
Table of contents
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارُف
- دنیا میں ہی جنّت کی بِشارت
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں آیاتِ قرآنیہ کا نُزول
- صاحبِ فضیلت ووُسعت
- حق کی تصدیق کرنے والے
- اللہ تعالیٰ کا شاکر بندہ
- سب سے بڑا پرہیز گار اور متّقی انسان
- سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیّت کا ثبوتِ قطعی
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیّت کا اِنکار کفر ہے
- آیتِ ہجرت میں متعدد بار خصوصی ذکر
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلالت کرتی آیاتِ قرآنیہ
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلیل
- سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کاذکر
- اللہ تعالی کا فضل ورِضا چاہنے والے سچے لوگ
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ
- رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب سے بہتر
- اُمّت میں سب سے بہتر
- خلفائے راشدین میں سب سے افضل
- سب سے اَولیٰ وحقدار
- صدَقات کی وُصولی کا اختیار
- سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصی استثناء
- سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف رُجوع کرنے کا حکم
- سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے مقدَّم ومقرَّر فرمانا
- اِمامت کے سب سے زیادہ حقدار
- سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم
- صدیقِ اکبر کی خلافت سے متعلق مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان
- صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت سے متعلق اَسلاف کی رائے
- اِسلام میں سب سے افضل
- انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل
- سب سے پہلے خلیفہ اور افضل شخص
- افضلیت کی ترتیب
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت پر اہلِ سنّت کا اتفاق
- تمام لوگوں سے افضل
- خُلفائے رَاشدین میں اَفضلیت بترتیبِ خلافت ہے
- افضل الخلق بعد الرُسُل سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں
- خلافتِ برحق سے متعلق سلَف صالحین کے چند اَقوال
- سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے خلیفۂ راشد
- ولایت (خلافت) کے زیادہ حقدار
- سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اِجماع واتفاق
- تمام صحابہ سے زیادہ قرآن پاک کو سمجھنے والے
- قرآنِ پاک کے سب سے بڑے عالِم اور خلافت کے حقدار
- زمانۂ نبوی میں امامت کی اہلیت کے لیے سب سے مشہور
- خلافت کے زیادہ اہل اور حقدار
- خلاصۂ کلام
- دعا
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارُف
امیر المؤمنین سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسمِ گرامی عبد اللہ اور لقب صدّیق وعتیق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد گرامی کا نام ابو قُحافہ عثمانرضی اللہ عنہ، اور والدہ محترمہ کا نام امّ الخیر سلمٰی رضی اللہ عنہا ہے۔ سیِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسَب ساتویں پشت میں، رسول اللہ ﷺ کے نسَب شریف سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبئ کریم ﷺ سے عمر میں، تقریباً 2 سال چھوٹے ہیں، آپ نے مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا، آپ زمانۂ جاہلیت میں بھی اپنی قوم میں معزّز ومکرَّم تھے، قبلِ اسلام بھی آپ نے کبھی شراب نہیں پی، آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں شریک رہے([1])، آپ کا وصال 13 سنِ ہجری 22 جُمادَی الآخره کو ہوا، آپ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہیں([2])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں: خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
دنیا میں ہی جنّت کی بِشارت
حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اُن دس خوش بختوں میں سے ہیں، جنہیں دنیا ہی میں جنّت کی بِشارت دی گئی، حضرت سیِّدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: “(1) ابوبکر جنّتی ہیں، (2) عمر جنّتی ہیں، (3) عثمان جنّتی ہيں، (4) علی جنّتی ہیں، (5) طلحہ جنّتی ہیں، (6) زبیر جنّتی ہیں، (7) عبد الرحمن بن عَوف جنّتی ہیں، (8) سعد بن ابی وقاص جنّتی ہيں، (9) سعید بن زيد (بن عَمرو بن نفیل) جنّتی ہیں، (10) اور ابو عبیدہ بن جرّاح جنّتی ہیں([3])“۔
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں آیاتِ قرآنیہ کا نُزول
بارگاہِ خداوندی میں سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ، کس قدر بلند وبالا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ اللہfنے آپ رضی اللہ عنہ کے حق میں متعدد آیاتِ قرآنیہ نازل فرمائیں، جن میں سے چند حسبِ ذَیل ہیں:
صاحبِ فضیلت ووُسعت
(1) ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ﴾([4]) “قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت اور وُسعت والے ہیں” یعنی حضرت سيِّدنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ([5])۔
حق کی تصدیق کرنے والے
(2) ایک اَور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَالَّذِيْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾([6]) “وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے، اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی خوفِ خدا والے ہیں”۔ اس آیتِ مبارکہ سے متعلق مفسّرینِ کِرام فرماتے ہیں کہ “سچ لے کر تشریف لانے والے رسول اکرم ﷺ ہیں، اور اس کی تصدیق کرنے والے حضرت سیِّدناابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں”([7])۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :فضائلِ عشرۂ ذی الحجّہ
اللہ تعالیٰ کا شاکر بندہ
(3) شانِ صدیق رضی اللہ عنہ پر دلالت کرتی ایک آیتِ مبارکہ میں ربّ کریم نے ارشاد فرمایا: ﴿حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰى وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾([8]) “یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا، اور چالیس برس کا ہوا، عرض کی: اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں! جو تُو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (کہ ہم سب کو اسلام سے مشرّف کیا) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے! اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح رکھ! میں تیری طرف رُجوع لایا! اور میں مسلمان ہوں!”۔
مفسرینِ کِرام اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: “الآيةُ نَزَلَتْ فِي أبِي بَكْرٍ”([9]) “یہ آیتِ مبارکہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں نازِل ہوئی”۔
سب سے بڑا پرہیز گار اور متّقی انسان
(4) حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا، بارگاہِ الٰہی میں کیا مقام ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے، کہ اللہ ربّ العالمین نے انہیں قرآنِ مجید میں سب سے بڑا پرہیزگار اور متّقی انسان قرار دیا، ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ۰۰۱۷ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى ۚ۰۰۱۸ وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ۰۰۱۹ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى ۚ۰۰۲۰ وَلَسَوْفَ يَرْضٰى﴾([10]) “اور بہت جلد اس سے دُور رکھا جائے گا، جو سب سے بڑا پرہیزگار (یعنی حضرت سيِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ) ، جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو، اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے، صرف اپنے رَب کی رِضا چاہتا ہوا، جو سب سے بلند ہے، اوریقیناً قریب ہے کہ وہ راضی ہو گا!”۔
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں، امام محی السُنّہ بغَوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “تمام مفسّرین کے نزدیک، اس آیت میں لفظ “اَتقی” سے مراد، سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں”([11])۔
سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیّت کا ثبوتِ قطعی
حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چار پُشت کے صحابی ہیں، آپ کے والدین، آپ خود، آپ کی اَولاد، اور اَولادوں کی اَولاد کو صحابئ رسول ہونے کا شرف حاصل ہے، آپ رضی اللہ عنہ وہ واحد صحابی ہیں، جن کی صحابیت قطعی اور قرآن ِ کریم سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ﴾([12]) “صرف دو2 جان سے، جب وہ دونوں (سیِّد العالمین ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بوقت ہجرت) غار میں تھے، جب اپنے یار (ابوبکر صدیقرضی اللہ عنہ) سے فرماتے تھے: غم نہ کھا، یقیناً اللہ ہمارے (یعنی میرے اور تمہارے) ساتھ ہے،تو اللہ نے اس (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)پر سکینہ (اطمینان) اُتارا”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں : جہاد کی اہمیت اور شہید کا مقام ومرتبہ
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیّت کا اِنکار کفر ہے
علمائے کرام فرماتے ہیں، کہ حضرت سيِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیّت، اس (مذکورہ بالا) آیتِ مبارکہ سے ثابت ہے([13])، لہٰذا ان کی صحابیّت کا انکار کفر ہے([14])۔ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: “قال الحسينُ بن فضَيل البجلي: مَن أنكَر أن يكونَ أبو بكرٍ صاحبَ رسولِ الله g، كان كافراً”([15]) “حسین بن فضیل بَجلی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں، کہ جس نے سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صحابئ رسول ہونے کا انکار کیا، وہ کافر ہے”۔
آیتِ ہجرت میں متعدد بار خصوصی ذکر
آیتِ مبارکہ: ﴿ ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ﴾([16]) میں حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد بار خصوصی طَور پر ذکر آیا ہے، اس فرمانِ الٰہی میں اللہ ربّ العالمین کی طرف سے، سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا ثانی وساتھی ٹھہرایا جانا، ﴿هُمَا﴾ اَور ﴿مَعَنَا﴾ کی ضمیروں کا مَرجَعْ ٹھہرانا، ﴿لَا تَحْزَنْ﴾ فرما کر مخاطَب کرنا، اور خالقِ کائنات کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر سکینہ واطمینان کا نُزول فرمانا، وہ شرف وسعادتیں ہیں جو دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ پر آپ کی اَفضلیت کے ثبوت میں بڑی واضح اور قطعی دلیلیں ہیں۔
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلالت کرتی آیاتِ قرآنیہ
حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہے، کہ اللہ f نے قرآنِ کریم میں، جہاں اُن کی ذات وصفات اور صحابیّت کا ذکر فرمایا، وہیں اُن کی خلافت کی طرف بھی اشارہ فرمایا، مفسّرینِ کرام نے ان آیات کی تفسیر میں اس اَمر کو صراحت وتفصیل سے بیان فرمایا ہے، سطورِ ذَیل میں سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلالت کرتی چند آیات ِ مبارکہ، اور ان کے تحت مفسّرینِ کِرام کی رائے حسبِ ذَیل ہے:
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلیل
(1) ارشادِ خداوندی ہے: ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ * صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾([17]) “ہم کو سیدھے راستے پر چلا، اُن کا راستہ جن پر تُو نے احسان کیا”۔ امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: “دلالةُ هذه الآيةِ على إمامةِ أبي بكرٍ”([18]) “اس آیتِ مبارکہ میں سیِّدنا ابوبکر صدیق کی امامت (خلافت) پر دلیل ہے”۔
امام فخر الدین رازی مزید فرماتے ہیں، کہ اس آیت کی تقدیر دوسری آیت میں بیان ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے: ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ﴾([19]) “اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ تعالی نے فضل کیا، یعنی انبیاء، صِدّیقین، شہداء اور نیک لوگ ، یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں!”([20])۔
اور بلاشک وشبہ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ صدّیقوں کے سردار ہیں! نیز اس آیتِ مبارکہ کے معنی یہ ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ہدایت کے طلب کرنے کاحکم دیا ہے، جس پر سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے صِدّیقین ہیں، اگر سیّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ (معاذ اللہ) ظالم ہوتے، تو آپ کی اقتداء کرنا ہرگز جائز نہ ہوتا([21])۔
سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کاذکر
(2) اللہ رب العزّت ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا﴾([22]) “اللہ نے وعدہ دیا، ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے،کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا، جیسی ان سے پہلوں کو دی! اور ضرور اُن کے لیے جما دے گا اُن کا وہ دِین، جو اُن کے لیے پسند فرمایا ہے! اور ضرور اُن کے اگلے خوف کو اَمن سے بدل دے گا! میری عبادت کریں، میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں!”۔
ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں عبد الرحمن بن عبد الحمید مصری سے بیان کیا، کہ وہ فرماتے ہیں: “إنّ ولايةَ أبي بكرٍ وعمرَ في كتاب الله، يقول الله تعالى: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ﴾([23])“([24]) “سیِّدنا ابو بکر صدیق کی خلافت کاذکر تو کتابُ اللہ میں موجود ہے، (جیساکہ ) اللہ تعالی ارشادفرماتاہے: “اللہ نے وعدہ دیا اُن کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے، کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا!”۔
محیُ السُنّہ ابن مسعود بَغَوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: “وفي الآية دلالةٌ على خلافة الصّديق، وإمامةِ الخلفاء الرّاشدين” ([25]) “اس آیتِ مبارکہ میں سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کی خلافت، اور خلفائے راشدین کی امامت پر دلیل ہے”۔
اللہ تعالی کا فضل ورِضا چاہنے والے سچے لوگ
(3) اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: ﴿لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ﴾([26]) “ان ہجرت کرنے والے فقیروں کے لیے، جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے، اللہ کا فضل اور اس کی رِضا چاہتے ہوئے، اور اللہ ورسول کی مدد کرتے ہوئے، وہی لوگ سچے ہیں!”۔
امام ابن حجر مکّی رحمہ اللہ یہ آیت ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: “ومَن شهدَ له اللهُ cبالصّدق لا يكذَب، فلَزمَ أنّ ما أطبقوا عليه من قولهم لأبي بكر: “يا خليفةَ رسول الله” صادِقون فيه، فحينئذٍ كانت الآيةُ ناصّةً على خلافتِه. أخرجَه الخطيبُ([27]) عن أبي بكر بن عيّاش، وهو استنباطٌ حَسنٌ كما قاله ابنُ كثير”([28]).
“جس کی سچائی پر خود اللہ A گواہی دے، اسے جھوٹا نہیں کہا جاسکتا، اس سے لازم آیا کہ صحابۂ کرام نے سیِّدنا ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ کو جو “خلیفۃ الرسول” کہہ کر پکارا، وہ حضرات اپنی اس بات میں سچے ہیں۔ اس لحاظ سے آیتِ مبارکہ آپ کی خلافت پر نَص ہے۔ اسے خطیب نے ابوبکر بن عیّاش سے بیان کیا، اور یہ بہت ہی خوبصورت اِستنباط ہے، جیساکہ ابن کثیر نے کہا”۔
(1) ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا﴾([29]) “پیچھے رہ جانے والے ان گنواروں سے فرماؤ، کہ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے، کہ ان سے لڑو، یا وہ مسلمان ہو جائیں! پھر اگر تم فرمان مانو گے، تو اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، اور اگر تم پھر گئے جیسے پہلے پھر گئے تھے، تو تمہیں دردناک عذاب دے گا!”۔
امام ابن حجر مکّی رحمہ اللہ اپنی کتاب “صواعق محرّقہ” میں تحریر فرماتے ہیں: “قال الشيخ أبو الحسن الأشعَري r إمامُ أهل السُنّة: سمعتُ الإمامَ أبا العبّاس بن سُرَيْج يقول: خلافةُ الصّديق في القرآن في هذه الآية، قال: لأنّ أهلَ العلم أجمعوا على أنّه لم يكن بعد نُزولها قِتالٌ دُعُوا إليه، إلّا دعاء أبي بكر لهم وللنّاس إلى قِتال أهلِ الرِدّة ومَن منعَ الزّكاةَ، قال: فدلّ ذلك على وُجوب خلافة أبي بكرٍ وافتراض طاعته؛ إذ أخبرَ اللهُ أنّ المتولّي عن ذلك يعذَّب عذاباً أليماً”([30]).
” امامِ اہلِ سنّت ابو الحسن اَشعَری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “میں نے امام ابو العباس ابن سُرَیج رحمہ اللہ کو فرماتےسنا، کہ اس آیتِ قرآنیہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر ہے۔ (اور پھر اس کی علّت بیان کرتے ہوئے) وہ مزید فرماتے ہیں، کہ اہلِ علم کا اس بات پر اِجماع واتفاق ہے، کہ اس آیت کے نُزول کے بعد کوئی جنگ نہیں ہوئی، سوائے اس جنگ یمامہ کے، جس پر سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مرتَدّین اور مانعینِ زکاۃ سے جہاد کے لیے لوگوں کو بلایا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے وُجوب، اور آپ کی اِطاعت کے فرض ہونے پر دلیل ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے خبر دی ہے، کہ اس سے منہ پھیرنے والے گروہ کو دردناک عذاب دے گا!”۔
متعدِد مفسرینِ کِرام نے آیتِ مبارکہ کے جزء: ﴿قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ﴾([31]) کی تفسیرمیں، “قوم” سے اہلِ فارس ورُوم مراد لی ہے([32])۔
امام ابن حجر مکّی، ابن کثیر کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: “فالصّديقُ هو الذي جهّزَ الجُيوشَ إليهم، وتمامُ أمرهم كان على يد عمرَ وعثمانَ، وهُما فَرْعَا الصّديقِ”([33]) “جو شخص “قوم” کی یہ تفسیر کرے گا کہ اس سے مراد اہلِ فارس ورُوم ہیں، تو اسے جاننا چاہیے کہ ان کی طرف بھی حضرت سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہی لشکر تیار کر کے بجھوائے تھے، جبکہ اس جہاد کی تکمیل حضرت سیِّدنا عمر فاروق اور سیِّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں ہوئی، اور یہ دونوں حضرات بھی، سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے (درختِ خلافت) کی شاخیں ہیں”۔
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ
حضرت سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انتہائی جلیل القدر اور متّقی وپرہیز گار صحابی ہیں، تمام انبیاء ورُسُل علیہ السلام کے بعد مخلوق میں سب سے افضل انسان، اور مسلمانوں کے پہلے خلیفۂ راشد ہیں، متعدِد احادیثِ طیّبہ میں بھی سیِّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کى اَفضلیت کا بیان واضح طَور پر موجود ہے، اسی چیز کے پیشِ نظر ہم اہلِ سنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ونظریہ ہے، کہ تمام انبیاء ومرسَلین کے بعد، لوگوں میں سب سے افضل اور رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافتِ راشدہ کے سب سے زیادہ حقدار، حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں([34])۔
رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب سے بہتر
(1) حضرت امام بخاری رحمہ اللہ، حضرت محمد بن حنفیہ شہزادۂ امیر المؤمنین مولا علی رضی اللہ عنہ سے راوی، فرمايا کہ میں نے اپنے والدِ ماجد امیر المؤمنین مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی، کہ رسول اﷲ ﷺ کے بعد، سب سے بہتر کون ہے؟ ارشاد فرمایا: «أبو بکرٍ» میں نے عرض کی: پھر کون؟ فرمایا: «عُمرُ»([35]).
اُمّت میں سب سے بہتر
(2)حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ (جو صحابئ رسول ﷺ، اور سیِّدنا علی المرتضیرضی اللہ عنہ کے مقرَّبِ بارگاہ ہیں، جناب امیر انہیں وہب الخیر فرمایا کرتے) سے مروی ہے، کہ سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: « يَا أَبَا جُحَيْفَةَ! أَلا أُخْبِرُكَ بِأفضَلِ هَذِهِ الأمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟» “اے ابا جحیفہ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں، کہ اُمّت میں سب سے بہتر کون ہے؟” میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں! (اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل کسی کو خیال نہیں کرتا تھا) سیِّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: «أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا: أبو بَكْرٍ، وَبَعْدَ أبِي بَكرٍ: عُمَرُ!»([36]) “حضور نبئ کریم ﷺ کے بعد اس اُمّت میں، سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں!”۔
خلفائے راشدین میں سب سے افضل
(3) حضرت سیِّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ g لاَ نَعْدِلُ بِأبِي بَكْرٍ أَحَداً، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ!»([37]) “رسول اکرم ﷺ کے مبارک زمانہ میں، ہم ( آپ ﷺ کے بعد) سیِّدنا ابوبکر صدیقرضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے، پھر سیِّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو، اور پھر سیِّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو!”۔
سب سے اَولیٰ وحقدار
(4) سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت پر صراحۃً دلالت کرتی ہوئی ایک حدیث پاک میں، ام المؤمنین سیِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: «ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَاباً، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ!»([38]) “میرے پاس اپنے والد ابوبکرکو اور اپنے بھائی کوبلا لاؤ؛ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دُوں؛ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنّا کرنے والا تمنّا کرے گا، اور کوئی کہنے والا کہے گا، کہ میں سب سے اَولیٰ (زیادہ حقدار) ہوں، مگر
اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان ابوبکر کے سوا کسی اَور پر راضی نہیں ہوں گے!”۔
ابن بطّال رحمہ اللہ نے اپنی “شرح صحیح بخاری” میں مُہلّب رحمہ اللہ کاقول نقل کرتے ہوئے لکھا: “فيه دليلٌ قاطعٌ فى خلافة أبي بكر”([39]) “اس حدیث پاک میں سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلیلِ قاطع ہے”۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ “فتح الباری” میں، اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: “إنّ المرادَ الخلافةُ”([40]) “اس “تحریر” سے مراد خلافت نامہ ہے”۔
صدَقات کی وُصولی کا اختیار
(5) حضور نبئ کریم ﷺ کا اپنے بعد، صدَقات کی وُصولی کے لیے سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مقرّر فرمانا بھی، آپ رضی اللہ عنہ کی اَفضیلت پر دَلالت کرتا ہے، حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللّہ عنہ فرماتے ہیں، کہ مجھے بنومُصطلق نے رسول کریم ﷺ کے پاس یہ بات دریافت کرنے کے لیے بھیجا، کہ آپ ﷺ کے بعد ہم صدَقات (زکاۃ وغیرہ) کسے پیش کیا کریں؟ میں نے آکر حضور ﷺ سے پوچھا تو فرمایا: «إلى أبِي بَكْرٍ»([41]) “ابوبکر کو”۔
امام ابن حجر مکّی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: “ومِن لازم دفعِ الصّدقة إليه، كونُه خليفةً؛ إذ هو المتولّي قبضَ الصدَقات”([42]) “ان کے پاس صدقہ (زکاۃ) اسی صورت میں پیش کرنا لازم ہوگا، کہ جب وہ خلیفہ ہوں؛ کیونکہ خلیفۂ وقت ہی صدَقات (زکاۃ) جمع کرنے پرذمّہ دار ہوتا ہے”۔
سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصی استثناء
(6) نبئ کریم ﷺ کی طرف سے سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصی استثناء بھی، آپ رضی اللہ عنہ کی اَفضیلت کی طرف اشارہ کرتا ہے، حضرت سیِّدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے، رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا يَبْقَيَنَّ فِي المَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ، إلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ!»([43]) “مسجدِ نبوی کے اندر ابوبکر کے دروازے کے سوا، کوئی دروازہ باقی نہ رہے!”۔
امام جلال الدّین سُیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ علمائے کرام نے فرمایا: “هذه إشارةٌ إلى الخلافة؛ لأنّه يخرج منها إلى الصّلاة بالمسلمين”([44]) “اس حدیثِ مبارک میں خلافتِ صدیق کی طرف اشارہ ہے؛ کیونکہ خلیفۃ المسلمین کو لوگوں کو نماز پڑھانے (اور دیگر کاموں) کے لیے، مسجد کی طرف نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے”۔
سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف رُجوع کرنے کا حکم
(7) بخاری ومسلم نے حضرت سیِّدنا جُبَیر بن مُطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہ نبئ کریم ﷺ کے پاس ایک خاتون آئیں، انہوں نے کسی چیز کے بارے میں حضور اکرم ﷺ سے گزارش کی، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے اسے دوبارہ حاضر ہونے کو فرمایا، اس نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ (راوی کاکہنا ہے کہ شاید ان خاتون کی مراد حضور کی وفات تھی) سروَر کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنْ لَمْ تَجِدِينِي، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ»([45]) “اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا” یعنی اگر میری وفات ہو جائے، توصدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنا فیصلہ کرا لینا۔
اس فرمانِ عالی شان میں، سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف صاف اشارہ ہے، جیسا کہ امام عبد الرحمن ابن جَوزی رحمہ اللہ اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرماتے ہیں: “وهذا من النّصوص الخفية على خلافة أبي بكرٍ”([46]) “یہ حدیثِ پاک سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پردلالت کرنے والی، نصوصِ خفیہ میں سے ایک نص ہے”۔
اسی طرح علّامہ طِیبی نے فرمایا: “وفيه دليلٌ على أنّه h خليفةُ رسولِ الله g بعدَه، وقائمٌ مقامَه”([47]) “اس حدیثِ پاک میں دلیل ہے، کہ سیِّدنا ابو بکر صدیق، حضور اکرم ﷺ کے (ظاہری وِصال کے) بعد خلیفۃ الرسول، اور حضور ﷺ کے قائم مقام ہیں”۔
علّامہ بدر الدین عینیرحمہ اللہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں: “وفيه إشارةٌ أيضاً إلى أنّه هو الخليفةُ من بعده”([48]) “اس حدیثِ پاک میں اشارہ ہے، کہ حضور نبئ کریم ﷺ کے بعد، سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہیں”۔
سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے مقدَّم ومقرَّر فرمانا
(8) سروَرِ کونین ﷺ کا اپنے اَیامِ علالت میں، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے مقدَّم ومقرَّر فرمانا، انہیں حضرت سیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی پر ترجیح دینا، اور سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی کے سبب، سیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ کو اِمامت کے لیے آگے بڑھائے جانے پر، اظہارِ ناراضگی فرمانا بھی، آپ رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے!۔
سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللّہ عنہ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ جب رسول اللہ ﷺ کی علالت نے شدّت اختیار کی، تو چند مسلمانوں کے ساتھ، میں بھی حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا، نماز کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ کو بلایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مُرُوا مَنْ يُصَلِّي لِلنَّاسِ!» “کسی سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے!” حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللّہ عنہ باہر نکلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے، جبکہ سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں موجود نہیں تھے، اس پر میں نے کہا کہ اے عمر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائیے! وہ آگے بڑھے اور (نماز شروع کرنے کے لیے) تکبیر کہی، جب رسول اللہ ﷺ نے اُن کی آواز سنی (کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز رکھتے تھے) فرمایا: «فأينَ أبو بَكْرٍ؟ يأبى اللهُ ذَلِكَ وَالْمسْلِمُونَ! يَأْبَى اللهُ ذَلِكَ وَالمُسْلِمُونَ!» “ابوبکر کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے! اللہ تعالیٰ اور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی پر راضی نہیں ہوں گے!” (دو بار)، لہٰذا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، وہ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا چکے تھے([49])۔
سیِّدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللّہ عنہ مزید فرماتے ہیں، کہ جب نبئ کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، تو سروَر کونین ﷺ باہر تشریف لانے لگے، یہاں تک کہ سرِ اقدس حجرے سے باہر نکال کر فرمایا: «لَا لَا لَا! لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ!» “نہیں نہیں نہیں! لوگوں کو ابن ابی قُحافہ (یعنی ابوبکر صدیق) ہی نماز پڑھائیں!” (راوی کاکہنا ہےکہ) حضور اکرم ﷺ یہ بات حالتِ جلال میں فرما رہے تھے([50])۔
اِمامت کے سب سے زیادہ حقدار
(9) ایک اَور حدیثِ پاک میں حضرت سيِّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا
سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لا ينبغي لقومٍ فِيهمْ أَبُو بَكْرٍ، أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ!»([51]) “جس قوم میں ابوبکر ہوں، انہیں لائق نہیں کہ ان کی امامت ابوبکر کے سوا کوئی اَور کرے!”۔
سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم
(10) بخاری ومسلم نے حضرت سیِّدنا ابوموسیٰ اشعَری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ جب نبئ کریم ﷺ کا مرض شدّت اختیار کر گیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ!» “ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں!” حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یارسولَ اللہ ﷺ! میرے والد ابو بکر رضی اللہ عنہ رقیق القلب آدمی ہیں، آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکیں گے! حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ!» “ابوبکر کوحکم دوکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں!” حضرت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےدوبارہ وہی بات دُہرائی، حضورِ اکرم ﷺ نے پھر فرمایا: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ! فَإنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ!» “ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو حکم دوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں! تم خواتین تو حضرت یوسف والیاں ہو!”۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک صحابی حضورِ اکرم کا حکم لے کر آئے، تب آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی حیاتِ طیّبہ میں، لوگوں کو نمازیں پڑھائیں([52])۔
صدیقِ اکبر کی خلافت سے متعلق مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان
(11) سيِّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں، جنہیں سرکارِ اَبَد قرار ﷺ نے فرضیتِ حج کے بعد، پہلے ہی سال امیر الحجّاج مقرّر فرمایا، اور انہیں اپنے سامنے مرضُ الوفات میں اپنی جگہ نماز کے لیے امام مقرّر فرمایا۔ حضرت سيِّدنا مولا علی -كرّم الله تعالىٰ وجہہ الکریم- کا ارشاد ہے: «لمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ g نَظَرْنَا فِي أَمْرِنَا، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ g قَدْ قَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فِي الصَّلاَةِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُولُ اللهِ g لِدِينِنَا، فَقَدَّمْنَا أَبَا بَكْرٍ»([53]) “نبئ رَحمت ﷺ کے وِصال كے بعد، جب ہم نے غور کیا (تو اس نتیجہ پر پہنچے)، کہ جب نماز کے مُعاملہ میں نبئ کریم ﷺ نے سیِّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مقدَّم فرمایا، اور ہمارے دِین کے لیے انہیں امام بنانا پسند فرمایا، تو ہم دنیاوی مُعاملات میں بھی ان پر راضی ہوگئے، یعنی ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے، انہیں خلیفہ مقرّر كر دیا”۔ اس سے پتا چلا کہ سب سے پہلے خلیفۂ برحق سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور یہی اہلِ اسلام کا نظریہ ہے۔
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت سے متعلق اَسلاف کی رائے
ہمارے اَسلاف بھی تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ اور جمیع اُمّتِ مسلمہ پر، حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت کے قائل تھے، اس سلسلے میں چند علمائے امّت کی رائے ملاحظہ فرمائیں:
اِسلام میں سب سے افضل
(1) حضرت سالم بن ابی الجعد تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہ میں نے امام محمد بن حنفیہ سے عرض کی کہ “کیا حضرت ابوبکر سب سے پہلے اسلام لائےتھے؟ فرمایا: نہیں، میں نے کہا کہ پھر کیا بات ہے کہ ابو بکر سب سے بالا رہے ا ور پیشی لے گئے؟ یہاں تک کہ لوگ ان کے سوا کسی کا ذِکر ہی نہیں کرتے! فرمایا: یہ اس لیے کہ وہ اسلام میں سب سے افضل ہیں”([54])۔
انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل
(2) امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد، سیِّدنا صدیقِ اکبر، اور اُن کے بعد سیِّدناعمرفاروقِ رضی اللہ عنہ، تمام لوگوں سے افضل ہیں!”([55])۔
سب سے پہلے خلیفہ اور افضل شخص
(3) امام بَغَوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “حضرت ابو بکر صدّیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، اورحضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ، انبیاء ومرسَلین کے بعد تمام لوگوں سے افضل ہیں، اور پھر ان چاروں میں اَفضلیت کی ترتیب خلافت کے اعتبار سے ہے، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے پہلے خلیفہ ہیں، لہٰذا وہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمان غنی اور اُن کے بعد سیِّدُنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ افضل ہیں”([56])۔
افضلیت کی ترتیب
(4) خلفائے راشدین کی اَفضلیت کے بارے میں، اہلِ سنّت وجماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے، شیخ نجم الدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “ہمارے نبئ کریم ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمانِ غنی، اور پھر سیِّدُنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ افضل ہیں”([57])۔
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت پر اہلِ سنّت کا اتفاق
(5) امامِ علّام ابو زکریا نوَوی رحمہ اللہ “شرح صحیح مسلم” میں فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ افضلِ صحابہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں”([58])۔
تمام لوگوں سے افضل
(6) علّامہ قاضی عضد الدّین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “ہمارے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد، حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے افضل ہیں”([59])۔
خُلفائے رَاشدین میں اَفضلیت بترتیبِ خلافت ہے
(7) امام ابن حجر عَسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “اہلِ سنّت وجماعت کے درمیان اس بات پر اِجماع واتفاق ہے، کہ خُلفائے رَاشدین میں اَفضلیت اُسی ترتیب سے ہے، جس ترتیب سے خلافت ہے”([60])، یعنی سیِّدُنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، اُن کے بعد سیِّدُنا عمر فاروق، پھر سیِّدُنا عثمان غنی اور پھر سیِّدُنا مولا علی رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔
افضل الخلق بعد الرُسُل سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں
(8) امام ابن ہُمام حنَفی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ “سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (انبیائے کرام کے بعد) سب لوگوں سے افضل ہیں”([61])۔
خلافتِ برحق سے متعلق سلَف صالحین کے چند اَقوال
امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے سب سے پہلے خلیفۂ راشد ہیں، آپ کی خلافت برحق ہے، اور اسی پر امّت کا اِجماع واتفاق چلا آرہا ہے([62])، اس سلسلے میں سلَف صالحین اور بزرگانِ دین کے چند اَقوال پیشِ خدمت ہیں:
سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے خلیفۂ راشد
(1) حضرت عمر بن عبد العزیز کے کہنے پر، حضرت محمد بن زبیر رحمہ اللہ نے حضرت حَسَن بصری رحمہ اللہ سے دریافت کیا، کہ کیا رسولِ پاک ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا تھا؟ تو جواباً آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: “واللهِ الذي لا إلهَ إلّا هو! لقد استخلفَه، ولهو كان أعلَمَ بالله وأتقَى له، وأشهدَ له مخافةً من أن يموتَ عليها، لولم يُؤَمِّرْهُ “([63]) “اُس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یقیناً حضورِ اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ یقیناً سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے تھے، سب سے بڑھ کر متقی وپرہیزگار تھے، اور وہ اِس قدر خوفِ خدا والے تھے، کہ اگر رسول اللہ ﷺ انہیں امیر نہ بناتے، تو وہ (خلافت کے بجائے) مَوت کو ترجیح دیتے!”۔
ولایت (خلافت) کے زیادہ حقدار
(2) حضرت سفیان ثَوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “جس نے یہ کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ولایت (خلافت) کے زیادہ حقدار تھے، اس نے حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور مہاجرین وانصار، سارے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کو غلطی پر ٹھہرایا، اور میرے خیال میں اس خطا کے ہوتے ہوئے، اس شخص کا کوئی عمل قبول نہیں ہو سکتا!”([64])۔
سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اِجماع واتفاق
(3) امام بیہقی نے زعفرانی سے بیان کیا، کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا: “أجمع النّاسُ على خلافة أبي بكر h… وذلك أنّه اضطراب النّاس بعد رسول الله g، فلم يجدوا تحت أديم السّماء خيراً من أبي بكرٍ، فوَلّوه رِقابَهم”([65]) “لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اِجماع واتفاق کرلیا؛ اس لیے کہ نبئ کریم ﷺ کی وفات کے بعد لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا، جب لوگوں نے زیرِ آسمان سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی کو نہ پایا،تو اپنی گردنیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے جھکا دیں”۔
تمام صحابہ سے زیادہ قرآن پاک کو سمجھنے والے
(4) ابن کثیر لکھتے ہیں: “كان الصّديقُ أقرأَ الصّحابة، أي: أعلمَهم بالقرآن؛ لأنّه g قدّمه إماماً للصّلاة بالصّحابة”([66]) “حضرت سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ سے زیادہ قرآنِ پاک کو سمجھتے تھے، اسی لیے حضور نبئ کریم ﷺ نے آپ کو نماز کی امامت کے لیے، دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ سے مقدَّم فرمایا”۔
قرآنِ پاک کے سب سے بڑے عالِم اور خلافت کے حقدار
(5) حضرت امام ابو الحسن اشعَری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “قد عُلم بالضرورة أنّ النبيَّ g أمرَ الصّديقَ أن يصلّيَ بالنّاس مع حضور المهاجرين والأنصار، مع قوله: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ»([67]) فدلّ على أنّه أقرؤُهم: أي أعلَمُهم بالقرآن، انتهى. وقد استدلّ الصحابةُ أنفُسُهم بهذا، على أنّه أحقُّ بالخلافة، منهم: عمرُ”([68]). “یہ بات تو بالبَداہت معلوم ہو گئی، کہ رسول اکرم ﷺ نے تمام مہاجرین وانصار کی موجودگی میں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھنے کے لیے حكم فرمایا، اور یہ بھی نبئ کریم ﷺ سے مروی ہے کہ “لوگوں کونماز وہ پڑھائے جوقرآنِ پاک کو ان سب میں زیادہ سمجھتا ہو”، تو اس سے بھی ثابت ہوا کہ سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قرآنِ پاک کے سب سے بڑے عالِم تھے، اور خود صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی اسی بات سے دلیل پکڑی، کہ آپ رضی اللہ عنہ خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، مِن جملہ ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں سے ایک، سیِّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ہیں”۔
زمانۂ نبوی میں امامت کی اہلیت کے لیے سب سے مشہور
(6) علّامہ جلال الدین سُیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، کہ علمائے کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “وقد كان معروفاً بأهليّة الإمامةِ في زمان النّبي g”([69]) “زمانۂ نبوی میں ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، اِمامت کی اہلیت کے لیے مشہور ہو چکے تھے”۔
خلافت کے زیادہ اہل اور حقدار
(7) امام ابن حجر مکّی رحمہ اللہ “صواعق محرّقہ” میں سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ولایت پر اِجماع سے متعلق، بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “كان هو الأحقُّ بالخلافة عند جميع أهل السُنّة والجماعة، في كلّ عصرٍ، منّا إلى الصّحابة j، وكذلك عند جميع المعتزلة وأكثرِ الفِرق، وإجماعُهم على خلافتِه قاضٍ بإجماعِهم على أنّه أهلٌ لها، مع أنّها من الظُهور بحيث لا تخفى”([70]). “ہر زمانے کے اہلِ سنّت وجماعت، یعنی ہمارے زمانے سے لے کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے زمانے تک، سب کے سب حضرت سیِّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے آئے ہیں، اسی طرح تمام معتزلہ اور اکثر فرقوں کا یہی اعتقاد ہے، اور ان سب کا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اِجماع واتفاق، اس بات پر فیصلہ کُن ثبوت ہے، کہ وہ خلافت کے زیادہ اہل اور حقدار ہیں، اور یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جسے پوشیدہ رکھنا ممکن ہی نہیں”۔
خلاصۂ کلام
مختصر یہ کہ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مُقابل حضرت سیِّدُنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ یا کسی اَور صحابی کو افضل قرار دینا، یا خلیفہ بلافصل ماننا، رافضی شیعوں اور تفضلیوں کا کام ہے، ایسی بدمذہبی، بدعقیدگی اور بدفکری کے اَمراض وفِتن سے کوسوں دُور رہیے! حکمِ شریعت کے مطابق صحابہ واہلِ بیت کرام کا حسبِ مُراتب اَدب واحترام کیجیے، اَور اہلِ سنّت وجماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیے!۔
دعا
اے اللہ! ہمیں حسبِ مَراتب تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کا اَدب واِحترام کرنے کی توفیق مَرحمت فرما، ان کے مقام ومرتبہ اور شان وعظمت کی پاسداری کا جذبہ عنایت فرما، سیِّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اَفضلیت کو صِدقِ دل سے تسلیم کرنے اور دُرست عقائد پر ثابت قدم رہنےکی سوچ عطا فرما، اور بد مذہبی وبدعقیدگی سے محفوظ فرما، آمین یاربّ العالمین!
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([1]) “تاريخ الخلفاء” الخليفة الأوّل: أبو بكر الصدّيق h، صـ41.
([2]) “سير أعلام النُبلاء” أبو بكر الصديق خليفة رسول الله، 2/396.
([3]) “فضائل الصحابة” للإمام أحمد، قوله g: «مُروا أبا بكر فليصلِّ بالنّاس» ر: 87، 1/116. و”سنن أبي داود” كتاب السنّة، باب في الخلفاء، ر: 4649، صـ657. و”سنن الترمذي” [باب] مناقب عبد الرحمن بن عَوف بن عبد عوف الزُهري h، ر: 3747، صـ851. ]قال أبو عيسى:[ “وقد رُوي هذا الحديثُ عن عبد الرحمن بن حمَيد عن أبيه عن سعيد بن زيد، عن النّبي g نحو هذا، وهذا أصَحُ من الحديث الأوّل”.
([5]) “تفسیر ابن کثير” پ 18، النور، تحت الآية: 22، 3/280.
([7]) انظر: “تفسیر الطَبَري” پ 24، الزمر، تحت الآية: 33، 21/290. و”تفسیر السمرقندي” پ 24، الزمر، تحت الآية: 33، 3/186.
([9]) “جامع البيان في تأويل القرآن” پ 26، الأحقاف، تحت الآية: 15، 22/115. و”تفسير البغَوي” پ 26، الأحقاف، تحت الآية: 15، 4/195.
([11]) “تفسیر مَعالم التنزیل” پ 30، اللیل، تحت الآية: 18، 4/496.
([13]) “التفسیر الکبير” پ 10، التوبة، تحت الآية: 40، 16/51. و”تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، صـ26-30، ملتقطاً.
([14]) “الدرّ المختار” كتاب الصلاة، باب الإمامة، 3/561.
([15]) “التفسیر الکبير” پ 10، التوبة، تحت الآية: 40، 16/51.
([18]) “التفسير الكبير” الفصل 8، پ 1، الفاتحة، تحت الآية: 6، 7، 1/221.
([20]) “التفسير الكبير” الفصل 8، پ 1، الفاتحة، تحت الآية: 6، 7، 1/221.
([21]) “الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية الدالّة على خلافته h من القرآن والسنّة، 1/52.
([24]) “تفسير ابن أبي حاتم” پ 18، النور، ر: 14764، تحت الآية: 55، 8/2627.
([25]) “تفسير البَغَوي” پ 18، النور، تحت الآية: 55، ر: 1543، 3/426.
([27]) “تاريخ بغداد” باب الكُنى، ر: 7650، أبو بكر بن عيّاش بن سالم الحناط، 16/542.
([28]) “الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية الدالّة على خلافته h من القرآن والسُنّة، 1/51.
([30]) “الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية الدالّة على خلافته h من القرآن والسُنّة، 1/50.
([32]) “تفسير الطَبَري” پ 26، الفتح، تحت الآية: 16، 22/219. و”تفسير الماتُريدي” پ 26، الفتح، تحت الآية: 16، 9/304. و”تفسير السَّمَرقندي” پ 26، الفتح، تحت الآية: 16، 3/255.
([33]) “الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية الدالّة على خلافته h …إلخ، 1/50.
([34]) “المسايَرة” مع شرحه “المسامَرة” صـ313.
([35]) “صحیح البخاري” كتاب فضائل أصحاب النّبي g، ر: 3671، صـ6١6.
([36]) “مسند الإمام أحمد” مسند علي بن أبي طالب h، ر: 835، 2/201. وإسناده صحيحٌ على شرط مسلم، رجالُه ثِقاتٌ رجالُ الشيخَين، غير منصور بن عبد الرحمن الغداني، فمِن رجال مسلم. إسماعيل بن إبراهيم: هو ابن علية.
([37]) “صحیح البخاري” كتاب فضائل أصحاب النّبي g، ر: 3698، صـ622.
([38]) “صحيح البخاري” كتاب الأحكام، باب الاستخلاف، ر: 7217، صـ1243. و”صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة j، باب من فضائل أبي بكر الصديق h، ر: 6181، صـ1051.
([39]) “شرح صحيح البخاري” لابن بطّال، كتاب الأحكام، باب الاستخلاف، 8/282.
([40]) “فتح الباري” كتاب الأحكام، باب الاستخلاف، ر: 7217، 13/206.
([41]) “مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة، أمّا حديث ضمرة وأبو طلحة، ر: 4460، 3/82. ]قال الحاكم:[ هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد ولم يخرجاه. [وقال الذهبي:[ “صحيحٌ”.
([42]) “الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية …إلخ، 1/58.
([43]) “مسند الإمام أحمد” مسند أبي سعيد الخدري h، ر: 11334، 17/215. و”صحيح البخاري” كتاب الصلاة، باب الخوخة والممر في المسجد، ر: 466، صـ81. و”سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب، ر: 3678، صـ837. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ غريبٌ من هذا الوجه، وفي الباب عن سعيد”.
([44]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، الخليفة الأوّل: أبو بكر الصديق h، 1/51.
([45]) “صحيح البخاري” كتاب الأحكام، باب الاستخلاف، ر: 7220، صـ1243، 1244. و”صحيح مسلم” كتاب فضائل الصحابة j، باب من فضائل أبي بكر الصديق h، ر: 6179، صـ1051.
([46]) “كشف المشكل من حديث الصحيحَين” كشف المُشكل من مسند جبير بن مُطعم، ر: 2247، 4/46.
([47]) انظر: “مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح” كتاب الرقاق، ر: 5227، 8/3272.
([48]) “عمدة القاري شرح صحيح البخاري” كتاب المناقب، باب، ر: 9563، 16/178.
([49]) “سنن أبي داود” كتاب السُنّة، باب استخلاف أبي بكر h، ر: 4660، صـ659. و”مستدرَك الحاكم” كتاب معرفة الصحابة j، ذكر عبد الله بن زمعة بن الأسود، ر: 6703، 3/743. ]قال الحاكم:[ “هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط مسلم ولم يخرجاه”. وسكت عنه الذهبيُّ في “التلخيص”.
([50]) “سنن أبي داود” كتاب السُنّة، باب استخلاف أبي بكر h، ر: 4661، صـ659.
([51]) “سنن الترمذي” أبواب المناقب، باب ]«لا ينبغي لقوم فِيهمْ أبو بكر، أنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْره!» …إلخ[ ر: 3673، صـ836. ]قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حَسنٌ غريب”.
([52]) “صحيح البخاري” كتاب الأذان، باب أهل العلم والفضل أحَقّ بالإمامة، ر: 678، صـ110. و”صحيح مسلم” كتاب الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر، ر: 948، صـ180.
([53]) “الطبقات الكبرى” الطبقة الأولى على السابقة في الإسلام ممن شهد بدراً من المهاجرين الأوّلين، ذكر بيعة أبي بكر h، 3/183.
([54]) “مصنَّف ابن أبي شَيبة” كتاب المَغازي، إسلام علي بن أبي طالب، ر: 36595، 7/338.
([55]) “الفقه الأكبر” المفاضَلة بين الصحابة، 1/41. و”فواتح الرَّحموت بشرح مسلَّم الثبوت” مسألة: الصحابي، 2/197، نقلاً عن الإمام r.
([56]) “شرح السُنّة” كتاب الإيمان، باب الاعتصام بالكتاب والسُنّة، ر: 102، 1/208.
([57]) “العقائد النَّسَفیة” صـ172.
([58]) “شرح صحیح مسلم” کتاب فضائل الصحابة j، الجزء 15، صـ148.
([59]) “المَواقف مع شرحه” الأصل8: المقصد 5: الأفضل بعد رسول الله g، الجزء 8، صـ397.
([60]) “فتح الباري” كتاب فضائل أصحاب النبي، ر: 3673، 7/34.
([61]) “المسايَرة” الأصل8: فضل الصحابة الأربعة، الجزء 2، صـ157.
([62]) “الصواعق المحرقة” الفصل 2 في بيان انعقاد الإجماع على ولايته h، 1/39.
([63]) “تاريخ دِمشق” حرف العين، ر: 3398، عبد الله ويقال عتيق بن عثمان بن قحافة h، 30/297. و”تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، الخليفة الأوّل: أبو بكر الصديق h، 1/53. و”الصواعق المحرقة” الفصل 3 في النصوص السمعية الدالّة على خلافته h من القرآن والسُنّة، 1/67.
([64]) انظر: “الصواعق المحرقة” الفصل 2 في بيان انعقاد الإجماع على ولايته h، 1/44.
([65]) “معرفة السنن و الآثار” باب ما يستدلّ به على صحة اعتقاد الشّافعي، ر: 353، 354، 1/153.
([66]) انظر: “الصواعق المحرقة” الفصل 2 في بيان انعقاد الإجماع على ولايته h، 1/48.
([67]) “صحيح مسلم” كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب من أحق بالإمامة، ر: 1532، صـ271. و”سنن أبي داود” كتاب الصلاة، باب من أحقّ بالإمامة، ر:582، صـ96. و”سنن الترمذي” أبواب الصلاة، باب من أحق بالإمامة، ر: 235، صـ65. [قال أبو عيسى:[ “هذا حديثٌ حسنٌ صحيحٌ”.
([68]) “تاريخ الخلفاء” الخلفاء الراشدون، الخليفة الأوّل: أبو بكر الصديق h، 1/53.
([70]) “الصواعق المحرقة” الفصل 2 في بيان انعقاد الإجماع على ولايته h، 1/39.