14]) “سنن النَّسائي” باب جهاز الرجل ابنته، ر: 3381، الجزء6، صـ135.