مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ

Home – Single Post

مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ

مجاہدِ اسلام حضرت علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ اہلِ سنّت وجماعت کے عظیم اور مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ کا شمار اُن برگزیدہ اور دیدہ وَر ہستیوں میں ہوتا ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں، آپ رحمہُ اللہ علیہ نے اُس دَور میں نعرۂ حق بلند کیا، جب اظہارِ حق کو ناقابلِ مُعافی جُرم گردانا جاتا تھا، اور ایسا کرنا گویا مَوت کو دعوت دینے کے مترادِف تھا۔ حضرت کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے اسلام کا دِفاع کیا، دشمنانِ اسلام کے خلاف  علمی مُناظرے کیے، انہیں بارہا شکستِ فاش سے دوچار کیا، باطل عقائد ونظریات کی بیخ  کنی فرمائی، اور انگریزوں کے خلاف عملی طَور پر جہاد  میں حصّہ لیا!۔

The Battle of Badr: A Confrontation of Truth and Falsehood

یہ بھی ضرور پڑھیں : غزوۂ بدر معرکۂ حق وباطل

علّامہ رحمت اللہ کیرانوی کی ولادت جُمادَی الاُولی 1233ھ/ مارچ 1818ء کو

محلہ دربار کاں، کیرانہ، ضلع مظفر نگر، اُتر پردیش (ہندوستان) میں ہوئی([1])۔

علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عثمان بن عفّان رضی اللہُ عنہ کی نسل سے ہیں، آپ کا سلسلۂ نسَب کچھ یوں ہے: شیخ رحمت اللہ کیرانوی بن خلیل الرحمن([2]) بن حکیم نجیب اللہ بن حکیم حبیب اللہ بن حکیم عبد الرحیم بن حکیم قطب الدین بن حکیم فضَیل بن حکیم دیوان عبد الرحیم (برادر نواب مقرّب خاں) ابن شیخ الزماں حکیم عبد الکریم بن حکیم حسن بن عبد الصمد بن ابو علی بن محمد یوسف بن عبد القادر ابن شیخِ کبیر حضرت مخدوم جلال الدین عثمانی پانی پتی بن محمد بن محمود بن یعقوب بن عیسیٰ بن اسماعیل بن محمد تقی بن ابوبکر بن علی نقی بن عثمان بن عبد اللہ بن شِہاب الدین بن عبد الرحمن گاذرونی بن عبد العزیز سرخسی بن خالد بن ولید بن عبدالعزیز بن عبد الرحمن کبیر مدنی بن عبد اللہ ثانی بن عبد العزیز کبیر بن عبد اللہ کبیر بن عَمرو بن امیر المؤمنین سیِّدنا عثمان بن عفّان رضی اللہُ عنہ([3])۔

مبلّغ ومجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے آباء واَجداد میں شیخ عبدالرحمن کبیر مدنی وه پہلے فرد ہیں جنہوں نے مدینہ منوّرہ سے “گاذرون” (شیراز) ہجرت کی، اور اُن کے بعد شیخ عبد الرحمن (ثانی) رحمہُ اللہ علیہ گاذرون سے ہجرت کرکے پہلے غزنی (افغانستان)، اور پھر  “پانی پت” (ہندوستان) میں مقیم ہوئے، کبیر الاولیاء حضرت مخدوم جلال الدین رحمہُ اللہ علیہجیسے ناموَر بزرگ انہی کی اَولاد سے ہیں، نیز مخدوم جلال الدین، حضرت خواجہ شمس الدین ترک رحمہُ اللہ علیہ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔

شیخ عبد الرحمن گاذرونی سلطان محمود غزنوی رحمہُ اللہ علیہ کی فوج میں شرعی حاکم رہے، اور سلطان محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ “قاضئ لشکر” کی حیثیت سے ہندوستان تشریف لائے، پانی پت (ہندوستان) کی فتح کے بعد اس علاقہ میں مقیم ہوئے، بعد اَزاں شاہی فرمان کے ذریعے یہ علاقہ شیخ عبد الرحمن گاذرونی کے سپرد ہوا، اور آپ رحمہُ اللہ علیہ کا مزار شریف بھی پانی پت میں زیرِ قلعہ واقع ہے([4])۔

The Concept of Jihad in Islam

یہ بھی ضرور پڑھیں :اسلام کا تصوّرِ جہاد

علّامہ کیرانوی بلند پایہ علمی شخصیت تھے، آپ رحمہُ اللہ علیہ کے علمی مقام ومرتبہ کا اعتراف علمائے عرب وعجم سبھی کو ہے۔ آپ کے علمی مقام ومرتبہ اور دینی خدمات کے باعث آپ رحمہُ اللہ علیہ کو مختلف اَلقاب سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں سے چند اہم اَلقاب یہ ہیں: (1) مبلّغِ اسلام (2) فخر العلماء (3) شیخ العرب والعجم (4) مجاہدِ جنگِ آزادی (5) فاتحِ عیسائیت (6) حامئ اہلِ سنّت (7) محدّثِ حرم (8) محسنِ اہلِ حرم (9) رُکن الحرمین۔

شیخ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کا تعلق ایک دینی اور علمی گھرانے سے تھا، لہذا حضرت کیرانوی کی ابتدائی تعلیم وتربیت کا سلسلہ گھر سے شروع ہوا، تقریباً بارہ 12 برس کی عمر میں قرآنِ حکیم، فارسی اور اسلامیات کی کتب گھر کے بزرگوں سے پڑھیں، اس کے بعد مزید  تعلیم کے لیے “کیرانہ” سے “دہلی” تشریف لے گئے، اور “مدرسہ محمد حیات” میں داخلہ لیا، اس مدرسہ میں حضرت کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے مختلف علوم وفُنون کی کتب پڑھیں([5])، دورۂ حدیث “مدرسہ رحیمیہ” دہلی میں پڑھا([6])، بعد اَزاں مزید حُصولِ علم کے شَوق میں دہلی سے لکھنؤ تشریف لے گئے، اور اس تمام عرصہ میں مختلف اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمُّذ طے کیے([7])۔

سُعودی حکومت کے ایک مشہور اور اہم قلم کار اور “ورلڈ اسمبلی آف یوتھ” (World Assembly of Youth) کے سیکرٹری جنرل (Secretary General) ڈاکٹر مانع بن حمّاد جُہنی، اپنی کتاب “الموسوعة الميسَّرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المُعاصرة” میں، بنا تحقیق لکھتے ہیں کہ “مَوجودہ صدی کے آغاز میں “دار العلوم دیوبند” کے فارغ التحصیل ایک عالم (علّامہ رحمت اللہ کیرانوی) “نے مکّہ مکرّمہ میں “مدرسہ صَولتیہ” قائم کیا”([8])۔ جبکہ اس اَمر میں ذرّہ برابر سچائی نہیں ہے؛ کیونکہ “دار العلوم دیوبند” قائم ہونے سے آٹھ 8 سال قبل شیخ العرب والعجم علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ ہندوستان سے ہجرت فرما کر مکّہ مکرّمہ جا چکے تھے، اور وہاں اپنا حلقۂ درس قائم فرما کر تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہے تھے۔

ڈاکٹر مانع بن حمّاد جُہنی  کی اس بےبنیاد بات کا جواب دیتے ہوئے محققِ اہلِ سنّت محمد بہاء الدین شاہ  -دام ظلہ العالی-  اپنی کتاب “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ “ڈاکٹر مَوصوف نے دو2 جلدوں پر مشتمل اپنی اس تصنیف میں، متعدد مقامات پر بہت سی بےبنیاد باتیں لکھ دی ہیں، مذکورہ بالا عبارت اُن میں سے ایک ہے، جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ “مدرسہ صَولتیہ” مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے قائم کیا، جن کا “دار العلوم دیوبند” سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور یہ مدرسہ مَوجودہ صدی کے بجائے گذشتہ صدی کے آخر میں قائم ہوا، (جس کا پسِ منظر یہ ہے کہ) 1270ھ/1854ء میں مولانا کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ اور پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کے مابین آگرہ (ہندوستان) میں مُناظرہ ہوا، جس کی رُوئیداد عربی، اردو وغیرہ زبانوں میں شائع ہو چکی تھی، اس مُناظرہ میں عیسائی پادری کو شکستِ فاش ہوئی، اور “مُناظرۂ آگرہ” کی وجہ سے انگریز حکمران مولانا کیرانوی پر برہم تھے، اس پر مزید یہ کہ 1273 ھ/ 1857ء کی جنگِ آزادی میں علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا، جس پر انگریزوں نے آپ رحمہُ اللہ علیہ کی جائیداد ضبط کرکے فوجداری مقدّمہ (Criminal Case) چلانے کا حکم دے دیا، اور آپ کی گرفتاری پر انعام مقرَّر کر دیا، لہذا حضرت کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ ہندوستان سے ہجرت کرکے 1274ھ /1858ء میں مکّہ مکرّمہ پہنچ چکے تھے”([9])۔

نیز ڈاکٹر مانع بن حمّاد جُہنی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ “دار العلوم دیوبند” کا قیام 1283ھ/1866ء کو عمل میں آیا”([10])، لہذا مذکورہ بالا حقائق کی رَوشنی میں یہ بات مکمل طَور پر واضح ہو جاتی ہے کہ “علّامہ رحمت اللہ کیرانوی “دار العلوم دیوبند” کے قیام سے آٹھ 8 سال قبل ہندوستان سے ہجرت فرما کر مکّہ مکرّمہ پہنچ چکے تھے، اور اپنے وصال شریف تک پھر کبھی واپس لَوٹ کر نہیں آئے،  نیز “دار العلوم دیوبند” کے قیام کے زمانہ میں حضرت کیرانوی کی عمر شریف اُنچاس 49 برس تھی، اس وقت آپ رحمہُ اللہ علیہ “مسجدِ حرام” (مکّہ مکرّمہ) میں تدرسی خدمات انجام دے رہے تھے، اور نہ صرف ہندوستان، بلکہ پورے عالَمِ اسلام میں آپ رحمہُ اللہ علیہ کے علم وفضل کا شہرہ تھا، لہذا یہ دعوی کہ “علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے دار العلوم دیوبند میں تعلیم پائی” یا “اس کے قیام میں کسی قسم کی مُعاونت کی” یا یہ کہ “اس  دار العلوم کے فارغ التحصیل کسی عالم نے “مدرسہ صَولتیہ” کی بنیاد رکھی، سراسر غلط اور بے بنیاد ہے”([11])۔

شیخ العرب والعجم علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے مختلف اَوقات میں جن اساتذہ  سے حُصولِ علم کا شرف پایا، اُن میں سے چند مشہور اساتذۂ کرام کے اسمائے گرامی  حسبِ ذیل ہیں:

(1) مولانا خلیل الرحمن (والد ِ گرامی) (2) مولانا محمد حیات (3) مفتی سعد اللہ مرادآبادی (4) مولانا عبد الرحمن چشتی (5) مولانا احمد علی (مظفر نگر) (6) مولانا امام بخش صہبائی دہلوی (7) شخ الحدیث شاہ عبد الغنی (8) حکیم فیض الحق صاحب([12])۔

علّامہ کیرانوی کی شادی  اپنی خالہ زاد سے ہوئی([13])، آپ رحمہُ اللہ علیہ کی کوئی اَولادِ نرینہ  نہیں تھی، البتہ اللہ تعالی نے آپ کو ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا([14])۔

تعلیم سے فراغت پانے کے بعد علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کچھ عرصہ تک سرکاری اَملاک وجائیداد کی دیکھ بھال کی ملازمت کرتے رہے، لیکن جب والدِ گرامی کا انتقال ہوا تو “دہلی” سے واپس اپنے وطن “کیرانہ” (ہندوستان) آکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے، مگر تدریس کا یہ سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا؛ کیونکہ ہندوستان کے حالات ناساز تھے، اور عیسائیت کا فتنہ زوروں پر تھا، لہذا علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نصاریٰ کے بڑھتے ہوئے تسلّط کو روکنے، اور ردِّ عیسائیت کی فکر میں لگ گئے!([15])۔

علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے عربی، فارسی اور اردو زبان میں متعدد کتب تصنیف فرمائیں، جو حسبِ ذیل ہیں:

(1) إزالة الأوهام (2) البحث الشريف في إثبات النَّسخ والتحريف (3) التنبيهات فى إثبات الاحتياج إلى البعثة والحشر (4) معيار التحقيق (5) إظهار الحقّ (6) آداب المریدین([16]) (7) إزالة الشُكوك (8) معدّل اعوِجاج الميزان (9) تقليب المَطاعِن (10) رسالة في الحشر (11) رسالة في وقت صلاة العصر (12) رسالة في ترك رفع اليدَين في الصّلاة (13) أحسن الأحاديث في إبطال التثليث (14) الإعجاز العيسوي (15) البُروق اللامِعة([17]).

“آثارِ رحمت” میں ہے کہ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے برِّ صغیر کی تینوں مشہور اسلامی زبانوں: عربی، فارسی، اردو میں تصنیفات کا ذخیرہ چھوڑا ہے، اسلام کے اس عظیم داعی کا یہ جذبہ تھا کہ حق کی اِطلاع ہر شخص کو مل جائے، اُن کی تصنیفات ردِّ عیسائیت پر سنَد کا درجہ رکھتی ہیں، جن میں سے بعض تو زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہو سکیں، اور حوادِثِ زمانہ سے ناپید ہو گئیں، اُن میں سے ایک “بُروقِ لامِعہ” ہے، جس کا موضوع ختم نبوّتِ محمدی ہے، (اس کتاب میں) سرکارِ دوعالَم ﷺ کی رسالت کا مدلَّل اِثبات کیا گیا ہے۔ دوسری کتاب “معدّل اعوِجاج المیزان” ہے، یہ کتاب پادری فنڈر (Pastor Funder) کی کتاب “میزان الحق” کا بالاستقلال جواب ہے، پادری صفدر علی نے مسیحی رسالہ “نورِافشاں” (جلد 12، شمارہ نمبر 30، مطبوعہ 24 جولائی 1884ء) میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ (اس) کتاب کا کوئی قلمی نسخہ اُن کے پاس ہے۔ تیسری کتاب”تقلیب المَطاعن” ہے، یہ پادری لاسمند کی کتاب “تحقیقِ دینِ حق” کا ردّ وجواب ہے۔ چوتھی کتاب “معیارِ التحقیق” ہے، پادری صفدر علی نے ایک کتاب”تحقیق الایمان” کے نام سے لکھی، یہ اُسی کا مدلَّل ومفصَّل جواب ہے”([18])۔

1857ء میں جنگِ آزادی کا آغاز ہوا، تو مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے

مجاہدینِ اسلام کے ساتھ مل کر جنگِ آزادی میں بھر پور حصّہ لیا، آپ رحمہُ اللہ علیہ نے “کیرانہ” (ہندوستان) میں مجاہدین کی تنظیم، تربیت اور قیادت فرمائی، روزانہ نمازِ عصر کے بعد “کیرانہ” کی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے پاس نقّارہ کی  آواز پر لوگوں کو جمع کیا جاتا، اور یہ اعلان کیا جاتا تھا کہ “ملک خدا کا، اور حکم مولوی رحمت اللہ کا”([19])۔

حضرت کیرانوی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے، لیکن آپ رحمہُ اللہ علیہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قریبی گاؤں میں رُوپوش ہو گئے، جہاں آپ کو “کیرانہ” اور قُرب وجوار کے دیگر علاقوں کے حالات کی اطلاع ملتی رہتی تھی۔

جس گاؤں میں علامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ رُوپوش تھے، انگریزی فوج نے اُس گاؤں کا مُحاصرہ کر لیا، اور گاؤں والوں سے کہا کہ “مولانا رحمت اللہ کو ہمارے حوالے کر دو، ورنہ تمہارے گاؤں کو جلا کر راکھ کر دیں گے” گاؤں والوں نے انکار کیا اور کہا کہ “ہم مولانا کو نہیں جانتے، اور نہ ہی وہ ہمارے گاؤں میں ہیں” انگریزی فوج نے پورے گاؤں کی تلاشی لی، مگر مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا کوئی پتہ نہ چلا۔

جس وقت انگریزی فوج گاؤں کی تلاشی لے رہے تھی، مجاہدِ اسلام حضرت کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ اُس وقت گاؤں سے باہر کھیت میں گھاس کاٹنے میں مشغول ہو گئے، انگریزی فوج تلاش میں ناکامی کے بعد اسی کھیت کی پگڈنڈی سے گزری، علّامہ رحمت اللہ کیرانوی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “میں گھاس کاٹ رہا تھا، اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے جو کنکریاں اُڑتی تھیں، وہ میرے جسم پر لگ رہی تھیں، اور میں ان کو

اپنے پاس سے گزرتا ہوا دیکھ رہا تھا”([20])۔

علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ گرفتار نہ ہوئے، تو انگریزی فوج واپس جاتے وقت گاؤں کے چودہ 14 افراد گرفتار  کرکے ساتھ لے گئی، علّامہ رحمت اللہ کیرانوی کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے گاؤں کے چوہدری عظیم الدین صاحب سے فرمایا کہ “ان چودہ 14 آدمیوں کو اور اُن کے گھر والوں کو میری وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے، لہذا بہتر ہے کہ میں اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دُوں؛ تاکہ ان لوگوں کی تکلیف اور پریشانی دُور ہو جائے، اور یہ چودہ 14 آدمی رہا ہو جائیں!” چوہدری عظیم الدین صاحب نے عرض کی: “مولوی صاحب! یہ تو صرف چودہ 14 آدمی ہیں، اگر پورا گاؤں بھی گرفتار ہو جائے، اور ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے، تب بھی آپ کو فوج کے حوالے نہیں کریں گے”([21])۔

جنگ ِ آزادی 1857ء میں ناکامی کے بعد مجاہدِ جنگِ آزادی علّامہ رحمت اللہ  کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے لیے ہندوستان میں قیام بہت مشکل ہو چکا تھا،  تحریکِ آزادی کا سرگرم مجاہد ہونے کی وجہ سے آپ رحمہُ اللہ علیہ کو باغی قرار دے دیا  گیا، آپ کی جائیداد ضبط کرکے نیلام کر دی گئی، اور آپ کی گرفتاری کے وارنٹ (Warrant) جاری کر دیے گئے،  لہذا مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے حالات سازگار نہ ہونے کے باعث حجازِ مقدّس کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، اور اِیمانی عزم وہمت اور صبر واستقلال کے ساتھ جے پور (Jaipur) اور جودھ پور (Jodhpur) کے ریگستان میں پیدل سفر کرتے ہوئے سُورت  کی بندرگاہ (Port of Surat) پہنچے، اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے حجازِ مقدّس تشریف لے گئے([22])۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مجاہدِ اسلام علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ جنگِ آزادی 1857ء کے بہت بڑے مجاہد تھے، اور جنگِ آزادی میں آپ کی خدمات اور قربانیوں سے کسی طَور پر انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن نہایت افسوس اور ستم ظریقی کی بات یہ ہے، کہ جنگِ آزادی 1857 ء کے مجاہد کے طَور پر انہیں جو مقام ملنا چاہیے تھا وہ نہیں دیا گیا! اس بات کا اندازہ اُن کتب کو دیکھ کر خوب لگایا جا سکتا ہے، جو جنگِ آزادی 1857ء کے موضوع پر لکھی گئیں، لہذا مَوجودہ دَور کے مؤرّخین اور اہلِ قلم سے گزارش ہے، کہ جنگِ آزادی 1857ء کے اس عظیم مجاہد اور عالمِ اسلام کے بہت بڑے عالم کی دینی وملّی خدمات کو اُجاگر کریں، اور اپنی نسلوں کو ان کے کارِہائے نمایاں سے آگاہ کریں!۔

شیخ العرب والعجم علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے مکّہ مکرّمہ پہنچ کر اَز سرِ نَو اپنا حلقۂ درس قائم کیا، اور “مدرسہ صَولتیہ” قائم فرما کر دوبارہ درس وتدریس میں مشغول ہو گئے، جہاں دنیا بھر سے تشنگانِ علم نے حضرت علّامہ سے علمی استفادہ کیا، جو بعد میں اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء اور اکابر قرار پائے([23])۔

“مدرسہ صَولتیہ” کا قیام کس طرح عمل میں آیا، اس بارے میں “آثارِ رحمت” میں مذکور ہے کہ “1290ھ میں حجِ بیت اللہ کے لیے کلکتہ سے ایک مخیّر وباہمت اور رحم دل خاتون: صَولت النساء بیگم اپنی صاحبزادی اور داماد کے ساتھ مکّہ مکرّمہ آئیں، اُن کا ارادہ تھا کہ صدقۂ جاریہ کے طَور پر مکّہ مکرّمہ میں ایک سرائے (مسافر خانہ) تعمیر کروائیں، محترمہ صَولت النساء بیگم کے داماد شاہ نوازش حسین صاحب([24]) علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے حلقۂ درس میں شریک ہوتے تھے، انہوں نے ایک روز اپنی خوش دامَن (ساس) کے اس ارادے کا ذکر کرکے مشورہ لیا، علّامہ کیرانوی نے فرمایاکہ “مکّہ مکرّمہ میں سرائیں (مسافر خانے) تو بہت ہیں، لیکن یہاں ایک مدرسہ کی بہت ضرورت ہے؛ کیونکہ یہاں کوئی مستقل مدرسہ نہیں ہے” بیگم صَولت النساء کو یہ مشورہ بہت پسند آیا، دوسرے روز حاضرِ خدمت ہوئیں اور مدرسہ کے لیے زمین خریدنے کے بارے میں گفتگو کی، دینِ اسلام کی ایسی  عظیم الشان خدمت اُن کا مقدّر تھی، لہذا “محلہ خندریسہ” میں زمین خرید  کر مدرسہ کی تعمیر شروع کر دی گئی، 1291ھ/ 1874ء میں اس مدرسہ کی تعمیر ہوئی، اور بیگم صَولت النساء صاحبہ کے اسمِ گرامی کی مناسبت سے “مدرسہ صَولتیہ”  نام تجویز کیا گیا([25])۔

نہایت بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ فاتحِ عیسائیت علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے قائم کردہ “مدرسہ صَولتیہ” کو اب اس کی اصل جگہ سے کرائے کی ایک عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

فخر العلماء حضرت علّامہ شیخ رحمت اللہ کیرانوی ایک جلیل القدر، بلند پایہ عالمِ دین تھے، آپ رحمہُ اللہ علیہ سے عرب وعجم میں علمی استفادہ کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، سب کا ذکر اس مختصر تحریر میں  ممکن نہیں، البتہ آپ رحمہُ اللہ علیہ کے چند مشہور  شاگردوں کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہے:

(1) مفتئ حنفیہ شیخ عبد الرحمن سراج (2) مفتئ حنفیہ وچیف جسٹس شیخ عبداللہ سراج (3) شیخ الخطباء شیخ احمد ابوالخیر مِرداد (4) مفتئ شافعیہ شیخ محمد سعید بابصَیل (مدرِّس مسجدِ حرام) (5) شیخ عبد الرحمن دہّان مکّی (مدرِّس مدرسہ صَولتیہ ومسجدِ حرام) (6) قاضئ مکّہ شیخ اسعد دہّان (7) شیخ سیِّد حسین دَحلان (8) مفتئ مالکیہ شیخ محمد عابد  حسین مالکی (9) قاضئ مکّہ شیخ عبد اللہ ابو الخیر مِرداد (10) مبلّغِ اسلام شیخ سیِّد عبد اللہ دَحلان (11) قاضئ جدّہ شیخ سیِّد محمد حامداحمد جداوی (12) مفتئ حنفیہ شیخ محمد صالح کمال حنفی (13) شیخ سیِّد احمد ناضرین (خلیفۂ اعلی حضرت) (14) شیخ شریف حسین بن علی (سابق امیرِ مکّہ) (15) شیخ امین محمد مِرداد (نائب قاضی مکّہ مکرّمہ) (16) شیخ سیِّد حسن دَحلان مکّی (مدرّس مسجدِ حرام) (17) شیخ محمد حسین خیّاط (بانی مدرسہ خیریہ، مکّہ مکرّمہ) (18) شیخ عبد الرحمن حسن عجَیمی (19) شیخ عبد اللہ غمری (20) شیخ حسن عبد القادر طیّب (21) شیخ احمد نجّار (22) شیخ محمد سلیمان حسب اللہ (23) شیخ عبد اللہ زواوی، (24) شیخ درویش عجَیمی (25) شیخ بدر الاسلام عثمانی (نگران کتب خانہ حمیدیّہ، قصرِ یلدز، قسطنطینیہ) (26)  شیخ القرّاء قاری عبد الرحمن اِلہ آبادی([26]) (27) شیخ عبد الحمید حدَیدی (قاضئ مکّہ مکرّمہ) (28) شیخ حسین عبد الغنی (مدرِّس مدرسہ صَولتیہ، مکّہ مکرّمہ) (29) شیخ یحییٰ امان (مدرّس مسجدِ حرام وقاضئ مکّہ مکرّمہ) (30) شیخ محمد نور کتبی (مدرّس مسجدِ حرام) (31) شیخ حسن سعید یمانی (چیف جسٹس ریاست سماٹرا، انڈونیشیا) (32) شیخ سلیمان مراد (قاضئ طائف) (33) شیخ حسن محمد مشّاط (نائب قاضی مکّہ مکرّمہ) (34) سیِّد محمد مَرزوقی (مدرِّس مدرسہ صَولتیہ) (35) شیخ عباس عبد الجبار (مدرِّس مسجدِ حرام) (36) شیخ محمد سلیم (ناظم مدرسہ صَولتیہ) (37) شیخ عبد اللہ فدا (نگران کتب خانہ مسجدِ حرام، مکّہ مکرّمہ) (38) شیخ محمد علی یمانی (مدرِّس مسجدِ حرام) (39) شیخ حسن صدیق سندھی (مدرّس مدرسہ صَولتیہ) (40) شیخ محمد علی ملاوی (مدرّس مدرسہ صَولتیہ) (41) شیخ محمد علی بن ترکی (مدرِّس مسجدِ نبوی) (42) شیخ تاج الدین سُبکی (مدرِّس مدرسہ اسلامیہ، سماٹرا، انڈونیشیا) (43) شیخ عباس قطّان (سابق چیئرمین مکّہ مکرّمہ) (44) شیخ سلیمان جنیدی

(مجلسِ علمی، انڈونیشیا) (45) شیخ عبد السمیع بیدل رامپوری([27])۔

علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے مُعاصرین میں بہت بڑے بڑے جلیل القدر علماء اور شخصیات ہیں، جن میں سے اکثر کو  آپ سے شرفِ تلمذ بھی حاصل ہے، اور “چند مشہور تلامذہ” کے تحت اُن میں سے اکثر کے اسمائے گرامی گزر چکے ہیں، البتہ اُن کے علاوہ مشہور اور اہم مُعاصِرین میں بعض کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:

(1) شیخ سیِّد احمد بن زَینی دَحلان مکّی (مفتئ شافعیہ) (2) حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکّی (3) امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا (4) حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی (5) ڈاکٹر محمد وزیر خاں([28])۔

علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ، فاتحِ قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی رحمہُ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت ومحبت رکھتے تھے، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت کیرانوی نے قبلہ پیر مہر علی شاہ کے  دستِ اقدس پر بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن فاتحِ قادیانیت حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ چشتی رحمہُ اللہ علیہ نے علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے علم وفضل اور عمر کا لحاظ فرماتے ہوئے، بیعت لینے سے عذر فرمایا، البتہ اَوراد ووظائف ضرور تلقین فرما دیے۔

علّامہ کیرانوی کے ایک شاگرد قاری عبد اللہ اِلہ آبادی رحمہُ اللہ علیہ اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ “مولانا (رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ) کے وصال شریف کے وقت میں حاضرِ خدمت تھا، وہ اپنی بیماری کے دَوران فرماتے تھے کہ “گولڑہ جانے کو جی چاہتا ہے” اور وصال شریف سے تھوڑی دیر قبل فرمایا کہ “میری آنکھوں کے سامنے پیر  (مہر علی شاہ چشتی ) صاحب رحمہُ اللہ علیہ کا سبز رُومال پھر رہا ہے”۔ مستری حبیب اللہ لاہوری اور حضرت پیر مہر علی چشتی گولڑوی رحمہُ اللہ علیہ کے شاگردمحترم، جناب قاضی فیض عالَم صاحب رحمہُ اللہ علیہ بھی اُس وقت حضرت کیرانوی کی خدمت میں مَوجود تھے، اور ان باتوں کی تصدیق کرتے تھے([29])۔

علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کا تعلق مسلکِ اہلِ سنّت وجماعت سے ہے، اور حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی رحمہُ اللہ علیہ سے انتہائی گہری عقیدت ومحبت، رُوحانی تعلق اور بیعت ہونے کی خواہش، اس بات پر رَوشن دلیل ہے، صرف یہی نہیں بلکہ  ایک بار “مدرسہ صَولتیہ” (مکّہ مکرّمہ) میں قیام کے دَوران، علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے حضرت قبلہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے “مسئلہ حاضر وناظر” کے بارے میں استفسار کیا، اور اس بارے میں آپ کا مسلک دریافت کیا، حضرت پیر مہر علی شاہ رحمہُ اللہ علیہ  نے فرمایا کہ “میں جائز سمجھتا ہوں” اور اس کے بعد آپ نے اپنے مَوقف کی تائید میں دلائل ارشاد فرمائے، قبلہ پیر مہر علی شاہ  کی مدلَّل گفتگو سن کر علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ گرویدہ اور قائل ہو گئے، اور فرمایا کہ “یہ تو علمِ لدُنّی ہے، ہم سالہا سال سے “بخاری شریف” کی یہ حدیث شریف: «مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟»([30]) “تم اس شخص (حضور نبئ کریم ﷺ) کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟” پڑھا رہے ہیں، لیکن اُن مَعانی کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں گیا، جو آپ نے اِستنباط فرمائے!”([31])۔

علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کا عقیدہ ومسلک خود اُن کی اپنی تحریروں سے بھی واضح ہے، حضرت علّامہ عبد السمیع بیدل رامپوری رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “تصحیحِ عقائد ِ اہلِ سنّت کا حصہ میں نے مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکّی رحمہُ اللہ علیہ سے لیا، آپ میرے اساتذہ میں اوّل استاذ ہیں”([32])۔

نیز جب علمائے دیوبند (مولوی رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھوی) نے مسلکِ اہلِ سنّت وجماعت کے خلاف فتوی جاری کیا، تو حضرت علّامہ عبدالسمیع بیدل رامپوری رحمہُ اللہ علیہ نے اس فتوی کی تردید میں کتاب “انوارِ ساطعہ دَر بیانِ  مَولود وفاتحہ” تحریر فرمائی، اور اُس پر ہندوستان کے چوبیس 24 اکابر علمائے اہلِ سنّت نے تقریظات تحریر فرمائیں، جن میں سے ایک تقریظ رُکنِ حرمین([33]) علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کی بھی  ہے([34])، جس میں آپ رحمہُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ “اللہ تعالی کے مقدّس حرم کے مفتیانِ اسلام نے اس سلسلہ میں جو فتاوی صادر فرمائے ہیں، وہ یقینا ً حق اور دُرست ہیں”([35])۔

سلطان عبد الحمید حضرت  کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت ومحبت رکھتے تھے، اور آپ کے علم وفضل کے اس قدر معترِف تھے کہ آپ رحمہُ اللہ علیہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، ایک بار سلطان عبد الحمید رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا، تو رُکنِ حرمَین علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے فرمایا کہ “عزیز واَقارب کو چھوڑ کر، ترکِ وطن کرکے،اللہ کی پناہ میں اُس کے دَر پر پڑا ہوں،  وہی لاج رکھنے والا ہے، آخری وقت میں امیر المؤمنین (حاکمِ وقت) کے دَروازے پر مَروں، تو قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤں گا!”([36])۔

فاتحِ عیسائیت علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے دَور میں انگریزوں نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی غرض سے، ہندوستان کے طُول وعرض میں مشن اسکول (Mission Schools)، مشن اسپتال (Mission Hospital)، اور مشن فنڈ (Mission Fund) قائم کر رکھے تھے، اور اس مقصد کی غرض سے خاص طَور پر برطانوی پادریوں کو ہندوستان لایاگیا تھا، جو  اردو زبان میں اپنا گمراہ کُن مواد (Misleading Literature) اور کتابیں شائع کرکے ہندوستان کے مسلم حلقوں میں تقسیم کر رہے تھے،  جس کی وجہ سے کمزور اِیمان کے حامل مسلمانوں کی بےچینی میں اِضافہ ہو رہا تھا، اور اُن میں سے بعض تو گمراہی کے گہرے دَلدَل میں گر کر اپنی دنیا وآخرت خراب کر چکے تھے! علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے اپنی دُور اندیشی سے اس ایمان سوز خطرے کو بَر وقت بھانپا، اور اس بات کا خوب اندازہ لگا لیا، کہ اگر اس فتنہ کی سرکوبی نہ کی گئی، تو سارا ہندوستان اس کی زَد میں آ جائے گا!۔

پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کی قیادت میں عیسائیوں کی مشنری سرگرمیاں (Missionary Activities) روز بروز بڑھتی جا رہی تھیں، جبکہ مسلمانانِ ہند مسلسل تشویش وبےچینی میں تھے، لہذا ہندوستان بھر کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے رُکنِ حرمین علّامہ کیرانوی نے اپنے مشن کا آغاز کیا، اور ردِّ عیسائیت پر “اِزالۃ الاَوہام” کے نام سے ایک کتاب تحریر فرمائی۔

عیسائی پادریوں کی گمراہ کُن سرگرمیاں جب حد سے بڑھیں، تو علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کو مُناظرے کا چیلنج دے دیا، اور اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ “میں نے ہندوستان کے سب سے بڑے پادری جو علمائے مسیحین میں ممتاز حیثیت کا مالک، اور “میزان الحق” کا مصنِّف ہے، اس سے خواہش ظاہر کی کہ وہ میرے ساتھ مجمعِ عام میں مُناظرہ کرے؛ تاکہ حق واضح ہو جائے، اور یہ معلوم ہو جائے کہ علمائے اسلام نے (عیسائی پادریوں کی طرف سے شائع کیے گئے) ان رسائل کی تردید سے گریز  اس لیے نہیں کیا تھا  کہ وہ عاجز تھے، بلکہ وہ جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے”([37])۔

مُناظرے کی تاریخ اور وقت طے کرنے کے لیے علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ اپنے شفیق دوست مولوی محمد امیر اللہ کے ہمراہ  بنفسِ نفیس، پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کے گھر تشریف لے گئے، لیکن پادری فنڈر کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات نہ ہو سکی، پھر باہمی خط وکتابت کے ذریعے 11 رجب 1270ھ/ 10 اپریل 1854ء بروز پیر مُناظرے کی تاریخ اور  دن مقرّر ہو گیا۔

مُناظرہ شروع ہونے سے قبل پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا کہ “یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ مُناظرہ کیوں منعقد ہوا، یہ مولانا رحمت اللہ کی سعی وکوشش اور خواہش کا نتیجہ ہے، اس سے فائدہ کی کوئی صورت میرے نزدیک نظر نہیں آتی، اور میری تمنّا یہ ہے کہ دینِ عیسوی کی حقیقت مسلمانوں کے سامنے رکھوں، مُباحَثہ کا عنوان: نَسخ، تحریف، اُلُوہیت، حیاتِ مسیح، تثلیث اور رسالتِ محمد ﷺ طے ہوئے ہیں”([38])۔

اس کے بعد مولانا کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور نسخ وتحریفِ اِنجیل پر فاضلانہ بَحث کی، اور خود عیسائیوں کی کتابوں سے نَسخ وتحریف کو ثابت  کر دیا، اور خود پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) نے بھی سات آٹھ مقامات پر تحریف کا اقرار کیا، اور پادری فنڈر  کے اس اعتراف پر مُناظرہ دوسرے دن  کے لیے ملتوی ہو گیا۔

دوسرے روز دوباره مُناظره شروع ہوا، اور اِنجیل میں تحریف پر بَحث جاری رہی،

اس دَوران پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کے ساتھی مُناظِر پادری فرنچ (Pastor French) بار بار تُرش رَوِی کا مُظاہرہ کرتے رہے، اور آخر میں یہ نشست اختتامِ بَحث کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔

تیسرے روز پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) مُناظرے کے لیے حاضر نہ ہوا، لیکن اپنی خِفت وشرمندگی مٹانے کے لیے فاتحِ عیسائیت علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کو یہ خط لکھا کہ “آپ نے مُناظرہ میں جو عبارتیں پیش کی تھیں، میں نے ان پر اعتماد کر لیا تھا، لیکن بعد میں جب اصل عبارات کو دیکھا تو مطلب کچھ اَور نکلا، لہذا میں وہ تمام عبارتیں بھیج رہا ہوں، علّامہ کیرانوی نے پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کے خط میں پُوچھے گئے تمام سوالوں کا جواب دیا، اور یہ خط و کتابت کافی دنوں تک جاری رہی۔

مُناظرہ میں بُری طرح شکست کھانے کے ایک عرصہ بعد، پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) نے ڈاکٹر وزیر خاں سے اس سلسلہ میں دوبارہ بَحث کا آغاز کرنا چاہا، تو ڈاکٹر صاحب نے اسے لکھا کہ “پہلے آپ مولانا رحمت اللہ کیرانوی صاحب کی باتوں کا جواب دیجیے، اس کے بعد اگر مُباحَثہ کرنا ضروری ہے، تو اپنی کتبِ دِینیہ سے ہاتھ دھو کر، اور ان کو مُوافق اِصطلاح اہلِ اسلام کے، منسوخ ومُحرَّف مان کر تثلیث کے میدان میں قدم رکھیے، جب یہ مسئلہ طے ہو جائے گا تو حضرت خاتم المرسَلین ﷺ کی نبوّت کے عنوان پر گفتگو کی جائے گی”([39])۔

جنگِ آزادی 1857ء کے بعد شیخ العرب والعجم علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ ہجرت فرما کر مکّہ مکرّمہ چلے گئے، اور پادری سی جی فنڈر واپس یورپ (Europe) چلا گیا، پھر اُسے لندن (London) کے چرچ مشن (Church Mission) نے قسطنطینیہ (ترکی) میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے مقرّر کیا، پادری  سی جی فنڈر نے قسطنطینیہ (مَوجودہ ترکی) پہنچ کر وہاں کے مسلمانوں کو یہ تاثُر دیا، کہ ہندوستان کے علمائے اسلام لاجواب ہو چکے ہیں، وہاں عیسائیت کو فتح اور اسلام کو شکست ہوئی ہے، اور وہاں کے مسلمان تیزی سے عیسائیت قبول کر رہے ہیں، یہ باتیں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان عبدالعزیز ﷬ تک پہنچیں، تو انہوں نے اپنے (گورنر) امیر ِمکّہ شریف عبد اللہ پاشا کوحکم بھیجا، کہ اس سال ہندوستان سے جو علمائے کرام  حج کے لیے آئیں، ان سے آگرہ میں پادری  سی جی فنڈر (Pastor CG Funder)  اور علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے مابین مُناظرہ کی تفصیلات معلوم کر کے روانہ کریں!۔

امیر ِمکّہ شریف عبد اللہ پاشا نے اس بات کا ذکر مفتئ شافعیہ شیخ  سیِّد احمد زَینی دَحلان مکّی سے کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ علّامہ رحمت اللہ کیرانوی بنفسِ نفیس یہاں مَوجود ہیں، امیر ِمکّہ شریف عبد اللہ پاشا نے علّامہ کیرانوی  سے ملاقات کے بعد سلطان عبد العزیز کو تما م صورتحال سے آگاہ کیا، پھر سلطان عبد العزیز  نے شاہی مہمان کی حیثیت سے حضرت کیرانوی کو  قسطنطینيہ (مَوجودہ ترکی) آنے کی دعوت دی۔

پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کو جیسے ہی فاتحِ عیسائیت علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کی قسطنطینیہ (مَوجودہ ترکی) میں مَوجودگی کی اطلاع ملی، فوراً وہاں سے بھی فرار ہو گیا، سلطان عبد العزیز اس چیز سے بہت متاثِر ہوا، اور اُس نے علّامہ کیرانوی کی بڑی قدر ومنزلت کی، خلعتِ فاخرہ اور “نشانِ مجیدی” سے نوازا، اور “رُکنِ حَرمین” کا خطاب عطا کیا([40])۔

اس موقع پر سلطان عبد العزیز رحمہُ اللہ علیہ نے ایک جامع کتاب تحریر کرنے کی فرمائش کی، لہذا علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ نے میں پادری سی جی فنڈر (Pastor CG Funder) کی کتاب “میزان الحق” کے ردّ میں “اظہار الحق” تصنیف فرمائی، جس کے بعد دنیائےعیسائیت میں بھی “میزان الحق” کی اہمیت اور اعتبار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا!([41])۔

فخر العلماء علّامہ رحمت اللہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کا وصال شریف 22 رمضان المبارک 1308ھ/ یکم مئی 1891ء کو ہوا، مکّہ مکرّمہ کے مشہور قبرستان “جنّت المعلیٰ” میں اُم المؤمنین حضرت سیِّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے جوار (پڑوس) میں دفن کیے گئے، آپ کے قریب ہی حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکّی رحمہُ اللہ علیہ بھی مدفون ہیں([42])۔

اے اللہ! ہمیں علماء ومشایخ اور بزرگانِ دین کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرما، علّامہ رحمت اللہ کیرانوی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، محراب ومنبر کے ساتھ ساتھ جہاد میں عملی طَور پر حصّہ لینے کا جذبہ اور سوچ عطا فرما، اور علّامہ کیرانوی رحمہُ اللہ علیہ کے مشن کو جاری وساری رکھنے کی توفیق عطا فرما، اور مجاہدِ اسلام کے علم وعرفان اور فُیوض وبرکات سے ہمیں اور جمیع اُمّت کو فیضیاب فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔

وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.


([1]) “ماہنامہ ذکر وفکر” (دہلی) ستمبر- اکتوبر 1988ء، مجاہدِ اعظم حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ؃ 28۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب اوّل،  فصل دُوم 2، ولادت،؃ 26۔

([2]) علّامہ رحمت اللہ کیرانوی کے والدِ گرامی کا نام بعض کتب میں “خلیل اللہ” اور بعض میں “خلیل الرحمن” مذکور ہے، لیکن صحیح اور دُرست اسمِ گرامی “خلیل الرحمن” ہے؛ کیونکہ علّامہ  رحمت اللہ کیرانوی نے بعض علماء کو ردِّ عیسائیت کے سلسلے میں جو اجازت نامے جاری فرمائے، اُن میں آپ ﷬ نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے والدِ گرامی کا نام “خلیل الرحمن” تحریر فرمایا ہے۔ ]دیکھیے: “آثارِ رحمت” تلامذہ، حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کی مولانا شریف الحق کو ردِّ نصاری کی اجازت،؃ 398[۔

([3]) انظر: “نزهة الخواطر وبهجة المَسامع والنواظر” حرف الراء، مولانا رحمة الله الكِيرانوي، 8/160. “آثارِ رحمت” سلسلۂ نسَب،؃ 56۔ “مجاہدِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی”

باب اوّل،  سلسلۂ نسَب،؃ 84۔ ” مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب اوّل، فصل اوّل، سلسلۂ نسَب،؃ 19۔

([4]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” سلسلۂ نسَب،؃ 57، 58، ملخصا ً۔ “مجاہدِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی” باب اوّل،   شیخ عبد الرحمن گاذرونی، ؃ 85، ملخصا ً۔

([5]) دیکھیے: “اَحسن الاَحادیث فی اِبطال التثلیث” مقدّمہ، تعارُف،؃ 14، ملخصا ً۔

([6]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” تعلیم وتدریس ومُلازمت وتصنیف،؃ 124۔

([7]) دیکھیے: “اِزالۃ الاَوہام” حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی (حیات وخدمات) حُصولِ تعلیم، 1/47، ملخصا ً۔

([8]) “الموسوعة الميسَّرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المُعاصرة” الباب 4، جماعة متأثرة بالصُوفية، 33- الديوبنديّة، الانتشار ومواقع النُفوذ، 1/302.

([9]) “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 28۔

([10]) “الموسوعة الميسَّرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المُعاصرة” الباب 4، جماعة متأثرة بالصُوفية، 33- الديوبندية، التأسيس وأبرَز الشخصيات، 1/298.

([11]) “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 28، 29، ملخصا ً۔

([12]) انظر: “دراسة العقائد النَصرانيّة: منهجيّة ابن تَيمية ورحمة الله الهندي” الفصل 1، المبحث 2، المطلب 2، شُيوخه، صـ 117. “آثارِ رحمت” تعلیم وتدریس ومُلازمت وتصنیف،؃ 117-123، ملتقطا ً۔ “ماہنامہ ذکر وفکر” (دہلی) ستمبر- اکتوبر 1988ء، مجاہدِ اعظم حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ؃ 35، 36۔ “مجاہدِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی” باب2، دوسرے اساتذہ سے استفادہ، ؃ 92، 93، ملخصا ً۔

([13]) “اِزالۃ الاَوہام” حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی (حیات وخدمات) خانگی زندگی، 1/49، ملخصا ً۔ “مجاہدِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی” باب2، تعلیم سے فراغت کے بعد، ؃ 94، ملخصا ً۔

([14]) دیکھیے: “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب اوّل،  فصل چہارُم،اولاد واَحفاد،؃ 43، ملخصا ً۔

([15]) دیکھیے: “اَحسن الاَحادیث فی اِبطال التثلیث” مقدّمہ، تدریسی زندگی اور تلامذہ،؃ 14،  ملخصا ً۔ “مجاہدِ اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی” باب2، تعلیم سے فراغت کے بعد ، ؃ 94، ملخصا ً۔

([16]) یہ کتاب بنیادی طَور پر حضرت ضیاء الدین سُہروردی کی تصنیف ہے،  جس کا موضوع “علمِ تصوُف” ہے، علّامہ رحمت اللہ کیرانوی ﷬ نے حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکّی کے اِصرار اور خواہش پر اس کا اردو ترجمہ فرمایا۔ ]دیکھیے: “آثارِ رحمت” تصنیف وتالیف، آداب المریدین،؃ 385، ملخصا ً۔

([17]) انظر: “سِير وتراجِم بعض علمائنا في القَرن الرابع عشر للهجرة” الشيخ رحمة الله بن خليل العثماني، مؤلَّفاته، صـ112. “دراسة العقائد النَصرانيّة:

منهجيّة ابن تَيمية ورحمة الله الهندي” الفصل الأوّل، المبحث الثاني، المطلب الثاني، مؤلَّفاته، صـ 119، 120. “آثارِ رحمت” تصنیف وتالیف،؃ 334۔

([18]) دیکھیے: “اَحسن الاَحادیث فی اِبطال التثلیث” مقدّمہ، تصنیفات،؃ 27۔

([19]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” جنگِ آزادی 1857ء میں شرکت،؃ 246، ملخصا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب 5،  فصل 2،عملی سرگرمیاں،؃ 234، 235، ملخصا ً۔

([20]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” جنگِ آزادی 1857ء میں شرکت،؃ 247، 248، ملخصا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب پنجم 5،  فصل دُوم 2، عملی سرگرمیاں ،؃ 235، 236،  ملخصا ً۔

([21])دیکھیے: “آثارِ رحمت” جنگِ آزادی 1857ء میں شرکت،؃ 247، 248، ملخصا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب پنجم 5،  فصل دُوم 2، عملی سرگرمیاں ،؃ 235، 236، ملخصا ً۔

([22]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” جنگِ آزادی 1857ء میں شرکت،؃ 250، 251، ملخصا ً۔ “اَحسن الاَحادیث فی ابطال التثلیث” مقدّمہ، تدریسی زندگی اور تلامذہ،؃ 14، 15، ملخصا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب 5،  فصل 3،ضبطی جائیداد وہجرت،؃ 236، ملخصا ً۔

([23]) دیکھیے: “اَحسن الاحادیث فی اِبطال التثلیث” مقدّمہ، تدریسی زندگی اور تلامذہ،؃ 15، ملخصا ً۔

([24]) ان کا اسمِ گرامی علّامہ رحمت اللہ کیرانوی نے اپنے ایک مکتوب میں ذکر فرمایا ہے۔ ]دیکھیے: “آثارِ رحمت” مدرسہ صَولتیہ کی ابتدائی حالت،؃ 291[۔

([25]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” مدرسہ صَولتیہ،؃ 286، 287، ملخصا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی

ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب ششم 6،  فصل دُوم 2،مدرسہ صَولتیہ کی تاسیس، وجہ تسمیہ، اور اَغراض ومقاصد ،؃ 247، 248، ملخصا ً۔

([26]) انظر: “سِير وتراجم بعض علمائنا في القَرن الرابع عشر للهجرة” الشيخ رحمة الله بن خليل العثماني، صـ110، 111. “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 30۔ “آثارِ رحمت” حرم شریف میں مولانا کے تلامذہ،؃ 265- 267۔

([27]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” تلامذہ،؃ 387- 392، ملتقطا ً۔ “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب اوّل،  فصل دُوم 2، ہندوستان میں تدریس،؃ 30۔

([28]) “مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی علمی ودینی خدمات کا تحقیقی جائزہ” باب 1، فصل 4، مُعاصرین،؃ 45۔

([29]) “مہرِ منیر” باب چہارُم 4، زمانۂ جذب وسیاحت، مولانا رحمت اللہ کے حضرت (گولڑوی) کے متعلق تاثُرات، ؃ 120۔

([30]) “صحيح مسلم” كتاب الجنّة وصفة …إلخ، باب عرض مقعد الميّت …إلخ، ر: 2870، الجزء 8، صـ161.

([31]) دیکھیے: “مہرِ منیر” باب 4، زمانۂ جذب وسیاحت، مولانا حاجی رحمت اللہ  سے ملاقات، ؃ 119۔

([32]) دیکھیے: “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 29۔

([33]) علّامہ رحمت اللہ کیرانوی کو “رُکنِ حرمین” کا خطاب سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان عبد الحمید نے دیا، اور آپ کی خدمت میں “نشانِ مجیدی” کے ایوارڈ (Award) سے بھی نوازا۔ ]دیکھیے: “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 27[۔

([34]) دیکھیے: “محدِّث بریلوی امام احمد رضا اور علمائے مکّہ مکرّمہ” ؃ 29۔

([35]) دیکھیے: “انوارِ ساطعہ دَر بیان ِمولود وفاتحہ” علمائے عرب کے تازہ فتاوی،؃ 496۔

([36]) دیکھیے: “آثارِ رحمت” قسطنطینیہ کا تیسرا سفر،؃ 307۔

([37]) دیکھیے: “اِزالۃ الشکوک” حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی  ایک معمار مجاہد، ہندوستان میں عثمانیوں کی آمد، 1/59، 60۔

([38]) “ماہنامہ ذکر وفکر” (دہلی) ستمبر- اکتوبر 1988ء، مجاہدِ اعظم حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، ہندوستان میں عثمانیوں کی آمد، ؃ 38- 40، ملخصا ً۔

([39]) ایضا ً، ؃ 40، ملخصا ً۔

([40]) دیکھیے: “اِزالۃ الشکوک” حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی ایک معمار مجاہد، رحمت اللہ بیت اللہ میں، 1/69، 70، ملخصا ً۔

([41]) “ماہنامہ ذکر وفکر” (دہلی) ستمبر- اکتوبر 1988ء، پادری سی جی فنڈر، ؃ 90، ملخصا ً۔

([42]) دیکھیے: “اِزالۃ الاَوہام” حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی(حیات وخدمات) وفات حسرتِ آیات، 1/71۔ “ماہنامہ ذکر وفکر” (دہلی) ستمبر- اکتوبر 1988ء، مجاہدِ اعظم حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی، وفات حسرت آیات، ؃ 66، ملخصا ً۔

About Us

The Dirham is a community center open to anyone, not merely a mosque for worship. The Islamic Center is dedicated to upholding an Islamic identity.

Get a Free Quotes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *