
Table of contents
محترم بهائيو! رمضان کے روزوں، عبادات، تلاوتِ قرآن، تراویح، ترجمہ وتفسیر کی سماعت، لیلۃالقدر کی عبادت، گریہ وزاری، اور سچی تَوبہ کے بعد اللہ تعالى کی طرف سے اَہلِ ايمان کو بطورِ انعام عید الفطر کا دن عطا فرمایا گیا، یہ دن بھی ايك عظیم الشان نعمت ہے، ہمارے لیے اس میں خوشی ومسرّت کا اِظہارمشروع کیا گیا ہے؛ تا کہ دلی خوشی کے ساتھ ساتھ، نعمتِ الہی اور اس كے فضل وكرم پر اِظہارِ شکر بھی ہو جائے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :استقبالِ رمضان
عید الفطر کے دن کچھ کھا كرنماز كے لیے جانا
عزيز دوستو! نمازِ عید کو آنے سے پہلے طاق عدد میں چند کھجوریں کھا لینا سنّت ہے، ناشتہ بھی کیا جاسکتا ہے، کھجوریں نہ ہوں تو کوئی بهى میٹھی چیز کھا لینی چاہیے، حضرت سيِّدنا بُریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «کَانَ النَّبِيُ g لَا يَخرُج يَومَ الفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يُصَلّي»([1]) “عید الفطر کے دن جب تک حضور نبئ رَحمت ﷺ کچھ کھا نہ لیتے، عیدگاہ کو تشریف نہ لے جاتے، اور عید الاضحی کے دن اُس وقت تک کچھ نہ کھاتے جب تک نمازِ عید ادا نہ فرما لیتے”۔
عید کی چند سنتیں ومستحبات
عزیزانِ گرامی! عید کے دن حجامت بنوانا، ناخن ترشوانا، غسل کرنا، مسواک کرنا، اچھے کپڑے پہننا (نیا ہو تو نیا ورنہ دُھلا ہوا)، خوشبو لگانا، صبح فجر کی نماز اس دن بھی محلے کی مسجد میں پڑھنا، نمازِ عیدکے لیے جلد جانا، نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا۔
صدقۂ فطر، عید گاہ کے راستہ میں تکبیرات کہنا، اور نمازِ عید
ميرے بزرگو ودوستو! اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ۰۰۱۴ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى﴾([2]) “یقیناً مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا، اور اپنے رب تعالى کا نام لے کر نماز ادا کی”۔ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں ہے، کہ ستھرا ہونے سے مراد صدقۂ فطر ادا کرنا ہے، “اور رب تعالی کا نام لینے” سے مراد عیدگاہ کے راستہ میں تکبیرات کہنا ہے، اور “نماز” سے مراد نمازِ عید ہے([3])۔
صدقۂ فطر کا وجوب
حضراتِ گرامی قدر! متعدد احادیث سے صدقۂ فطر کا وجوب ثابت ہے۔ حضرت سيِّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «فَرَضَ رَسُولُ اللهِ g زَكَاةَ الفِطْرِ… عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ الـمُسْلِمِينَ»([4]) “رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، چاہے وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا”۔
ایک روایت میں ہے کہ سرکار دو عالَم ﷺ نے مکّہ شریف کی گلیوں میں مُنادی بھیج کر یہ اعلان کرایا: «أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ»([5]) “صدقۂ فطر ہر مسلمان مرد وعورت، آزاد وغلام، چھوٹے بڑے پر واجب ہے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : زکوٰۃ ایک بنیادی فریضہ ہے
صدقۂ فطر کے اَحکام
عزیزانِ محترم! الله تعالی نے ہمیں رمضان المبارک میں دیگر عبادات كے ساتھ ساتھ صدَقات وخیرات، مسکینوں کو کھانا کھلانے اور حسبِ استطاعت ضرورتمندوں کی مدد کرنے کی توفیق وسعادت عطا فرمائی، عید الفطر کے روز اللہ تعالی نے ہمیں صدقۂ فطر کے ذریعے محتاج وضرورت مندوں کے ساتھ تعاوُن اور اُن كى مدد کا مَوقع بھی فراہم کیا ہے، صدقۂ فطر كی ادائیگی ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے، “صدقۂ فطر کے وجوب کے لیے صاحبِ نصاب کے مال: سونے، چاندی، روپے، یا مال تجارت پر سال گزر جانا ضروری نہیں، بلکہ اگر عيد كے دن بھی كسى کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد سامان بقدرِ نصاب موجود ہو، تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے”([6]) كہ وہ اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی اسے ادا کرے([7])۔
صدقۂ فطر ہر اُس مسلمان کو دے سکتے ہیں جسے زکاۃ دے سکتے ہیں، اور اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «أَنَّ النَّبِيَّ g أَمَرَ بِزَكَاةِ الفِطْرِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ»([8]) “نبئ كريم ﷺ نے صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے”، اگر کسی نے نماز سے پہلے ادا نہ کيا تو نمازِ عيد کے فوراً بعد صدقۂ فطر ضرور ادا کرے؛ کہ حضرت سيِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَة، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ»([9]) “جس نے صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کیا، وہ مقبول زکاۃ صیام ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا، تو وہ دیگر صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے”۔
صدقۂ فطر کی مقدار تقريباً 2کلو گندم، یا اس کی قیمت ہے ، اور جن حضرات کو اللہ تعالی نے نعمتِ مال سے زیادہ نوازاہے، کہ اُن کے گھروں میں ایک وقت میں کئی کئی قیمتی، اور قسم قسم کے کھانے پکائے اور کھائے جاتے ہیں، قیمتی مکان، قیمتی لباس کی نعمتیں اُنہیں میسّر ہیں، اَیسے حضرات چار کلو کھجور، بادام، پستہ، کشمش، یا منقی وغیرہ قیمتی چیزوں کے حساب سے صدقۂ فطر ادا كریں، یہ اُن کے لیے زياده بہتر ہے؛ تاکہ محتاجوں، ضرورت مندوں کا زیادہ فائدہ ہو، اور وہ بهى اچھے انداز سے اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔ حضرت سيِّدنا ابو ہريره رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى، صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ،… صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ»([10]) “صدقۂ فطر ہر چھوٹے بڑے، اور آزاد وغلام مرد وعورت پر کھجور کا ایک صاع (تقريباً۴ کلو) اور گیہوں کا آدھا صاع (تقريباً2 کلو) ہے”۔
صدقۂ فطر کا مقصد
میرے بزرگو ودوستو! صدقۂ فطر ہم سے رمضان شریف میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کا کفّارہ بھی ہے۔ حضرت سيِّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «فَرَضَ رَسُولُ اللهِ g زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَيامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ»([11]) “رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر، بے کار باتوں اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے، اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرّر کیا”۔ صدقۂ فطر کے مَصارِف وہی ہیں جو زکاۃ کے ہیں، یعنی جن لوگوں کو زکاۃ دی جاسکتی ہے، ان ہی کو فطرہ بھی دے سکتے ہیں، اور جنہیں زکاۃ نہیں دے سکتے، انہیں فطرہ بھی نہیں دیا جاسکتا([12])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : برکاتِ اعتکاف
نمازِ عید کو جانے کے آداب
عزيزانِ گرامی قدر! نمازِ عید مسجد میں ہو یا عیدگاہ میں وہاں تک اطمینان ووقار سے پیدل جانا، سواری پر بھی جا سکتے ہیں، لیکن جوپیدل چلنے کی قدرت رکھتا ہو (معذور نہ ہو) تو اسے پیدل چلنا افضل ہے، ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ حضرت سیِّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «كَانَ رسول الله g إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ»([13]) “رسول اللہ ﷺ نمازِ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، دوسرے سے واپس آتے تھے”، ایک راستے سے جانے اور دوسرے سے واپسی میں بہت سی حکمتیں ہیں: (۱) حضور نبئ کریم ﷺ ایک راستے سے عیدگاہ کو جاتے اور دوسرے سے واپس آتے؛ تاکہ دونوں راستوں کو برکت حاصل ہو جائے، (۲) دونوں طرف کے لو گ آپ ﷺ سے بروزِ عید بھی فیض پائیں، (۳) ہر طرف کے منافقین و کفار مسلمانو ں کی کثرت کو دیکھ کر دبے رہیں، (۴) راستوں میں بھیڑ کم ہو، (۵) دونوں راستوں کے فُقرا پر خیرات ہو جائے، (۶) اہلِ قرابت کی قبور جو ان راستوں میں واقع ہیں انکی زیارت ہو جائے، (۷) اور دونوں راستے ہماری نماز و ایمان کے گواہ بھی بن جائیں([14])۔
محترم بھائیو! عید کا دن عظمت ورفعت کے ساتھ ساتھ الله تعالى كى طرف سے روزہ داروں کی مہمانی، اِنعام واِکرام اور گناہوں كى بخشش کا دن بهى ہے، اس دن روزہ رکھنا گناه ہے۔ عید کے دن خوشی کا اظہار اسلامی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہمیں عید کے دن زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ بجا لانے ہیں، ضرورتمندوں کا خیال کرنا ہے اور سب سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا ہے۔ عید کے دن دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے اَہل وعِیال کے ساتھ خوشی کا اِظہار کرنا ہے۔
حضرت سیِّدہ عائشہ صديقہ طيّبہ طاہره رضی اللہ عنہا نے فرمايا کہ میرے ہاں حضرت سیِّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت اَنصار کی بچیوں میں سے دو بچیاں میرے پاس وہ اَشعار گا رہی تھیں جو اَنصار نے کہے تھے، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ نے فرمايا: کیا رسول اللہ ﷺ کے گھر میں گیت گائے جا رہے ہیں؟ وہ عید کا دن تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلَّ قومٍ عِيداً وهذا عِيدُنَا»([15]) “اے ابوبکر! ہر قَوم کےلیے ايك عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے”۔
برادرانِ اسلام! عید کا دن خوشی ومسرت کا دن ہے، اس دن اعمالِ صالحہ کی کثرت کے ساتھ ساتھ، خوشی کے اِظہار کا بهى حکم دیا گیا ہے۔ حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدَس ﷺ جب مدینہ منوّره تشریف لائے، اُس زمانے میں اَہلِ مدینہ سال میں دو2 دن خوشی منايا كرتے تھے، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے فرمایا: «مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟» “یہ دو دن کیسے ہیں؟” لوگوں نے عرض کی کہ زمانۂ جاہلیت سے ہم اِن دنوں میں خوشی مناتے ہیں، فرمایا: «إِنَّ اللهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْراً مِنْهُمَا: يَوْمَ الأَضْحَى, وَيَوْمَ الْفِطْرِ»([16]) “اللہ تعالی نے ان کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمہیں عطا فرما دیے ہیں: يومِ اضحی اور يومِ فطر”۔
عید خوشی وفرحت کا دن ہے
عزیز دوستو! یومِ عید مسلمانوں کےلیے خوشی وفرحت کا دن ہے، اس دن خاص طور پر رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، دوستوں اور پڑوسیوں سے ملاقات کرنا مستحب عمل ہے؛ کیونکہ اس عمل سے آپس میں محبت وہمدردی پیدا ہوتی ہے، دلوں کی کدورتیں دُور ہوتی ہیں، اور باہم مُصافحہ کرنے کی برکت سے گناہ جَھڑ جاتے ہیں، اللہ كے حبيب ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَان إِلَّا غُفِرَ لَهُما قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا»([17]) “جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور مصافحہ کرتے ہیں، تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے پہلے ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے”۔
عید کا دن مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے، اس دن ہر جائز طریقہ سے خوشی کا اِظہار کرنا چاہيے، ایک دوسرےکو مبارکباد دینا اور آپس میں مصافَحہ ومعانَقہ بھی کرنا چاہیے۔ مصطفی جانِ رَحمت ﷺ نے مُعانقہ کے بارے میں فرمایا: «تَحِيَّةُ الْأُمَمِ وُدُّهُمْ وَصَالِحٌ وَدَّعَ وَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ عَانَقَ خَلِيلُ اللهِ إِبْرَاهِيمُ»([18]) “مختلف اَقوام کا سلام اُن کا آپس ميں اظہارِ محبت ہے، یقیناً سب سے پہلے مُعانقہ کرنے والے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں”، لہذا عید کے دن جائز طَور پر اظہارِ خوشی، مُصافحہ ومُعانقہ، رشتہ دار، عزیز واقارب اور دوست و اَحباب کى دعوت وغیرہ بهى بہترين اظہارِ مسرت ہے۔
عید الفطر کا دن ہر مسلمان کے ليے خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے لیکن مَردوں اور بے پردہ عورتوں کی مخلوط چہل پہل، گہما گہمی، عید کا سارا دن موبائل اور ٹی وی پر فلمیں، ڈرامے اور اس کے علاوہ دیگر فضول اور فحش وبیہودہ مناظر دیکھ کر، گانے باجے سن کر اور دیگر غیر شرعی تفریحات میں مشغول ہو کر عید کی حقیقی خوشی ہرگز حاصل نہیں کی جا سکتی۔
نمازِعید کا طریقہ
رفيقانِ ملّتِ اسلاميہ! نمازِ عید کی ادائیگى واجب ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے كہ دو رکعت نماز عید الفطر واجب کی نیّت کرکے دونوں ہاتھ کانوں تک اُٹھائیں، اور “اللہ ُ اکبر” کہہ کر ناف کے نیچے ہاتھ باند ھ لیں، پھر سب آہستہ آواز سے ثناء پڑھیں، پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر تکبیر، یعنی “اللہ اکبر” کہہ کر ہاتھ چھوڑ دیں، پھر اسی طرح دوسری بار بھی کانوں تک ہاتھ اُٹھائیں، “اللہ اکبر” کہہ کر ہاتھ چھوڑ دیں، تیسری بار پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھا ئیں اور “اللہ اکبر” کہہ کر ہاتھ باندھ لیں (یہاں ایک قاعدہ یا د رکھ لیجیے کہ جہاں تکبیر یعنی اللہ اکبر کے بعد کچھ پڑھناہے وہاں ہاتھ باندھنے ہیں، اور جہاں کچھ نہیں پڑھنا وہاں ہاتھ چھوڑ دینے ہیں) اب امام صاحب آہستہ سے تعوّذ وتسمیہ یعنی “اعوذ باللہ” اور “بسم اللہ” پڑھ کر بلند آواز سے “سُورۂ فاتحہ” اور کوئی سورت پڑھیں گے، آپ مقتدی حضرات اس دَوران خامو ش رہیں گے؛ کیونکہ مقتدی پر خاموشی واجب ہے، قرأت مکمل کرنے کے بعد رکوع وسجود کریں گے، اور دوسری رکعت کےلیے کھڑے ہوجائیں گے۔
دوسری رکعت میں پہلے قرأت ہوگی، یعنی “سورۂ فاتحہ” وسُورت پڑھی جائے گی، پھر رکوع میں جانے سے پہلے تین تکبیریں ہوں گی جیسےپہلی رکعت میں تھیں، یعنی پہلی، دوسری اورتیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اُٹھاکر چھوڑ دیں گے، اور چوتھی تکبیر میں بغیر ہاتھ اُٹھائے صرف “اللہ اکبر” کہتے ہوئے رکوع میں چلے جائیں گے، اور نماز پوری کرکے سلام پھیر دیں گے”([19])۔
نماز کے اختتام پر دو خطبے پڑھے جائیں گے، خطبے میں فطرانے کے اَحکام بتائے جائیں، جیسے جمعہ اور نکاح کا خطبہ سننا واجب ہے، اسی طرح عیدَین کا خطبہ سننا بھی واجب ہے، اس کے بعد دعا ہوگی، اور پھر سب لوگ آپس میں عید ملیں اور ايك دوسرے كو مبارکباد دیں۔
دعا
اے اللہ! ہم میں جو صاحبِ نصاب ہیں، انہیں اپنی مالی حیثیت کے مطابق صدقۂ فطر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں عید کی خوشیاں شریعتِ مطہرہ کے مطابق منانے کی توفیق نصیب فرما، ہمیں اس دن خاص طور پر کثرت کے ساتھ اچھے کام کرنے کی سعادت عطا فرما، آمین یا ربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيّدنا ونبيّنا وحبيبنا وقرّة أعيُننا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “سنن الترمذي” أبواب العيدَين، ر: 542، صـ142.
([3]) “التفسيرات الأحمدية” صـ740.
([4]) “صحيح البخاري” ر: 1503، صـ245.
([5]) “سنن الترمذي” باب مَا جاء في صدقة الفطر، ر: 674، صـ172.
([6]) “ردّ المحتار” كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، 6/132.
([7]) “الدرّ المختار” كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، 6/145، 146.
([8]) “صحيح البخاري” باب الصدقة قبل العيد، ر: 1509، صـ245.
([9]) “سنن أبي داود” كتاب الزكاة، باب زكاة الفطر، ر: 1609، صـ239.
([10]) “مصنّف عبد الرزاق” باب زكاة الفطر، ر: 5761، 3/311.
([11]) “سنن أبي داود” كتاب الزكاة، باب زكاة الفطر، ر: 1609، صـ239.
([12]) “الدرّ المختار” كتاب الزكاة، بَابُ صَدَقَةِ الفطْر، 6/172.
([13]) “سنن الترمذي” أبواب العيدَين، ر: 541، صـ142.
([14]) “مرآۃ المناجيح” عيدين كى نماز كا باب، پہلی فصل، تحت ر: 1434، 2/356،ملتقطاً۔
([15]) “صحيح البخاري” كتاب العيدين، ر: ٩٥٢، صـ١٥٣.
([16]) “سُننِ أَبي داود” كتاب الصلاة، ر: 1124، صـ170.
([17]) “سنن أبي داود” كتاب الأدب، باب في المصافحة، ر: 5212، صـ731.
([18]) “الضعفاء الكبير” بابُ الْعينِ، تحت ر: ١١٤١، 3/١٥٥.
([19]) “بہارشریعت” حصّہ چہارُم، عیدین کا بیان، 1/٧٨١، ٧٨٢ ،ملتقطاً ۔