
Table of contents
اَزواجِ مطہَّرات
برادرانِ اسلام! جس طرح اللہ B کے حبیب ﷺ سے تعلق رکھنے والی ہر شَے عظمت والی ہے، اسی طرح وہ پاک باز بیبیاں جو مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے ساتھ رشتہ زَوجیت میں منسلک ہوئیں، سارے جہاں کی خواتین سے افضل واعلی اور اہلِ ایمان کی مائیں ہیں، اللہ A نے ارشاد فرمایا: ﴿اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ﴾([1]) “یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے، اور اِس کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں”۔ “یعنی تعظیم وحرمت میں، اور ہمیشہ کے ليے ان سے نکاح حرام ہونے میں۔ اس کے علاوہ دیگر اَحکام میں، مثل وراثت اور پردہ وغیرہ میں ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا ہے([2])۔
ایک اَور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا * وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾([3]) “اے نبی کی بیبیو تم دیگر عورتوں کی طرح نہیں ہو! اگر تم اللہ تعالی سے ڈرتی ہو تو گفتگو میں ایسی نرمی نہ لاؤ، کہ کوئی دل کا روگی کچھ لالچ کر بیٹھے، ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، اور بےپردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بےپردگی! اور نماز قائم رکھو اور زکاۃ دو، اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو! اللہ تعالی تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے، اور تمہیں پاک کر کے خُوب ستھرا کر دے!”۔
صدر الاَفاضل سیِّد نعیم الدین مرادآبادی رحمہُ اللہ علیہ ان آیاتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ “تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے، اور تمہارا اجر وثواب بھی سب سے بڑھ کر ہے، جہان بھر کی عورتوں میں کوئی تمہارے برابر نہیں!۔ اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑ جائے، تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے، اور بات میں لچك نہ ہو، بات نہایت سادگی سے کی جائے، عِفّت مآب خواتین کے لیے یہی شایاں ہے۔ اگلی جاہلیت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانہ میں عورتیں اِتراتی نکلتی تھیں، اپنی زینت ومَحاسن کا اظہار کرتی تھیں؛ کہ غیرمرد دیکھیں، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اَعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں، اور پچھلی جاہلیت سے اخیر زمانہ مراد ہے، جس میں لوگوں کے افعال پہلے والوں کی مثل ہو جائیں گے، یعنی گناہوں کی نَجاست سے تم آلُودہ مت ہونا!۔ اس آیت سے اہلِ بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اہلِ بیت میں اُمّہات المؤ منین، حضرت خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطمہ زَہراء، علی مرتضٰی اور حسنَینِ کریمَین رضی اللہ عنہ سب داخل ہیں”([4])۔
ایمان والوں سے اُمہات المؤمنین کی عظمت وشان کے بارے میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ۠ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَلَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا﴾([5]) “(اے ایمان والو!) جب تم اُن سےبرتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور اُن کے دلوں کی، اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ رسول اللہ کو اِیذاء دو! اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو! یقیناً یہ اللہ تعالی کے نزدیک بڑی سخت بات ہے”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : امّ المؤمنین سیِّدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا
پاکدامنی کا اعلان
عزيزانِ محترم! حضورِ اقدس ﷺ کی تمام اَزواج پاک باز، پاکدامن اور انتہائی معتبر ومعتمَد ہیں۔ ایک بار منافقین نے اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا، تو خود قرآنِ مجید نے ان کی پاکدامنی کا اعلان فرمایا، اِلزام تراشنے والوں کو اسّی اسّی کوڑوں کی سزا ملی۔ تمام اَزواج مطہَّرات عمل وفضل، زُہد ووَرع، حِلم وبُردباری، حیاء وعِفّت، جُود وسخاوت اور بلند ہمتی میں یگانۂ روزگار ہیں۔ خواتین سے متعلق ایسے بہت سے مسائلِ شرعیہ ہیں، جنہیں انہی اَزواجِ مطہَّرات نے حضورِ اکرم ﷺ سے پُوچھ پُوچھ کر حل فرمایا ہے([6])۔
واقعۂ اِفک
رفیقانِ گرامی قدر! اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیبّہ طاہرہ رضی اللہ عنہا حضورِ اكرم ﷺ کی زوجہ، حضرت سیِّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی، اور مسلمانوں کی ماں، نہایت متّقی وپرہیزگار، اور انتہائى پاکدامَن ہیں۔ “۵ سنِ ہجری میں غزوہ بنی مُصطلق واقع ہوا، جس میں اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا مصطفى جانِ رحمت ﷺ کے ہمراہ تھیں، واپسی پر غازیوں کا قافلہ ایک منزل پر ٹھہرا، صبحِ صادق سے پہلے اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا رفعِ حاجت کےلیے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں، وہاں آپ کا ہار ٹُوٹ گیا جس کی تلاش میں آپ کو دیر لگی، اِدھر قافلے نے کوچ کر دیا، اور قافلے والوں کو پتا نہ چلا کہ امّ المؤمنین مَوجودنہیں ہیں، آپ قافلہ کی جگہ واپس آکر بیٹھ گئیں، حضرت سیِّدنا صفوان رضی اللہ عنہ قافلہ سے کچھ پیچھے ٹھہرائے گئے تھے؛ تاکہ وہ قافلے کا گرا پڑا سامان اُٹھا لائیں، جیسا کہ اُس زمانے میں مسافروں كا طریقہ تھا، جب حضرت سیِّدنا صفوان رضی اللہ عنہ یہاں پہنچے اور آپ کو دیکھا، تو بلند آواز سے إِنَّا لِله پڑھا اور اپنا اونٹ بٹھا دیا، آپ اس پر سوار ہو گئیں، اور حضرت سیِّدنا صفوان رضی اللہ عنہ اونٹ کی مُہار پکڑے ہوئے آگے آگے چلنے لگے، یہاں تک کہ لشکر تک پہنچا دیا، سیاہ دل، بَد باطن منافقوں اور ان کے سردار عبد اللہ بن اُبَی بن سَلول نے تہمت لگا دی، اور بعض سادہ دل مسلمان بھی اُس کے اس فریب میں آگئے، اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس تہمت کا بالکل پتا نہ چلا، آپ بیمار ہو گئیں، ایک ماہ تک بیمار رہیں، اس دَوران اُمِّ مسطح کے ذریعے آپ کو پتا چلا تو آپ کا مرض مزيد بڑھ گیا، آپ اپنے میکے تشریف لے گئیں، اور اس غم میں اتنا روئیں کہ کئی راتوں تک نیند بالکل نہیں آئی، اس موقع پر اللہ ربّ العالمین نے قرآنِ كريم کی یہ آیاتِ مباركہ اُتار کر اُمّ المؤمنین کی طہارت، عِفّت وعصمت کی خود گواہی دی”([7])۔
ربّ ذو الجلال کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ * لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًا ١ۙ وَّقَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ﴾([8]) “یقیناً وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں، تمہیں میں سے ایک جماعت ہے، اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے، ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اُس نے کمایا، اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا حصہ لیا، اس کے لیےبڑاعذاب ہے”۔
جانِ برادر! ابنِ کثیر لکھتے ہیں: “یہ آیات اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئیں، جس وقت منافقین نے آپ پر بہتان باندھا تھا، اس پر اللہ تعالی نے مصطفی جانِ رحمت ﷺ کی قَرابتداری کے سبب اِنعام فرما کر یہ آیاتِ مبارکہ نازل فرمائیں؛ تاکہ رسولِ اکرم ﷺ کی آبرُو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک جماعت تھی، اس بُرے کام میں سب سے پیش پیش منافقین کا سردار عبد اللہ بن اُبَی بن سَلول تھا، جس نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کے کان بھرے تھے، اور یہ چہ میگوئیاں قریب ایک مہینے تک چلتی رہیں، یہاں تک کہ قرآنِ مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں”([9])۔
رحمتِ کونَین ﷺ نے حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیبّہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کا یُوں اِعلان فرمایا: «فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْراً»([10]) “اللہ کی قسم میں اپنی بیوی کو نیک اور پاکدامَن ہی جانتا ہوں!”۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیبّہ طاہرہ رضی اللہ عنہا اَیسی پاکدامَن متّقی وپرہیزگار ہیں، جن کی گواہی خود اللہ ورسول ﷺ نے دی!۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ عنہا
حضرت جبریل کا سلام
حضراتِ ذی وقار! حضرت سیِّدنا ابو سلَمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک روز مصطفی کریم ﷺ نے فرمایا: «يَا عَائِشَ! هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ!» “اے عائشہ! یہ جبریل تمہیں سلام کہتے ہیں!” میں نے جواب دیا کہ ان پر بھی اللہ تعالی کا سلام، اس کی رحمت اور اس کی برکت ہو، لیکن حضور آپ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ میں تو نہیں دیکھتی!”([11])۔
آیتِ تیمم کا نُزول
حضرت سیِّدنا عُروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ہمشیرہ حضرت سیِّدہ اَسماء رضی اللہ عنہا سے عارضی طور پر ہار لے رکھا تھا جو گم ہوگیا، لہذا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے کئی حضرات کو اس کی تلاش میں روانہ کیا، یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا اور بعض حضرات نے بِنا وضو کے نماز پڑھ لی، پھر مصطفی جانِ رحمت ﷺ سے پانی نہ ملنے کی شکایت کی، اس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت سیِّدنا اُسَید بن حُضیر رضی اللہ عنہ حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے عرض کرتے ہیں: «جَزَاكِ اللهُ خَيْراً، فَوَاللهِ! مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجاً، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً»([12]) “اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! کہ جب بھی آپ پر کوئی آزمائش آئی، اللہ تعالی نے بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ کو اس سے پار نکال دیا، اور اس حکمِ شریعت سے عامّۃ المسلمین کو بھی برکت عطا فرما دی”۔ یعنی آپ کی برکت سے ہمیں تیمم وغیرہ کی رخصت اور اَحکام نصیب ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ کی زَوجیت
حضرت سیِّدنا عُروَہ رحمۃُ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ان سے فرمایا: «أُرِيتُكِ فِي المَنامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى أَنَّكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، وَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَاكْشِفْ عَنْهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ الله يُمْضِهِ»([13]) “میں نے خواب میں دوبار تمہیں دیکھا، میں نےدیکھا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی زَوجہ ہیں، ان سے پردہ ہٹائیے! جب پردہ ہٹا کر دیکھا تو سامنے تم تھیں، لہذا میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اگر یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو ہو کر رہے گا!”۔
حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور نبئ کریم ﷺ نے فرمایا: «أَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة!»([14]) “تم دنیا وآخرت میں میری بیوی ہو!”۔
حضرت سیِّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “میں نے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسولَ اللہ! آپ کی اَزواج میں سےآپ کے ساتھ جنّت میں کون ہوگی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَمَا إِنَّكِ مِنْهُنَّ»”([15]) “تم بھی انہی میں سے ہو!”۔
حضرت سیِّدنا عُروَہ رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے، حضورِ اکرم ﷺ اپنے آخری مرض میں اَزواجِ مطہَّرات میں سے جس کے ہاں باری ہوتی، فرماتے: «أَيْنَ أَنَا غَداً؟ أَيْنَ أَنَا غَداً؟» “کل میری باری کس کے ہاں ہوگی؟ کل میری باری کس کے پاس ہوگی؟” اور آپ کا یہ پوچھنا حضرت سیِّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اشتیاق میں ہوتا، حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ نے کہا، کہ جب ان کی باری آئی تب آپ ﷺ نے وصال فرمایا([16])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار
حضرت عائشہ کا علم
عزیزانِ مَن! حضرت عطاء بن ابی رَباح رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں سب سے زیادہ ماہر فقیہ، عالمہ اور عمدہ رائے والی تھیں”([17])۔
امام زُہری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اگر تمام امّہات المؤمنین کا علم اور تمام عورتوں کا علم جمع کر لیا جائے، تو حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کا علم اُن میں سب سے زیادہ وعُمدہ ہوگا”([18])۔
حضرت سیِّدنا عُروَہ بن زبیر رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ “میں نے علمِ فقہ، علمِ طِب اور علمِ شاعری میں حضرت سیِّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی کو ماہر وافضل نہیں پایا”([19])۔
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! قرآنِ مجید، احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ علمائے کرام سے یہ بات ثابت ہوئی، کہ حضورِ اکرم ﷺ کی تمام اَزواجِ مطہَّرات مسلمانوں کی مائیں ہیں، ان کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کرنا ہے، ان کے فضائل ومَناقب بےشمار ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ اپنی تمام اَزواج سے محبت فرمایا کرتے، ہر ایک کی دِل جُوئی فرماتے، اور اُمّہات المؤمنین بھی آپ ﷺ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھا کرتیں، اور یہ حضورِ اکرم ﷺ سے نکاح کی برکت ہےکہ آپ ﷺ کی اَزواج اُمّہات المؤمنین کےعظیم لقب سے نوازی گئیں۔
دعا
اے اللہ! ہمیں امّہات المؤمنین کی سیرت پر عمل پَیرا ہونے کی توفیق عطا فرما، ان کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرما، کسی بےگناہ پر تہمت واِلزام لگانے سے محفوظ فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کُشادہ اور دل نرم فرما، اور ہمیں تمام گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، آمین یا ربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([2]) “مدارك التنزيل” پ21، سورة الأحزاب، تحت الآية: 6، 2/335.
([4]) “خزائن العرفان” پ٢٢، الاحزاب، زیرِ آیات: 32، 33، 761۔
([7]) “تفسیر نور العرفان” پ 18، النور، زیرِ آیت: 11، 559، 560، ملخصاً۔
([9]) “تفسير ابن كثير” سورة النور، تحت الآية: 11، 3/ 272، 273، ملتقطاً.
([10]) “صحيح البخاري” كتاب تفسير القرآن، ر: 4750، صـ830.
([11]) المرجع نفسه، باب فضل عائشة i، ر: 3768، صـ633.
([12]) المرجع السابق، ر: 3773، صـ633، 634.
([13]) المرجع السابق، كتاب مَناقب الأنصار، ر: 3895، صـ655.
([14]) “مُستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ر: 6729، 7/2399.
([15]) المرجع نفسه، ر: 6743، 7/2403.
([16]) “صحيح البخاري” باب فضل عائشة i، ر: 3774، صـ634.
([17]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، ر: 6748، 7/2405.