
Table of contents
- خود کشی کی مُمانعت
- انسانی جان کی اہمیت
- خود کشی کرنے والے پر جنّت حرام
- جہنّم میں آلۂ خود کشی سے سزا
- خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ ادا کرنا؟
- خود کشی کرنے والے کی برائی بیان کرنا؟
- خود کشی کی وُجوہات واَسباب
- ڈپریشن
- دماغی اور نفسیاتی بیماریاں
- مُعاشی مشکلات
- گھریلو لڑائی جھگڑے
- دنیاوی اُمور میں ناکامی
- گناہ پر نَدامت اور جگ ہنسائی کا خوف
- زندگی سے مایوسی
- خود کشی سے بچنے کا طریقہ اور علاج
- ہماری ذِمّہ داری
- دعا
خود کشی کی مُمانعت
برادرانِ اسلام! اپنے ہاتھوں سے خود کو مار ڈالنا خود کشی کہلاتا ہے، ایسا کرنا حرام، گناہِ کبیرہ اور عذابِ جہنّم کا باعث ہے، اللہ ربّ العالمین نے قرآنِ مجید میں خود کشی کی سختی سے مُمانعت ومذمّت فرمائی، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۰۰۲۹ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا١ؕ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا﴾([1]) “اپنی جانیں قتل نہ کرو، یقیناً اللہ تم پر مہربان ہے! اور جو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا، تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے!”۔
اللہ B کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، قتلِ ناحق کرنا اور بد کاری ایسے گناہ ہیں، جو اللہ کے غضب کو اُبھارتے اور عذابِ الٰہی کو دعوت دیتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ١ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًاۙ۰۰۶۸ يُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا﴾([2]) “(اﷲ کے بندے وہ ہیں) جو الله کے ساتھ دوسرے معبود کو شریک نہیں کرتے، اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے الله نے حرام کیا، اور زِنا نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا! قیامت کے دن اُس پر عذاب بڑھایا جائے گا، اور ہمیشہ ذِلّت کے ساتھ اس میں رہے گا!”۔
میرے محترم بھائیو! قرآنِ کریم میں جہاں بھی قتلِ ناحق کی مُمانعت بیان کی گئی ہے، وہاں اُس سے مراد صرف کسی دوسرے کو قتل کرنا نہیں، بلکہ کسی مؤمن کا خود کو مار ڈالنا بھی قتلِ ناحق میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :مہنگائی کا طوفان…. اَسباب اور حل
انسانی جان کی اہمیت
عزیزانِ محترم! انسانی جان کس قدر اہمیت کی حامل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے خوب لگایا جا سکتا ہے، کہ اللہ B نے خود کو خطرہ وہلاکت میں ڈالنے، بےہتھیار میدانِ جنگ میں جانے، زہر کھانے یا کسی بھی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَاَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ﴾([3]) “اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو،
اور بھلائی والے ہو جاؤ! یقیناً بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں”۔
خود کشی کرنے والے پر جنّت حرام
حضراتِ گرامی قدر! خود کشی ایک ایسا معیوب فعل ہے، کہ حلال جان کر اس کا ارتکاب کرنے والے شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنّت حرام ہے، حضرت سیِّدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پچھلی اُمتوں میں کسی شخص کو ایک پھوڑا نکلا، جب اس میں زیادہ تکلیف محسوس ہونے لگی، تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر اس سے پھوڑے کو چیر ڈالا، جس سے خون بہنے لگا اور پھر رُک نہ سکا، جس کی وجہ سے وہ بالآخر مر گیا۔ رب تعالی نے ارشاد فرمایا: «قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ!» “میں نے اس پر جنّت حرام کر دی”۔ (یہ فرمانے کے بعد) حضرت سیِّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے مسجد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا: “اللہ کی قسم! مجھ سے اس مسجد میں حضرت سیِّدنا جُندَب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مصطفی جانِ رَحمت ﷺ سے یہ حدیث بیان فرمائی”([4])۔
جہنّم میں آلۂ خود کشی سے سزا
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! دنیا میں انسان جس چیز کے ذریعے خود کشی کرے گا، جہنّم میں بھی اُسے اسی چیز کے ذریعےسزا دی جائے گی، حضرت سیِّدنا ثابت بن ضَحّاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عَذَّبَهُ اللهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ»([5]) “جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کرے گا،اللہ تعالی اس کو جہنّم میں اسی چیز سے عذاب دے گا”۔
حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي يَطْعُنُهَا يَطْعُنُهَا فِي النَّارِ»([6]) “جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنّم کی آگ میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، اور جس نے خود کو نیزہ مارا وہ جہنّم کی آگ میں بھی خود کو نیزہ مارتا رہے گا”۔
خودکشی بہرصورت حرام ہے، اور اس کا ارتکاب کرنے والا عذابِ جہنّم کا سزا وار وحقدار ہے، حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهِ خَالِداً مُخَلَّداً فِيهَا أَبَداً، وَمَنْ تَحَسَّى سُمّاً فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِداً مُخَلَّداً فِيهَا أَبَداً، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ [خَالِداً] مُخَلَّداً فِيهَا أَبَداً»([7]) “جو پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا، وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ گرتا رہے گا، اور جو شخص زہر کھا کر خود کشی کرے گا، وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا، جہنّم کی آگ میں ہمیشہ اسے کھاتا رہے گا، جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کشی کی، تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا، اور وہ اسے اپنے پيٹ میں مارتا رہے گا”۔

یہ بھی ضرور پڑھیں :کرپشن کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات
خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ ادا کرنا؟
حضراتِ محترم! خود کشی اگرچہ بڑا قبیح ومذموم فعل ہے، لیکن اس کے باوُجود خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اور اس کےلیے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے۔ “دُرِّ مختار” میں ہے کہ “جس نے خودکشی کی، اگرچہ جان بوجھ کر ہی کیوں نہ کی ہو، اُسے غسل دیا جائے گا، اور اُس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی، اسی پر فتوی ہے”([8])۔
جہاں تک بات ہےکہ سروَرِ دو جہاں ﷺ نے خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ ادا نہ فرمائی ، تو وہ بطور تنبیہ تھا؛ تاکہ لوگ اس فعلِ حرام اور گناہِ کبیرہ کے اِرتکاب سے باز رہیں! سروَرِ کونین ﷺ کی پَیروی میں اگر علماء وفضلاء بھی ایسے شخص کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کریں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا رحمہُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “اگر علماء وفضلاء باقتدائے نبی ﷺ، فی المدیون وفی قاتل نفسہ (حضور نبئ کریم ﷺ کی پَیروی میں مقروض اور خود کشی کرنے والے کی) بغرض زَجر وتنبیہ بے نمازی کی نمازِ جنازہ سے خود جُدا رہیں، کوئی حرج نہیں، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلاً کوئی نہ پڑھے، یوں سب آثِم وگنہگار ر ہیں گے”([9])۔
خود کشی کرنے والے کی برائی بیان کرنا؟
مرنے کے بعد کسی بھی فاسق وفاجِر یا خود کشی کرنے والے کی برائی بیان نہ کی جائے؛ کیونکہ شریعتِ مطہَّرہ میں کسی بھی مسلمان کو مرنے کے بعد برائی سے یاد کرنے کی اجازت نہیں، حضرت سیِّدَہ عائشہ صدّیقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: «لَا تَسُبُّوا الأَمْوَاتَ؛ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلى مَا قَدَّمُوْا»([10]) “مُردوں کو بُرا مت کہو؛ اس لیے کہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے، وہ خود اُن اعمال کی جزا کو پہنچ چکے ہیں”([11])۔
حضرت سیِّدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مصطفی جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: «اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ، وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ»([12]) “اپنے مُردوں کی خوبیاں بیان کرو، اور ان کی بُرائیوں سے باز رہو”۔
خود کشی کی وُجوہات واَسباب
حضراتِ ذی وقار! مختلف دنیاوی مسائل اور پریشانیوں کے باعث، دنیا بھر میں خود کشی کا رُجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے، ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں ہر سال تقریباً 8 سے 10 لاکھ لوگ خودکشی کر رہے ہیں([13])، روز بروز یہ شرح آخر کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس کی مختلف اور متعدِد وُجوہات واَسباب میں سے چند یہ ہیں:

یہ بھی ضرور پڑھیں :مذہبی سیاست کی اہمیت وضرورت
ڈپریشن
عزیزانِ مَن! خود کشی کرنے والا شخص اپنے دنیاوی مسائل کو ذہن پر اس قدر سوار کر لیتا ہے، کہ وہ سخت ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار ہو جاتا ہے، اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو جاتی ہے، اس کے باعث وہ خود کشی جیسے سخت اِقدام اور گناہِ کبیرہ کا اِرتکاب کرنے سے بھی نہیں چُوکتا۔ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ سے زائد اَفراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، اور ایک عالمی سروے (International Survey) کے مطابق ہر چوتھا شخص اور ہر دسواں بچہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہے”([14])۔
دماغی اور نفسیاتی بیماریاں
جانِ برادر! خود کشی کا دوسرا اہم سبب دماغی اور نفسیاتی بیماریاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق 35 فیصد خود کشی کی وجہ، دماغی ونفسیاتی بیماری، مثلاً مایوسی، جدائی، تنہائی، بےروزگاری، حد سے زیادہ شراب نوشی، اور منشیات وغیرہ کا استعمال ہے، جبکہ خود کشی کی 65 فیصد وُجوہات مختلف ہیں، جیسے غلط تربیت، سماجی تہذیب وثقافت میں بےاعتدالی، خاندانی لڑائی جھگڑے، کسی سے جذباتی لگاؤ اور اس میں مایوسی وناکامی، تعلیم اور امتحان میں ناکامی، جسمانی اَمراض اور تکلیف، یا اس طرح کی دیگر وُجوہات وغیرہ خود کشی کا باعث بنتی ہیں”([15])۔
مُعاشی مشکلات
حضراتِ ذی وقار! آج کے حالات میں خود کشی کی ایک بڑی وجہ انسان کی مُعاشی مشکلات بھی ہیں، دنیا میں جُوں جُوں مہنگائی اور بےروزگاری کا سلسلہ بڑھ رہا ہے، ویسے ہی غربت واِفلاس، فقر وفاقہ اور مُعاشی مسائل کے باعث خود کشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لگنے والے لاک ڈاؤن (Lockdown) کے تناظر میں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی ایک رپورٹ (Report) میں اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ “دنیا میں پیدا شدہ عالمی مُعاشی بحران (Global Economic Crisis) کی وجہ سے خود کشی کے تناسُب میں اضافہ ہوسکتا ہے!” اور واقعی ادھر چند ماہ کے اندر اس میں کافی اضافہ ہوا، اور
(حیرت کی بات یہ ہے کہ) مسلمانوں میں یہ رُجحان بہت بڑھ گیا ہے”([16])۔
گھریلو لڑائی جھگڑے
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! خود کشی کی چند بڑی وُجوہات میں سے ایک وجہ گھریلو لڑائی جھگڑے بھی ہیں، کہیں میاں بیوی کی گھریلو ناچاقیوں کا بازار گرم ہے، تو کہیں سوتیلے اور یتیم بچوں کے ساتھ نارَوا سُلوک کیا جا رہا ہے، کوئی اِحساسِ محرومی کا شکار ہے، تو کوئی بےروزگاری کے باعث گھر میں ہونے والی لعن طعن سے تنگ ہے، اور جب یہ پریشانیاں اور گھریلو اُلجھنیں حد سے بڑھ جائیں، اور انسان کی قوّتِ برداشت جواب دے جائے، تو وہ ان مسائل اور لڑائی جھگڑوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے خود کشی جیسے سخت اِقدام پر مجبور ہو جاتا ہے۔
دنیاوی اُمور میں ناکامی
عزیزانِ محترم! خود کشی کی ایک وجہ دنیاوی اُمور میں ناکامی بھی ہے، یہ ناکامی کسی بھی میدان میں ہو سکتی ہے، کاروبار میں ناقابلِ برداشت نقصان، قرض کی ادائیگی میں ناکامی، محبت میں ناکامی وغیرہ سمیت، اس کی متعدِد صورتوں میں سے کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے۔ ایک “بینَ الاَقوامی تحقیقاتی رپورٹ” (International Research Report) میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے، کہ 60 فیصد خود کشی کے واقعات دنیا میں ناکامی کی وجہ سے پیش آتے ہیں”([17])۔
گناہ پر نَدامت اور جگ ہنسائی کا خوف
میرے عزیز دوستو! خود کشی کی ایک وجہ احساس ِگناہ اور جگ ہنسائی کا خوف بھی ہوتا ہے، بسااوقات انسان شیطانی بہکاوے میں آکر کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، جس پر بعد میں اسے خوب پچھتاوا ہوتا ہے، بالآخر ایسا شخص جگ ہنسائی، اور شرم وعار کے خوف سے بچنے کےلیے خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
زندگی سے مایوسی
جانِ عزیز! خود کشی کی ایک بڑی وجہ زندگی سے مایوسی بھی ہے، بعض لوگ کینسر (Cancer)، ایڈز (AIDS)، یا جُذام (Leprosy) جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، اور بیماری میں ہونے والی تکلیف سے تنگ آکر، اور اپنی زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں۔ “بعض بینَ الاَقوامی رپورٹس میں کہا گیا ہے، کہ اس طرح کی بیماریوں کی وجہ سے خود کشی کرنے والوں کا تناسب 15 سے 18 فیصد ہے”([18])۔
خود کشی سے بچنے کا طریقہ اور علاج
برادرانِ اسلام! خود کشی سے بچنے کے متعدِد طریقے اور علاج ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
(1) جب امید کا ہر دروازہ بندہ دِکھائی دینے لگے، اور انسان ہر طرف سے مایوس ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالی سے مدد مانگے، اور اس بات کا پختہ یقین رکھے کہ وہی مددکرنے والا ، بےسہاروں کا سہارا، اور دعائیں قبول کرنے والا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾([19]) “اور تمہارے ربّ نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا”۔
(2) خود کشی سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے، کہ انسان کثرت سے اللہ کا ذکر کرے، کہ اس سے دِلوں کی بےچینی اور بےقراری کو قرار آتا ہے، انسان قلبی سکون محسوس کرتا ہے، ارشادِباری تعالی ہے: ﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ﴾([20]) “سن لو! اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چَین ہے”۔
(3) جو شخص اپنے ذاتی مسائل کے باعث پریشان ہو کر، خودکشی جیسے فعلِ حرام سے متعلق سوچ رہا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ واحد پر کامل ایمان رکھے، اور نیک صالح اعمال بجا لائے؛ کہ اعمالِ صالحہ کی بجاآوَری دنیا وآخرت میں راحت، نعمت اور خوشحالی کا بہترین ذریعہ ہے، ارشادِباری تعالی ہے: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ﴾([21]) “وہ جو ایمان لائےاور اچھے کام کیے، ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام!”۔
(4) خود کشی جیسے قبیحِ فعل کا اِرتکاب عموماً وہ لوگ کرتے ہیں، جو اللہ تعالی کی نعمتوں کے ناشکرے ہیں، ناشکری کی عادت کے باعث ایسا شخص بڑی سے بڑی نعمت کو بھی حقیر اور کمتر خیال کرتا ہے، کسی حال میں خوش نہیں ہوتا، لوگوں کے سامنے اپنی قسمت وبدنصیبی کا رونا روتا اور ناشکری کا مُظاہرہ کرتا ہے، رفتہ رفتہ ناشکری کی اس عادتِ بد کے باعث، انسان ذہنی دباؤ کا اس قدر شکار ہو جاتا ہے، کہ خود کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے، لہذا بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے اسے جو چیز جتنی بھی حاصل ہے، اس پر شکرِ الٰہی بجا لائے؛ کہ ایسا کرنا نعمتوں میں اِضافہ کا سبب ہے، جبکہ ناشکری مصیبتوں، پریشانیوں اور عذاب کا باعث ہے، ارشادِباری تعالی ہے: ﴿لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ﴾([22]) “اگر اِحسان مانو گے (یعنی شکر کرو گے) تو میں تمہیں مزید دُوں گا، اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت تر ہے!”۔
(5) جو بندہ اللہ تعالی پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ ہمیشہ اللہ ربّ العالمین پر توکُل رکھے، اپنی ضروریات، خواہشات اور مُعاملا ت کو اللہ تعالی کے سپرد کر دے، تمام اَحوال میں اُسی پر اعتماد اور بھروسا رکھے، اور ظاہری اَسباب کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا پختہ یقین رکھے، کہ جو اُس کے مقدَّر میں لکھ دیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گا، اور جو مقدَّر نہیں، لاکھ کوشش کے باوُجود بهى اُسے حاصل نہیں کر سکتا، ارشادِباری تعالی ہے: ﴿قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾([23]) “اےحبيب! آپ فرما دیجیے کہ ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ تعالی نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے، وہى ہمارا مَولیٰ ہے اور اللہ ہی پر مسلمانوں کو بھروسا کرنا چاہیے!”۔
مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ نے توکُل اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ»([24]) “اگر تمہیں کوئی مصیبت آ ئے تو یوں نہ کہو کہ”اگر میں اس طرح کرتا تو یوں نہ ہوتا”، بلکہ یوں کہو کہ “اللہ نے یہی مقدَّر کیا اور اُس نے جو چاہا كيا” ؛ کہ شکوك وشبہات شیطانى عمل کا دروازہ کھول دیتے ہيں”۔
میرے محترم بھائیو! “توکُل اللہ تعالی کی معرفت کی بنیاد ہے، جس کا تعلق قلبى اَعمال سے ہے، توکُل اور اَسباب کو اختیار کرنے کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں؛ کیونکہ توکُل کا تعلق دل سے ہے، اور اَسباب کا تعلق بدن سے ہے،توکُل یہ ہے كہ انسان کوشش اور وسائل کے ساتھ حقیقی رازِق وکفيل اللہ تعالی کو جانے مانے، الله تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾([25]) “اگر تم ایمان والے ہو تو الله ہی پر بھروسا کرو!”۔ سركارِ دوعالَم ﷺ نے ان دونوں بنیادی باتوں کو جمع کرکے فرمایا: «احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ! وَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَلَا تَعْجَزْ!»([26]) “جو چیز تمہارے ليے فائدہ مند ہو اُس كے ليے كوشش کرو، اور اللہ تعالی سے مدد بهى مانگو، اور ہمت ہار كر بیٹھ مت جاؤ!”۔ اس فرمانِ مصطفی ﷺ میں اَسباب کو اختیار کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے مدد چاہنے کا حکم بھی فرمايا گیا ہے”([27])۔
(6) جو شخص اپنی گھریلو پریشانیوں، اُلجھنوں، لڑائی جھگڑوں، اور بیماری یا بےروز گاری کے سبب ذہنی دباؤ کا شکار ہو، اُسے چاہیے کہ اس پریشانی کی طرف سے اپنی توجہ پوری طَور پر ہٹالے؛ تاکہ اس کے ذہنی دباؤ اور اَعصابی کچھاؤ میں کچھ کمی واقع ہو، اور اس کا ذہن کچھ مثبت سوچنے سمجھنے کے قابل ہو سکے، زیادہ سوچنے سے مسائل ہرگز حل نہیں ہوتے، البتہ انسان بیمار ضرور ہو جاتا ہے!۔
(7) جب شیطان خود کشی کا وسوسہ ڈالے تو اس کے دُنیا وآخرت میں ہونے والے نقصان اور عذاب کو یاد کیجیے! اور اپنے عزیز واَقارب اور اہل وعِیال کے بارے میں سوچیں، کہ آپ کے خود کشی کرنے کی صورت میں، انہیں کس طرح کی پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا!۔
(8) جب خود کشی کا شیطانی وسوسہ آئے، تو اللہ ربّ العالمین سے شیطان کے شر سے پناہ مانگیں، اللہ تعالی کے فضل وکرم سے بہتری کی امید رکھیں، اور مایوس ہر گز نہ ہوں کہ مایوسی گناہ ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ﴾([28]) “اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو!”۔
(9) خود کشی عموماً وہ لوگ کرتے ہیں جن میں صبر وتحمل اور قوّتِ برداشت کی کمی ہوتی ہے، لہذا جب بھی دنیاوی پریشانیوں اور مالی مُعاملات کے سبب ذہنی دباؤ حد سے بڑھ جائے، اور خود کشی جیسا شیطانی خیال ذہن میں آنے لگے، تو خود کو اس اَمر کی یاد دہانی کروائیں، کہ یہ دنیاوی مسائل اور پریشانیاں اللہ تعالی کی طرف سے ہماری آزمائش اور امتحان ہیں، ہمیں اس امتحان میں ہرحال میں سُرخرو ہونا ہے، خالقِ کائناتﷻ کا فرمانِ عالى شان ہے: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ١ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَۙ۰۰۱۵۵ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾([29]) “ضرور ہم تمہیں کچھ ڈر، بھوک، مال کے نقصان، پھلوں اور جانوں کی کمی سے آزمائیں گے، خوشخبری سنا دو اُن صبر والوں کو، كہ جب اُن پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں كہ ہم اللہ تعالى کا مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف لَوٹنا ہے”۔
(10) خود کشی جیسا انتہائی اِقدام سراسر شیطانی وسوسوں اور بزدلی کا نتیجہ ہے، لہذا جو شخص اللہ تعالی پر کامل ایمان اور پختہ یقین رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ جب ایسے خیالات آئیں تو تقدیرِ الٰہی پر اپنے ایمان کو متزلزل نہ ہونے دے! اور قضا وقدر کے مُعاملات پر اللہ تعالیٰ سے راضی رہے، اور اس بات کو ذہن نشین کر لے کہ اس کے خود کشی کرنے سے نہ تو اس کی تقدیر بدل سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے مسائل حل ہوں گے، لہذا خود کشی جیسے فعلِ حرام کا اِرتکاب کرکے خواہ مخواہ خود کو جہنّم کا ایندھن بنانا کہاں کی دانش مندی ہے؟!۔
لہذا جب بھی مشکلات اور پریشانیاں حد سے بڑھ جائیں، اور دل میں شیطانی وسوسے سر اٹھانے لگیں، تو صبر وتحمل کامُظاہرہ کریں، فرائض وواجبات کی پابندی کریں، حلال ذرائع آمدَن اپنائیں، اللہ تعالیٰ سے استعانت ومدد چاہیں، یقینِ کامل کے ساتھ صلاۃ الحاجات کا خوب اہتمام کریں، اور دل ودماغ کو باوَر کرائیں کہ مشکلات وقتی اور عارضی ہیں، مَصائب وآلام کی یہ گھڑی بھی گزر جائے گی، اوراچھا وقت بہت جلد آئے گا؛ کہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاۙ۰۰۵ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾([30]) “تو یقیناً دُشواری کے ساتھ آسانی ہے! یقیناً دُشواری کے ساتھ اَور آسانی ہے”۔
ہماری ذِمّہ داری
میرے عزیز دوستو، بھائیو اور بزرگو! خود کشی مسائل کا حل ہر گز نہیں، لہذا اس کا خیال بھی اپنے قریب نہ پھٹکنے دیں! حالات کا ڈٹ کر مُقابلہ کریں، توکُل وقناعت کی عادت اپنائیں، تقدیرِ الٰہی سے راہِ فرار اختیار نہ کریں، ہر حال میں شکر ِ الٰہی بجا لائیں، اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل وکرم کی دعا مانگیں، اپنے اِرد گرد بسنے والوں کو خود کشی کے اَخلاقی وسماجی نقصانات سے آگاہ کریں، تنگدستوں، مقروضوں اور پریشان حال لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، اور حسبِ استطاعت ان کے ساتھ تعاوُن کریں، ذہنی تناؤ اور مشکلات سے دوچار لوگوں میں جینے کا حَوصلہ پیدا کریں، اور انہیں اپنی مدد وتعاوُن کی یقین دہانی کرائیں!۔
دعا
اےاللہ! ہمیں خود کشی جیسے فعلِ حرام اور کبیرہ گناہ سے بچا، اپنے مسائل اور حالات کا ڈَٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرما، ہمارے اندر صبر وتحمل اور قوّتِ برداشت پیدا فرما، توکُل وقناعت کی توفیق عطا فرما، ہر حال میں تقدیر پر راضی رہنے کا جذبہ عنایت فرما، غریبوں، تنگدستوں اور مقروضوں کی مدد کا جذبہ عطا فرما، اور ہمیں شیطانی وسوسوں کا شکار ہونے سے بچا۔
اے اللہ! ہمارے ظاہر وباطن کو تمام گندگیوں سے پاک وصاف فرما، اپنے حبیبِ كريم ﷺ کے اِرشادات پر عمل کرتے ہوئے، قرآن وسُنّت کےمطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالَم ﷺ اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہ کی سچی محبّت اور اِخلاص سے بھرپور اِطاعت كى توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکّا باعمل عاشقِ رسول بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، سستی وکاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اِخلاص کی دَولت عطا فرما، تمام فرائض وواجبات کی ادائیگی بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرما، بخل وکنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ملک وقوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد واتفاق اور محبت واُلفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں اَحکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بےکس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی وچھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دُور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو کامل شِفا دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!۔
اے ربِ کریم! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ رکھ، اپنی محبت واِطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خَلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم کر دے، الٰہی! ہمارے اَخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفّار کے ظلم وبربریت کے شکار ہمارے فلسطینی وکشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، دنیا بھر کے مسلمانوں کی جان ومال اور عزّت وآبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو اُن کے حق میں خیر وبرکت کے ساتھ حل فرما، آمین یا ربّ العالمین!۔
وصلّى الله تعالى على خير خلقِه ونورِ عرشِه، سيِّدِنا ونبيِّنا وحبيبِنا وقرّةِ أعيُنِنا محمّدٍ، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين!.
([4]) “صحیح مسلم” كتاب الإيمان، ر: ٣٠٧، صـ٦٢.
([5]) المرجع نفسه، ر: ٣٠٤، صـ٦١.
([6]) “صحیح البخاري” كتاب الجنائز، ر: ١٣٦٥، صـ٢١٩.
([7]) المرجع نفسه، كتاب الطب، ر: ٥٧٧٨، صـ١٠٢٠.
([8]) “الدرّ المختار” كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 5/٢58.
([9]) “فتاوی رضویہ” کتاب الصلاۃ، باب الاوقات، 4/62۔
([10]) “صحيح البخاري” كتاب الجنائز، ر: ١٣٩٣، صـ٢٢٤.
([11]) “واعظ الجمعہ” اسلام اور انسانی حقوق، 8، 9، مؤرّخہ7/12/2018ء۔
([12]) “سنن الترمذي” أبواب الجنائز، ر: ١٠١٩، صـ٢٤٦.
([13]) “خودکشی کی طرف بڑھتا رُجحان اور اس کا حَل” آن لائن آرٹیکل 6 جون 2021ء۔
([15]) “خودکشی کا بڑھتا ہوا رُجحان: اَسباب وعوامل اور ہماری ذِمّہ داری” آن لائن آرٹیکل 29 ستمبر 2020ء، ملت ٹائمز۔
([24]) “سنن ابن ماجه” باب في القدر، ر: ٧٩، ١/ ٣١.
([26]) “صحيح مسلم” كتاب القدر، ر: 6٧٧4، صـ١١٦١.